☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) تجزیہ(ابوصباحت(کراچی)) کچن کی دنیا() دنیا اسپیشل(خالد نجیب خان) قومی منظر(محمد سمیع گوہر) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) زراعت(شہروزنوازسرگانہ/خانیوال) کھیل(عابد حسین) متفرق(محمد سیف الرحمن(وہاڑی)) فیشن(طیبہ بخاری )
حجاب مجبوری نہیں ضروری ہے ۔۔۔۔

حجاب مجبوری نہیں ضروری ہے ۔۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

05-10-2020

  حجاب عربی اور پردہ فارسی زبان کا لفظ ہے لیکن دونوں الفاظ تقریباً ہم معنی ہیں۔اسلام نے عورت کو سب سے پہلے عزت بخشی ،معاشرے میں فخروانبساط کا باعث بنایا گیا تاکہ وہ فرد شیطانی اوہام سے محفوظ رہے۔

عورت کا مطلب ڈھکی ہوئی چیز ہے ہمارے معاشرے میں جب کوئی عورت گھر کی چوکھٹ کو اپنے مقاصد اور ضروریات پوری کرنے کیلئے پار کرتی ہے تو اس کے کردار پر انگلیاں اُٹھائی جاتی ہیں بہت سے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے خواہ وہ کتنا ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو ۔

 

اسلام ہی ایسا مذہب ہے جو عورتوں کی عصمت کی طرفداری کرنیوالے احکامات پر مکمل ہے اور ان احکامات پر عمل کرکے ہم معاشرے کو مثالی بناسکتے ہیں۔

 فریال ملک کہتی ہیں ’’حجاب عورت کی کمزوری یا مجبوری نہیں ضروری ہے بلکہ ایسا حصار ہے جوحفاظت کا احساس دلاتا ہے ۔ میری نظر میں عورت قدرت کے لطف وجمال اور صفت تخلیق کی مظہر ہے جوں جوں شعور آگاہی میں اضافہ ہو رہا ہے خواتین میں پردے کارواج عام ہوتا جا رہا ہے

حجاب زبردستی جبر کا نام نہیں بلکہ محبت ، ترغیب اور تعلیم کا نام ہے کہ عورت کی عزت واحترام میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔میں تو بغیر کسی بحث و مباحثے میں الجھے بغیر اتنا جانتی ہوں کہ جب آپ اپنی قدر اور حفاظت خود کریں گی تو دوسرے بھی آپ سے آپ جیسا سلوک کریں گے اور اگر رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں پردے کا ذکر کیا جائے تومجھے سکارف اور عبایا کیساتھ عبادات میں خاص روحانی سکون ملتا ہے ایسا سکون جو کسی اور پہناوے میں نہیں ۔مجھے امید ہے کہ آپ بھی سکارف اور عبایا کو اپنے لئے ضرور منتخب کریں گی ۔ ‘‘

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں پھر یہ سوچا کہ۔۔۔ کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہوں مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ 

مزید پڑھیں

 ’’حِجاب‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں آڑ، وہ پردہ جس کے پیچھے کوئی شے چھپی ہوئی ہو۔ عبایا کا رواج دراصل عرب سے ہم تک پہنچا۔ عرب ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی حجاب اور عبایا کو خواتین پسندیدہ پہناوا سمجھتی ہیں۔ گذشتہ چند سال سے حِجاب اور عبایا کا رجحان اِتنا عام ہوچکا ہے کہ بڑی تعداد میں لڑکیاں اسے استعمال کر رہی ہیں۔ پہلے جہاں خواتین بْرقع میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھیں وہاں آج کل بْرقع سے زیادہ حِجاب کو ترجیح دی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں عبادات کیلئے تو عبایا کا خاص استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

نہ جانے کون سے لمحے میں ۔۔۔ہم سب راکھ ہو جائیں چلو کچھ کام کر جائیں۔۔۔کسی کے کام آجائیں کوئی رستہ سُجھا جائیں ۔۔۔کوئی بستہ تھما جائیں کسی کی رہنمائی اور۔۔۔کسی کا گھر بنا جائیں کہیں فکری ضرورت ہے۔۔۔کہیں عملی ضرورت ہے نئی فکریں جگا جائیں ۔۔۔چلو کچھ کام کر جائیں

مزید پڑھیں