☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(صہیب مرغوب) زراعت(طاہر جودھیانہ) خصوصی رپورٹ( ملک رمضان اسراء) سپیشل رپورٹ(نصیر احمد ورک) شوبز(عثمان ناصر) صحت(حکیم نیازاحمد ڈیال) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) متفرق(حسیب صوفی) فیچر(ایم آر ملک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) تاریخ(ن-ا-ورک) غور و طلب(مولانا عثمان الدین) کچن کی دنیا() کھیل(منصور علی بیگ)
کھسہ ، جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ کی ایک پہچان

کھسہ ، جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ کی ایک پہچان

تحریر : ایم آر ملک

03-29-2020

 ’’پہناوا ‘‘خواہ بدن کا ہو یا پیروں کا،شروع سے ہی انسان کی ضرورت رہا ہے۔ مختلف تہذیبوں کے زیر اثر انسان نے اب تک جو عرصہ گزارا ہے اس کا99 فیصد حصہ ’’سنگی دور‘‘ پر مشتمل ہے ۔
 

 

صدیوں پہلے شروع ہونے والے سنگی دورکے متعلق ہماری معلومات اوزاروں ،جانوروں ،انسانوں کے ڈھانچوں یا قدیم پوشیدہ غاروں تک محدود ہے ۔اس دور کا انسان خوراک حاصل کرنے کیلئے شکار پر گزارا کرتا تھا اس کے خاص مراحل زندگی میں آگ جلانے کے اوزار بھی ملتے ہیں جبکہ جو آثار ملے ہیں ان میں غاروں کی دیواروں پر اوزاروں ،ہتھیاروں کے علاوہ پائوں کے پہناوے بھی کندہ ہیں ۔درمیانی سنگی دور کی تہذیب قدیم عراقی تہذیب ہے جبکہ ایشائِ کوچک ،ایران ،چین پاک و ہند ،روس میں بھی سنگی عہد نے عمر پائی انسان کی ثقافتی اور تکنیکی ترقی کا آخری دور نیو لیتھک کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ماہرین کا موقف ہے کہ اس دور کا آغاز ایشیا اور یورپ کی تہذیبوں کے ملاپ سے ہوا اُس دورمیں انسان نے اپنے اوزاروں ،ہتھیاروں اور دوسری اشیائے زندگی کو اپنی ضرورت میں شامل کیا جس میں گوشت حاصل کرنے کیلئے جانور پالنے شروع کئے ایشیاء میں ایک ہزار سال قبل جانور پالنے اور ان کی کھال سے اشیائے ضرورت بنانے کے آثار ملتے ہیں۔ یورپ کے برفانی علاقوں میں یہ دور3300ق م کے آس پاس پھیلا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق تب انسان ایک حد تک تہذیب کے دائرے سے آشنا تھا اس کا اندازہ ان افعال سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس دور کا انسان اپنے بال کاٹتا تھا ،ناخن تراشتا تھا ،مختلف وضع کے کپڑے استعمال کرتا اور جانوروں کی کھال کے بنے ہوئے خود ساختہ جوتے بھی استعمال کرتا تھا پھر ترقی کے یہ ادوارزینہ  بہ زینہ سامنے آئے ۔تہذیبوں کے بدلنے کے تسلسل نے خوب سے خوب تر کی تلاش کی جانب انسان کو مائل کیا اور اس کے پہناوے میں بھی جدت آتی گئی بدلتے ادوار میں جانوروں کی کھال سے بنے جوتوں نے مختلف اشکال میں سفر جاری رکھا ۔زمانہ قدیم میں بادشاہوں کا کھسے کااستعمال ملتا ہے۔کھسے سونے اور چاندی کی تاروں سے کڑھائی کرکے بنائے جاتے تھے جبکہ قیمتی جواہرات اور موتیوں کی کڑھائی بھی ان پر کی جاتی تھی ۔

جنوبی ایشیا میں کھسہ ہاتھ سے تیار کردہ جوتے کا ایک انداز ہے جہاں کھسہ کا آغاز سترہویں صدی میں ہوا۔ بر صغیر میں کھسہ کو سب سے پہلے مغل شہنشاہ جہانگیر نے استعمال کیا اور رعایا چونکہ بادشاہ کے پہناوے کو دیکھتے ہوئے رشک کرتی ہے سو شہنشاہ کی دیکھا دیکھی دیگر افراد نے بھی برصغیر میں کھسہ کا استعمال شروع کیا ۔شہنشاہ وقت کیلئے جو کھسے تیار کئے گئے ان میں ہیرے جواہرات کے استعمال کے ساتھ سلور اور گولڈ کے دھاگوں سے بنائی کی گئی اور چونکہ شہنشاہ جہانگیر کا نام انڈیا میں فتح پور سیکری میں قیام پذیر ایک بزرگ سلیم کے نام پر رکھا گیا سو ان کے پہناوے کو بھی سلیم شاہی کا نام دیا گیا برصغیر میں بہاولپوری کھسہ اپنی شان کے حوالے سے ایک علیحدہ اور منفرد شناخت رکھتا ہے یہاں آج بھی عمدہ کھسے کا کام ہوتا ہے۔ نواب آف بہاولپور نواب صادق عباسی اور نواب بہاول نے بھی ہمیشہ اس پہناوے کو ترجیح دی جب اس کی تیاری میں عام دھاگہ استعمال ہوا تو قیمت کے حوالے سے بھی یہ عام آدمی کی دسترس میں آیا۔ کھسہ مختلف اشکال میں تیار ہوتا ہے جس کیلئے زیادہ تر اونٹ ،گائے ،بھینس کا چمڑا استعمال کیا جاتا ہے ۔بہاولپوری کھسہ کی خوبصورتی اچھی کوالٹی کا چمڑا اور ہاتھ سے بنانا ہی کاریگری ہے اسے دیکھتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ انسانی دستکاری کا یہ خوبصورت شاہکار ہے چولستان جو کہ بہاولپور کے ساتھ ایک بڑا صحرائی خطہ ہے کی تہذیب بھی صدیوں پرانی ہے یہاں کی عورتیں اور مرد شادی وغیرہ کی رسوم میں کھسہ کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں عورتیں رنگا رنگ دھاگوں سے کاڑھے اپر کے کھسے استعمال کرتی ہیں جبکہ شہروں میں قیام پذیر نوجوان دوشیزائیں بھی چوڑی دار پاجامے کے ساتھ یہ کھسے پہننا پسند کرتی ہیں۔
ایک وقت تھا کہ بہاولپوری کھسہ برصغیر میں ہی نہیں کرئہ ارض کے دیگرخطوں میں بھی مقبولیت کی انتہائوں پر تھا وقت کی رفتار کا پہیہ اس کی مقبولیت کو کم کرنے سے قاصر رہا آج بھی ہاتھ سے بنا یہ شاہکار ملک بھر اور بیرون ملک انتہائی پسندیدگی سے دیکھا جاتا ہے ریاست بہاولپور دنیا کی امیر ترین ریاستوں میں سے ایک رہی ہے جہاں کھسہ بنانے کی ثقافت زندہ ہے کھسہ کی ایک خاصیت یہ ہے کہ اس میں دایاں بایاں پائوں نہیں ہوتا موچی اس کا سائز اپنی انگلیوں سے بناتا ہے اس حوالے سے جب ہم نے شہزادی چوک میں بیٹھے ایک کاریگر بابا سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ پرانے ادوار میں بڑے زمینداروں کے پاس چڑھاوے کی شکل میں جب ہم کوئی کھسہ لیکر جاتے تو وہ  ہمیں یا تو قیمتی جانور دان کرتا یا کثیر رقم کسی جنس کی شکل میں تحائف سے نوازتا مگر اب اقدار بدل چکی ہیں۔کھسہ کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے تلوے اور اپر وغیرہ ہاتھ سے کاٹے جاتے ہیں اور سلائی کیلئے سوتی دھاگہ جو عورتیں چرخوں پر کاتا کرتی تھیں ،استعمال ہوتا ہے ،اپر پر کشیدہ کاری کیلئے انڈیا سے بنا تلہ استعمال ہوتا تھا اور اپر پر کڑھائی عورتیں بھی کرتی تھیں۔ اپر پر پہلے کاغذ سے بنی ڈیزائننگ کو ’’لیوی نما گوند ‘‘ سے چپکایا جاتا تھا جو تلہ کڑھائی کیلئے استعمال ہوتا تھا وہ تلہ پکے رنگ کا ہوتا تھا مگر اب تلہ میں وہ رنگت نہیں اسی طرح کھسہ کی’’ پچھڑ‘‘پر بھی کڑھائی کی جاتی تھی لکڑی کی دو چپٹیاں جن میں چمڑے کا اپر اور پچھڑ کو پھنسا کر کڑھائی کھسہ بنانے سے قبل کی جاتی ہے۔
سلیم شاہی کھسہ بکری کے چمڑے سے بنایا جاتا ہے اس لئے کھسہ کی کوالٹی کا تعین اعلیٰ قسم کے چمڑے سے ہوتا ہے  بہاولپور میں ناگرہ کھسہ اونٹ کے چمڑے سے بنایا جاتا ہے ،شکار پوری کھسہ بھی بہاولپور میں تیار ہوتا ہے کیونکہ بہاولپور جب ریاست تھی تو یہاں سے ایک شاہراہ شکار پور کو جاتی تھی ’’شکار پوری دروازہ ‘‘اس شاہراہ کا گیٹ وے تھاجو آج بھی ماضی کی تاریخ سمیٹے ہوئے ہے۔ شکار پوری کھسے پر قیمتی چمکیلے دھاگہ سے کڑھائی ہوتی ہے یوں بہاول پوری کھسہ دنیا بھر میں ثقافتی حوالے سے اپنے خطہ کی شناخت کا آئینہ دار ہے۔
نشیبی علاقہ کے گانموں موچی نے اپنے بزرگوں سے کھسہ بنانے کی تربیت لی ۔وہ برس ہا برس سے یہ کام جاری و ساری رکھے ہوئے ہے اس کے بنائے ہوئے کھسے علاقہ کے بڑے زمینداروں کے علاوہ انصاف کے ایوانوں میں بیٹھے منصف تک استعمال کرتے تھے اس کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی زندگی میں ایسے نفیس کھسے تیار کئے چور دیکھتے ہی لئے اڑے۔ بزرگ کہتے ہیں کہ سرگودھا میں بھیرہ کے زگ زیگ جیسے بازار میں بھی کبھی کھسہ بنانے والے کاریگروں کی بہتات تھی۔ کھسہ بنانے والوں کی نفاست کا یہ عالم تھا کہ خریدار وہ کھسہ خرید کرمروڑ کرجیب میں بھی ڈالاجا سکتا تھا۔ وہ جب پائوں میں پہن لیا جاتا تو ایسے معلوم ہوتا جیسے آپ ننگے پائوں چل رہے ہوں عرصہ پہلے بہاولپور کے گلی کوچوں میں کھسہ بنانے والے کاریگر جابجا موجود تھے تاہم ماڈرن ازم ،مہنگائی اور کھسہ کی طلب میں مجموعی طور پر کمی کی وجہ سے دستکاری کے اس فن میں بھی کمی آرہی ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ نئی نسل ہاتھوں سے بنے دیسی کھسے اب اتنا پسند نہیں کرتی ۔
بہاولپور کے فوارہ چوک سے شرقی جانب احمد پوری گیٹ بھی اپنی پوری تاریخ کے ساتھ ایستادہ ہے اس تاریخی دروازہ سے داخل ہوں تو چند قدم آگے چلنے کے بعد چوک شہزادی سے ذرا پہلے دائیں جانب ایک سفید باریش بوڑھا ہاتھوں سے بنے چمڑے کے کھسے تیار کرنے میں مگن نظر آتا ہے جس کے سامنے پتھر کی ایک بہت بڑی سل پڑی ہے جہاں وہ سب سے پہلے عمدہ چمڑے کو پانی میں بھگوتا ہے چند لمحے کے بعد وہ اس چمڑے کو نکال کر پتھر کی بنی سِل پر پھیلا دیتا ہے پھر اس چمڑے کو لکڑی کی ’’مونگلی ‘‘(جو بوتل نما ہوتی ہے )سے کتنی ہی دیر تک کوٹ کوٹ کر پریس کرتا ہے پھر اسے بار بار مولڈ کرکے لکڑی کی چپٹی سے نرم کرتا ہے اس کے بعد وہ اس نرم چمڑے کو لوہے کی تیز دھار ’’رمبی‘‘سے کاٹتا ہے لیکن کاٹنے سے قبل ڈیزائن میں کٹے اپر کی شکل کا ’’فرما‘‘جو گتہ کا بنا ہوتا ہے اس چمڑے پر رکھتا ہے اور اس کے گرد پنسل سے لکیر لگاتا ہے پھر اس کھینچی گئی لکیر پر سے کاٹتا جاتا ہے اس طرح ایک کھسے کے وہ دو اپر تیار کرتا ہے اور اس کے بعد اسی طرح وہ دو تلوے اور پچھڑ کو بھی کاٹتا ہے ایک کھسہ تیار کرنے میں عمواً دو سے تین دن صرف ہوجاتے ہیں لیکن کالو موچی کا اس محنت پر یہ شکوہ ہے کہ ہم لوگ کھسہ تیار کرنے میں جتنی محنت کرتے ہیں اب خریدار اس کا صلہ بھی نہیں دیتے مہنگائی کے اس دور میں ’’سنہری تلہ اور سفید تلہ ‘‘کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے جبکہ چرخہ پر اب عورتیں سوت بھی کاتنے سے گریزاں ہیں اب یہ سوت بھی ہماری عورتیں خود ہی کات کر کھسہ کا دھاگہ تیار کرتی ہیں کھسے کا اپر اور تلوے کو جوڑنے کیلئے سلائی سے پہلے سوت کے اس دھاگے کو موم سے گزارا جاتا ہے بعد ازاں سلائی کی جاتی ہے ۔
عورتوں اور مردوں کے اس پہناوے کی مختلف علاقوں میں مختلف اشکال ہوتی ہیں جھنگ کے علاقہ میں چمڑے سے ہی اپر کی کڑھائی کی جاتی ہے چمڑے کو انتہائی باریک شکل میں کاٹ کر خوبصورت ڈیزائن تیار کیا جاتا ہے پھر انتہائی باریک دھاگے سے جس کو چمڑے کے رنگ میں رنگا جاتا ہے اور اس سے سلائی کہ جاتی ہے لیکن کاریگر کا کمال یہ ہوتا ہے کہ اپر کے اوپر چمڑے کا ڈیزائن ایسے چپکا ہوتا ہے کہ دھاگے کی سلائی معلوم ہی نہیں ہوتی اور اس پر مستہزاد یہ کہ جوتا ٹوٹ جاتا ہے لیکن اپر کی ڈیزائننگ خراب نہیں ہوتی نہ ہی دھاگہ ٹوٹتا ہے اسی طرح بہاولپور میں چولستان کے رہنے والے والے مرد تو سادہ چمڑے کے کھسے استعمال کرتے ہیں جبکہ عورتوں کیلئے جو کھسے تیار کئے جاتے ہیں اس میں اپر پر کئی رنگ دار دھاگوں کا استعمال کیا جاتا ہے جو ان کے کپڑوں کے ساتھ بھی میچ کرجاتا ہے ملتان میں چمڑے کی دستکاری کی ایک قدیم روایت موجود ہے ماضی میں ملتان کے بنے کھسے دہلی ،مہاراشٹر ،کرناٹک اور مشرقی پنجاب تک لوگ خریدتے تھے ملتان کے بعض علاقوں میں موتیوں کی کڑھائی والے کھسے خواتین میں زیادہ مقبول ہیں بعض مرد بھی موتیوں والی کڑھائی کے کھسے استعمال کرتے ہیں اسی طرح تلہ گنگ جو کھسہ کے حوالے سے ایک مشہور علاقہ ہے میں عورتیں اور مرد سنہری رنگ کے تلہ کے تیار کئے ہوئے کھسے پہنتے ہیں شادی بیاہ کی تقریبات یا پھر کسی مخصوص تہوار پر بھی مردو خواتین یہ جوتے استعمال میں لاتے ہیں تلہ گنگ کی ایک معروف روایت جو زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے وہ یہ ہے کہ جو زمیندار کسی کاریگر سے کھسہ بنوانا چاہتا ہے تو پہلے اس کو ایڈوانس میں ایک مخصوص رقم دیکر کھسہ بنوانے کا آڈر دیتا ہے اس رقم کو وہاں کی مقامی زبان میں ’’سائی ‘‘ کہتے ہیں اور جب کوئی کاریگر جب کھسہ بنا لیتا ہے تو اس کو کوئی جانور یا کوئی قیمتی تحفہ دیا جاتا ہے جبکہ بعض کھسہ بنانے والے کاریگر از خود کسی زمیندار کیلئے بغیر بتائے اچانک کھسہ بنا کر لے جاتے ہیں اسے مقامی زبان میں ’’ڈھوآ ‘‘کہا جاتا ہے جس پر پرانے زمیندار اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کوئی قیمتی جانور اس کی نذر کرتے تھے اب یہ رواج بھی دم توڑ رہا ہے ۔
قدیم ثقافت کو اجاگر کرنے میں نہ تو حکومت کی طرف سے حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور نہ ہی معاشی بہتری کیلئے دستکاری کے ہنر کی ہمارے ہاں قدر ہے اس ہنر سے اس وقت غریب طبقہ ہی وابستہ ہے جو پیدائشی طور پر ہنر مند ہے تلہ گنگ ،ملتان ،بہاولپور کے بنے ہوئے کھسے دستکاری کے ایسے شاہکار ہیں کہ انہیں ثقافتی نمائش میں بھی رکھا جائے تو ملکی و غیر ملکی شرکاء کی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں اس پہناوے کو اگر دیگر ممالک کی مارکیٹ میں سیل کیلئے پھیلا دیا جائے تو ملکی معیشت پر ثقافتی پذیرائی کے علاوہ مثبت اثرات مرتب ہوں گے محدود وسائل کے ہنر مند افراد حکومتی سرپرستی میں اس کاروبار کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں اپنی صلاحیت و ہنر کو بروئے کار لاتے ہوئے کھسہ کو خوبصورت انداز میں پیش کرنے والے خاندان کی مالی کفالت کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں مقامی کاریگروں کے تیار کردہ کھسوں کو عالمی منڈی تک رسائی کیلئے مواقع فراہم کرنا ضروری ہیں بہاولپور ،تلہ گنگ ،ملتان کے کاریگروں کے بنائے ہوئے اس پہناوے کی براہ راست ملکی و بین الاقوامی منڈی تک اگر پذیرائی ممکن ہو تو انہیں کام کا صحیح معاوضہ مل سکتا ہے سماجی ترقی میں زمانہ قدیم سے ان کاریگروں کا اہم رول ہے مگر غربت کے سائے میں ان کا ہنر گہنا رہا ہے ۔
 
 
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ریلوے پھاٹک کے شرقی کنارے شفیع جوگی کا مجمع دیکھنے دور دور سے لوگ آتے چھٹی ہوتی تو ایک ہائی سکول کے طلبا بھی وہ سانپ دیکھنے کیلئے بے تاب ہوتے ،جوگی نے مٹی کی ایک چھوٹی سی ڈولی کے منہ پر کپڑا باندھ کر رکھا ہوتا ،    

مزید پڑھیں

 پاکستانی شہری جس کوکبھی پاکستان سے باہر سفر کرنے کا موقع نہیں ملا وہ پردیس رہنے والوں کے حالات زندگی، واقعات اور مسائل سے ہرگز واقف نہیں ہو سکتا،جو افراد سیرو سیاحت کے شعبہ سے بھی منسلک رہے ہوں اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ آج سے ایک یا دو صدی قبل دنیا کا سفر کرنا خواہ وہ سیرو سیاحت کیلئے ہو یا کاروباری نہایت آسان اور پرسکون ہوتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے شہری کو سفری دستاویزات حاصل کرنے اور پھر مخصوص ملک کے سفر کیلئے متعلقہ سفارت خانہ سے سفری اجازت نامہ جس کو آج ویزا کے نام سے جانا جاتا ہے کا پیشگی حصول اس قدر کٹھن نہیں تھا تب مختلف ممالک کے مابین اس قدر سرمایہ کاری کی سرد جنگ برپا نہیں تھی، دہشت گردی کا ایشو نہیں تھا ۔ جب مسلمانوں کو دہشت گردی کے ساتھ نہیں جوڑا گیا تھا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام بھی تقویت پکڑتا گیا، سودی نظام کی دلدل میں پھنسی عالمی معیشت بھی سکڑتی گئی ۔    

مزید پڑھیں

 موجودہ حکومت اپنے نئے کپتان اور پرانے کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اتری تو ظاہر ایسا کیا جارہا تھا کہ اب سب کچھ تبدیل ہوجائے گا اور ایک نیا و خوشحال پاکستان شہریوں کا مقدر ہوگا۔    

مزید پڑھیں