☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) سنڈے سپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) کلچر(ایم آر ملک) فیچر( طارق حبیب مہروز علی خان، احمد ندیم) متفرق(محمد سعید جاوید) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا اسپیشل(طاہر محمود) سپیشل رپورٹ(نصیر احمد ورک) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) سیاحت(نورخان سلیمان خیل)
مہنگائی کا سونامی، عام آدمی پر کیا گزری؟

مہنگائی کا سونامی، عام آدمی پر کیا گزری؟

تحریر : طارق حبیب مہروز علی خان، احمد ندیم

02-09-2020

 موجودہ حکومت اپنے نئے کپتان اور پرانے کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اتری تو ظاہر ایسا کیا جارہا تھا کہ اب سب کچھ تبدیل ہوجائے گا اور ایک نیا و خوشحال پاکستان شہریوں کا مقدر ہوگا۔
 

 

شہری بھی اس سراب کے پیچھے بھاگ رہے تھے مگر جب حقیقت سامنے آئی تو اندازہ ہوا کہ کپتان اور ان کی کابینہ کی کارکردگی پرانے پاکستان سے بھی بدتر ہے۔ بے روزگاری، بدامنی،ملکی معیشت کی تباہی،قرضوں میں اضافہ غرض یہ کہ کسی ریاست کی مضبوطی و خوشحالی کے تمام اشارے مسلسل گرے اور گرتے ہی جارہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں اگر ہم متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک عام آدمی کی زندگی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیں تو انتہائی تلخ حقائق سامنے آتے ہیں ۔ موجودہ حکومت کے نئے پاکستان میں عوام کو جس چیز نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا وہ مہنگائی کا سونامی تھا۔ اس سونامی نے سب سے پہلے عام آدمی کی قوت خرید کو متاثر کیا۔ حکومت کی جانب سے پیش کیا جانے والا بجٹ تو اعدادوشمار کا گورکھ دھندہ ہوتا ہے جسے سمجھے کے لیے طویل جمع تفریق کرنی پڑتی ہے مگر متوسط طبقے کا گھریلو ماہانہ بجٹ انتہائی سادہ ہوتا ہے جس کے لیے کسی اسٹیٹ بینک یا وزیر خزانہ کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی لمبی چوڑی جمع تفریق درکار ہوتی ہے۔ ایک عام آدمی کی بھاگ دوڑ تین وقت کے کھانے، بچوں کی پرورش اور ان کے بجلی و گیس کے بل،اخراجات، گھر کے کرائے اور ایسے ہی چھوٹے چھوٹے اخراجات پورے کرنے کے لیے ہوتی ہے جس سے اس کی سفید پوشی کا بھرم قائم رہتا ہے ۔ موجودہ صورتحال میں سفید پوشی کا یہ بھرم کس حدتک قائم ہے ۔ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ 

عام آدمی کی آمدن
مزدور کی کم از کم اجرت 121 ڈالر سے 113 ڈالرہوگئی۔عالمی معیارات کے طے شدہ فارمولے کے مطابق پاکستان میں کم از کم اجرت 35000 روپے ہونی چاہیے جس میں روپے کی قدر میں گراوٹ اور شرح مہنگائی میں اضافے کا اثر شامل نہیں ہے مگر پاکستان میں کم ازکم مقرر کردہ اجرت اس سے آدھی ہے۔ مالی بجٹ 2018-2019 میں کم از کم اجرت 15000 رکھی گئی تھی جبکہ رواں مالی سال میں صرف 2500 روپوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت کے حساب سے مزدوروں کی ایک دن کی کمائی 584 روپے بنتی ہے، یعنی 17500 روپے آمدنی سے گھر کا پورے مہینے کا بجٹ چلانا ہوتا ہے۔اس بجٹ کے حوالے سے ہم آگے بات کریں گے مگر یہاں کم از کم اجرت کے ساتھ ساتھ سالانہ اضافے کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی ہر سال دس فیصد اضافہ کیا جاتا ہے۔مالی سال 2019-2020 میں نبیادی تنخواہ میں دس فیصد اضافے سے گریڈ ایک سے چار تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 900 سے 1000 روپے تک کا اضافہ ہوا ہے جبکہ گریڈ پانچ سے اٹھارہ تک کے ملازمین کی تنخواہ میں 1000 سے 2000 روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ 17000روپے وصول کرنے والے گریڈ1 کے ملازمین 913 روپے کے اضافے کے بعد 17913 روپے وصول کرنے لگے ۔ اب حکومت کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کا فریضہ ادا کرچکی اور یہ اضافہ بھی صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں جبکہ نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین اس دائرے میں نہیں آتے۔اس دوران ڈالر کی قیمت اور مہنگائی کی شرح میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔اگرایک سال قبل کی تنخواہ کو ڈالر کے ایک سال قبل کے نرخ کے حساب سے دیکھا جائے تو عام مزدور کی آمدن مالی سال2018-2019 کے مطابق 15000 روپے یعنی اس وقت کے ڈالر کے نرخ کے مطابق 121 ڈالر بنتی تھی جبکہ رواں مالی سال میں ڈھائی ہزار کے اوسط اضافے کے بعد 17500 روپے ہونے کے باوجود 113 ڈالر بنتی ہے۔لہٰذ اعدادوشمار کے اس کھیل کی حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے اضافے کے باوجود اگست 2018 کی نسبت جنوری2020 میں مزدور کی کم از کم اجرت میں 8 ڈالریعنی 1240روپے کی کمی ہوئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک عام مزدور حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت میں گھر کے اخراجات پورے کرنے میں ناکام ہونے کی وجہ سے گھر کی خواتین اور بچوں کو بھی مزدوری کے لیے بھیجنے پرپرانے پاکستان میں بھی مجبور ہوتا تھا اور اس نئے پاکستان میں تو پورا کنبہ مزدوری کرنے کے باوجود اخراجات پورے کرنے میں ناکام رہتا ہے۔اب اگر بات کی جائے عام آدمی کے گھر پکنے والے کھانے پر آنے والے اخراجات کی تو چار سے پانچ افراد پر مشتمل کنبہ کے گھر میں بننے والے سادہ سے کھانے پر سال 2018اور سال 2020کے درمیان واضح فرق نظر آتا ہے۔ 
ایک وقت کے کھانے پر اخراجات کا تقابل:
چار سے پانچ افراد پر مشتمل کسی بھی اوسط گھرانے میں ایک وقت کی ہانڈی پر ہونے والے خرچے کے حساب سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ایک عام آدمی کس حد تک متاثر ہوا ہے۔ کسی بھی ہانڈی کو تیار کرنے کے لیے جن بنیادی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے ان میں ٹماٹر، پیاز، ادرک، لہسن،کوکنگ آئل/ گھی، مصالحہ جات شامل ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق ایک وقت کی ہانڈی میں ان اجزاء کاتناسب اور نرخ چارٹ میں دیے گئے ہیں۔
ایک وقت کی ہانڈی پر تقریباً 370 روپے کے اخراجات ہوتے ہیں اور روزانہ دو وقت کی ہانڈی کے حساب سے ایک ماہ کااوسط خرچہ 22 ہزار بنتا ہے جبکہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل چار سے پانچ افراد پر مشتمل اوسط گھرانے کی ایک وقت کی ہانڈی کا خرچہ 275 روپے تھا اور مہینے کا اوسط خرچہ 16500 بنتا تھا۔ واضح رہے کہ گزشتہ حکومت کے آخری سال میں مزدوروں کی کم از کم اجرت 15 ہزار روپے تھی جس کو موجودہ حکومت نے بڑھا کر 17500 کردی ہے۔ اس دوران ان بنیادی اجزاء کی قیمتوں میں فرق دیکھیں تو 40 روپے کلو ملنے والا ٹماٹرپچھلے کچھ ماہ غریب کی دسترس سے باہر ہوگیا تھا۔ اسی طرح ایک کلو پیاز 50 سے70 روپے کا ہوگیا، لہسن 200سے 280 ، ادرک 180سے 320، کالی مرچ پاوڈر پیکٹ 70سے 110، لال مرچ پاوڈر 60 سے 80 اور کوکنگ آئل فی لیٹر 140 سے 210 روپے کا ہوگیا۔ سبز مرچ اور آلو کے نرخ بھی اس دوران دوگنا ہوگئے۔موجودہ حالات میں ایک مزدور کے دو وقت کی روٹی کا خرچہ حکومت کی طرف سے تعین کردہ کم از کم اجرت سے کہیں زیادہ ہے جبکہ ہانڈی کے علاوہ بھی ایک عام آدمی کی ضروریات زندگی کی فہرست کافی طویل ہے۔ 
مہنگائی نے بچے پالنا مشکل کر دیئے 
بچوں کی پرورش والدین کی اولین ترجیح ہوتی ہے اور زندگی کی ساری بھاگ دوڑ اسی دائرے کے گرد ہوتی ہے۔موجودہ صورتحال میں ایک نومولود کی دیکھ بھال کے دوران آنے والے اخراجات بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوچکے ہیں۔ایک نومولود بچے کی پرورش میں جن اشیاء کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے ان میں ڈائیپر، فیڈر، کپڑے، نوزائیدہ بچوں کے لیے تیار کی گئی خوراک اور بیبی کیئر لوشنز سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کے طبی معائنے کی بھی وقتاً فوقتاً ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ملک میں مہنگائی کے حالات کو مدنظر رکھا جائے تو والدین کے لیے بچوں کی احسن طریقے سے پرورش کرناانتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ بچوں کی دیکھ بھال سے متعلق اداروں کے حساب کتاب کے مطابق ایک نومولود بچے کو دن میں 8 سے 10 ڈائیپرز کی ضرورت ہوتی ہے یوں ایک ماہ میں کم از کم 240 ڈائیپرز استعمال ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال کے ڈائپرز کی قیمت 25روپے فی کس تھی اور ایک دن کا خرچہ 200 جبکہ ماہانہ 6ہزارروپے تھا جو اب 30 روپے فی پیمپر کے حساب سے ایک دن کاخرچہ 240 جبکہ مہینے کا خرچہ 7200 روپے بنتا ہے۔ابتدائی چند ماہ کے بعد بچے کی خوراک کے اخراجات بھی والدین کی جیب ہلکی کرنا شروع کردیتے ہیں۔ عوام میں مقبول بچوں کی خوراک برانڈ کا 350 گرام کا پیکٹ 380 روپے میں ملتا ہے جوگزشتہ سال 330روپے تھا اور یہ مقدار چار سے پانچ دن استعمال ہوتی ہے۔ اس حساب سے انفنٹ خوراک پر روزانہ تقریباً 80 جبکہ ماہانہ 2400 روپے کا خرچہ آتا ہے جو پہلے 70روپے روزانہ اور2100روپے ماہانہ تھا ۔ان کے علاوہ فیڈر، کپڑوں، ادویات اور دیگر ضروریات پربھی خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ زندگی کی چند بہاریں دیکھنے کے بعد بچوں کا تعلیمی سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25A کے تحت تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا بنیادی حق ہے البتہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تعلیم کے سیکٹر میں سہولیات کا فقدان کی وجہ سے بچوں کا یہ حق والدین کی دسترس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ 
روپے کی قدر میں کمی
 ملک میں مہنگائی کی شرح میں بدستور اضافے کی ایک بنیادی وجہ روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کا مہنگا ہونا ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کا براہِ راست اثر ان اشیاء کی قیمتوں پر ہوتا ہے جو بیرونِ ملک سے درآمد کی جاتی ہیں جیسے کہ کمپیوٹرز، گاڑیاں اور موبائل فونز وغیرہ اور ان تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اثر ملک کی تمام اشیاء پر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان پر بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے قرضوں کا حجم بھی بڑھ جاتا ہے۔ مثلا اگر ایک ڈالر 100 روپے کے برابر ہو اور ایک ارب ڈالر کا قرضہ ہو تو اس حساب سے 100 ارب روپے کا قرضہ ہوگا لیکن اگر ڈالر 110 کا ہوجائے تو قرضہ بھی اسی حساب سے بڑھ جائے گا۔ملکی کرنسی مارکیٹوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی بے قدری کا سلسلہ نئی حکومت کے اقتدار سنبھالتے ہی شروع ہوا تھا۔ہر ماہ کی پہلی تاریخ کے ریٹ کے حساب سے پاکستانی روپیہ کا امریکی ڈالر کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ستمبر 2018 ء میں ایک ڈالر 123.13 روپے کا تھا جو کہ بڑھتے بڑھتے یکم جنوری 2019 کو 139.82 جبکہ یکم جولائی کو162.33 روپے کا ہو گیا۔ اس کے بعد قدرے کمی آئی اور یکم جنوری 2020ء کو 154.3 فی ڈالر فروخت ہوا۔
پاکستان کی عوام پر بیمار معیشت کا بوجھ
کسی بھی ملک کی معیشت کے مستحکم یا غیر مستحکم ہونے کا جائزہ مہنگائی اور بیروزگاری کے اشاریے کے ذریعے لیا جاتا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں نئی حکومت کے آنے کے بعد مہنگائی کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جبکہ بیروزگاری بھی تسلسل سے بڑھ رہی ہے۔اگست 2018 میں ملک میں مہنگائی کی شرح 5.8 فیصد تھی جبکہ رواں ماہ یہ شرح 12.6 فیصد کو پہنچی ہے۔ بین الاقوامی مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے اندازہ لگایا تھا کہ پاکستان کی افراط زر 13 فیصد تک جاسکتی ہے۔ادارہ شماریات پاکستان کے کنزیومر پرائز انڈیکس (سی پی آئی) کے مطابق جولائی 2019ء میںافراط زر کی شرح 10.34 فیصد رہی جس کے بعد مستقل دو ہندسوں میں ہی ہے جبکہ اس سے قبل افراط زر کی شرح دو ہندسوں میں نومبر 2013 میں 10.9 فیصد رہی تھی۔
گزشتہ چند ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مجموعی طور پر افراط زر کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے کیے گئے مخصوص ٹیکس اقدامات کے اثرات بھی افراط زر کی شرح میں اضافے کا باعث بنے جبکہ روپے کی قدر میں کمی سے درآمدی صارفین اور صنعتوں کے استعمال کے لیے خام مال کی قیمتوں میں اضافہ بھی سامنے آیا۔ واضح رہے کہ حکومت نے مالی سال 20-2019 کے لیے افراط زر کا ہدف 11 سے 13 فیصد رکھا ہے جو گزشتہ سال 7.3 فیصد رہا تھا۔
رواں مالی سال کے پہلے مہینے میں ہی قیمتوں میں اضافہ سامنے آیا۔ملک میں ہونے والی مہنگائی سے متعلق اگر ادارہ شماریات کے سالانہ اعداد وشمار دیکھے جائیں تو دسمبر2018 کی نسبت غذائی اجناس کی قیمتوں میں 19.74فیصد اضافہ ہوا جبکہ ماہانہ اعداد وشمار کے مطابق اس میں 1.66فیصدکمی آئی۔اسی طرح گھریلو سازوسامان کی قیمتوں میں سالانہ 10.44فیصد،ٹرانسپورٹ 14.65فیصد، پہننے کی اشیاء 9.70 فیصد، گھریلو ضروریات (پانی، بجلی، گیس،کرایہ وغیرہ) میں 8.53فیصد، صحت 11.30 فیصد جبکہ تعلیمی اخراجات میں 6.03 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کی نسبت جن کھانے کی اشیاء کی قیمت سب سے زیادہ بڑھی ہے ان میں ٹماٹر 321فیصد، پیاز 169فیصد، مونگ کی دال 53فیصد، آلو 78فیصد،تازہ سبزیاں 84فیصد، دال ماش 38فیصد، چینی 28فیصد، مسور کی دال 14فیصد، آٹا 17 فیصد، گھی 16.3 فیصد، کھانے کا تیل 17فیصد، مصالحے 13.4فیصد، دودھ پاؤڈر 11فیصد، گوشت 13.5 فیصد جبکہ چائے اور لوبیا کی قیمتوں میں 10 فیصداضافہ ہوا ہے۔ یہ اعداد سرکاری نرخوں کے حساب سے ہیں البتہ حالیہ آٹے اور چینی کے بحران کے بعد ان کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے اس صورتحال سے تمام شہری واقف ہیں۔
ماہر معاشیات ڈاکٹر فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ خطے میں اشیائے خورد و نو ش کی قیمتوں میں اتنا زیادہ اضافہ صرف پاکستان میں ہورہا ہے، پاکستان میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں 16فیصد سے جبکہ افغانستان میں صرف 4 فیصد سے بڑھ رہی ہیں۔اسی حوالے حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کو معاشی ماہرین کے تبصروں کی روشنی میں جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان کا اس سال کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پچھلے سال کی نسبت 19.9 ارب ڈالر سے کم ہو کر 12.75 ارب ڈالر پر آگیا ہے جس کی اصل وجہ برآمدات میں اضافہ نہیں بلکہ ملکی معیشت کی خطرناک حد تک سست رفتاری اور درآمدات میں کمی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 36 فیصد کی کمی آئی ایم ایف اور دوسرے قرض دینے والے اداروں کیلئے تو اچھی خبر ہے لیکن پاکستان کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ اس معاشی بدحالی کی وجہ سے کم از کم 10 لاکھ پاکستانی بے روزگار ہوگئے ہیں۔ اسٹیٹ بنک کے نئے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق غیرملکی سرمایہ کاروں نے جولائی سے نومبر2019 تک 1.09 ارب ڈالر کے ٹریژری بلز خریدے تاہم یہ ہاٹ منی ہے اور ہماری معیشت کا ماضی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جتنی جلدی یہ پیسہ آتا ہے اتنی ہی تیزی سے واپس بھاگتا ہے۔اس لئے پرکشش منافع دینے کے عوض غیرملکی سرمایہ کاروں کا ٹریژری بلز کی خریداری معاشی کارکردگی کی اصل عکاسی نہیں ہے۔
معیشت کی موجودہ صورتحال متواسط طبقے کو غربت کی لکیر کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اگر حالات ایسے ہی ابتر رہے اور عام آدمی کی قوت خرید بہتر نہ ہوئی تو امیر اور غریب کے فاصلے تیزی سے بڑھیں گے اورمتوسط طبقہ ختم ہوتا جائے گا جس کی وجہ سے معاشرے کا توازن بری طرح متاثر ہوگا۔ 
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 پاکستانی شہری جس کوکبھی پاکستان سے باہر سفر کرنے کا موقع نہیں ملا وہ پردیس رہنے والوں کے حالات زندگی، واقعات اور مسائل سے ہرگز واقف نہیں ہو سکتا،جو افراد سیرو سیاحت کے شعبہ سے بھی منسلک رہے ہوں اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ آج سے ایک یا دو صدی قبل دنیا کا سفر کرنا خواہ وہ سیرو سیاحت کیلئے ہو یا کاروباری نہایت آسان اور پرسکون ہوتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے شہری کو سفری دستاویزات حاصل کرنے اور پھر مخصوص ملک کے سفر کیلئے متعلقہ سفارت خانہ سے سفری اجازت نامہ جس کو آج ویزا کے نام سے جانا جاتا ہے کا پیشگی حصول اس قدر کٹھن نہیں تھا تب مختلف ممالک کے مابین اس قدر سرمایہ کاری کی سرد جنگ برپا نہیں تھی، دہشت گردی کا ایشو نہیں تھا ۔ جب مسلمانوں کو دہشت گردی کے ساتھ نہیں جوڑا گیا تھا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام بھی تقویت پکڑتا گیا، سودی نظام کی دلدل میں پھنسی عالمی معیشت بھی سکڑتی گئی ۔    

مزید پڑھیں

 یوہان کا تعلق چین سے ہے اس کی عمر محض دس برس ہے وہ اس وقت صرف ایک برس کا تھا جب اس کا نچلا دھڑ مفلوج ہو گیا جب کچھ بڑا ہوا تو اس نے اپنی معذوری کو ذہنی معذوری نہیں بننے دیا دیگر ہم عمروں کو سکول جاتے ہوئے دیکھ کر اس کے اندر بھی علم کے حصول کاجذبہ بیدار ہوا، اس نے سکول جانے کو اپنا معمول بنا لیا، اپنی ٹانگوں پر کھڑا نہ ہونے والے اس باہمت بچے نے نہ تو ہوم ورک نہ کرنے کا لنگ تراشا اور نہ ہی کسی بہانہ سازی سے کام لیا ،وہ اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کے بل کھڑا ہو کر ان ہتھیلیوں پر چل کر سکول جانے لگا ،    

مزید پڑھیں

یہ کائنات کی رونقیں اور انسان کا وجود بذاتِ خود ایک لفظ’’کن‘‘ کی مرہونِ منت ہے ۔ﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’کن ‘‘ہوجا تو’’ فیکون‘‘ ہوگیا۔ بس اس ایک لفظ کے ساتھ سب کچھ وجود میں آگیا۔ سب سے پہلے ﷲ پاک نے فرشتوں اور جنات سے کلام فرمایا ،حکم صادر فرمایا کہ انسان کو سجدہ ریز ہوجائو۔

مزید پڑھیں