☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(حکیم محمد سعید شہید) عالمی امور(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(سید مبشر حسین ) تاریخ(مقصود احمد چغتائی) کھیل(ڈاکٹر زاہد اعوان) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
حجاب آپ کی تہذیب و تربیت کی نمائندگی کرتا ہے ۔۔۔۔

حجاب آپ کی تہذیب و تربیت کی نمائندگی کرتا ہے ۔۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

05-17-2020

 ’’حِجاب‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں آڑ، وہ پردہ جس کے پیچھے کوئی شے چھپی ہوئی ہو۔ عبایا کا رواج دراصل عرب سے ہم تک پہنچا۔ عرب ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی حجاب اور عبایا کو خواتین پسندیدہ پہناوا سمجھتی ہیں۔

گذشتہ چند سال سے حِجاب اور عبایا کا رجحان اِتنا عام ہوچکا ہے کہ بڑی تعداد میں لڑکیاں اسے استعمال کر رہی ہیں۔ پہلے جہاں خواتین بْرقع میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھیں وہاں آج کل بْرقع سے زیادہ حِجاب کو ترجیح دی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں عبادات کیلئے تو عبایا کا خاص استعمال کیا جاتا ہے۔

  سحر کہتی ہیں ’’ حِجاب اور عبایا کو عورت کا فطری حْسن بھی کہہ سکتے ہیں۔ خواتین کی اِنہی دلچسپیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مارکیٹ میں حِجاب اور عبایا کے نِت نئے ڈیزائنز متعارف کرائے جارہے ہیں، جو اِن کی توجہ کا محور بنے ہوئے ہیں۔ حِجاب کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ دْوپٹے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔

پَردہ اور حِجاب ایک ایسا خوبصورت عمل ہے جو عورت کو ڈھانپ لیتا ہے۔ عورت کا مطلب ڈھکی ہوئی چیز ہے حجاب آپ کی تہذیب اور تربیت کی نمائندگی کرتا ہے اور آپ کو بْری نظروں سے محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا حِجاب اور عبایا کے تقدس کو پامال نہ کریں اور محض فیشن کی غرض سے نہ پہنیں، ورنہ اس کا شمار حیا و حجاب میں نہیں بلکہ فیشن میں ہی ہوگا۔صرف رمضان المبارک میں سکارف اور عبایا کا استعمال نہ کریں بلکہ اس کو اپنے لباس کا لازمی حصہ بنا لیں ۔

یقین جانیں ایسا کرنے سے آپ کو اپنی زندگی میں انقلابی تبدیلی محسوس ہو گی اور آپ خود کو ہر مصیبت اور برائی سے محفوظ تصور کریں گی ۔ میری ذاتی رائے میں یہ احساس ِ تحفظ ہی زندگی گزارنے کیلئے کافی ہے۔ امید ہے آپ بھی سکارف اور عبایا کو اپنے لباس کا حصہ ضرور بنائیں گی ۔ ‘‘

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں پھر یہ سوچا کہ۔۔۔ کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہوں مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ 

مزید پڑھیں

  حجاب عربی اور پردہ فارسی زبان کا لفظ ہے لیکن دونوں الفاظ تقریباً ہم معنی ہیں۔اسلام نے عورت کو سب سے پہلے عزت بخشی ،معاشرے میں فخروانبساط کا باعث بنایا گیا تاکہ وہ فرد شیطانی اوہام سے محفوظ رہے۔ عورت کا مطلب ڈھکی ہوئی چیز ہے ہمارے معاشرے میں جب کوئی عورت گھر کی چوکھٹ کو اپنے مقاصد اور ضروریات پوری کرنے کیلئے پار کرتی ہے تو اس کے کردار پر انگلیاں اُٹھائی جاتی ہیں بہت سے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے خواہ وہ کتنا ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو ۔  

مزید پڑھیں

نہ جانے کون سے لمحے میں ۔۔۔ہم سب راکھ ہو جائیں چلو کچھ کام کر جائیں۔۔۔کسی کے کام آجائیں کوئی رستہ سُجھا جائیں ۔۔۔کوئی بستہ تھما جائیں کسی کی رہنمائی اور۔۔۔کسی کا گھر بنا جائیں کہیں فکری ضرورت ہے۔۔۔کہیں عملی ضرورت ہے نئی فکریں جگا جائیں ۔۔۔چلو کچھ کام کر جائیں

مزید پڑھیں