☰  
× صفحۂ اول (current) عید اسپیشل(ڈاکٹر محمد طاہر القادری) آزادی اسپیشل(صہیب مرغوب) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر ایم اے صوفی) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) متفرق(بلال حیدر) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان)
چمکتا رہے ہر آنگن عید کے دن ۔۔۔

چمکتا رہے ہر آنگن عید کے دن ۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

08-11-2019

عیدالفطر ہو یا عید الاضحی ہر دل سے ایک ہی دعا نکلتی ہے کہ

اللہ کرے کہ تم کو مبارک ہو روز عید

ہر راحت و نشاط کا ساماں لیئے ہوئے

عید الاضحی ایسا مبارک تہوار ہے جو اپنے ساتھ قربانی اور تقویٰ کا پیغام لاتا ہے، قربانی سے مراد ہر وہ عمل ہے جسے اللہ کی رضا کے حصول، اجرو ثواب اور اس کی بارگاہ کا تقرب حاصل کرنے کیلئے انجام دیا جائے۔ اس روزہر صاحب استطاعت مسلمان کی کوشش ہوتی ہے کہ خدائے بزرگ و برتر کے حضور قربانی کا نذرانہ ایثار و عقیدت سے پیش کیا جائے اور غریبوں و مسکینوں کے گھروں میں قربانی کا گوشت خصوصی اہتمام کیساتھ بھجوایا جائے تا کہ وہ نہ صرف عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیںبلکہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کر سکیں ۔ 

بختاور کہتی ہیں ’’میری رائے میں عید الاضحی ہدیۂ تشکر ہے ہمیں اس روز قربانی جیسا عظیم فریضہ بڑھ چڑھ کر ادا کرنا چاہئے اور غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں کے گھر قربانی کے جانوروں کا گوشت پہنچانا چاہئے تا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں اور عید کے روز اچھا کھانا کھا سکیں ۔میری آپ سب سے گذارش ہے کہ جن گھرانوں میں قربانی مالی مجبوری کے تحت نہیں ہو پاتی وہاں قربانی کا گوشت ضرور پہنچائیں تا کہ کسی کے دل میں حسرت نہ رہے ۔ جہاں تک عید کی تیاریوں اور خوشیوں کا تعلق ہے تو اس عید پربھی خواتین ملبوسات کی تیاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں ۔ ہمارے پاس سال بھر میں عید الفطر اور عیدالاضحی دو عظیم تہوار ہی تو ہیں جنہیں جی بھر کر منایا جاتا ہے، ہر آنگن چمکتا ، چہکتا اور خوشیوں سے سجا نظر آتا ہے ۔ ایسے میں بھلا ہم کسی سے پیچھے کیوں رہیں ، میرا آپ سب کیلئے پیغام ہے کہ عید پر اپنوں کا خاص خیال رکھیں، خوش رہیں ، خوشیاں بانٹیںاور غریبوں کا خاص خیال رکھیں ۔عید کے حوالے سے جو نظم مجھے پسند ہے وہ آپ سب کی نذر ہے کہ 

ہیں دھنک رنگ سی لڑکیاں عید پر

جیسے اْڑتی ہوئی تتلیاں عید پر

رنگ، خوشیوں ،اُمنگوں سے آراستہ

ہیں منور سبھی بستیاں عید پر

باہمی رنجشیں بھول کر آ ملو

توڑ ڈالو سبھی بیڑیاں عید پر

کاش آجائے وہ جس کے ہیں منتظر

میرا دل، بام ودر، کھڑکیاں عید پر‘‘

آرزو کہتی ہیں ’’کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ عید تو نام ہے اِک دوسرے کی دید کا۔ میری آپ سب سے گذارش ہے کہ عید کے روز دلوں سے تمام رنجشیں ، گلے شکوے بھلا دینے چاہئیں ۔ اس روز سب کو مل کر اپنے دلوں میں قربانی کے جذبات کوموجزن کرنا چاہئے اور اپنی زندگیوں کو اسی جذبے کے تحت گزارنے کا عزم کرنا چاہئے ۔ میری رائے میں قربانی کا درس یہ ہے کہ ہم سب کو مل کر معاشرے سے بھوک اور مایوسی ختم کرنے کیلئے اپنے حصے کا کام کرنا چاہئے ، اللہ نے ہمیں صاحب استطاعت بنایا ہے تو اس میں ان غریبوں ، مسکینوں اور یتیموں کا بھی حق ہے جو محرومیوں کا شکار ہیں ۔ میری عید کے روز خاص دعا ہوتی ہے کہ کسی گھر میں ویرانی نہ ہو ، کسی دل میں حسرت اور پریشانی نہ ہو ، ہر چہرہ گلاب ہو اور ہر دل شادمان ہو ۔ رہی بات بقر عید کی تیاریوں اور خوشیوں کی تو میں نے اور بختاور نے ’’دنیا ‘‘ سے ملاقات کے ذریعے آپ سب کیلئے عید کولیکشن کا خاص اہتمام کیا ہے امید ہے ہم دونوں کی کلر اور سٹائل سلیکشن آپ سب کو بہت پسند آئیگی ۔ رہی بات یہ کہ مجھے عید کے حوالے سے کیا پسند ہے تومیں شاعری کا سہارا لونگی کہ 

اپنے پاکیزہ جذبوں کو گواہ بنا کر

اب کی بار بھی عید کا چاند دیکھ کر

میں دعا مانگوں گی

اپنے اور تمہارے ساتھ کی

بس تم اتنا کرنا

کہ جب میری آنکھوں کا نمکین پانی

میری پھیلی ہتھیلی پر گرے

تو میری دعائے نیم شبی کو مکمل کرنا

میرے مقدّس لفظوں کی لاج رکھنا

صدقِ دل سے کہنا ! آمین !

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  احمد فراز نے کیا خوب کہا تھا کہ رت جگے ہوں کہ بھرپور نیند یں مسلسل اُسے دیکھنا وہ جو آنکھوں میں ہے اور آنکھوں سے اوجھل اُسے دیکھنا اِس کڑی دھوپ میں دل تپکتے ہیں اور بام پر وہ نہیں کل نئے موسموں میں جب آئیں گے بادل اُسے دیکھنا وہ جو خوشبو بھی ہے اور جگنو بھی ہے اور آنسو بھی ہے جب ہَوا گنگنائے گی ناچے گا جنگل اُسے دیکھنا

مزید پڑھیں

  یہ احمد فراز جیسے شاعر کا ہی کما ل تھا کہ وہ موسم کی حدت اور شدت کو اپنے الفاظ میں کس خوبصورتی سے بیان کرتے تھے دیکھو پگھلا پگھلا سونا بہہ نکلا کہساروں سے دیکھو بھینی بھینی خوشبو آتی ہے گلزاروں سے دیکھو نیلے نیلے بادل جُھول رہے ہیں جھیلوں پر تم بھی سُندر سُندر سپنوں کی لہروں پر بہہ جائو اور ذرا کچھ لمحے ٹھہرو اور ذرا رہ جائو

مزید پڑھیں

 میر تقی میر نے کیا خوب کہا تھا کہ گل کو محبوب ہم قیاس کیا فرق نکلا بہت جو پاس کیا دل نے ہم کو مثالِ آئینہ ایک عالم کا روشناس کیا کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اُس بن شوق نے ہم کو بے حواس کیا

مزید پڑھیں