☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ دین و دنیا کھیل رپورٹ کچن کی دنیا خواتین فیشن تاریخ کیرئر پلاننگ ادب متفرق
سجل ، نرم چاندنی کی طرح ۔۔۔

سجل ، نرم چاندنی کی طرح ۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

04-28-2019

کِشاء کہتی ہیں ’’مجھے شاپنگ کا بے حد شوق ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ یہ شوق میری شخصیت کا حصہ بن چکا ہے ، خوبصورت ملبوسات ، نت نئے رنگ ، میچنگ جوتے اور میرے کپڑوں سے میل کھاتے پرس یا ہینڈ بیگز یہ سب میری پسند ہی نہیں میری کمزوری ، میرا فیشن اور میرا زندگی گزارنے کا انداز ہیں

وہ سایہ دار شجر

جو مجھ سے دُور ، بہت دُور ہے ، مگر اسکی

لطیف چھائوں

سجل ، نرم چاندنی کی طرح

مرے وجود ، مری شخصیت پہ چھائی ہے !

وہ ماں کی بانہوں کی مانند مہرباں شاخیں

جو ہر عذاب میں مجھ کو سمیٹ لیتی ہیں

وہ ایک مشفقِ دیرینہ کی دعا کی طرح

شریر جھونکوں سے پتوں کی نرم سرگوشی

کلام کرنے کا لہجہ مجھے سکھاتی ہے

وہ دوستوں کی حسیں مسکراہٹوں کی طرح

شفق عذار ، دھنک پیرہن شگوفے ، جو

مجھے زمیں سے محبت کا درس دیتے ہیں !

اداسیوں کی کسی جانگداز ساعت میں میں

اس کی شاخ پر سر رکھ کے جب بھی روئی ہوں

تو میری پلکوں نے محسوس کر لیا فوراً

بہت ہی نرم سی اک پنکھڑی کا شیریں لمس!

(نمی تھی آنکھ میں لیکن میں مسکرائی ہوں !)

کڑی ہے دھوپ

تو پھر برگ برگ ہے شبنم

تپاں ہوں لہجے

تو پھر پھول پھول ہے ریشم

ہرے ہوں زخم

تو سب کونپلوں کا رس مرہم !

وہ ایک خوشبو

جو میرے وجود کے اندر

صداقتوں کی طرح زینہ زینہ اُتری ہے

کرن کرن مری سوچوں میں جگمگاتی ہے

(مجھے قبول ، کہ وجداں نہیں یہ چاند مرا

یہ روشنی مجھے ادراک دے رہی ہے مگر !)

وہ ایک جھونکا

جو اس شہر گل سے آیا تھا

اب اس کے ساتھ بہت دور جا چکی ہوں میں

میں ایک ننھی سی بچی ہوں اور خموشی سے

بس اس کی اُنگلیاں تھامے ، اور آنکھیں بند کیے

جہاں جہاں لیے جاتا ہے ، جا رہی ہوں میں !

وہ سایہ دار شجر

جو دن میں میرے لیے ماں کا نرم آنچل ہے

وہ رات میں ،مرے آنگن پہ ٹھہرنے والا

شفیق ،نرم زباں،مہرباں بادل ہے

مرے دریچوں میں جب چاندنی نہیں آتی

جو بے چراغ کوئی شب اُترنے لگتی ہے

تو میری آنکھیں کرن کے شجر کو سوچتی ہیں

دبیز پردے نگاہوں سے ہٹنے لگتے ہیں

ہزار چاند ، سر ِشاخ ِگْل اُبھرتے ہیں !

جسے میں ہر گز دوسروں پر تھونپنا نہیں چاہتی لیکن اگر میری سلیکشن کسی کو پسند آئے تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں ۔ میری سہیلیاں اکثر میری سلیکشن کی تعریف کرتی ہیں اپنے ملبوسات کی تیاری اور خریداری کیلئے مجھ سے مشورہ لیتی ہیں مجھے ان سب کو رائے دینا بہت اچھا لگتا ہے ، ایسا کرنے سے کامیابی سی محسوس ہوتی ہے ۔

ابتداء میں پروین شاکر صاحبہ کی جو نظم پیش کی گئی ہے وہ میرا انتہائی پسندیدہ کلام ہے اس نظم کے بعد کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی آج کل موسم کی خوشگواریت کو مد نظر رکھتے ہوئے پارٹیز کا سلسلہ جاری ہے ۔ میں نے آپ کیلئے کچھ دل نشیں رنگوں اور ڈیزائینز کی خوبصورت کلیکشن پیش کی ہے جس میں فیشن کیساتھ ساتھ نئے ٹرینڈز سب کچھ ملے گا ۔ امید ہے آپ کو میرا مشورہ اور انتخاب ضرور پسند آئے گا ۔‘‘ ٭٭٭

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

مرے ہم سفر !تری نذر ہیں مری عمر بھر کی یہ دولتیں

مرے شعر ، میری صداقتیں ...

مزید پڑھیں

عیدالفطر ہو یا عید الاضحی ہر دل سے ایک ہی دعا نکلتی ہے کہ

اللہ کرے کہ تم کو مبارک ہو روز عید

مزید پڑھیں

ناصر کاظمی نے کیا خوب کہا تھا کہ

یوں ترے حُسن کی تصویر غزل میں آئے مزید پڑھیں