☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(امام النووی) انٹرویو(زاہد اعوان) متفرق(اے ڈی شاہد) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() کھیل(منصور علی بیگ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری )
بکھرا گئے ہیں آ کے وہ کچھ مسکراہٹیں ۔۔۔

بکھرا گئے ہیں آ کے وہ کچھ مسکراہٹیں ۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

06-07-2020

  فراق گورکھپوری نے کیا خوب کہا تھا کہ
یہ سرمئی فضاؤں کی کنمناہٹیں
ملتی ہیں مجھ کو پچھلے پہر تیری آہٹیں
اس کائنات غم کی فسردہ فضاؤں میں
بکھرا گئے ہیں آ کے وہ کچھ مسکراہٹیں
اے جسم نازنین نگار نظر نواز
صبح شب وصال تیری ملگجاہٹیں
پڑتی ہے آسمان محبت پہ چھوٹ سی
بل بے جبین ناز تری جگمگاہٹیں
چلتی ہے جب نسیم خیال خرام ناز
سنتا ہوں دامنوں کی ترے سرسراہٹیں
چشم سیہ تبسم پنہاں لئے ہوئے

 

پو پھوٹنے سے قبل افق کی اداہٹیں
جنبش میں جیسے شاخ ہو گلہائے نغمہ کی
اک پیکر جمیل کی یہ لہلہاہٹیں
جھونکوں کی نذر ہے چمن انتظار دوست
یاد امید و بیم کی یہ سنسناہٹیں
ہو سامنا اگر تو خجل ہو نگاہ برق
دیکھی ہیں عضو عضو میں وہ اچپلاہٹیں
کس دیس کو سدھار گئیں اے جمال یار
رنگیں لبوں پہ کھیل کے کچھ مسکراہٹیں
رخسار تر سے تازہ ہو باغ عدن کی یاد
اور اس کی پہلی صبح کی وہ رسمساہٹیں
ساز جمال کی یہ نواہائے سرمدی
جوبن تو وہ فرشتے سنیں گنگناہٹیں
آزردگی حسن بھی کس درجہ شوخ ہے
اشکوں میں تیرتی ہوئی کچھ مسکراہٹیں
ہونے لگا ہوں خود سے قریں اے شب الم
میں پا رہا ہوں ہجر میں کچھ اپنی آہٹیں
میری غزل کی جان سمجھنا انہیں فراق
شمع خیال یار کی یہ تھرتھراہٹیں
رُباب کہتی ہیں ’’موسم کی شدت میں فیشن کی بات کرنا کچھ عجیب سا لگتا ہے لیکن لباس آپ کی شخصیت کا بہترین تعارف ہوتا ہے ۔ جو رنگ اور جو ڈیزائن آپ اپنے لیے منتخب کرتے ہیں دراصل وہ آپ کی پسند کے معیار اور درجے کی ترجمانی کرتے ہیں اس لئے آپ لباس کی خریداری اور رنگوں کے انتخاب میں انتہائی احتیاط برتا کریں اور موسم کی شدت کا تو خصوصی خیال رکھا کریں ۔ جون کی تیز ترین گرمی میں آپ کیلئے ضروری ہے کہ ہلکے اور کھِلے کھِلے رنگوں کا انتخاب کریں ، ایسا کرنے سے آپ کی شخصیت مزید پُر کشش نظر آئے گی اور آپ کی طبیعت بھی ہشاش بشاش رہے گی ۔ موسم گرما کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے آپ سب کیلئے چند کھِلے کھِلے رنگوں کا انتخاب کیا ہے امید ہے آپ کو یہ رنگ اور ڈیزائینز پسند آئیں گے ۔ ‘‘

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  احمد فراز نے کیا خوب کہا تھا کہ رت جگے ہوں کہ بھرپور نیند یں مسلسل اُسے دیکھنا وہ جو آنکھوں میں ہے اور آنکھوں سے اوجھل اُسے دیکھنا اِس کڑی دھوپ میں دل تپکتے ہیں اور بام پر وہ نہیں کل نئے موسموں میں جب آئیں گے بادل اُسے دیکھنا وہ جو خوشبو بھی ہے اور جگنو بھی ہے اور آنسو بھی ہے جب ہَوا گنگنائے گی ناچے گا جنگل اُسے دیکھنا

مزید پڑھیں

  یہ احمد فراز جیسے شاعر کا ہی کما ل تھا کہ وہ موسم کی حدت اور شدت کو اپنے الفاظ میں کس خوبصورتی سے بیان کرتے تھے دیکھو پگھلا پگھلا سونا بہہ نکلا کہساروں سے دیکھو بھینی بھینی خوشبو آتی ہے گلزاروں سے دیکھو نیلے نیلے بادل جُھول رہے ہیں جھیلوں پر تم بھی سُندر سُندر سپنوں کی لہروں پر بہہ جائو اور ذرا کچھ لمحے ٹھہرو اور ذرا رہ جائو

مزید پڑھیں

 میر تقی میر نے کیا خوب کہا تھا کہ گل کو محبوب ہم قیاس کیا فرق نکلا بہت جو پاس کیا دل نے ہم کو مثالِ آئینہ ایک عالم کا روشناس کیا کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اُس بن شوق نے ہم کو بے حواس کیا

مزید پڑھیں