☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) سپیشل رپورٹ(طاہر محمود) دنیا اسپیشل(محمد ندیم بھٹی) ثقافت(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() دلچسپ و عجیب(انجنیئررحمیٰ فیصل) صحت(سید عبداللہ) فیچر(پروفیسر عثمان سرور انصاری) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) دنیا کی رائے(وقار احمد ملک) دنیا کی رائے(راحیلہ سلطان)
’’اپنا گائوں ، اپنی گلیاں بہت یاد آتی ہیں‘‘

’’اپنا گائوں ، اپنی گلیاں بہت یاد آتی ہیں‘‘

تحریر : پروفیسر عثمان سرور انصاری

01-19-2020

کائنات کی ہر چیز سفر میں ہے تو انسان بھلا اپنی زندگی میں ٹھرائو کی عادت کیسے اپنا سکتا ہے ۔ابتدائے آفرینش سے لے کر اس دھرتی پر انسان کا ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر رکنے کانام ہی نہیں لے رہا،

انسان نے بھی پانی کی تلاش میں سمندروں اور دریائوں کے کنارے آبادی کے لیے تو کبھی شکار کی تلاش میں جنگل میں منگل سا ماحول پروان چڑھایا، کبھی ہریالی وسرسبز کھیتوں کی جستجو میں میدانوں کا رخ کیا۔ سفر کی جبلت ہی زمین کے کونے کونے میں انسان کی موجودگی کی وجہ ہے۔

 

گزشتہ سال 2019کو نقل مکانی کا سال قرار دے دیا جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا ۔اس سال پوری دنیا میں تاریخ کی سب سے زیادہ نقل مکانی ریکارڈ کی گئی ۔ نقل مکانی پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے’’ آئی ڈی ایم سی‘‘ نے مختلف حکومتوں ،اقوامِ متحدہ کے امدادی اداروں اور ذرائع ابلاغ کی مدد سے بتایا ہے کہ 2019کے پہلے 6ماہ کے دوران ریکارڈ 70لاکھ افراد نقل مکانی کرچکے تھے اورسال کے اختتام تک نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد2.20کروڑتک جا پہنچی تھی ۔اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر ) نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ نقل مکانی پرمجبور انسانوں کی تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے کیونکہ 2018میں دنیا بھر میں1.23کروڑافراد نے نقل مکانی کی تھی ، حالیہ نقل مکانی گزشتہ20برس کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔مختلف خِطوں میں بدامنی ، طاقت کے نشے میں چورممالک کی دھونس ، بھارت اورکئی دوسرے ممالک کی طرف سے جنگوں کا تسلسل،ذرائع روزگار کی کمی اور بہتر معیارِ زندگی کی تلاش جیسے اسباب قابلِ ذکر ہیں ۔ آبادی میں مسلسل اضافہ اور تیزی سے کم ہوتے ہوئے قدرتی وسائل کے باعث نقل مکانی ہر ملک کے لئے شدید مسئلے کا روپ دھار چکی ہے ۔گزشتہ برس نقل مکانی میں اضافے کی وجوہات میں شدید موسمیاتی تبدیلیاں تھیں۔ بھارت اور بنگلہ دیش میں سمندری طوفان کی وجہ سے 34لاکھ افراد اورموزمبیق میں طوفان ’’آئی ڈی ‘‘کی وجہ سے 6لاکھ70ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ۔امریکہ میں سمندری طوفانوں ’’فلورنس‘‘ اور ’’مائیکل ووزلے‘‘ کے نتیجے میں لوگوں کی بڑی تعداد گھر بار چھوڑ کر دوسری جگہوں پر پناہ تلاش کرتی رہی ۔

بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں مسلسل ظالمانہ پالیسیاں کشمیریوں اورامریکہ کا افغانستان پر فوجی حملہ افغانیوںکی نقل مکانی کا باعث بنا ۔کئی ممالک زندگی کی بقاء کے لئے آنے والے افراد سے پناہ مانگتے ہیں ۔لیکن پاکستان نے خداترسی اور بین الاقوامی مسائل کے حل میں مثبت کردار ادا کرتے ہوئے ایسے افراد کو پناہ دیتے ہوئے اقوام عالم میں نمایاں حیثیت حامل کی ہے ۔ہمارے ہر بڑے شہر میں غیر ملکیوں کی بڑی تعداد موجود ہے جن پر ان کی دھرتی تنگ کردی گئی تھی۔اقوام متحدہ کو چاہیے کہ ایسے ممالک کی خاطر خواہ مالی مدد کی جائے جو اقوام عالم کے مسائل کے حل میں سنجیدہ اقدام اٹھاتے ہیں اور ایسے دہشت پسند ممالک کو تخریبی کاروائیوں سے روکا جائے جو ملکو ں کے امن کو تباہ کرتے اور ان پر جنگ مسلط کرتے ہیں ۔اس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔

 دور حاضر میں پانی کی کمی کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے ، زمینیں بنجر ہورہی ہیں اور لوگ خوراک کی کمی اور پانی کی کم دستیابی کے باعث ہجرت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔عالمی ماحولیاتی فنڈ کی رپورٹ کے مطابق پانی کی قلت کا سامناکرنے والے ممالک کی عالمی فہرست میں پاکستان کا نمبر تیسرا ہے ۔اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی اور آبی ذخائر کے لیے پاکستان کونسل برائے تحقیق نے خبر دار کیا ہے کہ 2025ء تک پانی کے شدید بحر ان کا شکار ہوسکتا ہے ۔یہاں پانی کی بہت بڑی وجہ ہمالیہ کے دامن میں واقع ہونا ہے، گزشتہ چند برسوں سے ہمالیہ کے گلیشیرز پر برف جمنے کے اوسط میں مسلسل اضافہ ہوتا دکھائی دیا ہے۔ درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیرز کے پگھلنے کے تناسب میں فرق نوٹ کیا گیا ہے ۔ہمارے دریا اور مختلف ندی نالے خشک ہورہے ہیں، زیر زمین پانی کے ذخائر میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی لئے پانی بہت گہرائی میں ملتا ہے۔ پاکستان کے کئی علاقوںمیں زیر زمین پانی کو استعمال میں لانا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ واش واچ آرگنائزیشن کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق آزادی قیام پاکستان کے وقت پانی کی فی کس فراہمی 5200کیوبک میٹر تھی جبکہ اب وہ کم ہو کر فی کس 1017کیوبک میٹر رہ گئی ہے،یہ پریشان کن حد تک کم سطح ہے ۔پانی کی اس شدید کمی کا سب سے زیادہ شکار جنوبی پنجاب کا علاقہ ہے جہاں کے کھیت خطرناک رفتار ے بنجر ہوتے جارہے ہیں اورفصلوں کے ہجم میں یہ زبردست کمی وہاں کے مکینوں کی زندگی کے لیے انتہائی ضروری سطح سے بھی کم تر ہوتی جارہی ہے۔خوراک انسان اور حیوان کی بنیادی ضرورت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے لوگ بقائے حیات کی خاطر اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ چند دہائیوں پہلے نوابوں والی زندگی بسر کرنے والے افراد آج شہروں کی سڑکوں پر مزدوری کی تلاش میں مارے مارے پھرتے دکھائی دیتے ہیں ۔یہ صورتحال اس حد تک خراب ہوتی جارہی ہے کہ پچھلے کچھ سالوں سے بڑی تعداد میں لوگ اپنا مال مویشی لے کر سنٹرل پنجاب کی طرف نقل مکانی کرچکے ہیں۔ ایسے ہزاروں لوگ بھیڑ بکریوں کے ساتھ سنٹرل پنجاب کی بڑی نہروں اور دریائوں کے کناروں پر خیمہ زن دیکھے جاسکتے ہیں۔ اگر حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر اس مسئلے کی طرف توجہ نہ دی تو ڈر ہے کہ آنے والے چند سالوں میں جنوبی پنجاب میں بنجر زمینوںکے علاوہ کچھ نہیں بچے گا۔جنوبی پنجاب اور سندھ کی اس آبی محرومی کی وجہ بھارت کی جارحانہ پالیسی ہے ،وہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف دریائوں کے پانی کو اپنے ملک میں روک رہا ہے جس کے باعث چناب ،جہلم اور سندھ جیسے بڑے دریا بھی خشک ہوگئے ،بس دریائوں کے نشان بن کررہ گئے ہیں ۔ 1960ء میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ بھی اس کی بڑی وجہ ہے جس کے تحت پاکستان کے تین مشرقی دریا ستلج،راوی اور بیاس انڈیا کے حوالے کردئیے گئے۔سندھ طاس معاہدہ کی شقیں پانی کی تقسیم کے مروجہ عالمی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ اس شدید صورتحال کے باعث اندرون سندھ کی بڑی آبادی نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئی۔ 

نقل مکانی کے اس رجحان کا اندازہ 2018میں ہونے والی مردم شماری سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ہمارے سب سے بڑے شہر کراچی کی آبادی میں 19سالوں کے دوران بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ دوسرے شہروں میںدیہاتی آبادی سالانہ3 فیصد کے حساب سے شہروں کی طرف منتقل ہورہی ہے جوکہ جنوبی ایشیاء میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ پنجاب کے بڑے شہروں میں نقل مکانی کا رجحان زیادہ ترپنجاب کے ہی دیگر پسماندہ علاقوں اور دیہات کے رہنے والے باسیوں کا ہے۔ کراچی کی صورتحال اور اس کی ڈیمو گرافی کافی مختلف ہیں۔ کراچی میںملک کے تمام علاقوں بلکہ بیرونِ ملک سے بھی لوگوں کی آمد و رفت ہوتی رہتی ہے ۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق اس شہر کی آبادی 94لاکھ تھی ۔اب پونے دو کروڑ تو ہو چکی ہو گی ۔لاہورکی آبادی میں اس حوالے سے سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیاجس کی آبادی 1کروڑ 11لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے ۔1998کی مردم شماری کی نسبت لاہور کی آبادی میں 75فیصد اضافہ ہوا ہے گزشتہ مردم شماری میں یہ آبادی 63لاکھ افراد پر مشتمل تھی فیصل آباد آبادی کے لحاظ سے تیسرے بڑے شہر ے طور پر سامنے آیا ہے جس کی آبادی میں 60 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔راولپنڈی، اسلام آباد، گوجرانوالہ، پشاور، کوئٹہ، اور حیدرآباد کی آبادی میں بھی بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا جو کہ ہر باشعور کو دعوتِ فکر دے رہا ہے۔

پاکستان میں نقل مکانی کی ایک اور بڑی وجہ دہشت گردی بھی ہے،خیبر پختونخو ا میں دہشت گردی سے متاثر ہ لوگوںنے دوسرے شہروں کا رخ کیا ہے ،نقل مکانی کی دوسری وجوہات میںسرداری نظام اور فرسودہ رسم و رواج بھی شامل ہیں ۔ امن و امان کی صورتحال اچھی نہیں۔بااثر اور طاقتور طبقے کا جبر پسماندہ خاندانوں کے لیے وبال جان چکا ہے ۔ ناساز گار حالات کے باعث ترقی کا عمل احسن طریقے سے پروان نہیں چڑھ سکا ۔کچھ علاقوں میںتعلیم ،صحت اور دیگر سہولیات کا اس قدر فقدان ہے کہ عوام کے پاس اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے ہجرت کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہے ہی نہیں ۔جاگیردارانہ نظام بھی نقل مکانی کی بڑی وجہ ثابت ہورہا ہے، غریب اور پسے ہوئے طبقات استحصال سے بچنے کے لیے شہروں میں آکر پناہ لیتے ہیں۔ آج جبکہ دنیا ایک گائوں میں بدل چکی ہے اس کے باوجود بھی پاکستان میں یہ امتیاز کم نہیں ہو پا رہا ۔آج بھی دیہات کا کلچر اور سارا کاروبار اسی بنیاد پر چل رہا ہے ۔مزارعوں اور متوسط طبقے کے افراد کے لیے ترقی کرنے اور باعزت زندگی بسر کرنے کی دیہات میں تو کوئی گنجائش نہیں۔ عزت اور اپنی مرضی سے جینا ہر انسان کا نا صرف پیدائشی حق ہے بلکہ جبلی ضرورت بھی ہے لہٰذا اس ناممکن جبلت کی تکمیل کے لیے لوگ دیہات سے دور شہروں میں اپنی جگہیں ڈھونڈتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جہاں ان کی پچھلی شناخت یکسر ختم ہوجائے اور وہ اپنے لیے جینے کے نئے انداز اور معیارات کے لیے مثبت جدوجہد کرسکیں ۔

ملک کے دوردراز کے علاقوں میں سکول کالج اوردیگر تعلیمی اداروں اور صحت کے مسائل کے حل کے لیے ہسپتالوں کے علاوہ زندگی کی دوسری بنیادی ضرورتوں کی تکمیل بھی انتہائی کم ہے ۔ ڈیرہ غازی خاں کے کسی پسماندہ گائوں سے نقل مکانی کرکے لاہور آنے والا شبیر حسین رکشہ چلا کر اپنے اہل و عیال کے لیے روزی روتی کماتاہے ۔اس نے انتہائی غم ناک لہجے میں ہجرت کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’’بابو جی کسی کا دل نہیں کرتاکہ اپناگائوں جہاں اس کا جنم ہوا ،جس کی گلیوں میں وہ پلا بڑا ہو،اسے چھوڑ کر کسی اور انجان جگہ آن بسے جہاں آپ کو کوئی جانتا بھی نہ ہو اور اوکھے سوکھے وقت کسی کے کام آنے والا بھی کوئی نہ ہو وہاں آکر رہے ۔بس کبھی کبھی زندگی میں حادثات ہی ایسے ہو جاتے ہیں کہ بندے گھر سے دور نکلنا ہی پڑتا ہے‘‘ ۔جب شبیر حسین سے حادثات کے متعلق پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ ’’میری ماں اچانک بیمار ہوگئی، گائوں میں کوئی ڈاکٹر نہ تھا، میں اپنی ماں سے بہت پیار کرتا تھا ،اسے گھوڑا گاڑی پر لے کر شہر کی طرف چل پڑا ۔بابو جی !میری ماں درد سے چلاتی رہی مگر میں کچھ نہ کرسکا، بس جانور کی مرضی کے مطابق سفر کرتا رہا۔ صبرو شکر کرکے چار گھنٹے بعد شہر پہنچا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ تم بہت دیر سے آئے ہو۔ تمہاری ماں اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ بس اسی دن میں نے فیصلہ کرلیا کہ جس طرح میری ماں بیماری سے کراہتے ہوئے مری ہے میں اپنی اولاد کو نہیں مرنے دوں گا تو میں اپنی 8ایکڑ زمین چھوڑ کر یہاں آن بسا ۔راولپنڈی میں مزدوری کرنے والے فضل دین سے پوچھا گیا کہ تم نے ہجرت کیوں کی تو اس نے بتایا’’ ہمارے علاقے میں دور دور تک کوئی ہائی سکول نہیں ہے ۔میں اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوانا چاہتا ہوں اسی لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہوگیا ہوں۔میرا بس اتنا سا خواب ہے کہ میرے بچوں کی زندگی میرے جیسی نہ ہو،مزدوری کرتے کرتے وہ بھی بوڑھے نہ ہو جائیں، وہ پڑھ لکھ کر اچھی نوکری کریں، اچھے انسان بن جائیں۔ یہی خواہش لیے میں اپنا علاقہ چھوڑ کر آگیاہوں‘‘ ۔

کراچی کی سڑکوں پر زندگی سے بے خبر ایک بزرگ سے جب اس کی حالت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ بزرگ اپنی جوانی میں اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے کراچی آئے تھے مگر حالات کی ستم ظریفی دیکھیے ، وہی بچے جوان ہو کر جرائم کی دنیا میں کھو گئے، جب ان کا سراغ ملا تو وہ تب تک نشے کی لت میں پڑ چکے تھے ۔ زندگی کو موت کے حوالے کرنے میںمصروف تھے۔ وہ بزرگ زندگی سے اس قدر بیزار ہوئے کہ بس سانسوں کا بوجھ ہی اٹھائے ہوئے تھے اور اس بوجھ کو بھی اتارنے کی جلدی میں محسوس ہوتے تھے ۔

یہ بات سچ ہے کہ شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے شہروں میں جرائم اور منشیات فروشی کا کاروبار بڑھتاجارہا ہے جس سے اخلاقی جرائم کی شرح میں بھی خطرناک حد تک اضافی ریکارڈ کیا گیا ہے اگر حالات ایسے ہی رہے تو بچوں کے روشن مستقبل کے لیے ہجرت کرنے والوں کی اولاوں کا نا صرف مستقبل بلکہ زندگی بھی کہیں کھوجائے گی اگر نقل مکانی کو نہ روکا گیا ،مناسب منصوبہ بندی نہ کی گئی تو بعید ازقیاس نہیں کہ ایسی کشیدگی پیدا ہوجائے جسے حل کرنا حکومت کے بس میں بھی نہ رہے۔سب سے پہلے پانی کا مسئلہ حل کیا جائے ، نئی نہریں بنائی جائیں اور نہروں کے پانی کو ضیائع ہونے سے روکا جائے، تاکہ جو ہر سال کھربوں روپے کا قیمتی پانی سمندر میں گر کر ضائع نہ ہو۔اسے استعمال میں لانے سے بنجر زمین کو زندگی ملے گی ۔ زمین آباد ہو تو فصلیں اچھی ہوں گی ،عوام کوروزگار ملے گا ،خوشحالی ہو گی تو دیہاتوں سے نقل مکانی کے رجحان میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی ۔پھرحکومت ماڈل گائوں بنائے جہاں تعلیم صحت اور دیگر تمام سہولیات میسر ہوں ۔عوام کو یہ تمام سہولتیں اپنے علاقے گھر میں ملنا شروع ہوں گی تو بقول بشیر حسین کے کوئی بھی اپنی جائے پیدائش سے خوشی کے ساتھ ہجرت نہیں کرنا چاہے گا اس طرح پاکستان کے تمام علاقوں میں ترقی کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو گا ۔ 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 ’’پہناوا ‘‘خواہ بدن کا ہو یا پیروں کا،شروع سے ہی انسان کی ضرورت رہا ہے۔ مختلف تہذیبوں کے زیر اثر انسان نے اب تک جو عرصہ گزارا ہے اس کا99 فیصد حصہ ’’سنگی دور‘‘ پر مشتمل ہے ۔    

مزید پڑھیں

ریلوے پھاٹک کے شرقی کنارے شفیع جوگی کا مجمع دیکھنے دور دور سے لوگ آتے چھٹی ہوتی تو ایک ہائی سکول کے طلبا بھی وہ سانپ دیکھنے کیلئے بے تاب ہوتے ،جوگی نے مٹی کی ایک چھوٹی سی ڈولی کے منہ پر کپڑا باندھ کر رکھا ہوتا ،    

مزید پڑھیں

 پاکستانی شہری جس کوکبھی پاکستان سے باہر سفر کرنے کا موقع نہیں ملا وہ پردیس رہنے والوں کے حالات زندگی، واقعات اور مسائل سے ہرگز واقف نہیں ہو سکتا،جو افراد سیرو سیاحت کے شعبہ سے بھی منسلک رہے ہوں اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ آج سے ایک یا دو صدی قبل دنیا کا سفر کرنا خواہ وہ سیرو سیاحت کیلئے ہو یا کاروباری نہایت آسان اور پرسکون ہوتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے شہری کو سفری دستاویزات حاصل کرنے اور پھر مخصوص ملک کے سفر کیلئے متعلقہ سفارت خانہ سے سفری اجازت نامہ جس کو آج ویزا کے نام سے جانا جاتا ہے کا پیشگی حصول اس قدر کٹھن نہیں تھا تب مختلف ممالک کے مابین اس قدر سرمایہ کاری کی سرد جنگ برپا نہیں تھی، دہشت گردی کا ایشو نہیں تھا ۔ جب مسلمانوں کو دہشت گردی کے ساتھ نہیں جوڑا گیا تھا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام بھی تقویت پکڑتا گیا، سودی نظام کی دلدل میں پھنسی عالمی معیشت بھی سکڑتی گئی ۔    

مزید پڑھیں