☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
حجاب بھی عبادت بھی۔۔۔

حجاب بھی عبادت بھی۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

04-26-2020

عربی زبان میں حجاب کا لفظ پردہ اور لباس کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ جدید دور میں سکارف اور عبایا عورت کو تحفظ فراہم کرتا ہے، 

  رمضان المبارک میں خواتین عبادت کیلئے خاص طور پر سکارف اور عبایا کا استعمال کرتی ہیں۔حجاب مسلم معاشرے میں پاکیزگی اور حیاء و تقدس کے تحفظ کا ذریعہ ہے،

حجاب کے بارے میں کئی ایک نقطہ نظرسامنے آتے ہیں کچھ اس کے حق میں کچھ مخالف ۔کچھ اسے خواتین پر پابندی قرار دیتے ہیں ،کچھ اسے عورت کی حفاظت سمجھتے ہیں۔عورت ہمیشہ تحفظ کی جستجو میں رہی ہے۔ یہ تحفظ اسے اگرچادریاحجاب میں میسرآتا ہے تووہ بلاجھجک اسے اپناتی ہے۔

ایک مسلمان معاشرے میں اگرہم نظر دوڑائیں توہمیں ایسی بے شمار خواتین ملیں گی جو پردے میں رہ کر زندگی کے تمام امور بخوبی انجام دے رہی ہیں ۔


ملائیکہ ریاض کہتی ہیں ’’ گذشتہ چند برسوںسے خواتین میں حجاب اور عبایا پہننے کا رحجان زیادہ نظر آرہا ہے، اس حوالے سے پردے والی خواتین ہی نہیں بلکہ اکثر خواتین شوقیہ پہنے ہوئے بھی نظر آتی ہیں۔مغربی ممالک میں حجاب کو اسلامی ثقافت سمجھ کر اس پر تنقید کی جاتی ہے۔وہاں مسلمان خواتین کے لیے تعلیم اور ملازمت کیلئے حجاب پہن کر جانا مشکلات پیدا کرتا ہے لیکن یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ خواتین میں اسلام اورحجاب کی مقبولیت بڑھتی جارہی ہے۔بہت سی غیر مسلم خواتین نے بھی حجاب پہننا شروع کر دیا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حجاب عورت کی عزت وناموس کی حفاظت کی علامت ہے۔رمضان المبارک میں تو خواتین عبادت کیلئے سکارف اور عبایا کو خصوصی اہمیت دیتی ہیں۔سکارف اور عبایا آج ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والی خواتین کی اولین پسند بن چکے ہیں یہاں تک کہ سکول جانیوالی بچیاں اور کالج و یونیورسٹی جانیوالی طالبات بھی سکارف اور عبایا کو اپنے لئے بہترین اور محفوظ لباس سمجھتی ہیں۔امید کرتی ہوں کہ آپ بھی اس بار ماہِ رمضان میں سکارف اور عبایا ضرور پہنیں گی ۔ ‘‘

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں پھر یہ سوچا کہ۔۔۔ کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہوں مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ 

مزید پڑھیں

 ’’حِجاب‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں آڑ، وہ پردہ جس کے پیچھے کوئی شے چھپی ہوئی ہو۔ عبایا کا رواج دراصل عرب سے ہم تک پہنچا۔ عرب ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی حجاب اور عبایا کو خواتین پسندیدہ پہناوا سمجھتی ہیں۔ گذشتہ چند سال سے حِجاب اور عبایا کا رجحان اِتنا عام ہوچکا ہے کہ بڑی تعداد میں لڑکیاں اسے استعمال کر رہی ہیں۔ پہلے جہاں خواتین بْرقع میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھیں وہاں آج کل بْرقع سے زیادہ حِجاب کو ترجیح دی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں عبادات کیلئے تو عبایا کا خاص استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

  حجاب عربی اور پردہ فارسی زبان کا لفظ ہے لیکن دونوں الفاظ تقریباً ہم معنی ہیں۔اسلام نے عورت کو سب سے پہلے عزت بخشی ،معاشرے میں فخروانبساط کا باعث بنایا گیا تاکہ وہ فرد شیطانی اوہام سے محفوظ رہے۔ عورت کا مطلب ڈھکی ہوئی چیز ہے ہمارے معاشرے میں جب کوئی عورت گھر کی چوکھٹ کو اپنے مقاصد اور ضروریات پوری کرنے کیلئے پار کرتی ہے تو اس کے کردار پر انگلیاں اُٹھائی جاتی ہیں بہت سے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے خواہ وہ کتنا ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو ۔  

مزید پڑھیں