☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) سپیشل رپورٹ(طاہر اصغر) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) دین و دنیا(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) کچن فیشن(طیبہ بخاری ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) خواتین متفرق(رضوان عطا) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان)
سکارف + عبایا ، پردہ اور عبادت ساتھ ساتھ

سکارف + عبایا ، پردہ اور عبادت ساتھ ساتھ

تحریر : طیبہ بخاری

05-12-2019

معروف ماڈل رایان کہتی ہیں کہ ’’رمضان المبارک میں عبادات میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ رشتہ داروں اور دوستوں کے ہاں افطار پارٹیوں کاسلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے ۔

میں تو رمضان کے مقدس مہینے میں عبایا اور سکارف کو اپنے لباس کا لازمی حصہ بنا لیتی ہوں کیونکہ ایسا کرنے سے عبادت اور پردہ دونوں ذمہ داریاں پوری ہو جاتی ہیںاور روحانی سکون بھی ملتا ہے ۔ میں یہ تو نہیں کہوں گی کہ آپ رمضان المبارک میں اپنی شخصیت کو باوقار بنانے کیلئے سکارف اور عبایا کا استعمال کریں ، ہاں یہ ضرور کہونگی کہ اگر آپ اس رحمتوں بھرے مہینے میں روحانی سکون حاصل کرنا چاہتی ہیں تو سکارف اور عبایا کو اپنا انتخاب نہیں بلکہ اپنا لباس بنا لیں۔

ذرا سوچیں کہ رمضان کتنی عظمت والامہینہ ہے جس میں جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دوزخ کے تمام دروازے بندکردیئے جاتے ہیں۔ میں اِس مبارک مہینے میںروزے اور عبادت کا خوب اہتمام کرتی ہوں کیونکہ یہی وہ مہینہ ہے جس میں دل کھول کر دعائیں مانگنی چاہئیں، گناہوں سے توبہ کرنی چاہئے ،افطار کے وقت نادار افراد کو یاد رکھنا چاہئے میری کوشش ہوتی ہے کہ افطار کے وقت اپنے گھر والوں کیساتھ ساتھ آس پاس رہنے والوں کا بھی خیال رکھا جائے تا کہ اگر کسی میں استطاعت نہیں تو وہ بھی افطار کر سکے ۔

رمضان المبارک میں کوشش کریں کہ اپنوں اور غیروں سب کا خیال رکھیں ، اپنی دعائوں میں ان لوگوں کا بھی خیال رکھیں جن کیلئے ہاتھ اٹھا کردعا مانگنے والا کوئی نہیں ۔ یقین جانیے ثواب کیساتھ ساتھ وہ قلبی سکون حاصل ہو گا جو آپ کی زندگی کا رُخ بدل دے گا ۔‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  احمد فراز نے کیا خوب کہا تھا کہ رت جگے ہوں کہ بھرپور نیند یں مسلسل اُسے دیکھنا وہ جو آنکھوں میں ہے اور آنکھوں سے اوجھل اُسے دیکھنا اِس کڑی دھوپ میں دل تپکتے ہیں اور بام پر وہ نہیں کل نئے موسموں میں جب آئیں گے بادل اُسے دیکھنا وہ جو خوشبو بھی ہے اور جگنو بھی ہے اور آنسو بھی ہے جب ہَوا گنگنائے گی ناچے گا جنگل اُسے دیکھنا

مزید پڑھیں

  یہ احمد فراز جیسے شاعر کا ہی کما ل تھا کہ وہ موسم کی حدت اور شدت کو اپنے الفاظ میں کس خوبصورتی سے بیان کرتے تھے دیکھو پگھلا پگھلا سونا بہہ نکلا کہساروں سے دیکھو بھینی بھینی خوشبو آتی ہے گلزاروں سے دیکھو نیلے نیلے بادل جُھول رہے ہیں جھیلوں پر تم بھی سُندر سُندر سپنوں کی لہروں پر بہہ جائو اور ذرا کچھ لمحے ٹھہرو اور ذرا رہ جائو

مزید پڑھیں

 میر تقی میر نے کیا خوب کہا تھا کہ گل کو محبوب ہم قیاس کیا فرق نکلا بہت جو پاس کیا دل نے ہم کو مثالِ آئینہ ایک عالم کا روشناس کیا کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اُس بن شوق نے ہم کو بے حواس کیا

مزید پڑھیں