☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(ڈاکٹر فیض احمد چشتی ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) تجزیہ(خالد نجیب خان) فیشن(طیبہ بخاری ) شوبز(مروہ انصر چوہدری ) رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) کھیل(طیب رضا عابدی ) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
عید آنے کو ہے ۔۔۔پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے۔۔۔۔

عید آنے کو ہے ۔۔۔پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے۔۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

05-24-2020

عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت
پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے
چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے
اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح
خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔
اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں
اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔
کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہوں
مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ 

 

 اُس کی آنکھیں کہاں چاند تارے کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔
تھوڑا سا نورِ سحر
میں سحر سے چُرا کر اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔
نور اُس کا کہاں نور صبح کا کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔
گھٹاؤں کو ہی بھیج دوں
اُس کے آنگن میں اُتر کر رقص کرتی رہیں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔
اُس کی زلفیں کہاں یہ گھٹائیں کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔
اِک مئے سے بھرا جام ہی بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔
سارے عالم کے ہیں جتنے بھی میکدے
اُس کی آنکھوں کی مستی ہی بانٹی گئی
ساغر و مئے کہاں اُس کی آنکھیں کہاں
اُس کے قابل مجھے کچھ بھی نہ لگا
چاند تارے ہوا اور نہ ہی گھٹا
میں اسی سوچ میں تھا پریشاں بہت
کہ کسی نے دی اِک نِدا اس طرح
یاد کرکے اُسے جتنے آنسو گریں
سب کو یکجا کروں اور اُسے بھیج دوں


عیدالفطر، میٹھی عید یا چھوٹی عید ہمارے لیے دینی و دنیوی ہر لحاظ سے باعث مسرت ہے۔ عید کا عود سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ یہ وہی عود ہے جس کا شمار آج بھی بیش قیمت عطور (عطر کی جمع) میں ہوتا ہے۔ عود کالغوی مطلب ہے، لَوٹ کر واپس آنے والی چیز، چونکہ عید سال پورا ہونے پر دوبارہ آتی ہے ، اس لیے اسے یہ نام دیا گیا۔ اور عید کی خوشیاں مناتے مناتے یہ بھی یاد رہے کہ جو لوگ سنت رسول ﷺ کی ہمہ وقت اتباع کرتے ہیں ، وہ دیگر خوشبوئوں کی طرح ، عُود بھی استعمال کرتے ہیں۔
عیدالفطر اَب اس طرح کم منائی جاتی ہے جس طرح آج سے بہت سال قبل منائی جاتی تھی۔ عید کا چاند دیکھنے کا اہتمام کیا جاتا تھا ، ہلال کی دید کے بعد، بزرگوں کو سلام کرتے ہوئے دعائیں لی جاتیں اور پھر عید کے لباس ، پکوان سمیت تمام امور کا سلسلہ جاری ہوتا۔ رمضان المبارک میں ایک مصروفیت، عمدہ نمونے اور اچھے اشعار سے مزین ، مرصع عید کارڈ کی تلاش اور اسے اپنے دوستوں ، رشتہ داروں کو ڈاک سے ارسال کرنے کی بھی ہوا کرتی تھی جو انٹرنیٹ، موبائل فون اور واٹس ایپ جیسے جدید طریقہ ہائے ربط و ضبط نے تقریباً ختم کردی۔ اور اب کی بار تو عالمی وباء کورونا وائر س نے اچانک بہت کچھ بدل ڈالا ۔ ہم ایک دوسرے کو گلے لگانے اور مصافحہ کرنے کو ترسیں گے ، محفوظ اور خوشیوں بھری عید منانی ہے تو سب کو گھروں میں رہنا ہو گا، نماز عیدکی ادائیگی سے متعلق حکومت نے جو ایس او پیز دئیے ہیں ان پر مکمل عملدرآمد کرنا ہو گا اورسماجی فاصلہ برقرار رکھنا ہو گا ۔

ماڈل دانیا کہتی ہیں ’’ ہمیں عید بھی منانی ہے اور کورونا کو شکست بھی دینی ہے ، ا س بار لاک ڈائون اور حفاظتی اقدامات کے باعث عید کی بھرپور خریداری نہیں ہو سکی ، کوئی بات نہیں ہمیں دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہئے انشاء اللہ وہ وقت بھی آئیگا جب ہم سب مل جل کر بالکل ویسی ہی عید منائیں گے جیسی مناتے آئے ہیں ۔ بس اس بار تھوڑی احتیاط کرنی ہے ، غریبوں کا خاص خیال رکھنا ہو گا اور بچوں کو تو پہلے سے بھی زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ۔ میری طرف سے عید کیلئے یہ پیغام کہ
گلشنِ انسانیت میں تازگی کا نام ہے
رشتہ عشق و وفا میں زندگی کا نام ہے
وہ کہ جس کے دل میں کوئی میل ہوتی ہی نہیں
عید ایک بچے کے چہرے پر ہنسی کا نام ہے‘‘

ماڈل کِشاء کہتی ہیں’’ ہمیں اس بار عید سادگی سے منانی چاہئے اور سب کو یہ پیغام دینا چاہئے کہ حوصلہ نہیں ہارنا بلکہ کورونا کو ہرانا ہے ، اپنے ہاتھوں کو ، گھر بار کو ، اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنا ہے اور کورونا سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کرنی ہے ۔ ایسا کیا ہے جو ہم نہیں کر سکتے ، اتحاد اور یگانگت سے ہم آگے بڑھیں اور کورونا کیخلاف تمام ایس او پیز پر عمل کریں تو اس وباء کے ہوتے ہوئے بھی ہم خوش و خرم زندگی گزار سکتے ہیں اور عید بھی منا سکتے ہیں ۔ آئیے اس بار عید پر ہاتھ نہ ملائیں ، کسی کو گلے نہ لگائیں لیکن دلوں کو جوڑ کر عید منائیں اور محبتوں میں اضافہ کریں، عید پر میری جانب سے یہ پیغام کہ
رنجش و بغض و عداوت چھوڑ دینے کا ہے نام
رشتہ عشق و مروت جوڑ دینے کا ہے نام
فاصلے باقی نہ رہ پائیںدلوں کے درمیاں
عید ہر دیوارِ نفرت توڑ دینے کا ہے نام‘‘

ماڈل عمر ہاشمی کہتے ہیں ’’ایک نا نظر آنیوالے وائرس میں اتنی طاقت نہیں ہو سکتی کہ وہ ہم سے ہماری خوشیاں اور زندگی کی رونقیں چھین لے ۔ ہم ایک قوم بن کر اس موذی مرض کا مقابلہ کر رہے ہیں اور جب تک یہ ختم نہیں ہو جاتا ہم اس کیخلاف لڑتے رہیں گے ۔ اس بار عید پر سب کیلئے میری طرف سے بس یہ پیغام ہے کہ اپنے دلوں سے نفرتوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کر دیں ، زندگی سے اور اپنوں سے پیار کریں کیونکہ یہ لمحے لوٹ کر نہیں آتے
میل دل سے نفرتوں کی دھویئے تو عید ہے
ہر کسی کے دکھ میں شامل ہویئے تو عید ہے
زیست میں رشتے کا ہونا تو ضروری ہے مگر
زندگی رشتوں کے اندر بویئے تو عید ہے‘‘

ماڈل عمر خان کہتے ہیں ’’پروین شاکر اس دنیا سے تو جا چکی ہیں لیکن انکا کلام آج بھی انہیں ہم میں زندہ و جاوید رکھے ہوئے ہے ، عید کے حوالے سے انکاشعر یا قطعہ مجھے یاد آ رہا ہے جو آج کل کے حالات کی بھرپور عکاسی کرتا ہے
آنے والی رتوں کے آنچل میں
کوئی ساعت سعید کیا ہو گی
گل نہ ہو گا تو جشنِ خوشبو کیا
ٍٍٍ تم نہ ہو گے تو عید کیا ہو گی

تو میرا عید پر آپ سب کو یہ پیغام ہے کہ کورونا سے خود بھی بچیں اور اپنے پیاروں کو بھی بچائیں ،زندہ رہیں گے تو خوشیاں اور جشن منائیں گے اور اگر خود ہی نہ رہے تو کیسی عید کیسی خوشیاں ۔احتیاط کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے ، عید گھر پر رہ کر منائیں ، اپنوں کیساتھ منائیں اور سماجی فاصلہ برقرار رکھ کر منائیں ۔‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 ’’حِجاب‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں آڑ، وہ پردہ جس کے پیچھے کوئی شے چھپی ہوئی ہو۔ عبایا کا رواج دراصل عرب سے ہم تک پہنچا۔ عرب ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی حجاب اور عبایا کو خواتین پسندیدہ پہناوا سمجھتی ہیں۔ گذشتہ چند سال سے حِجاب اور عبایا کا رجحان اِتنا عام ہوچکا ہے کہ بڑی تعداد میں لڑکیاں اسے استعمال کر رہی ہیں۔ پہلے جہاں خواتین بْرقع میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھیں وہاں آج کل بْرقع سے زیادہ حِجاب کو ترجیح دی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں عبادات کیلئے تو عبایا کا خاص استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

  حجاب عربی اور پردہ فارسی زبان کا لفظ ہے لیکن دونوں الفاظ تقریباً ہم معنی ہیں۔اسلام نے عورت کو سب سے پہلے عزت بخشی ،معاشرے میں فخروانبساط کا باعث بنایا گیا تاکہ وہ فرد شیطانی اوہام سے محفوظ رہے۔ عورت کا مطلب ڈھکی ہوئی چیز ہے ہمارے معاشرے میں جب کوئی عورت گھر کی چوکھٹ کو اپنے مقاصد اور ضروریات پوری کرنے کیلئے پار کرتی ہے تو اس کے کردار پر انگلیاں اُٹھائی جاتی ہیں بہت سے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے خواہ وہ کتنا ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو ۔  

مزید پڑھیں

نہ جانے کون سے لمحے میں ۔۔۔ہم سب راکھ ہو جائیں چلو کچھ کام کر جائیں۔۔۔کسی کے کام آجائیں کوئی رستہ سُجھا جائیں ۔۔۔کوئی بستہ تھما جائیں کسی کی رہنمائی اور۔۔۔کسی کا گھر بنا جائیں کہیں فکری ضرورت ہے۔۔۔کہیں عملی ضرورت ہے نئی فکریں جگا جائیں ۔۔۔چلو کچھ کام کر جائیں

مزید پڑھیں