☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) دین و دنیا( مولانا حافظ اسعد عبید الازھری) صحت(ڈاکٹر فراز) خصوصی رپورٹ(عبدالماجد قریشی) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() تاریخ(ایم آر ملک) غور و طلب(پروفیسر عثمان سرور انصاری) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) متفرق(عبدالمالک مجاہد) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
بھاری بستوں سے ذہنی نشوو نما رک جاتی ہے

بھاری بستوں سے ذہنی نشوو نما رک جاتی ہے

تحریر : نصیر احمد ورک

02-02-2020

 یوہان کا تعلق چین سے ہے اس کی عمر محض دس برس ہے وہ اس وقت صرف ایک برس کا تھا جب اس کا نچلا دھڑ مفلوج ہو گیا جب کچھ بڑا ہوا تو اس نے اپنی معذوری کو ذہنی معذوری نہیں بننے دیا دیگر ہم عمروں کو سکول جاتے ہوئے دیکھ کر اس کے اندر بھی علم کے حصول کاجذبہ بیدار ہوا، اس نے سکول جانے کو اپنا معمول بنا لیا، اپنی ٹانگوں پر کھڑا نہ ہونے والے اس باہمت بچے نے نہ تو ہوم ورک نہ کرنے کا لنگ تراشا اور نہ ہی کسی بہانہ سازی سے کام لیا ،وہ اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کے بل کھڑا ہو کر ان ہتھیلیوں پر چل کر سکول جانے لگا ،
 

 

سکول پہنچنے میں اسے ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا اس کی ہم سفر اس کی ایک بہن ہوتی جو اس کا بستہ اُٹھاتی جب کبھی وہ تھک جاتی تو تھوڑا سستانے کے بعد دونوں بہن بھائی دوبارہ عازم سفر ہوتے۔ یوں سکول جانے میں اسے ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا ۔یہ واقعہ بظاہر ایک ہمت و عظمت کی داستان ہے لیکن وطن عزیز میں ہمارے انتہائی کم عمر نو نہال کتابوں کے بھاری بھرکم بیگوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ،سورج طلوع ہوتا ہے تو ہمیں وطن عزیز کی شاہراہوں پر نونہالوں کے قدم درسگاہوں کی جانب اٹھتے نظر آتے ہیں، ان کی کمر کے ساتھ لٹکے بستے کے وزن سے کندھے جھکے ہوتے ہیں ، پک اینڈ ڈراپ دینے والی گاڑیوں کی چھتوں اور سامنے لگے لوہے کے راڈ بستوں سے بھرے ہوتے ہیں ۔

 چھٹی کلاس کے طالب علم کی عمر 11سے12برس اوروزن وزن 30سے32کلو ہوتا ہے ،پانچویں کلاس کے ایک طالب علم کی عمر 10سے 11برس بچے کا وزن صرف 28سے30 کلو گرام تک ہوتا ہے، چوتھی کلاس کے بچے کا وزن جس کی عمر 9سے 10برس کے درمیان ہوتی ہے جبکہ کا وزن 24سے 26برس تک ہوتا ہے ۔سوئم کلاس کے 8تا 9سال کے بچے کا وزن 22سے25کلو تک ہوتا ہے اسی طرح دوسری کلاس کے بچے کی عمر 7تا 8سال ہوتی کا وزن 20تا 22کلو ہوتا ہے۔ پہلی کلاس کے بچے کی عمر 6تا 7برس اور وزن 16سے18کلو ہوتا ہے جبکہ کے جی کے 5تا 6سال کے بچے کا وزن 14سے 16کلو تک ہوتا ہے ۔ان پر کتابوں کا وزن بلحاظ عمر اور وزن زیادہ ہوتا ہے۔ سکول بیگ کا وزن بچے کے وزن کا 15فیصد سے زائد نہیں ہونا چاہیے لیکن ان کے جھکے ہوئے کندھوں پر بیگز کا وزن دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ گھر کی دہلیز کسی سزا کے تحت پار کر رہے ہوں تین عشرے قبل کسی نے سوچا تک نہیں تھا کہ بچوں کو سکول جانے کیلئے اتنے وزنی بیگ اٹھانا ہوں گے۔ ترقی یافتہ ممالک نے اس کا حل ای بک کے ذریعے نکلا مگر ترقی پذیر ممالک جن پر درآمدی تعلیم مسلط کردی گئی ۔ وہ کسی اور کے رنگ میں رنگے گئے۔ اس مسئلہ سے چھٹکارہ پانا ان کے لئے ممکن نہ ہوسکا ان کی حالت آدھا تیتر ،آدھا بٹیر کے مصداق ہو گئی ۔
عدالت عالیہ پشاور نے اس کا نوٹس لیا تو خیبر پختونخوا کی حکومت نے ایک قانونی مسودہ تیار کیا جس کے مطابق سکول بیگ بشمول کتابوں کا وزن بچے کے وزن کے 15فیصد سے زائد نہیں ہوگا۔ بیگ کیلئے استعمال ہونے والے کپڑے کے معیار اور وزن کو دیکھنا لازمی ہوگا صوبائی حکومت تعلیمی اداروں کو بچوں کیلئے نوٹ بک ،کتابیں اور دیگر سامان رکھنے کیلئے لاکرز فراہم کرے گی دستاویزات کے مطابق نوٹ بکس ،کتابوں اور ورک بکس کا وزن بھی کم کیا جائے گا ۔صوبائی محکمہ تعلیم اور صوبائی حکومت کی مشاورت سے ہلکے اور معیاری کاغذ پر چھپائی کرے گی ،وزن کم کرنے کیلئے مختلف مضامین اور کورسز کو بھی یکجا کیا جائے گا سرکاری سکولوں میں آئی ایم یو بیگز کے مقررہ وزن کو یقینی بنایا جائے گا ،تعلیمی اداروں میں بستوں کے وزن کو یقینی بنائے گی، رف عمل کیلئے تختی اور سلیٹ کے استعمال کو یقینی بنانے کی ذمہ داری ہیڈ ماسٹر اور پرنسپل پر ڈالی گئی ۔خلاف ورزی پر سرکاری سکولوں کے پرنسپل اوراساتذہ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ نجی تعلیمی اداروں کو خلاف ورزی پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور رجسٹریشن منسوخ کی جائے گی قانون کا اطلاق تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں پر ہوگا واضح رہے کہ مسودہ قانوں کو کابینہ اور پھر صوبائی اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا مگر آج تک یہ اطلاق کاغذوں میں ہے عملی طور پر اس حکم نامے کا نفاذنظر نہیں آتا ۔جہاں تک ماہرین صحت کی رائے ہے تو صحت کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ وزن اٹھانے والے بچوں کی نشوو نما شدید طور پر متاثر ہوتی ہے چھوٹے بچوں کا ایک تو وزن کم رہ جاتا ہے دوسرا اس کا قدوزن اٹھانے کی بنا پر ایک جگہ پر رک جاتا ہے پہلی جنگ عظیم کے بعد ماہرین تعلیم اس بات پر متفق نظر آئے کہ کتابوں کا وزن بچے کے وزن کا 10فیصد ہونا چاہیے۔
 برطانیہ میں ایک کمپنی نے خاٖص طور پر ایک ایسا بیگ تیار کیا ہے جس میں بچوں کے لئے پانی کی بوتل ،لنچ بکس اور کتابیں رکھنے کے علاوہ پہیوں کے ساتھ ایک ہینڈل بھی لگا ہوا ہے ۔بیگ کے ہینڈل کو کھینچ کر اوپر لے آئیں تو ایک قدم پیڈل پر رکھیں اور دوسرے پائوں سے زمین کو پیچھے دھکیل کر آگے بڑھتے چلے جائیں ،اس عمل سے نہ صرف طالب علم باآسانی سکول پہنچ جاتا ہے بلکہ اسے چلانے سے تھکاوٹ بھی نہیں ہوتی۔یہ موٹر سائیکل کی طرح چلاآتا ہے! یہ سب کچھ برطانیہ میں تو ہو سکتا ہے مگر پاکستان میں کیوں نہیں ہو سکتا۔ ہمارے بچے جو بیگ اُٹھا کر سکول کیلئے عازم سفر ہوتے ہیں ،ان کا وزن بچوں کے وزن کا 30 فیصد یا اس سے زیادہ ہوتا ہے۔ پانچویں کلاس کے ایک طالب علم جس کا وزن 18کلو اور اس کی کتابوں کا وزن 9کلو تھا۔
 ایک سینئر ماہر تعلیم نے اپنے ایگزیکٹو آرڈر میں تحریر کیا کہ ’’قانون کے مطابق بچوں کے بیگز کا وزن ان کے جسمانی وزن کا دس فیصد ہونا چاہیے لیکن ہمیں ایسے بستے عام نظر آتے ہیں جو بچوں کے30فیصد وزن سے بھی زیادہ ہوجاتے ہیں، یہ وزن صرف درسی کتب کے علاوہ ہیلپنگ بکس اورغیر ضروری سٹیشنری کی وجہ سے بھی ہوتا ہے ۔یہ بچوں کی صحت کیلئے ایک خطر ناک اور ناقابل برداشت ہے ۔جب بچہ سکول سے گھر میں داخل ہوتا ہے تو اتنا نڈھا ل ہوتا ہے کہ اسے کچھ دیر کیلئے پھولے ہوئے سانس سے ہی نجات نہیں ملتی ،کئی بچے کمر درد کی شکایت والدین سے کرتے ہیں اور مائوں کو ان کی کمر اور کندھے دباتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔ او لیول کرنے والی ایک بچی نے بتایاکہ’’ میری کتابوں کا اتنا بوجھ ہے کہ میں اکثر اوقات اپنے کندھوں کو سہلاتی رہتی ہوں‘‘۔ پریپ اور کے جی کی کلاس میں والدین بہت کم عمربچوں کو داخل و داخل کرادیتے ہیں جس سے بچوں کے ذہن پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے۔
 تعلیم کے میدان میں سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا ہے ،پرانے زمانے میں پانچ برس اور اب تین سال کے بچے کو سکول میں داخل کرادیا جاتا ہے۔ پانچ سال کا بچہ ذہنی اور جسمانی طور کچھ مضبوط ہوتا ہے لیکن تین سال کا بچہ پلے گروپ میں فیڈر لے کر جاتا ہے، بھلا وہ اپنا بستہ کیسے اٹھا سکتا ہے ،مگر کیا کیا جائے ،نئے نظام تعلیم نے یہ فکر پیدا کردی ہے کہ گود میں پلنے والا بچہ جلد از جلد سکول داخل کرانے سے شاید زیادہ ذہین اور عقل مند بن جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جس بچے کو اپنی پیدائش کے بعد پانچ سال ماں کی گود سے گھر کی تہذیب و تمدن اور تربیت کی اشد ضرورت ہوتی ہے اس سے وقتی طور پر والدین کو تو آزادی مل جاتی ہے لیکن ایک معصوم بستے کے بھاری بوجھ تلے دب جاتا ہے ،ان بچوں کی مائیں فخر یہ انداز میں بتاتی ہیں کہ ان کا بچہ سکول جانے لگا ہے مگر یہ نہیں سوچتے کہ بچے کو ماں سے جدا کرنے کی بنا پر ایک تو بچے کے ذہن میں بچپن سے ایک دوری جنم لینے لگتی ہے۔ دوسرا بچے کے کندھوں پر جو وزن پڑتا ہے اس سے ابتدا ہی میں اس کی نشو ونما کو زک لگتی ہے، ماہرین کے مطابق روزانہ ایک بچہ 14کلو وزن اپنے کندھوں پر ڈالتا ہے جس سے اس کی ہڈیوں پر غیر ضروری دبائو پڑتا ہے۔ اتنی کم عمر میں بچوں پر اتنا وزن خطرناک صورت حال کی عکاسی کرتا ہے ۔ 
ایک معروف ماہر تعلیم کا موقف ہے کہ ’’موجودہ امتحانی سسٹم کی تبدیلی کے بغیر بچوں کو بھاری بیگوں سے نجات دلانا ممکن نہیں ہمارے ہاں ’’رٹہ سسٹم ‘‘ہے جس کتابوں کی کثیر تعداد کا مرہون منت ہے جبکہ پریکٹیکل تعلیم کی ہمیں ضرورت ہے جس کے تحت بچوں میں تخیلاتی سوچ پیدا ہوتی ہے،اساتذہ عملی طور پر بچوں کے اذہان کی تختی پر نصاب ثبت کرنے کی کوشش کریں تاکہ اسے رٹہ سے نجات مل سکے ‘‘ وطن عزیز میں ان بھاری بھرکم بیگز کے اٹھانے کا ہی شاخسانہ ہے کہ دو کروڑ سے زائد طالب علم سنگین جسمانی عوارض کے خطرے سے دوچار ہیں بھاری بھرکم بستوں معصوم طلبہ کے جوڑ اور ریڑھ کی ہڈی میں درد ایک معمول بن چکا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق روزانہ 5سے6بچے کلینکس کا رخ کرتے ہیں جن کو گردن میں تنائو ،کندھے اور کمر کی تکلیف لاحق ہوتی ہے یہ تعداد 45فیصد ہے کتابوں کی زیادتی سے جہاں بچوں پر بوجھ کا اضافہ ہوا ہے وہاں بچوں کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ والدین کے پاس کچھ وقت گزار سکیں ۔کھیل کیلئے بھی وقت نہیں بچتا تاکہ جسمانی نشونما ہوسکے ۔ہوم ورک اور ٹیوشن کا دورانیہ ہی ختم نہیں ہوتا ،ٹیوشن کے بعد رات گئے تک وہ ہوم ورک کرتا ہے جتنی کتابوں کی تعلیم ضروری ہے بچوں کی نشوونما اور تعمیر کیلئے کھیل کود بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ جدید نظام تعلیم جہاں والدین کو معاشی طور پر کمزور کیا ہے وہاں کتابوں کے بوجھ اور تعلیم کی دوڑ میں بچے پر جو بوجھ پڑا ہے اس کا ادراک شاید والدین کو نہیں ہوسکا ۔ہمیں ماہرین تعلیم کے تجربات اور اختیارات سے استفادہ کرتے ہوئے اس اہم مسئلہ کے حل کیلئے قابل عمل اقدامات کرنا ہوں گے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی صحت کو مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ بچے ہمارے مستقبل کے معمار ہیں اور آئندہ انہوں نے ہی وطن عزیز کی باگ ڈور سنبھالنا ہے ۔
 
 
بھاری بستے کمر،گردن اور ذہنی امراض کا سبب ! 
 سپین کے ماہرین نے زیادہ وزن کے سکول کے بھاری بستے اٹھانے والے 1403طلبہ پر تحقیق کے لئے 11سے 16سال کی عمر کے 11مختلف سکولوں کے بچوں کاا نتخاب کیا ۔ انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جو بچے زیادہ وزن اٹھاتے ہیں ان کے ایک تو جسم بھدے اور بد ہیئت ہوجاتے ہیں دوسرا انہیں کمر اور کندھوں کے درد جیسی تکلیف لاحق ہوجاتی ہے جو بعض اوقات تما م عمر ان کا پیچھا کرتی ہے۔سپین کے ماہرین کی تحقیق میں 66 فیصد بچے کمر درد میں مبتلا پائے گئے ۔مذکورہ تحقیق کے مطابق بھاری بھرکم بیگوں نے بچوں کو گردن کے درد میں بھی مبتلا کردیا تھا ۔ان کا موقف تھا کہ بچوں کی صحت اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔ بھاری بستوں سے نہ صرف بچوں کی جسمانی نشو و نما متاثر ہوتی ہے بلکہ ان کا ذہن بھی بھاری رہتا ہے جس کے باعث تعلیم پر بھی اثر پڑتا ہے کیونکہ کتابوں کی کثیر تعداد کی وجہ سے بچوں کیلئے کھیل اور تفریح کے مواقع بھی نہیں بچتے مگر ہمارے ہاں یہ سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی اور نہ ہی اس اہم مسئلہ پر تحقیق کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔
 
 
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 پاکستانی شہری جس کوکبھی پاکستان سے باہر سفر کرنے کا موقع نہیں ملا وہ پردیس رہنے والوں کے حالات زندگی، واقعات اور مسائل سے ہرگز واقف نہیں ہو سکتا،جو افراد سیرو سیاحت کے شعبہ سے بھی منسلک رہے ہوں اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ آج سے ایک یا دو صدی قبل دنیا کا سفر کرنا خواہ وہ سیرو سیاحت کیلئے ہو یا کاروباری نہایت آسان اور پرسکون ہوتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے شہری کو سفری دستاویزات حاصل کرنے اور پھر مخصوص ملک کے سفر کیلئے متعلقہ سفارت خانہ سے سفری اجازت نامہ جس کو آج ویزا کے نام سے جانا جاتا ہے کا پیشگی حصول اس قدر کٹھن نہیں تھا تب مختلف ممالک کے مابین اس قدر سرمایہ کاری کی سرد جنگ برپا نہیں تھی، دہشت گردی کا ایشو نہیں تھا ۔ جب مسلمانوں کو دہشت گردی کے ساتھ نہیں جوڑا گیا تھا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام بھی تقویت پکڑتا گیا، سودی نظام کی دلدل میں پھنسی عالمی معیشت بھی سکڑتی گئی ۔    

مزید پڑھیں

 موجودہ حکومت اپنے نئے کپتان اور پرانے کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اتری تو ظاہر ایسا کیا جارہا تھا کہ اب سب کچھ تبدیل ہوجائے گا اور ایک نیا و خوشحال پاکستان شہریوں کا مقدر ہوگا۔    

مزید پڑھیں

یہ کائنات کی رونقیں اور انسان کا وجود بذاتِ خود ایک لفظ’’کن‘‘ کی مرہونِ منت ہے ۔ﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’کن ‘‘ہوجا تو’’ فیکون‘‘ ہوگیا۔ بس اس ایک لفظ کے ساتھ سب کچھ وجود میں آگیا۔ سب سے پہلے ﷲ پاک نے فرشتوں اور جنات سے کلام فرمایا ،حکم صادر فرمایا کہ انسان کو سجدہ ریز ہوجائو۔

مزید پڑھیں