☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) غورطلب(ڈاکٹر جاوید اقبال ندیم) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() خواتین(نجف زہرا تقوی) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) ستاروں کی چال(مرزا وحید بیگ)
گُل کو محبوب ہم قیاس کیا…

گُل کو محبوب ہم قیاس کیا…

تحریر : طیبہ بخاری

06-21-2020

 میر تقی میر نے کیا خوب کہا تھا کہ
گل کو محبوب ہم قیاس کیا
فرق نکلا بہت جو پاس کیا
دل نے ہم کو مثالِ آئینہ
ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اُس بن
شوق نے ہم کو بے حواس کیا

 عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے
قیس کی آبرو کا پاس کیا
دَور سے چرخ کے نکل نہ سکے
ضعف نے ہم کو مور طاس کیا
صبح تک شمع سر کو دھنتی رہی
کیا پتنگے نے التماس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں!
میر کو تم نے عبث اداس کیا

شائلہ راناموسم گرما میں لباس کے انتخاب کے بارے میں کہتی ہیں ’’ موسم گرما میں لان کے خوبصورت ،دیدہ زیب اور کھِلے کھِلے رنگ آپ کی شخصیت کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔لباس موسم سے ہم آہنگ ہو ، من پسند ہو تو گرمی کی حدت آپ کو متاثر نہیں کر پاتی ۔ خوبصورت لان کے سوٹ کیساتھ نتے نئے ڈیزائن اور رنگوں سے بھرا دوپٹہ ، کھلے بال اور کبھی کبھی چوٹی آپ کی خوبصورتی میں مزید اضافے کا باعث بنتے ہیں ۔

آجکل کورونا کے باعث گھر والوں کے ساتھ سیر اور پارٹیز پر جانے کا سلسلہ تو تقریباً ختم ہو چکا ہے لیکن سماجی فاصلوں کیساتھ سماجی رابطوں کا موقع ملے تو آپ لان کے ان خوبصورت اور دیدہ زیب رنگوں کا استعمال ضرور کریں جنکا انتخاب میں نے آپ سب کیلئے ’’دنیا ‘‘ سے ملاقات کے ذریعے کیا ہے ۔ امید ہے آپ کو میری پسند ضرور پسند آئے گی ۔ ‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  احمد فراز نے کیا خوب کہا تھا کہ رت جگے ہوں کہ بھرپور نیند یں مسلسل اُسے دیکھنا وہ جو آنکھوں میں ہے اور آنکھوں سے اوجھل اُسے دیکھنا اِس کڑی دھوپ میں دل تپکتے ہیں اور بام پر وہ نہیں کل نئے موسموں میں جب آئیں گے بادل اُسے دیکھنا وہ جو خوشبو بھی ہے اور جگنو بھی ہے اور آنسو بھی ہے جب ہَوا گنگنائے گی ناچے گا جنگل اُسے دیکھنا

مزید پڑھیں

  یہ احمد فراز جیسے شاعر کا ہی کما ل تھا کہ وہ موسم کی حدت اور شدت کو اپنے الفاظ میں کس خوبصورتی سے بیان کرتے تھے دیکھو پگھلا پگھلا سونا بہہ نکلا کہساروں سے دیکھو بھینی بھینی خوشبو آتی ہے گلزاروں سے دیکھو نیلے نیلے بادل جُھول رہے ہیں جھیلوں پر تم بھی سُندر سُندر سپنوں کی لہروں پر بہہ جائو اور ذرا کچھ لمحے ٹھہرو اور ذرا رہ جائو

مزید پڑھیں

  سراج الدین ظفر نے کیا خوب کہا تھا کہ ذوقِ نمُو کو منزلِ دوست میں آکے بھول جا اِس طرح بے نیاز ہو سر کو جُھکا کے بھول جا داغِ فراق کے سِوا حاصلِ عشق کچھ نہیں پردۂ جان و دل میں یہ شمع جلا کے بھول جا اُس کے حریم ِ ناز تک کوئی پہنچ سکا کہاں راہ گزارِ شوق کی خاک اُڑا کے بھول جا

مزید پڑھیں