☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل صحت فیچر کیرئر پلاننگ رپورٹ ہم ہیں پاکستانی فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا کھیل خواتین متفرق روحانی مسائل ادب
شعر کہتی ہوئی آنکھیں اُس کی ۔۔۔

شعر کہتی ہوئی آنکھیں اُس کی ۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

07-28-2019

آمنہ کو پروین شاکر کی یہ غزل بہت پسند ہے

چہرہ میرا تھا ، نگاہیں اُس کی

خامشی میں بھی وہ باتیں اُس کی

میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں

شعر کہتی ہوئی آنکھیں اُس کی

شوخ لمحوں کا پتہ دینے لگیں

تیز ہوتی ہوئی سانسیں اُس کی

ایسے موسم بھی گزارے ہم نے

صبحیں جب اپنی تھیں ، شامیں اُس کی

دھیان میں اُس کے یہ عالم تھا کبھی

آنکھ مہتاب کی یادیں اُس کی

رنگ جوئندہ وہ آئے تو سہی

پھول تو پھول ہیں ، شاخیں اُس کی

فیصلہ موجِ ہوا نے لکھا !

آندھیاں میری ، بہاریں اُس کی

خود پہ بھی کھلتی نہ ہو جس کی نظر

جانتا کون زبانیں اُس کی

آمنہ کہتی ہیں ’’ باتیں کرنے سے بات نہیں بنتی ، آپ کا کام آپ کے مقام کا تعین کرتا ہے ، سفارش کا عملی زندگی میں ایک حد تک عمل دخل ہوتا ہے کامیابی کی منزل تک پہنچنے کیلئے آپ کو محنت اور اپنی قابلیت ثابت کرنا ہوتی ہے ۔ شو بز کی دنیا بہت وسیع ہو چکی ہے مقابلے کی دوڑ اتنی تیز ہو چکی ہے کہ اگر آپ معیار کیساتھ ساتھ منفرد کام نہیں کرپاتے تو آپ خود بخود اس دوڑ سے باہر ہو جاتے ہیں اور آپکی جگہ کیسے اور کب پُر ہو جاتی ہے اسکا آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا ۔مجھے صرف اپنے کام سے لگن اور غرض ہے ،

وقت کی قدر کرتی ہوں غیر تعمیری سرگرمیوں میں وقت ضائع نہیں کرتی ، دوستوں کے ساتھ وقت بتانا اچھا لگتا ہے ۔ یہ بات آپ سب کیلئے باعث حیرت ہو گی کہ میرے دوستوں کی عادتیں بھی مجھ جیسی ہیں انہیں بھی وقت کی قدر وقیمت کا احساس ہے لہٰذا ہم سب جب اکٹھے ہوتے ہیں اپنا وقت تعمیری سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں رہی بات ملبوسات کے انتخاب کی تو آج ’’دنیا ‘‘ سے ملاقات کے ذریعے میں نے اپنی پسند کے چند خوبصورت ڈیزائینز اور کلرز کی سلیکشن کی ہے امید ہے یہ سب آپ کو بہت پسند آئیں گے ۔ ‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

وہاں پر کون ہو گا

زرد دھوپوں میں مرے ہمراہ بیٹھا سوچتا ہو گا

...

مزید پڑھیں

تابش خورشید نور ماہ پانی کی جھلک

...

مزید پڑھیں