☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل خصوصی رپورٹ کھیل کچن کی دنیا فیشن دین و دنیا متفرق تاریخ دنیا کی رائے رپورٹ کیرئر پلاننگ ادب
وہ سر سے پائوں تلک دھنک ، دُھوپ ، چاندنی ہے۔۔۔

وہ سر سے پائوں تلک دھنک ، دُھوپ ، چاندنی ہے۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

06-16-2019

زاریا کہتی ہیں ’’لباس میں آداب ، سلیقہ ، خوبصورتی ، وقار سب کچھ ہونا چاہئے ۔۔۔۔میں صرف اپنے لباس پرہی نہیں بلکہ پوری شخصیت پر توجہ دیتی ہوں ، ایسا کوئی فیشن اور ٹرینڈ پسند نہیں جو میری شخصیت سے میل نہ کھاتا ہو یہی وجہ ہے کہ ملبوسات میں میری سلیکشن سب کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے ۔

وہ آنکھوں آنکھوں میں بولتی ہے

تو اپنے لہجے میں

کچی کلیوں کی نگہتیں

ادھ کھلے گلابوں کا رس

خنک رُت میں شہد کی موج گھولتی ہے

وہ زیر لب مسکرا رہی ہو

تو ایسے لگتا ہے

جیسے شام و سحر گلے مل کے

اَن سُنی لے میں گنگنائیں

صبا کی زُلفیں کُھلیں

ستاروں کے تار سانسوں میں جھنجھنائیں

وہ اَبروئوں کی کماں کے سائے میں

چاہتوں سے اَٹی ہوئی دُھوپ

راحتوں میں کھلی ہوئی چاندنی کے موسم نکھارتی ہے

وہ دل میں خواہش کی لہر لیتی ضِدیں

خیالوں کی کرچیاں تک اُتارتی ہے !

ہوا کی آوارگی کے ہمراہ اپنی زُلفیں سنوارتی ہے !!

کبھی وہ اپنے بدن پہ اُجلی رُتوں کا ریشم پہن کے نکلے

تو کتنے رنگوں کے دائرے

سِلوٹوں کی صورت میںٹوٹتے ہیں

وہ لب ہلائے تو پھول جھڑتے ہیں

اُس کی باتیں ؟

کہ جیسے کج دیار یاقوت سے شعاعوں کے اَن گنت

تار پھوٹتے ہیں !!

وہ سر سے پائوں تلک

دھنک ، دُھوپ ، چاندنی ہے !

دُھلے دُھلے موسموں کی بے ساختہ

غزل بخت شاعری ہے

وہ بے اِرادہ محبتوں کے

چھپے چھپے بھید کھولتی ہے

موسم کی تبدیلی سے نہ صرف لباس تبدیل ہو جاتا ہے بلکہ فیشن بدل جاتا ہے اور طرزِ زندگی میں بدلاؤ بھی آ جاتا ہے موسم کے لحاظ سے لباس کا انتخاب کرنا چاہئے آج کل موسم گرما اپنے عروج پر ہے تو ایسے میں کوئی بھی لباس شلوار ، قمیص اور کُرتے پاجامہ کا نعم البدل ہو ہی نہیں سکتا ۔

شلوار قمیص اور ڈھیلے ڈھالے ملبوسات کا موسم صدا بہار رہتا ہے ، یہ شخصیت کو نکھارتا ہے۔ آج کل اس صدا بہار مقبول عام پہناوے کو نئے سٹائل سے سلوایا جارہا ہے جو نہ صرف منفرد بلکہ بہتر لُْک دیتا ہے دراصل یہ قدیم اور جدید فیشن کا حسین امتزاج ہے۔آج ’’دنیا ‘‘ سے ملاقات کے ذریعے میں نے آپ سب کیلئے چند خوبصورت ڈیزائینز کا انتخاب کیا ہے امید ہے آپ بھی انہیں ضرور آزمائیں گی ۔ ‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں