☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(عبدالمجید چٹھہ) عالمی امور(صہیب مرغوب) فیشن(طیبہ بخاری ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خواتین(نجف زہرا تقوی) رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) فیچر(ایم آر ملک)
سُلگا سُلگا موسم ہے۔۔۔

سُلگا سُلگا موسم ہے۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

06-28-2020

  یہ احمد فراز جیسے شاعر کا ہی کما ل تھا کہ وہ موسم کی حدت اور شدت کو اپنے الفاظ میں کس خوبصورتی سے بیان کرتے تھے
دیکھو پگھلا پگھلا سونا بہہ نکلا کہساروں سے
دیکھو بھینی بھینی خوشبو آتی ہے گلزاروں سے
دیکھو نیلے نیلے بادل جُھول رہے ہیں جھیلوں پر
تم بھی سُندر سُندر سپنوں کی لہروں پر بہہ جائو
اور ذرا کچھ لمحے ٹھہرو
اور ذرا رہ جائو

سُلگا سُلگا موسم ہے شعلوں کی دہکتی حِدت سے
چڑھتے سورج کے سائے میں ساری دُنیا جلتی ہے
دہک دہک اُٹھی ہیں سڑکیں تپتی دھوپ کی شدت سے
ابھی نہ جائو دیکھو کتنی تیزی سے لُو چلتی ہے
اِس کو بھی اک جبرِ مشیت سمجھو اور سہہ جائو
اور ذرا کچھ لمحے ٹھہرو
اور ذرا رہ جائو
دیکھو چار وں طرف ٹھنڈے ٹھنڈے سائے لہراتے ہیں
تارے نکھرے موتی بکھرے شام کا جادو قائم ہے
خنک خنک پھولوں کے جھونکے خوشبوئیں برساتے ہیں
ٹھیک ہے تم کو جانا ہے پر ایسا بھی کیا لازم ہے
ٹھہرو کچھ باتیں ہم سے سُن لو کچھ تم کہہ جائو
اور ذراکچھ لمحے ٹھہرو
اور ذرارہ جائو
کنول کہتی ہیں ’’جون شدید ترین گرمی لاتا ہے۔ آپ نازک مزاج ہوں اور موسم کی شدت زوروں پر ہو تو کوئی شے من کو نہیں بھاتی لیکن لباس آپ کے مزاج کے مطابق ہو ، دیدہ زیب ہو ، کھلے کھلے رنگ ہوں تو موسم کی شدت رنگینی میں بدل جاتی ہے ۔ موسم کی حدت سے بچنے کیلئے کھلے کھلے ہلکے رنگوں کے ملبوسات آپ کیلئے بہترین انتخاب ثابت ہو سکتے ہیں ۔ اپنی پسند کی مناسبت سے دلکش ڈیزائن چُنیں ، کھلی شرٹ سلوائیں یا قمیص بنائیں ، دامن پر بارڈر بھی لگوایا جا سکتا ہے ، کانوں میں ہلکی پھلکی بالیاں یا ٹاپس پہنیں تو آپ کی شخصیت سب میں نمایاں اور منفرد نظر آئے گی ۔

موسم گرما میں ہلکے رنگوں کے ملبوسات آپ کو گرمی سے نہ صرف محفوط رکھتے ہیں بلکہ آپ کی خوبصورتی میں اضافہ بھی کرتے ہیں ۔ آج ’’دنیا ‘‘ سے ملاقات میں میں نے آپ سب کیلئے اپنی پسند کے چند خوبصورت ٹرینڈز کا انتخاب کیا ہے ، امید ہے آپ کو میری سلیکشن ضرور پسند آئے گی ۔ ‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  احمد فراز نے کیا خوب کہا تھا کہ رت جگے ہوں کہ بھرپور نیند یں مسلسل اُسے دیکھنا وہ جو آنکھوں میں ہے اور آنکھوں سے اوجھل اُسے دیکھنا اِس کڑی دھوپ میں دل تپکتے ہیں اور بام پر وہ نہیں کل نئے موسموں میں جب آئیں گے بادل اُسے دیکھنا وہ جو خوشبو بھی ہے اور جگنو بھی ہے اور آنسو بھی ہے جب ہَوا گنگنائے گی ناچے گا جنگل اُسے دیکھنا

مزید پڑھیں

 میر تقی میر نے کیا خوب کہا تھا کہ گل کو محبوب ہم قیاس کیا فرق نکلا بہت جو پاس کیا دل نے ہم کو مثالِ آئینہ ایک عالم کا روشناس کیا کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اُس بن شوق نے ہم کو بے حواس کیا

مزید پڑھیں

  سراج الدین ظفر نے کیا خوب کہا تھا کہ ذوقِ نمُو کو منزلِ دوست میں آکے بھول جا اِس طرح بے نیاز ہو سر کو جُھکا کے بھول جا داغِ فراق کے سِوا حاصلِ عشق کچھ نہیں پردۂ جان و دل میں یہ شمع جلا کے بھول جا اُس کے حریم ِ ناز تک کوئی پہنچ سکا کہاں راہ گزارِ شوق کی خاک اُڑا کے بھول جا

مزید پڑھیں