☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(ڈاکٹر اسرار احمد) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) غور و طلب(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(ڈاکٹر محمد نوید ازہر) متفرق(ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا دلچسپ رپورٹ(خالد نجیب خان) زراعت(صابر بخاری) سپیشل رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) کھیل(منصور علی بیگ) طب(حکیم نیازاحمد ڈیال) تعلیم(عرفان طالب) صحت(نغمہ اقتدار) سیاحت(وقار احمد ملک)
چلو کچھ کام کر جائیں۔۔۔کسی کے کام آجائیں

چلو کچھ کام کر جائیں۔۔۔کسی کے کام آجائیں

تحریر : طیبہ بخاری

05-03-2020

نہ جانے کون سے لمحے میں ۔۔۔ہم سب راکھ ہو جائیں
چلو کچھ کام کر جائیں۔۔۔کسی کے کام آجائیں
کوئی رستہ سُجھا جائیں ۔۔۔کوئی بستہ تھما جائیں
کسی کی رہنمائی اور۔۔۔کسی کا گھر بنا جائیں
کہیں فکری ضرورت ہے۔۔۔کہیں عملی ضرورت ہے
نئی فکریں جگا جائیں ۔۔۔چلو کچھ کام کر جائیں

 

 ابھی بھی وقت ہے یارو۔۔۔اے علم و فن کے ہرکارو
جو سیکھا ہے سکھا جاؤ۔۔۔جو دیکھا ہے دِکھا جاؤ
رسائی سوچ کی اپنی۔۔۔گلی کوچوں میں پھیلاؤ
فروغ نسل کی خاطر۔۔۔ذرا سا وقت دے جاؤ
نہ جانے کون سے لمحے میں ۔۔۔ہم سب راکھ ہو جائیں
کوئی تبدیلی لے آئیں۔۔۔چلو کچھ کام کر جائیں
من و سلویٰ نہ آئے گا۔۔۔زمانہ نوچ کھائے گا
خودی کو جو جگائے گا۔۔۔وہی تو آگے آئے گا
محض باتوں سے تبدیلی۔۔۔کوئی بھی لا نہ پائے گا
تمہی امیدِ اوّل ہو۔۔۔تمہی سے رنگ آئے گا
نہ جانے کون سے لمحے میں ۔۔۔ہم سب راکھ ہو جائیں
سبق آموز ہوجائیں۔۔۔چلو کچھ کام کر جائیں...

 



اقراء کہتی ہیں ’’ مصیبت کے وقت میں ہی اپنے اور پرائے کی پہچان ہوتی ہے ، موجودہ دور میں کورونا سے بڑی مصیبت کیا ہو سکتی ہے ہم سب کو چاہئے کہ اس مصیبت کو اپنے لیے امتحان سمجھیں اور ڈٹ کر نیکیاں کریں اور دوسروں کے کام آئیں۔ ویسے بھی رمضان المبارک کا بابرکت اور رحمتوں والا مہینہ ہم پر سایۂ فگن ہے ۔ اس مہینے میں رب تعالیٰ نے ہمیں عبادت کرنے اور انسانیت کے کام آنے کا نادر موقع فراہم کیا ہے ۔ ہم صدقہ و خیرات کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تو نہ صرف اس مہینے کی برکتیں سمیٹی جا سکتی ہیں بلکہ گناہوں سے نجات بھی مل سکتی ہے ۔ میرا آپ سب کو پیغام ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ’’چلو کچھ کام کر جائیں ۔۔۔کسی کے کام آجائیں ‘‘ ۔۔۔کورونا کے باعث بے روزگار ہونے والوں کیی مالی امداد کریں اور اس طرح کریں کہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو ۔ ‘‘
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں پھر یہ سوچا کہ۔۔۔ کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہوں مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ 

مزید پڑھیں

 ’’حِجاب‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں آڑ، وہ پردہ جس کے پیچھے کوئی شے چھپی ہوئی ہو۔ عبایا کا رواج دراصل عرب سے ہم تک پہنچا۔ عرب ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی حجاب اور عبایا کو خواتین پسندیدہ پہناوا سمجھتی ہیں۔ گذشتہ چند سال سے حِجاب اور عبایا کا رجحان اِتنا عام ہوچکا ہے کہ بڑی تعداد میں لڑکیاں اسے استعمال کر رہی ہیں۔ پہلے جہاں خواتین بْرقع میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھیں وہاں آج کل بْرقع سے زیادہ حِجاب کو ترجیح دی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں عبادات کیلئے تو عبایا کا خاص استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

  حجاب عربی اور پردہ فارسی زبان کا لفظ ہے لیکن دونوں الفاظ تقریباً ہم معنی ہیں۔اسلام نے عورت کو سب سے پہلے عزت بخشی ،معاشرے میں فخروانبساط کا باعث بنایا گیا تاکہ وہ فرد شیطانی اوہام سے محفوظ رہے۔ عورت کا مطلب ڈھکی ہوئی چیز ہے ہمارے معاشرے میں جب کوئی عورت گھر کی چوکھٹ کو اپنے مقاصد اور ضروریات پوری کرنے کیلئے پار کرتی ہے تو اس کے کردار پر انگلیاں اُٹھائی جاتی ہیں بہت سے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے خواہ وہ کتنا ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو ۔  

مزید پڑھیں