☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر مختار احمد عزمی) متفرق( حامد اشرف) غور و طلب(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(حکیم نیازاحمد ڈیال) کلچر(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(عابد حسین) افسانہ(وقار احمد ملک) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) کچن کی دنیا دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) کھیل(منصور علی بیگ) متفرق(ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی) خواتین(نجف زہرا تقوی)
مصیبت کے اندھیروں میں ،کبھی مایوس مت ہونا۔۔۔۔

مصیبت کے اندھیروں میں ،کبھی مایوس مت ہونا۔۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

04-19-2020

 کبھی مایوس مت ہونا۔۔۔اندھیرا کتنا گہرا ہو
سحر کی راہ میں حائل۔۔۔کبھی بھی ہو نہیں سکتا
 

سویرا ہو کے رہتا ہے۔۔۔کبھی مایوس مت ہونا
امیدوں کے سمندر میں۔۔۔تلاطم آتے رہتے ہیں
سفینے ڈوبتے بھی ہیں۔۔۔سفر لیکن نہیں رُکتا
مسافر ٹوٹ جاتے ہیں۔۔۔مگر مانجھی نہیں تھکتا
سفر طے ہو کے رہتا ہے۔۔۔کبھی مایوس مت ہونا
خدا حاضر ہے ناظر بھی۔۔۔خدا ظاہر ہے منظر بھی
وہی ہے حال سے واقف۔۔۔وہی سینوں کے اندر بھی
مصیبت کے اندھیروں میں۔۔۔کبھی تم مانگ کر دیکھو
تمہاری آنکھ کے آنسو۔۔۔یوں ہی ڈھلنے نہیں دے گا
تمہاری آس کی گاگر۔۔۔کبھی گرنے نہیں دے گا
ہوا کتنی مخالف ہو۔۔۔تمہیں جھکنے نہیں دے گا
کبھی مایوس مت ہونا۔۔۔۔
ماہم کہتی ہیں’’تاریخ گواہ ہے کہ عورت مشکلات و مصائب کا سامنا صبرو تحمل سے کرتی آئی ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں خواتین کو حقارت کی نگا ہ سے دیکھاجاتا تھاعورت کا دائرہ کار صرف گھر تک محدودتھالیکن آج کے دور کی بات کریں تو خواتین نے اپنے عزم و حوصلے ، تعلیم اور مہارت سے معاشرے میں وہ مقام حاصل کر لیا ہے کہ جسکا ماضی میں تصور کرنا بھی محال تھا ۔ آج عورت زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے ۔ موجودہ دور میں جب کورونا نے پوری دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے تو ایسے میں بھی خواتین ڈاکٹرز ، نرسیں ، سیاسی و سماجی کارکن پوری تندہی سے ملک و قوم کی عظیم تر خدمت میں مصروف ہیں یہ با ہمت بیٹیاں ملک و قوم کا فخر ہیں ۔یہ تو ہے گھر سے باہر کی صورتحال ، لاک ڈائون کا ذکر کریں تو گھروں کے اندر بھی خواتین انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہیں ، گھر وں میں صفائی کا عمل ہو یا بچوں اور بزرگوں کی نگہداشت خواتین اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں ۔ لاک ڈائون کی سختی برداشت کر رہی ہیں اور سب کا حوصلہ بھی بڑھا رہی ہیں، وہ مائیں سلام کے قابل ہیں جو بچوں کا تعلیمی سلسلہ بھی بحال رکھے ہوئے ہیں اور انہیں کورونا سے بچانے کیلئے صفائی کی اہمیت بھی سمجھا رہی ہیں ۔  ‘‘
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں پھر یہ سوچا کہ۔۔۔ کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہوں مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ 

مزید پڑھیں

 ’’حِجاب‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں آڑ، وہ پردہ جس کے پیچھے کوئی شے چھپی ہوئی ہو۔ عبایا کا رواج دراصل عرب سے ہم تک پہنچا۔ عرب ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی حجاب اور عبایا کو خواتین پسندیدہ پہناوا سمجھتی ہیں۔ گذشتہ چند سال سے حِجاب اور عبایا کا رجحان اِتنا عام ہوچکا ہے کہ بڑی تعداد میں لڑکیاں اسے استعمال کر رہی ہیں۔ پہلے جہاں خواتین بْرقع میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھیں وہاں آج کل بْرقع سے زیادہ حِجاب کو ترجیح دی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں عبادات کیلئے تو عبایا کا خاص استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

  حجاب عربی اور پردہ فارسی زبان کا لفظ ہے لیکن دونوں الفاظ تقریباً ہم معنی ہیں۔اسلام نے عورت کو سب سے پہلے عزت بخشی ،معاشرے میں فخروانبساط کا باعث بنایا گیا تاکہ وہ فرد شیطانی اوہام سے محفوظ رہے۔ عورت کا مطلب ڈھکی ہوئی چیز ہے ہمارے معاشرے میں جب کوئی عورت گھر کی چوکھٹ کو اپنے مقاصد اور ضروریات پوری کرنے کیلئے پار کرتی ہے تو اس کے کردار پر انگلیاں اُٹھائی جاتی ہیں بہت سے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے خواہ وہ کتنا ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو ۔  

مزید پڑھیں