☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) صحت(حکیم نیازاحمد ڈیال) فیشن(طیبہ بخاری ) فیچر(ایم آر ملک) کھیل(منصور علی بیگ) دنیا کی رائے(فرحان شوکت ہنجرا) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) ستاروں کی چال()
اُس کے حریم ِ ناز تک کوئی پہنچ سکا کہاں ۔۔۔۔

اُس کے حریم ِ ناز تک کوئی پہنچ سکا کہاں ۔۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

06-14-2020

  سراج الدین ظفر نے کیا خوب کہا تھا کہ
ذوقِ نمُو کو منزلِ دوست میں آکے بھول جا
اِس طرح بے نیاز ہو سر کو جُھکا کے بھول جا
داغِ فراق کے سِوا حاصلِ عشق کچھ نہیں
پردۂ جان و دل میں یہ شمع جلا کے بھول جا
اُس کے حریم ِ ناز تک کوئی پہنچ سکا کہاں
راہ گزارِ شوق کی خاک اُڑا کے بھول جا

 
حلقہ بگوشِ عشق ہو پھر نہ زوال ہے نہ موت
پیکر قضاپہ آخری تیر چلا کے بھول جا
بزم میں اَے نگاہِ دوست اِس طرح اہلِ دل سے کھیل
اِس کو مٹا کے بھول جا ، اُس کو بنا کے بھول جا
آئے خزاں میں جو کبھی یاد تجھے بہار کی
ساغرِ چشمِ تر سے دو اشک بہا کے بھول جا
دِ ل بھی خراب ِ عشق ہے دل کو بھی دے سزائے شوق
اِس کو بھی طُور کی طرح آگ لگا کے بھول جا
حسرتِ دید میں جو ہے دید میں وہ مزا نہیں
پردۂ رُوئے دوست اُٹھا اور اُٹھا کے بھول جا
تو بھی دیارِ دوست میں شوق کے زمزمے الاپ
بادِ شمال کی طرح ٹھوکریں کھا کے بھول جا
سطوتِ قیصرانہ کو ، شوکتِ خسروانہ کو
جام ِ شرابِ عشق سے ہونٹ ملا کے بھول جا
میری غزل میں ہے ظفر لطف بقدرِ ظرف و ذوق
تُو اِسے گا کے جھوم اُٹھ یا اِسے گا کے بھول جا


صائمہ آذر کہتی ہیں ’’ بہتر اور خوبصورت ملبوسات کے انتخاب میں موسم کی شدت بھول جائیں ۔۔۔ آپ کا انتخاب درست اور معیاری ہے تو موسم گرما میں بھی نت نئے رنگ زیب تن کئے جا سکتے ہیں ۔ مجھے ایک ہی انداز کی بجائے مختلف انداز کے ملبوسات بے حد پسند ہیں ۔ آج کل تو کورونا کے باعث شادی بیاہ کی تقریبات نہیں ہو رہیں اور اگر ہو رہی ہیں تو انتہائی مختصر پیمانے پر گھروں کے اندر۔ ایسے میں آپ کوشادی بیاہ کی تقریبات میں جانا ہو یا گھر میں کچھ خاص مہمانوں نے آنا ہو تونیٹ یا شفون کی ہاف بازو بغیر بازو یا فُل بازو لانگ اور شارٹ شرٹ کیساتھ غرارہ ، لہنگا یا فلیپر پہنا جا سکتا ہے، اس سے موسم کی حدت بھی اثر انداز نہیں ہو تی اور یہ روایتی پہناوا بھی ہے مجھے تو جدید دور کے مزاج کے مطابق چند ترامیم کر کے ماضی کے ٹرینڈز بہت پسند ہیں ۔

آج ’’دنیا ‘‘ سے ملاقات کے ذریعے جو ٹرینڈز میں نے آپ سب کیلئے منتخب کئے ہیں اِن کے ساتھ آپ لانگ ہیل پہنیں تو کیا ہی بات ہے ۔ موسم کی شدت سے گھبرانے کی بجائے بہتر فیشن کرنا چاہئے ۔امید ہے آپ کو میری سلیکشن ضرور پسند آئے گی ۔‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  احمد فراز نے کیا خوب کہا تھا کہ رت جگے ہوں کہ بھرپور نیند یں مسلسل اُسے دیکھنا وہ جو آنکھوں میں ہے اور آنکھوں سے اوجھل اُسے دیکھنا اِس کڑی دھوپ میں دل تپکتے ہیں اور بام پر وہ نہیں کل نئے موسموں میں جب آئیں گے بادل اُسے دیکھنا وہ جو خوشبو بھی ہے اور جگنو بھی ہے اور آنسو بھی ہے جب ہَوا گنگنائے گی ناچے گا جنگل اُسے دیکھنا

مزید پڑھیں

  یہ احمد فراز جیسے شاعر کا ہی کما ل تھا کہ وہ موسم کی حدت اور شدت کو اپنے الفاظ میں کس خوبصورتی سے بیان کرتے تھے دیکھو پگھلا پگھلا سونا بہہ نکلا کہساروں سے دیکھو بھینی بھینی خوشبو آتی ہے گلزاروں سے دیکھو نیلے نیلے بادل جُھول رہے ہیں جھیلوں پر تم بھی سُندر سُندر سپنوں کی لہروں پر بہہ جائو اور ذرا کچھ لمحے ٹھہرو اور ذرا رہ جائو

مزید پڑھیں

 میر تقی میر نے کیا خوب کہا تھا کہ گل کو محبوب ہم قیاس کیا فرق نکلا بہت جو پاس کیا دل نے ہم کو مثالِ آئینہ ایک عالم کا روشناس کیا کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اُس بن شوق نے ہم کو بے حواس کیا

مزید پڑھیں