☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) رپورٹ( محمدشاہنوازخان) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) خواتین کچن کی دنیا سفر نامہ(سلمٰی اعوان) دین و دنیا(لیاقت بلوچ) فیشن(طیبہ بخاری ) متفرق(سید علی شاہ نقوی) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان)
اُس کے مُکھ پر آنکھیں جیسے تاروں کے دو پھول ۔۔۔۔

اُس کے مُکھ پر آنکھیں جیسے تاروں کے دو پھول ۔۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

05-05-2019

کائنات راجپوت کہتی ہیں ’’فیشن کی دنیا میں بسنے والا ہر باسی خوابوں اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے میں اس حوالے سے اپنے آپ کو دوسروں سے ذرا مختلف سمجھتی ہوں ، خوبصورتی کی دلدادہ ہوں لیکن حقیقت پسند بھی ہوں ،رنگوں سے پیار ہے خوشبو ئوں اور محبتوں کے نگر کی سیر کرنا چاہتی ہوں لیکن اس حقیقت سے بھی آشنا ہوں کہ آج کے دور میں یہ سب ملنا اتنا آسان نہیں جتنا چاہا جاتا ہے ۔

سپنے میں کل دیکھی میں نے اِک البیلی صورت چاندی کی اِک مورت

ایسا روپ انوکھا اُس کا چندا کو شرمائے

مورنی جیسی گردن اُس کی دل میں بستی جائے

سکھیوں کی اُس بھیڑ میں سب سے روشن اُس کا روپ

چاندنی اُس کے سر پر جیسے سایہ کرتی جائے

سپنے میں کل دیکھی میںنے اِک البیلی صورت

چاندی کی اِک مورت

اس کے مُکھ پر آنکھیں جیسے تاروں کے دو پھول

ٹھہری ٹھہری گہری گہری قاتل پر ، مقتول

شام شفق سی سرخ وہ اُس کی مخملی پاپوش

میرے دل سے لاکھوں دل تھے ، ان قدموں کی دھول

سپنے میں کل دیکھی میں نے اِک البیلی صورت

چاندی کی اِک مورت

اب بات کرتے ہیں موسم اور ملبوسات کی تو بہار کے بعد موسم میں گرمی کی لہر دوڑ چکی ہے سورج کی تپش ہے کہ دن بدن بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ موسم گرمامیں خواتین کی کوشش ہوتی ہے کہ ایسے ملبوسات کا انتخاب کریں جو گرمی کے احساس کو کم سے کم کریں اور ان کی رنگینی میں بھی کمی واقع نہ ہو۔موسم گرما میں شادی بیاہ اور پارٹیز میں شرکت کیلئے ملبوسات کا انتخاب مسئلہ بن جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ڈیزائنرز ہر موسم کی آمد پر اپنے ملبوسات کی نمائش کیلئے فیشن ویکس کا انعقاد کرتے ہیں ۔ان فیشن ویکس میں وہ مداحوں کو اپنی تخلیقات اور نت نئے ڈیزائینز سے آگاہ کرتے ہیں۔ آج ’’دنیا ‘‘ سے ملاقات میں میں نے آپ سب کیلئے جدید ٹرینڈز کے مطابق جن ملبوسات کا انتخاب کیا ہے وہ آپ کی شخصیت کو مزید پُرکشش اور خوبصورت بنائیں گے۔ امید ہے آج کی ملاقات میں آپ کو میری سلیکشن ضرور پسند آئے گی ۔‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  میں نے … کچھ لفظ لکھے ہیں لہروں پر جب دریا تیرے شہر سے گزرے ، پڑھ لینا میں نے … اک بات کہی ہے خوشبو سے جب موسم تیرے صحن سے گزرے سن لینا جب چاند تری کھڑکی میں رکے اور تارے جھلمل کرتے ہوں، کانوں میں ہوا کچھ کہہ کے چلے آنگن میں خواب اترتے ہوں ، اس وقت جو باتیں دل میں ہوں وہ ساری باتیں کر دینا میں نے …کچھ لفظ لکھے ہیں لہروں پر جب دریا تیرے شہر سے گزرے ، سن لینا

مزید پڑھیں

عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں پھر یہ سوچا کہ۔۔۔ کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہوں مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ 

مزید پڑھیں

 ’’حِجاب‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں آڑ، وہ پردہ جس کے پیچھے کوئی شے چھپی ہوئی ہو۔ عبایا کا رواج دراصل عرب سے ہم تک پہنچا۔ عرب ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی حجاب اور عبایا کو خواتین پسندیدہ پہناوا سمجھتی ہیں۔ گذشتہ چند سال سے حِجاب اور عبایا کا رجحان اِتنا عام ہوچکا ہے کہ بڑی تعداد میں لڑکیاں اسے استعمال کر رہی ہیں۔ پہلے جہاں خواتین بْرقع میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھیں وہاں آج کل بْرقع سے زیادہ حِجاب کو ترجیح دی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں عبادات کیلئے تو عبایا کا خاص استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں