☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(علامہ مفتی ابو عمیر سیف اﷲ سعیدی ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) جرم و سزا(سید عبداللہ) صحت(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() فیچر(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) کھیل(پروفیسر عثمان سرور انصاری) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) خواتین(نجف زہرا تقوی)
سانپ اور سپیرے ہمارے معاشرے کااچھوتا طلسماتی کردار

سانپ اور سپیرے ہمارے معاشرے کااچھوتا طلسماتی کردار

تحریر : ایم آر ملک

03-15-2020

ریلوے پھاٹک کے شرقی کنارے شفیع جوگی کا مجمع دیکھنے دور دور سے لوگ آتے چھٹی ہوتی تو ایک ہائی سکول کے طلبا بھی وہ سانپ دیکھنے کیلئے بے تاب ہوتے ،جوگی نے مٹی کی ایک چھوٹی سی ڈولی کے منہ پر کپڑا باندھ کر رکھا ہوتا ،
 

 

اس کا کہنا تھا کہ اس میں جو سانپ ہے وہ گلاب کے پھول میں ہوتا ہے پھر تین عشرے گزر گئے ،شفیع جوگی ملک عدم کو سدھار گئے مگر شہر کے لوگ آج بھی جب سانپ اور سپیرے کا ذکر کرتے ہیں تو شفیع جوگی کے تذکرے کے بغیر محفل کی رونق ادھوری تصور کی جاتی ہے۔ 
سپیرے کی تعریف اور برصغیر میں ان کا وجود :خانہ بدوشوں میں سپیرا ایک منفرد ،اچھوتا اور طلسمی کردار ہے جو پیلے نیلے کپڑوں میں ملبوس ،کانوں میں بڑی بڑی بالیاں پہنے ،’’سامری جادوگر ‘‘کی طرح نظر آتا ہے۔ سپیرا ،سانپ ،بین ،پٹاری اور زنبیل لازم و ملزوم ہیں ،یہ ایک دوسرے کے ساتھ جسمانی اعضا کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔سپیرا ہمارے معاشرے کا صدیوں قدیم کردار ہے ،ہندوستان میں سپیرا ایک رقص کی شکل کا نام ہے جسے سانپ ناچ بھی کہا جاتا ہے جس میں کڑھائی والے لباس میں دائرے کی شکل میں رقص کیا جاتا ہے ،مگر سپیرا اصل میں سانپ پکڑنے والے کو کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ سانپ پکڑنے میں مہارت رکھتے ہیں۔نئے نئے سانپ پکڑنے کے شوقین بسا اوقات ڈسے جانے سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ملتان میانوالی روڈ پر اڈہ محمد والا میں دو بھائیوں کو سانپ پکڑنے کا شوق تھا مگر وہ ایک زہریلے سانپ کا شکار ہو گئے اور ایک جوگی (سپیرا )جو سانپ پکڑتا تھا اور سانپوں کے زہر اور علاج کی بابت جانتا تھا کو بلایا گیا مگر اس کے دیر سے آنے کے باعث سانپ پکڑنے کے شوقین دونوں بھائی موت کے منہ میں جاچکے تھے ،آناً فاناً ان کے جسم پھولنا شروع ہو گئے تھے۔سپیرے نے کہا کہ جتنی عجلت میں ہوتا ہے ان کو دفن کرنے کا انتظام کیا جائے کیونکہ ان کو ایسے زہریلے سانپ نے ڈسا ہے جس کا زہر جسم میں پھیلنے سے اب ان کا جسم پھٹ بھی سکتا ہے ۔
 ہندی میں سپیرا کامطلب ’’سانپ پکڑنا  ‘‘ہے ،ہندوستان میں ریاست بہار میں سب سے زیادہ مسلمان سپیرے موجود ہیں ۔وہاں  ’’سپیرا ‘‘ایک ہندو ذات بھی ہے جو مغربی بنگال ،مدھیہ پردیش اور مشرقی پنجاب میں پائی جاتی ہے سانپ پکڑنے والی یہ ہندو ذات نیم خانہ بدوشوں کی شکل میں شمالی ہندوستان میں موجود ہے ۔ہریانہ میں انہیں سپیرا ناتھ کے نام سے جانا جاتا ہے جنہیں مزید دس گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں ’’برہمن سپیرا ،جھنور سپیرا ،سوگر سپیرا ،بیہ ایل سپیرا ،نکفول سپیرا ،سندر ناتھ سپیرا قابل ذکر ہیں یہ لوگ چونکہ سانپوں کو پکڑنے کا کام کرتے ہیں سو اس بنا پر معاشرے میں یہ ایک قبیلہ کی شکل اختیار کر گئے جو نیم خانہ بدوشوں کی شکل میں رہتے ہیں اس طرح یہ ایک ذات اور قبیلہ کی صورت میں موجود ہیں ہندوستان میں ہریانہ میں ان سپیروں کی ایک قدیم نسل آباد ہے پنجاب میں لفظ سپیلہ کے معنی ’’سانپ ‘‘ کے ہیں بریلی میں بھی ان کی کثیر تعداد آباد ہے ہندو سپیرے شکتی فرقے کے پیروکار ہیں اور کلی دیوی کی پوجا کرتے ہیں یہ قریہ قریہ گھومتے ہیں سانپ پکڑنے کیلئے صحرائوں اور جنگلوں کا رخ کرتے ہیں جبکہ سانپوں کے کاٹے افراد کا زہر نکالنے کیلئے بھی ان سپیروں کو بلایا جاتاہے۔  
بین :یہ کدو اوربانس سے بنائی جاتی ہے جس سے ایک مسحور کن آواز پیدا ہوتی ہے سپیروں کے مطابق جس کو سن کر سانپ جھومتا ہے اور اس پر سحر طاری ہوجاتا ہے اور اسی آواز کے سحر میں مبتلا سانپ کو پکڑ لیا جاتا ہے سانپ کو پکڑنے کیلئے یہ سپیرے کی ایک بنیادی ضرورت ہے ۔
پٹاری :یہ سرکنڈو ں کی ’’سر‘‘ اور کھجور کے پتوں سے بنی ہوتی ہے سرائیکی خطہ میں اس کو ’’سندڑا بھی کہا جاتا ہے جس میں اس خطہ کی خواتین پرانے وقتوں میں استعمال کی اشیا ء رکھتی تھیں لیکن اس کا اصل استعمال روٹیوں کو تازہ رکھنے کیلئے ہوتا تھا اسے پٹاری کے طور پر بھی استعمال کیا جارہا ہے جس کے اندر سانپ کو بند کرکے اوپر سے مذکورہ اشیا ء کے بنے ڈھکن سے ڈھانپ دیا جاتا ہے پٹاری بھی سپیرے کی ایک اہم ضرورت ہے۔ 
زنبیل :زنبیل کپڑے سے بنی سپیرے کے وجود کے ساتھ جڑا ایک اہم جزو ہے جس میں سانپ کی پٹاری ،سانپ اور سپیرا ’’سنیاسی ‘‘ کا بھی کام کرتا ہے جو جنگل ،صحرائوں اور پہاڑوں سے قیمتی جڑی بوٹیاں اور ان سے بنی ادویات شیشیوں میں بند کرکے زنبیل میں رکھتا ہے ۔
سانپ :دنیا بھر میں رینگنے والے خطرناک(حشرات الارض )  میں سانپ کا شما ر ہوتا ہے، اس کا ندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سانپ کو دیکھ کر ہی انسان کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ جاتا ہے، رینگنے والے اس جانور کی 2900اقسام دنیا میں موجود ہیں ۔پاکستان اور انڈیا میں تقریبا ً ہمہ اقسام سانپ موجود ہیں ۔کوڑو ایک سپیرا ہے جو نسل در نسل سانپ پکڑنے کے کام سے وابستہ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ’’ ہر سانپ زہریلا نہیں ہوتا اسی طرح ہر سانپ پکڑنے والا سپیرا نہیں ہوتا ۔اکثر سانپ اپنے شکار کو زخمی کر لیتے ہیں اور بعد ازاں اسے اپنی خوراک بناتے ہیں ۔بعض سانپ انتہائی زہریلے ہوتے ہیں جیسے کالا (پھنیئر )یعنی پھن والا ناگ اسے ’’سنگچور ‘‘سنگ حلق کو کہتے ہیں اور سنگچور پکڑ کو کہتے ہیں۔یہ کسی انسان کو کاٹ لے تو وہ پانی بھی نہیں مانگتا، اس کے کاٹنے سے انسان کی سانس رکنا شروع ہوجاتی ہے جس سے انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے اور گوشت ہڈیوں سے جدا ہوجاتا ہے اسی ناگ کی ایک قسم ’’پدم ‘‘ ہوتی ہے ۔پدم کے بارے میں یہ بات عام ہے کہ ’’پدم چلنے نہ دے قدم ‘‘یعنی کاٹتے ہی موت واقع ہو جاتی ہے ۔اگر مادہ سانپ کو انسان مار ڈالے تو نر سانپ اپنی مادہ کی موت کا بدلہ لیتا ہے ،اگر نر سانپ کو انسان مار ڈالے تو مادہ سانپ اس انسان سے اپنا بدلہ لیتی ہے اور بدلے کی یہ آگ سات نسلوں تک جاتی ہے یعنی آپ نے ایک سانپ کو مار ڈالا تو اس کی جگہ دوسرا آجائے گا اسی دوسرے کو بھی مار ڈالا تو تیسرا آجائے یوں سات سانپ آپ کا پیچھا کریں گے پاکستان میں کوبرا کی 9قسمیں ہیں جن میں چیچہ وطنی سے سندھ تک کے علاقہ میں بلیک ،نیلا ،سرمئی اور آسمانی رنگ کا ملتا ہے جبکہ فیصل آباد سے وسطی پنجاب تک سفید ،ہرا ،برائون ،سرخ اور تلیئر کوبرا ملتا ہے یہ اپنی پہلی خوراک ہضم کرنے کے بعد ہی دوسری خوراک لیتا ہے  اسی طرح اژدھا بھی سانپوں کی ایک قسم ہے جس کے جسم پر خوبصورت دھبے ہوتے ہیں ان کا وزن کئی من تک پہنچ جاتا ہے یہ اپنے شکار کو گرفت میں لیکر اتنا بھینچتا ہے کہ اس کی جان نکل جاتی ہے بعد میں یہ اسے زندہ نگل لیتا ہے اسی طرح انسان اس کے قابو آجائے تو اس کے گرد اپنا حصار بنا کر اس کی ہڈیاں توڑ ڈالتا ہے اور پھر اسے اپنا نوالہ بنا لیتا ہے اس کا نطام انہضام ایسا ہے کہ جب اس کا شکار پیٹ میں چلا جاتا ہے تو شکار کی ہڈیاں تک اس کے معدہ میں گل جاتی ہیں اژدہا پاکستان میں دو مقامات پر ملتا ہے سندھ میں یہ سانگھڑ میں پایا جاتا ہے جبکہ چھمب جوڑیاں میں بھی یہ بکثرت پایا جاتا ہے اسی طرح سانپ کی ایک قسم دو موئی ہے جس کے دونوں طرف منہ نظر آتا ہے یہ ایسا سانپ ہے جو 10ماہ تک کسی کو کچھ نہیں کہتا لیکن دو ماہ ساون اور بھادوں میں یہ راستے میں پڑے گھاس پھوس اور تنکوں کو بھی ڈنک مارنے سے باز نہیں آتا یہ جس جگہ دستا ہے وہاں چھالہ بن جاتا ہے جوپھنسی کی طرح ہوتا ہے جس فرد کو یہ ڈستا ہے اسے تقریباً تین سال تک ڈستا رہتا ہے بعد ازاں کوئی سانپ اس فرد کو ڈسنا شروع کردیتا ہے جس موسم میں یہ کسی فرد کو ڈستا ہے ہر سال اس موسم میں سانپ گزیدہ اتنا بے چین ہوجاتا ہے کہ سانپ کی بلوں میں ہاتھ ڈالنا شروع کردیتا ہے 
سانپ کا منکا :اکثر سپیروں کے پاس ایک موتی ہوتا ہے جسے وہ سانپ کا منکا کہتے ہیں آج بھی کئی سپیروں کے پاس یہ منکا موجود ہے سیاہ رنگ کے اس پتھر جیسے دانے کے بارے میں سپیروں کا کہنا ہے کہ یہ کسی سانپ کے سر کے اندر سے نکالا جاتا ہے جس شخص کو سانپ ڈس لے اس کے لواحقین اسے اس سپیرے کے پاس لیکر جاتے ہیں جو سانپ کی ڈسی ہوئی جگہ پر منکا پھیرتا ہے اس منکا کی خاصیت یہ بتائی جاتی ہے کہ اگر سانپ نے ڈسا ہو تو یہ اُس جگہ پر چمٹ جاتا ہے اور سانپ کا زہر چوس لیتا ہے اگر سانپ نے نہ ڈسا ہوتا یہ اس جگہ پر چمٹتا نہیں ہے سپیروں کے مطابق کسی فرد کو سانپ کاٹ لے تو اسے سونے نہ دیا جائے اس کو ’’آک ‘‘ (ایک صحرائی پودا ہے جس کے پتے بہت کڑوے ہوتے ہیں)اس کے پتے سانپ گزیدہ کو کھلائے جائیں یہاں تک کہ اسے یہ پتے کڑوے محسوس ہونے لگیں کیونکہ جس کو سانپ نے ڈسا ہوگا اسے پہلے پہل ’’آک ‘‘ کے پتے میٹھے لگیں گے لیکن آہستہ آہستہ کڑوے لگنے لگیں گے جس سے زہر کا اثر زائل ہوتا جائے گا بالآخر سانپ گزیدہ کو قے آئے گی اور اس کا معدہ واش ہوجائے گا اکثر سپیرے عوامی مجموں میں ’’گوگا پیر ‘‘ کا ذکر کرتے ہیں کہ جس کسی کو سانپ لڑتا وہ اپنا لعاب اس جگہ پر لگادیتے اور اس طرح سانپ کا اثر زائل ہوجاتا ایک روز جب وہ اپنے گائوں میں نہیں تھے تو ایک بیوہ عورت جس کا ایک ہی بیٹا تھا اس کو سانپ نے ڈس لیا ’’گوگا پیر ‘‘جب گائوں میں پہنچے تو تب تک اس بیوہ کا بیٹا مر چکا تھا اس واقعے نے گوگا پیر کے ذہن پر بہت اثر کیا انہوں نے جنگل کا رخ کیا اور سانپوں سے روزانہ ایک چارپائی بنتے اور بعد میں درانتی سے اس چارپائی کو کاٹ ڈالتے گوگا پیر کیونکہ سانپوں کا مرشد تھا سانپوں نے سوچا کہ ایک دن یہ ہمیں ختم کردے گا ایک سانپ نے ایک روز چوری انہیں ڈس لیا اس طرح ان کی موت واقع ہوگئی اس روز سے سانپوں کو بے مرشد کہا جاتا ہے 
سانپ کہاں رہتے ہیں ؟:سانپ شمال میں کنیڈا سے لیکر مشرق میں واقع آسٹریلیا تک تقریباً ہر براعظم میں پائے جاتے ہیں ،آسٹریلیا میں ایک ایسا سانپ بھی ملتا ہے جو شیشے کی طرح ہوتا ہے سانپوں کی مختلف اقسام کی طرح ان کے سائز بھی مختلف ہوتے ہیں سانپ کا جو کم از کم سائز دیکھا گیا ہے، وہ 4فٹ ہوتا ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ کسی سانپ کی لمبائی 50فٹ تک ہوتی ہے سانپ جہاں پائے جاتے ہیں وہاں کے قدرتی ماحول سے مشابہت رکھتے ہیں پہاڑوں میں پائے جانے والے سانپوں کا رنگ وہاں کے پتھروں سے مشابہت رکھتا ہے جس کی وجہ سے اکثر اوقات سپیروں کو ایسے سانپوں کو پکڑنے کیلئے انتہائی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
سپیروں کا رہن سہن اور فن :سپیرے بھی خانہ بدوشوں کی طرح آبادیوں سے دور جھونپڑیوں میں پناہ گزیں ہوتے ہیں اور کھلے میدانوں میں ڈیرہ ڈالتے ہیں ،ان کی زنبیل میں قیمتی جڑی بوٹیوں کے نسخے بھی ہوتے ہیں اپنی جھونپڑیوں سے صبح یہ بستیوں کا رخ کرتے ہیں ان کے ایک ہاتھ میں بین ہوتی ہے اور کندھے پر زنبیل ہوتی ہے، گلیوں میں گھومتے ہوئے لوگ ان سے سانپ دکھانے کی فرمائش کرتے ہیں اس طرح یہ زمین پر بیٹھ کر پٹاری کھولتے ہیں جس سے پھن پھیلائے سانپ کھڑا ہوجاتا ہے ۔اس کی پھنکار سے ارد گرد کھڑے افراد خوفزدہ ہوجاتے ہیں ،آہستہ آہستہ بستی کے بڑوں اور بچوں کی کثیر تعداد جمع ہوجاتی ہے۔ سپیرا ان بستی والوں کے جھرمٹ میں بین بجانا شروع کردیتا ہے، جدھر جدھر یہ بین کا رخ موڑتا جائے گا، سانپ بھی جھومتا جائے گا کئی افراد سپیرے کو پیسے دیں گے جبکہ کئی افراد جنہیں کوئی نہ کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے وہ سپیرے سے قیمتی جڑی بوٹیوں سے بنی دوائی خریدتے ہیں ۔جب کوئی سپیرا وفات پاجاتا ہے تو یہ فن اس کے بیٹے کو منتقل ہوجاتا ہے جس کی باقاعدہ دستار بندی کی جاتی ہے۔ ایک سپیرے گانمن کا موقف تھا کہ سپیرا اس معاشرے کا ایک فنکار ہے جو بین بجا کر اور سانپ پر اس بین کی موسیقی کا سحر طاری کرکے لوگوں کو مسحور کرتا ہے ہمارا یہ فن ہی ہماری روزی کا سبب ہے مگر اس مہنگائی کے دور میں اب لوگوں کا اس فن کے ساتھ تعلق ناپید ہوتا جارہا ہے ہمارے لئے اب کسی کی جیب سے کم ہی پیسے نکلتے ہیں کوئی دور تھا جب ہم کندھے پر زنبیل ڈالے کسی زمیندار کے ڈیرے پر پہنچتے تو وہ سانپ دیکھنے اور بین کی موسیقی سننے کے بعد ہمیں ایک بڑے انعام سے نوازتا اب وہ دور بھی نہیں رہا ہماری آنیوالی نسلیں بھی اپنے آبائو اجداد کے پیشے کو ترک کرتی جارہی ہیں پہلے وقتوں میں جب ہم کسی بچی کی شادی کرتے تو اسے جہیز میں انتہائی قیمتی سانپ دیا جاتا جبکہ ہار سنگھار سے سجی بین بھی اپنے داماد کو ہم دیتے ایک عجیب بات یہ معلوم ہوئی ایک سپیرے کا کہنا تھا کہ ایک سانپ کسی سپیرے یا اسکے بچے کو ڈنک نہیں مار سکتا اگر ایسا کرتا بھی ہے تو وہ ہمیں یا ہمارے بچے کو نقصان نہیں پہنچاتا کیونکہ سانپ کے زہر کے تریاق کا ایک قطرہ پہلی غذا کے ساتھ ہی نومولود کو دے دیا جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ اس سے ان میں زندگی بھر کیلئے قوت ِ مدافعت پید اہوجاتی ہے ۔سپیرے کو شاعروں نے بھی اپنی شاعری میں استعمال کیا ہے ،
مقید کردیا یہ کہہ کر سانپوں کو سپیروں نے  
یہ انسانوں کو انسانوں سے ڈسوانے کا موسم ہے 
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 ’’پہناوا ‘‘خواہ بدن کا ہو یا پیروں کا،شروع سے ہی انسان کی ضرورت رہا ہے۔ مختلف تہذیبوں کے زیر اثر انسان نے اب تک جو عرصہ گزارا ہے اس کا99 فیصد حصہ ’’سنگی دور‘‘ پر مشتمل ہے ۔    

مزید پڑھیں

 پاکستانی شہری جس کوکبھی پاکستان سے باہر سفر کرنے کا موقع نہیں ملا وہ پردیس رہنے والوں کے حالات زندگی، واقعات اور مسائل سے ہرگز واقف نہیں ہو سکتا،جو افراد سیرو سیاحت کے شعبہ سے بھی منسلک رہے ہوں اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ آج سے ایک یا دو صدی قبل دنیا کا سفر کرنا خواہ وہ سیرو سیاحت کیلئے ہو یا کاروباری نہایت آسان اور پرسکون ہوتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے شہری کو سفری دستاویزات حاصل کرنے اور پھر مخصوص ملک کے سفر کیلئے متعلقہ سفارت خانہ سے سفری اجازت نامہ جس کو آج ویزا کے نام سے جانا جاتا ہے کا پیشگی حصول اس قدر کٹھن نہیں تھا تب مختلف ممالک کے مابین اس قدر سرمایہ کاری کی سرد جنگ برپا نہیں تھی، دہشت گردی کا ایشو نہیں تھا ۔ جب مسلمانوں کو دہشت گردی کے ساتھ نہیں جوڑا گیا تھا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام بھی تقویت پکڑتا گیا، سودی نظام کی دلدل میں پھنسی عالمی معیشت بھی سکڑتی گئی ۔    

مزید پڑھیں

 موجودہ حکومت اپنے نئے کپتان اور پرانے کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اتری تو ظاہر ایسا کیا جارہا تھا کہ اب سب کچھ تبدیل ہوجائے گا اور ایک نیا و خوشحال پاکستان شہریوں کا مقدر ہوگا۔    

مزید پڑھیں