☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(ڈاکٹر محمد طاہر القادری) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) فیچر(ڈاکٹر سعدیہ اقبال) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) ہم ہیں پاکستانی(رحمی فیصل) فیشن(طیبہ بخاری ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) کچن کھیل(عبدالحفیظ ظفر) خواتین(وردہ صدیقی ) متفرق(عذرا جبین) روحانی مسائل(مفتی محمد یونس پالنوری) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان)
شعر کہتی ہوئی آنکھیں اُس کی ۔۔۔

شعر کہتی ہوئی آنکھیں اُس کی ۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

07-28-2019

آمنہ کو پروین شاکر کی یہ غزل بہت پسند ہے

چہرہ میرا تھا ، نگاہیں اُس کی

خامشی میں بھی وہ باتیں اُس کی

میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں

شعر کہتی ہوئی آنکھیں اُس کی

شوخ لمحوں کا پتہ دینے لگیں

تیز ہوتی ہوئی سانسیں اُس کی

ایسے موسم بھی گزارے ہم نے

صبحیں جب اپنی تھیں ، شامیں اُس کی

دھیان میں اُس کے یہ عالم تھا کبھی

آنکھ مہتاب کی یادیں اُس کی

رنگ جوئندہ وہ آئے تو سہی

پھول تو پھول ہیں ، شاخیں اُس کی

فیصلہ موجِ ہوا نے لکھا !

آندھیاں میری ، بہاریں اُس کی

خود پہ بھی کھلتی نہ ہو جس کی نظر

جانتا کون زبانیں اُس کی

آمنہ کہتی ہیں ’’ باتیں کرنے سے بات نہیں بنتی ، آپ کا کام آپ کے مقام کا تعین کرتا ہے ، سفارش کا عملی زندگی میں ایک حد تک عمل دخل ہوتا ہے کامیابی کی منزل تک پہنچنے کیلئے آپ کو محنت اور اپنی قابلیت ثابت کرنا ہوتی ہے ۔ شو بز کی دنیا بہت وسیع ہو چکی ہے مقابلے کی دوڑ اتنی تیز ہو چکی ہے کہ اگر آپ معیار کیساتھ ساتھ منفرد کام نہیں کرپاتے تو آپ خود بخود اس دوڑ سے باہر ہو جاتے ہیں اور آپکی جگہ کیسے اور کب پُر ہو جاتی ہے اسکا آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا ۔مجھے صرف اپنے کام سے لگن اور غرض ہے ،

وقت کی قدر کرتی ہوں غیر تعمیری سرگرمیوں میں وقت ضائع نہیں کرتی ، دوستوں کے ساتھ وقت بتانا اچھا لگتا ہے ۔ یہ بات آپ سب کیلئے باعث حیرت ہو گی کہ میرے دوستوں کی عادتیں بھی مجھ جیسی ہیں انہیں بھی وقت کی قدر وقیمت کا احساس ہے لہٰذا ہم سب جب اکٹھے ہوتے ہیں اپنا وقت تعمیری سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں رہی بات ملبوسات کے انتخاب کی تو آج ’’دنیا ‘‘ سے ملاقات کے ذریعے میں نے اپنی پسند کے چند خوبصورت ڈیزائینز اور کلرز کی سلیکشن کی ہے امید ہے یہ سب آپ کو بہت پسند آئیں گے ۔ ‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  احمد فراز نے کیا خوب کہا تھا کہ رت جگے ہوں کہ بھرپور نیند یں مسلسل اُسے دیکھنا وہ جو آنکھوں میں ہے اور آنکھوں سے اوجھل اُسے دیکھنا اِس کڑی دھوپ میں دل تپکتے ہیں اور بام پر وہ نہیں کل نئے موسموں میں جب آئیں گے بادل اُسے دیکھنا وہ جو خوشبو بھی ہے اور جگنو بھی ہے اور آنسو بھی ہے جب ہَوا گنگنائے گی ناچے گا جنگل اُسے دیکھنا

مزید پڑھیں

  یہ احمد فراز جیسے شاعر کا ہی کما ل تھا کہ وہ موسم کی حدت اور شدت کو اپنے الفاظ میں کس خوبصورتی سے بیان کرتے تھے دیکھو پگھلا پگھلا سونا بہہ نکلا کہساروں سے دیکھو بھینی بھینی خوشبو آتی ہے گلزاروں سے دیکھو نیلے نیلے بادل جُھول رہے ہیں جھیلوں پر تم بھی سُندر سُندر سپنوں کی لہروں پر بہہ جائو اور ذرا کچھ لمحے ٹھہرو اور ذرا رہ جائو

مزید پڑھیں

 میر تقی میر نے کیا خوب کہا تھا کہ گل کو محبوب ہم قیاس کیا فرق نکلا بہت جو پاس کیا دل نے ہم کو مثالِ آئینہ ایک عالم کا روشناس کیا کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اُس بن شوق نے ہم کو بے حواس کیا

مزید پڑھیں