☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) صحت(حکیم نیازاحمد ڈیال) فیشن(طیبہ بخاری ) فیچر(ایم آر ملک) کھیل(منصور علی بیگ) دنیا کی رائے(فرحان شوکت ہنجرا) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) ستاروں کی چال()
تانگہ ،ماضی کی شاہی سواری

تانگہ ،ماضی کی شاہی سواری

تحریر : ایم آر ملک

06-14-2020

  تانگہ کی تاریخ
قدیم سنگی دور کا خاتمہ دس ہزار سال پہلے شروع ہوتا ہے اس دور کا انسان جانور مثلاً بھیڑ ،بکریاں اور گھوڑے وغیرہ پالتا تھا پہیہ بھی اسی دور میں معرض وجود میں آچکا تھا تب پہیہ پہلی بار کسی خاص مقصد کیلئے استعمال ہوا اور دو پہیوں سے چھکڑا بنانے کا کام لیا گیا اس چھکڑے کو گھوڑے اور بیل کھینچتے تھے جو سواری اور بار برداری کیلئے استعمال کیا گیا گھوڑے گاڑی کو تانگہ کا نام دیا گیا جو اشوریوں کے عہدِ حکمرانی میں ایجاد ہوا


زندہ دلوں کے شہر میں تانگہ کا دورِ عروج و زوال
زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب زندہ دلوں کے شہر میں تانگے چلا کرتے تھے مگر وقت کا تیز رفتار پہیہ اتنی رفتار سے چلا کہ تانگے کے پہئے کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ایک دور تھا جب کوچوانوں پر کہانیاں لکھی جاتی تھیں احمد ندیم قاسمی جیسے معروف لکھاری اور شاعر نے بھی اس پر تحریر لکھی شاعر اپنی شاعری میں اور گیت نگار اپنے گانوں میں تانگے کا ذکر ضرور کرتے ۔

ٹانگہ لہور دا ہووے تے بھانویں جھنگ دا
ٹانگے والا خیر منگدا

جیسے گانے آج بھی تانگے سے جڑے ماضی کی یاد دلاتے ہیں لاہور کی رونقیں کم تو نہیں ہوئیں مگر لاہور کے ماضی کے صفحے پر لکھی تحریر جیسے کسی نے کھرچ کر مٹاڈالی۔ لاہور کی شاہراہوں پر چلنے والے تانگوں کی جگہ میٹرو نے لے لی ہے نئی نسل کو ماضی کے ساتھ منسلک کرنے کیلئے البتہ وال سٹی لاہور نے ایک ثقافتی تنظیم کے ساتھ مل کر لاہور کی پہلی اور ماضی کی عوامی سواری کا آغاز کیا ہے وال سٹی کے مطابق یہ تانگے ہفتے میں چار دن مقرر کردہ تین مختلف رستوں پر چل رہے ہیں جن میں ایک سرکلر روڈ ،دوسرا دہلی گیٹ شاہی گزر گاہ اور تیسرا بھاٹی گیٹ کی ٹریل ہے یہ منصوبہ لاہور کی شاموں کو مزید خوبصورت بنانے اور نئی نسل کو ماضی کے ساتھ جوڑنے میں شاندار کردار ادا کر رہی ہے رکشوں کی نسبت تانگوں کی سجاوٹ کم ہے لیکن عوامی حلقوں نے سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تانگہ ہی کو پسند کیا ۔قلمکار ناصف اعوان کے بقول تانگہ لاہور کی پرانی ثقافت کی نشانی تھی جو ماضی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گم ہو گئی ۔ان کے بقول لاہور میں بھاٹی گیٹ اور ریلوے سٹیشن تانگوں کے بڑے اڈے تھے ایک باریک چھڑی جس کے ایک سرے پر رسیاں بندھی ہوتی تھیں چھانٹا کہا جاتا تھا اور اسی چھانٹے سے گھوڑے کو ہانکنے اور ہارن کا کام لیا جاتا تھا تانگے کا پہیہ جو لکڑی کے ڈنڈوں سے بنا ہوتا کوچوان ان ڈنڈوں سے چھانٹاٹچ کرتا اور ٹک ٹک ٹک ٹک کی آواز سے تانگے کے آگے جانیوالا خبردار ہوجاتا تانگوں پر رنگ وروغن ہوتا ،خوش رنگ بیل بوٹے پینٹ ہوتے ،گدیاں درست کی جاتیں ،پیتل کا ساز خوب مل مل کر برش سے چمکایا جاتا ،بتیوں کے شیشے چمکائے جاتے بھلا زمانہ تھا ۔

ایک دور تھا جب تانگہ شاہی سواری ہوا کرتی تھی ماضی میں جھانکیں تو مغلیہ دور میں شہنشاہوں اور شہزادیوں کو لیکر جب بڑی بڑی بگھیاں محل سے نکلتیں تو رستوںپر محو انتظار عوام انہیں حسرت سے دیکھتے تب ادب و ثقافت میں بھی تانگے کا راج تھا لیکن آلودگی کی حدیں پھلانگتے ذرائع آمدورفت نے بھی تانگے کے ماضی کو گہنا دیا لاہور میں دور ِ حاضر کو ہی لیں شہر کے وہ مقامات جہاں تانگے سٹینڈ تھے بند ہوچکے تانگے بانوں کا روز شدید متاثر ہوا اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آنیوالی نسلیں تانگے کا ذکر صرف کتابوں میں پائیں گی ماضی میں بہت سے لوگ جہاں تانگے کو سواری کا ذریعہ سمجھتے تھے وہیں کچھ منچلے موسم سے لطف اندوز ہونے کیلئے بھی شاہی سواری کا استعمال کرتے تھے ۔بڑھتی ہوئی مہنگائی ،پٹرولیم مصنوعات ،گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے جہاں ہر شخص پریشان نظر آتا ہے وہاں اس کا اثر لوگوں کے رہن سہن اور رسم و رواج پر بھی نمایاں طور پر پڑا ہے اس دور کو آج بھی عوام الناس یاد کرتے ہیں جب تانگے کی سواری عام تھی اکیسویں صدی میں جدید دور آیا تانگے کی جگہ رکشے اور گاڑیوں نے لے لی مہنگائی بڑھی تو سرحد کے بہت سے شہروں میں لوگ پرانی سواری کی طرف لوٹنے لگے کوچوان خوش ہیں کہ لوگ ان کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔

غیر ملکی گانوں میں بھی پاکستانی گھوڑے اور تانگے کا ذکر
محمد رفیع کا یہ گانا ایک دور میں بہت مشہور ہوا

ٹانگہ لاہوری میرا ،گھوڑا پشوری میرا
بیٹھو میاں جی بیٹھو لالہ
میں ہوں البیلہ ٹانگے والا

سری نگر وادی کشمیر میں 1880کی دہائی میں جب سیاحوں کی آمدورفت شروع ہوئی تو اس وقت آمدورفت کا واحد ذریعہ شاہی سواری تانگہ ہی تھا کشمیر آنے والے سیاح باضابطہ طور پر تانگوں کی بکنگ کراتے تھے گاڑیوں کے متعارف ہونے سے قبل وادی میں ہزاروں کی تعداد میں تانگے تھے ان تانگوں کیلئے ہر ضلعی اور تحصیل ہیڈ کوارٹر میں سٹینڈ بنے ہوئے تھے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈائون سے قبل تک جن علاقوں میں تانگہ چلنے کی روایت برقرار رہی ان میں شمالی کشمیر کا سوپور ،پٹن وسطی کشمیر کا ماگام کا علاقہ شامل ہے ۔
گلابوں کے شہر پشاور کی شاہرات پر تانگے میں جتے گھوڑے کے سرپٹ دوڑنے کا ذکر پورے برِ صغیر میں ہوا کرتا تھا۔ماضی میں تو یہ روزگار یقینا بہتر تھا لیکن اب 500میں سے آدھی رقم گھوڑے کی خوراک پر صرف ہوجاتی ہے اور باقی رقم سے گھر کا چولہا بمشکل چل پاتا ہے ماضی قریب ہی کو لیں غریب اور متوسط طبقہ کیلئے ملتان شہر میں تانگہ کی سواری کسی نعمت سے کم نہ تھی مگر قدیم شہر میں قدیم ثقافت سے جڑی یہ سواری بھی ایک سراب ہو گئی ۔
راولپنڈی میں اس شاہی سواری کا اپنا مزہ تھا کھلی فضا میں جب تانگہ شاہرات پر رواں دواں ہوتا تو دیکھنے والے کی آنکھوں کو یہ منظر خیرہ کردیتا تانگے میں جتا گھوڑا اپنے پائوں سڑک کی تال سے ملاکر دھن بجاتا تو یہ آواز کانوں کو بڑی بھلی محسوس ہوتی راولپنڈی کی خاصیت یہ ہے کہ تانگہ بنانے والے کاریگر آج بھی ماضی کی اس سواری کو زندہ رکھنے کیلئے اس کام میں مصروف ہیں مگر یہ تانگے اب شاہرات پر دوڑنے کیلئے نہیں بلکہ شوقین حضرات اور بڑے زمیندار اپنی ثقافت کو زندہ رکھنے کیلئے خصوصی طور پر آڈر دیکر تیار کراتے ہیں تانگہ کی تیاری بھی کاریگری کا یک شاہکار ہے جس کی سجاوٹ منفرد اور انتہائی جاذب نظر ہوتی ہے پیتل کی بڑی بڑی پلیٹوں پر کڑھائی کر کے کیل میخوں کے ساتھ اس لکڑی پر لگائی جاتی ہیں جبکہ سیٹوں پر انتہائی خوبصورت پوشش کی جاتی ہے اس کے علاوہ مختلف رنگوں سے بیل بوٹے بناکر چار چاند لگائے جاتے ہیں محمد صدیق جو اسی کام سے منسلک ہے یوں شکوہ کناں ہے کہ اب نئی نسل میں سے کوئی بھی یہ کام سیکھنے کیلئے تیار نہیں لوگوں کا کہنا ہے یہ بیکار کام ہے جسے روزگار نہیں کہا جاسکتا ورنہ ہم تو یہ کام اساتذہ سے سیکھا کرتے تھے۔
فیصل آباد کبھی لائل پور ہوا کرتا تھا لاری اڈہ سے مقامی مسافروں کو لیکر نکلتے تانگوں کے کوچوان کے ’’مائی دی جھگی ’’بولے دی جھگی ‘‘ریل بازار ،گھنٹہ گھر جیسے الفاظ سماعت کو بھلے لگتے اس شہر میں قریبی علاقوں برج برنالہ ،سمندری وغیرہ سے خریداری کیلئے سپیشل تانگہ پر اس شہر میں آتے بانگے چک کے معروف زمیندار عبیداللہ چیمہ بھی اپنے لئے بطور خاص بنوائے تانگے پر اس شہر میں آیا کرتا مگر اس شہر میں بھی وقت بدلا تو آٹو رکشوں نے اس قدیم اور ثقافتی سواری کو نگل لیا ۔

روشنیوں کے شہر کی شاہراہوں پر جب تانگے کا راج تھا
روشنیوں کے شہر میں اس سواری کا تسلسل 80کے عشرے میں ٹوٹا جبکہ 1975تک اس شہر میں ٹرام بھی چلتی تھی بہار کالونی سے سے گیارہ نمبر بس چلا کرتی تھی مگر عوام تانگہ پر ’’لی مارکیٹ ‘‘جایا کرتے یہ تانگے رانگی واڑہ اور چاکی واڑہ سے گزر کر جاتے شہر قائد کی شاہراہ پر ملکہ وکٹوریہ نے بھی بگھی میں سفر کیا بگھی کو ملکہ وکٹوریہ کی سواری کہا جاتا ہے بگھی نسبتاًہموار اور پرسکون سواری تھی اس میں سواریاں آمنے سامنے بیٹھا کرتیں اور گپ شپ لگاتیں کلفٹن ،فریر ہال اور صدر جانے والے اکثر افراد بگھی پر سواری کرتے کراچی میں ماضی کی آنکھ نے یہ منظر بھی دیکھا جب تانگے پر ایمپلی فائر ،مائیک اور سپیکر رکھ یہ آواز کراچی کے گلی کوچوں میں سماعت سے ٹکرائی ’’حضرات ایک اعلان سنیئے متحدہ محاذ کی صدارتی امیدوار مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اتوار پچیس نومبر کو شام پانچ بجے پٹیل پارک میں ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب فرمائیں گی جلسے سے نوابزادہ نصراللہ خان ،چوہدری محمد علی اور ظہیر الحسنین لاری بھی خطاب فرمائیں گے ‘‘یہ تانگہ جہاں کہیں جاتا بچوں کا غول ساتھ ہوتا تھا اور مزے کی بات یہ ہے کہ جن دنوں روشنیوں کے شہر میں تانگے چلا کرتے تھے ان دنوں شہر کی سڑکیں روزانہ دھلا کرتی تھیں۔

سانگھڑ سندھ میں جب 400تانگے شاہراہوں
پر رواں دواں تھے
ماضی قریب ہی کی تو بات ہے جب سندھ کے ضلع سانگھڑ میں 400تانگے چلا کرتے تھے ان میں اب صرف چار باقی رہ گئے ہیں ان تانگوں پر حیدر آباد چوک سے ڈی سی آفس تک لوگ سفر کرتے جو چار تانگے باقی ہیں ان میں ایک تانگہ خمیسو مری کا ہے خمیسو مری 40برسوں سے تانگہ چلا رہا ہے تانگے کے زوال کے بارے میں خمیسو کی منطق تانگے کے پرزے نہ ملنا ہیں اس کا کہنا ہے کہ جب تانگوں کی بھر مار تھی تو ہم تانگوں کے پرزے لینے سکھر اور گھوٹکی جایا کرتے تھے سارا دن تانگہ چلا کر وہ بمشکل 400سے600روپے کماپاتاہے مگر اس کے نزدیک تانگہ سندھ کی ثقافت ہے اور جب تک زندگی ہے وہ یہ ثقافت زندہ رکھے گا۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  1874میں ہیروئن کو پہلی بار ایک یورپی دوا ساز کمپنی نے کھانسی سینے میں درد ،نمونیہ اور تپ دق کی دوا بنا کر فروخت کیا

مزید پڑھیں

 ’’پہناوا ‘‘خواہ بدن کا ہو یا پیروں کا،شروع سے ہی انسان کی ضرورت رہا ہے۔ مختلف تہذیبوں کے زیر اثر انسان نے اب تک جو عرصہ گزارا ہے اس کا99 فیصد حصہ ’’سنگی دور‘‘ پر مشتمل ہے ۔    

مزید پڑھیں

ریلوے پھاٹک کے شرقی کنارے شفیع جوگی کا مجمع دیکھنے دور دور سے لوگ آتے چھٹی ہوتی تو ایک ہائی سکول کے طلبا بھی وہ سانپ دیکھنے کیلئے بے تاب ہوتے ،جوگی نے مٹی کی ایک چھوٹی سی ڈولی کے منہ پر کپڑا باندھ کر رکھا ہوتا ،    

مزید پڑھیں