☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(حاجی محمد حنیف طیب) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) متفرق(احمدعلی محمودی ) خصوصی رپورٹ(پروفیسر عثمان سرور انصاری) خصوصی رپورٹ(سید عبداللہ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(محمد سعید جاوید)
پردیس میں ہیں غم بہت !

پردیس میں ہیں غم بہت !

تحریر : نصیر احمد ورک

02-16-2020

 پاکستانی شہری جس کوکبھی پاکستان سے باہر سفر کرنے کا موقع نہیں ملا وہ پردیس رہنے والوں کے حالات زندگی، واقعات اور مسائل سے ہرگز واقف نہیں ہو سکتا،جو افراد سیرو سیاحت کے شعبہ سے بھی منسلک رہے ہوں اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ آج سے ایک یا دو صدی قبل دنیا کا سفر کرنا خواہ وہ سیرو سیاحت کیلئے ہو یا کاروباری نہایت آسان اور پرسکون ہوتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے شہری کو سفری دستاویزات حاصل کرنے اور پھر مخصوص ملک کے سفر کیلئے متعلقہ سفارت خانہ سے سفری اجازت نامہ جس کو آج ویزا کے نام سے جانا جاتا ہے کا پیشگی حصول اس قدر کٹھن نہیں تھا تب مختلف ممالک کے مابین اس قدر سرمایہ کاری کی سرد جنگ برپا نہیں تھی، دہشت گردی کا ایشو نہیں تھا ۔ جب مسلمانوں کو دہشت گردی کے ساتھ نہیں جوڑا گیا تھا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام بھی تقویت پکڑتا گیا، سودی نظام کی دلدل میں پھنسی عالمی معیشت بھی سکڑتی گئی ۔

 

 

 دولت کی ہوس میں مذاہب اور انسانیت کے قانون کچل ڈالتا ہے اور کچھ ایسا ہی مسلمانوں کے ساتھ ہوا لیکن بدقسمتی سے مسلمان چونکہ اس نظام کا حصہ ہیں جو یہود و نصار کے ہاتھ آچکا ہے اور مسلمان اس دلدل میں اس قدر جکڑے جاچکے ہیں کہ سرحدوں کے علاوہ دل و جاں پر لگی زنجیروں کو توڑ نہیں سکتے۔ یقینایہ موضوع ہٹ کر موقف ہے لیکن آپ پس پردہ حقائق بھی سمجھیں کہ مسلمان پردیسی ہی کیوں ذلیل و خوار ہیں باقی دنیا کے لوگ کیوں نہیں؟
صد افسوس کہ پچھلے 70برس سے پاکستان پر قابض کرپٹ سیاستدان اور نااہل سرکاری مافیاکی جاہلانہ منصوبہ بندی کے سبب پاکستان میں چلنے والے کاروبار اور وسائل میں کمی آئی اور ملکی معیشت نہایت گراوٹ کا شکار ہوتی چلی گئی جس کی وجہ سے کاروباری طبقہ جو کاروبار میں نقصان نہیں چاہتا ۔آہستہ آہستہ پاکستان سے رخصت ہوتا گیااور مزید بیرون ملک سے آنے والا سرمایہ بھی کم ہوتا گیا جس کی وجہ سے روپیہ کی قدرگرتی رہی ۔ ان سارے حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے نوجوان نسل نے ملک میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری کی وجہ سے بیرون ملک میں ملازمت اور کاروبار کرنے کو ترجیح دی اور یہ سلسلہ تیزی سے پروان چڑھتا گیا ۔ کم تعلیم یافتہ طبقہ زیادہ تر مشرق وسطیٰ کا رخ کرنے لگا اور آج تقریباََ 47لاکھ پاکستانی عرب ریاستوں میں مزدوری کر رہے ہیں اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پال رہے ہیں کیونکہ پاکستان میں روزگار کے مواقع موجود نہیں اور اگر کچھ ہیں بھی تو اجرت بہت کم ہے اسکے علاوہ تقریباََ12لاکھ پاکستانی برطانیہ میں مقیم ہیں جو تعلیم ،کاروبار ، روزگار اور اچھے مستقبل کی امید لیکر پاکستان چھوڑ گئے ۔ برطانیہ کے علاوہ دوسرے یورپی ممالک میں پاکستانیوں کی کثیر تعداد دھکے کھا رہی ہے۔یورپ میں تقریباََ30 فیصد پاکستانی قانونی طورپر اپنا کاروبار چلا رہے ہیں، تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا ملازمت کر رہے ہیں اور تقریباََ70فیصد پاکستانی ایسے ہیں جو پناہ گزین کے زمرہ میں آتے ہیں جو پچھلے کئی برسوں سے یورپ میں رہنے کا جواز بنائے بیٹھے ہیں اور ان کا یورپ میں قیام چونکہ سو فیصد قانونی نہیں ہے جس کی وجہ سے ملازمت تلاش کرنا یا اچھا معاوضہ طلب کرنا کافی دشوار رہتا ہے ایسے حالات میں یہ لوگ بامشکل گزارا کرتے ہیں ان میں بہت سی تعداد ان پاکستانیوں کی ہے جو ایران ، ترکی اور یونان کے راستے یورپ داخل ہوتے ہیں جو کہ غیر قانونی بھی ہے اور خطرناک بھی جس کی وجہ سے آج تک ہزاروں پاکستانی ترکی یونان سرحد پر مارے بھی جاچکے ہیں بہت سے پاکستانی ایسے ہیں جن کے والدین اور بیوی بچے برسوں سے انتظار کر رہے ہیں لیکن کوئی رابطہ نہیں کہ ان کا بیٹا زندہ بھی ہے یا نہیں۔
 سفر اور پردیس کبھی بھی آسان نہیں ہوتا، دوران سفر مشکلات اور نت نئے تجربات کا سامنا رہتا ہے۔ پاکستان سے جانے والے حضرات کو سیاح کا لقب نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اکثر پاکستانی روزگار اور اچھے مستقبل کی خاطر ہی ملک چھوڑتے ہیں یا دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ حالات کے پیش نظر لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ سفر کا ارادہ تو یہی ہوتا ہے کہ چند سال کام کریں گے کاروبار کریں گے روپیہ پیسہ کمائیں گے اور پاکستان واپس چلے جائیں گے لیکن باہر کی چکا چوند روشنیاں اور ترقی یافیہ نظام سے متاثر ہو کر وہیں کے ہو کر رہ جاتے ہیں ،جب کبھی پاکستان آتے ہیں تو نظام برا لگتا ہے کیونکہ اب یہ پردیسی باہر کی رونق نظام دیکھ چکے ہوتے ہیں جہاں قانون نہیں توڑا جاتاجہاں گلی محلوں میں گندگی نہیں ہوتی جہاں سرکاری اداروں میں ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھتا ہے اور سائل کی بات سنی جاتی ہے اور ہر کسی کو سماجی و معاشی تحفظ حاصل ہوتا ہے لیکن ایک بات فطری ہے اور پتھر پر لکیر کی مانند ہے کہ باہر کے نظام سے متاثر یہ پردیسی اس مٹی کو نہیں بھول پاتے جہاں ان کا جنم ہوا ہو،جس مٹی میں کھیلتے پروان چڑھے ہوں،اور اسی مٹی کی خوشبو ان کو وطن کی طرف واپس کھینچ لاتی ہے۔ دولت کمانے کی جدوجہد ، رشتہ داروں سے سبقت لے جانے کی جنگ اور اپنے سارے خوابوں کی تعبیر اپنے بچوں میں دیکھنے کی کوشش میں ساری زندگی یونہی بیت جاتی ہے ۔
دیس پردیس کے اس سفر میں کسی پاکستانی کو حکومت پاکستان کی طرف سے کسی قسم کا سماجی اور معاشی تحفظ حاصل نہیں ہوتااور بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں سے کوئی استفادہ حاصل نہیں کرپاتا وہاں موجود سفارتی اہلکاراس قدر ہڈ حرام ہیں اوربے حسی کا شکار ہیں کہ اگر کوئی پاکستانی شہری کسی پریشانی یا معلومات حاصل کرنے کی غرض سے سفارت خانہ فون کرے تو کوئی جواب نہیں دیا جاتا اور اگر کوئی فون اٹھا بھی لے تو جواب سن کر کسی انجانے جرم کا احساس ہوتا ہے۔ پاکستانی سفارت خانوں میں تعینات اہلکار سفارش اور رشوت کی بنیاد پرمنتخب ہوتے ہیں اور ان کی اہلیت اس قابل نہیں ہوتی جو کام ان کو سونپا جاتا ہے۔ میں بذات خود بہت سے ممالک کی سیر کر چکا ہوں اور پاکستانی سفارتخانوں کے اہلکاروں کی قابلیت اور انداز گفتگو سے بخوبی واقف ہوں۔ پاکستانی شہری تو سفارتخانوں سے مستفید نہیں ہوتے اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی جو پاکستان کی سیر کو آنا چاہتے ہیں یا پاکستان میں کاروبار کرنا چاہتے ہیں ان کو بھی کو تسلی بخش معلومات فراہم نہیں ہوتیں۔ سفارتخانوں میں کوئی ایسا اہلکار موجود ہی نہیں ہوتا جو غیر ملکیوں کو پاکستان میں کاروبار شروع کرنے اور مختلف طریقوں سے آگاہ کر سکے اور اس کے علاوہ حکومت پاکستان ، وزارت خارجہ، وزارت صنعت و تجارت اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طرف سے انٹرنیٹ پر تمام تر معلومات مہیا نہیں کی گئی جس طرح دوسرے ترقی یافتہ ممالک کر رہے ہیں۔ اب جو پاکستانی بیرون ممالک مقیم ہیں وہ پاکستان کیلئے کیسے کام کریں جب حکومت خود کام نہیں کرنا چاہتی، سفارت خانہ کا عملہ کام نہیں کرنا چاہتا اور سرکاری ادارے اپنے فرائض سر انجام نہیں دینا چاہتے۔ دیار غیر میں مقیم پاکستانی اپنے ملک واپس جائیں اور وہاں کاروبار بھی شروع کریں اور غیر ملکیوں کو بھی مدعو کریں یہ سارے کام تبھی ممکن ہیں جب حکومت اپنا قبلہ درست کرے اور ہر کرپٹ اور بدیانت کوسزا ملے۔
پاکستانی پاسپورٹ دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں شمار کیا جاتا ہے جس کی کہیں بھی عزت نہیں اور رہی سہی کسر سابقہ چند سالوں میں ہونے والی دہشت گردی نے نکال دی ہے۔ امریکہ کے ساتھ مل کر روس کے خلاف جنگ میں پاکستان نے اپنی معیشت،عالمی وقار، صنعت و تجارت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی پہچان اور عزت بھی تباہ کی ۔اس ایٹمی ملک کے بے بس اور مجبور باشندے گرین پاسپورٹ ہاتھ میں لیے اسلام آبادمیں موجود مختلف سفارت خانوں ویزے کی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں جہاں اکثریت کی درخواست برائے ویزا مسترد کر دی جاتی ہے اور جن کو ویزا دے دیا جاتا ہے وہ اپنے ہی ملک کے ائیرپورٹ پر پرواز سے پہلے ان گنت سوالات اور مشکوک نظروں کا سامنا کرتے ہیں جیسے یہ قتل کرکے بھاگ رہے ہیں بورڈنگ کائونٹراورایف آئی اے کے عملے کا رویہ ایسا ہوتا ہے جیسے ہر مسافر سے ان کی ذاتی دشمنی ہومسافروں سے وہ سوال بھی کیے جاتے ہیں جن کا سفر سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ جو پاکستانی زندگی میں پہلی دفعہ بیرون ملک پرواز کیلئے پاکستان کے کسی ائیرپورٹ پر آتا ہے وہ اس قدر خوف محسوس کرتا ہے جیسے آ ج وہ سفر نہیں کر سکے گا ۔ یہ سارے غیر انسانی رویے صرف پاکستانی ائیرپورٹس پر ہی ملتے ہیں کیا دنیا کے باقی ائیرپورٹس غیر محفوظ ہیں جو وہاں کا عملہ اخلاق سے پیش آتا ہے؟ پاکستان ائیرپورٹ سے پروان بھرنے کے بعد پاکستانی شہری جب دوسرے ملک لینڈ کرتے ہیں تو وہاں بھی ان کااستقبال عجیب سے رویے اور شکوک و شبہات اور نفرت بھری نگاہوں سے کیاجاتا ہے جیسے یہ کوئی اچھوت قوم ہے ۔ 25کروڑ عوام کی ذلت و رسوائی کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے؟ یہ الزام کرپٹ سیاستدانوں پر لگایا جائے یا عدلیہ پر ، بیوروکریٹس سے سوال کیا جائے یا کسی اسٹیبلشمنٹ سے پوچھا جائے کہ اس ملک میں جو جس کا من چاہتا ہے کرتا رہا ہے اور مجرم کوئی بھی نہیں۔دہشت گردی کی جنگ اور اس ملک میں ہونے والی پچھلی کئی دہایئوں کی کرپش کا جر م کس پر عائد کیا جائے؟ پاکستان میں ہونے والی کرپشن کی وجہ سے یہ ملک اور یہاں کے باشندے تو عالمی بے عزتی برداشت کر ہی رہے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ دین اسلام بھی ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے اور انہی سارے مسائل کے سبب ہر دوسرا پاکستانی باہر جانا چاہتا ہے ویزا کے حصول کی خاطر لوگ جھوٹے سچے دستاویزات پیش کر کے اس ملک سے راہ فرار چاہتے ہیں کیونکہ اس ملک کے ساتھ ہونے والے کھلواڑ کا مجرم کوئی بھی نہیں ۔ ان سارے حالت میں وہ پاکستانی جو پچھلے دس یا بیس برس سے دیار غیر میں ہیں ہرگز واپسی نہیں چاہتے بلکہ وہ اپنے بچوں کو بھی پاکستان سے نکالنے کا سوچتے ہیں جس ملک میں احتساب نہ ہواور ادارے دن رات فروخت ہوتے ہوں وہاں ایماندار شخص کا رہنا نا ممکن ہوتا ہے۔ 
پاکستان میں بہت سے ٹریول ایجنٹس ایسے ہیں جو پسماندہ اضلاع سے لوگوں کو اچھی تنخواہ اور مراعات کاجھانسا دے کر مشرق وسطیٰ کے ویزا کے لالچ میں بڑی رقم بٹور لیتے ہیں یہ پاکستانی جب متعلقہ ملک پہنچتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا لیکن وہاں ان کی شنوائی نہیں ہوتی نہ تو اس ملک کی حکومت مدد کرتی ہے اور نہ ہی وہاں قائم پاکستانی سفارتخانے کا عملہ۔ پریشانی کے اس عالم میں اور گھر والوں کو الوداع کہہ کر آنے والے یہ پاکستانی پھر حالات جیسے بھی ہوں ان کا سامنا کرتے ہیں اور جو بھی تنخواہ ملتی ہے خوش نا خوش وقت گزرانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ وہ کسی سے شکوہ شکایت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے لیکن ان بدمعاش ٹریول ایجنٹس کا احتساب کبھی نہیں ہوتا۔
بہت سے پاکستانی غیر ملکی جیلوں میں معمولی جرائم کی وجہ سے قید ہیں موجودہ حکومت نے بہت کوشش کی ہے اور کافی حد تک پاکستانی رہا ہو کر وطن واپس آچکے ہیں لیکن اب بھی بہت سی تعداد بیرون ملک قید ہے ان کی رہائی کیلئے پاکستانی سفارتخانے اور وزارت خارجہ مثبت کردار ادا کرے ان پاکستانیوں کا جرم پاکستان میں موجود 70برس سے کرپشن کرنے والے سیاستدانوں سے بہت کم ہے۔ اگر پاکستان میں رہنے والے کرپٹ افراد کیلئے کوئی سزا نہیں تو پردیس میں کمائی کی غرض سے جانے والے اگر کچھ جانے انجانے سے جرم کر بیٹھیں تو حکومت پاکستان کو ان معاملات سے باخبررہناچایئے تاکہ یہ لوگ اپنے پیاروں کے پاس واپس آسکیں۔غیرملکی جیلوں میں قید اکثریت کا جرم صرف یہ ہے کہ ویزا کی معیاد ختم ہو گئی تھی اور وہ پاکستان واپس نہیں گئے۔ پاکستانی پاسپورٹ کو عزت دینے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی کسی بھی رکن پارلیمنٹ نے آج تک اس موضوع پر بات نہیں کی ۔حکومت پاکستان زیادہ نہیں تو کم از کم تمام مسلمان ممالک سے بات چیت کرے تا کہ پاکستانی وہاں آسانی سے سفر کر سکیں۔
 
 
 
 
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 ’’پہناوا ‘‘خواہ بدن کا ہو یا پیروں کا،شروع سے ہی انسان کی ضرورت رہا ہے۔ مختلف تہذیبوں کے زیر اثر انسان نے اب تک جو عرصہ گزارا ہے اس کا99 فیصد حصہ ’’سنگی دور‘‘ پر مشتمل ہے ۔    

مزید پڑھیں

ریلوے پھاٹک کے شرقی کنارے شفیع جوگی کا مجمع دیکھنے دور دور سے لوگ آتے چھٹی ہوتی تو ایک ہائی سکول کے طلبا بھی وہ سانپ دیکھنے کیلئے بے تاب ہوتے ،جوگی نے مٹی کی ایک چھوٹی سی ڈولی کے منہ پر کپڑا باندھ کر رکھا ہوتا ،    

مزید پڑھیں

 موجودہ حکومت اپنے نئے کپتان اور پرانے کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اتری تو ظاہر ایسا کیا جارہا تھا کہ اب سب کچھ تبدیل ہوجائے گا اور ایک نیا و خوشحال پاکستان شہریوں کا مقدر ہوگا۔    

مزید پڑھیں