☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ عید اسپیشل غور و طلب فیشن صحت دین و دنیا کیرئر پلاننگ ادب
سجتی ہے تیرے بر میں سراپا قبائے عید ۔۔۔۔

سجتی ہے تیرے بر میں سراپا قبائے عید ۔۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

06-02-2019

عید کی آمد اورملبوسات کی تیاریوں کے سلسلے میں عائشہ، ، منزہ ، زری اور سلمان کہتے ہیں کہ ’’ عید الفطر خدائے بزرگ و برتر کی جانب سے اپنے بندوں کوبلا تفریق دیا جانیوالا ایساخوشیوںبھرا انمول مقدس تہوار ہے

اکبر الہ آبادی نے عید کے دن کے بارے میں کیا خوب کہا تھا کہ

گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دن

ادھر تو آئو مرے گلعذار عید کے دن

غضب کا حسن ہے آرائشیں قیامت کی

عیاں ہے قدرت پروردگار عید کے دن

 

 

سنبھل سکی نہ طبیعت کسی طرح میری

رہا نہ دل پہ مجھے اختیار عید کے دن

وہ سال بھر سے کدورت بھری جو تھی دل میں

وہ دور ہو گئی بس ایک بار عید کے دن

لگا لیا انہیں سینہ سے جوشِ اُلفت میں

غرض کہ آ ہی گیا مجھ کو پیار عید کے دن

کہیں ہے نغمۂ بلبل کہیں ہے خندۂ گل

عیاں ہے جوشِ شبابِ بہار عید کے دن

سویاں دودھ شکر میوہ سب مہیا ہے

مگر یہ سب ہے مجھے ناگوار عید کے دن

جسے پوری امت مسلمہ مناتی ہے۔ عید ایک دینی خوشی ہے اور اس کے اظہار کا طریقہ بھی دینی ہی ہونا چاہئے اور دین کہتا ہے کہ اپنی خوشیوں میں غریبوں ، مسکینوں اور یتیموں کا بھی خاص خیال رکھا جائے تبھی آپ عید کی حقیقی خوشیاں منا سکتے ہیں ۔عید کی مسرتیں ان کیلئے ہیںجنہوں نے نیکیوں کے موسم بہار رمضان المبارک میں روح کی تازگی کا سامان کرلیا ۔عیدالفطر کی خوشیاں ان خوش نصیبوں کیلئے ہیں جنہوں نے ماہ رمضان میں اللہ کا حکم مانتے ہوئے روزے رکھے،عید ان کیلئے پیغام مسرت ہے جنہوں نے رمضان المبارک کی راتوں کو قیام کیا،

عید ان کیلئے شادمانیوں کی نوید ہے جنہوں نے قرآن کریم کی تلاوت کی سعادت حاصل کی۔ عید ان سعادت مندوں کیلئے خوشیوں کا پیغام ہے جنہوں نے رمضان میں دوسروں کی غم خواری کی،محتاجوں اور ضرورت مندوں کی تکلیفوں اور پریشانیوں میں شریک ہو کر ان کی ہمدردی کی۔ بد دیانتی، لوٹ کھسوٹ، ہیرا پھیری، گالی گلوچ، غیبت، بہتان تراشی، راہزنی، قتل وغارت ، بے حیائی، جھوٹ، مکرو فریب اور ظلم سے گریز کرتے رہے۔ عید کی گھڑیاں ان کیلئے مسرت کا پیغام نہیں لائیں گی جو ملاوٹ،چور بازاری، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی سے عوام کی جیبیں لوٹتے رہے۔ ‘‘

عائشہ کو عید کے حوالے سے یہ شعر بہت پسند ہے

جتنے ہیں جامہ زیب جہاں میں سبھوں کے بیچ

سجتی ہے تیرے بر میں سراپا قبائے عید

منزہ کو عید کے بارے میں قمر جلالوی کا یہ کلام بہت پسند ہے

انہیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں

وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں

وہ ہنس ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے

یہ کب کب کے فسانے عید میں دہرائے جاتے ہیں

قمر افشاں چُنی ہے رُخ پہ اُس نے اس سلیقہ سے

ستارے آسماں سے دیکھنے کو آئے جاتے ہیں

منزہ عید پر لڑکیوں کی تیاریوں کے بارے میں کہتی ہیں کہ

ہیں دھنک رنگ سی لڑکیاں عید پر

جیسے اُڑتی ہوئی تتلیاں عید پر

رنگ ، خوشیوں ، امنگوں سے آراستہ

ہیں منور سبھی ہستیاں عید پر

باہمی رنجشیں بھول کر آملو

توڑ ڈالو سبھی بیڑیاں عید پر

کاش آ جائے وہ جس کے ہیں منتظر

میرا دل ، بام و در ، کھڑکیاں عید پر

سلمان عید کے مسرت بھرے لمحات میں یہ دعا کرتے ہیں کہ

عیدکی ہربہاردیکھوتم

عیش لیل ونہاردیکھوتم

ایک اس عیدپرہے کیاموقوف؟

ایسی عیدیں ہزاردیکھوتم

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ثناء کہتی ہیں ’’صرف خوبصورت لباس کا انتخاب ہی کافی نہیں ہوتا ،بہتر اخلاق اور گفتگو کے آداب یہ سب مل کر آپ کی شخصیت کو پُروقار اور ...

مزید پڑھیں

زاریا کہتی ہیں ’’لباس میں آداب ، سلیقہ ، خوبصورتی ، وقار سب کچھ ہونا چاہئے ۔۔۔۔میں صرف اپنے لباس پرہی نہیں بلکہ پوری شخصیت پر توجہ ...

مزید پڑھیں

اقراء عزیز کہتی ہیں ’’ رنگوں کے بناء زندگی ادھوری ہے ، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موسم گرما میں رنگ روٹھ جاتے ہیں یا گہرے رنگوں کا استعم ...

مزید پڑھیں