☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(عبدالمجید چٹھہ) عالمی امور(صہیب مرغوب) فیشن(طیبہ بخاری ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خواتین(نجف زہرا تقوی) رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) فیچر(ایم آر ملک)
موت کے سوداگروں پر ہاتھ کون ڈالے گا ؟

موت کے سوداگروں پر ہاتھ کون ڈالے گا ؟

تحریر : ایم آر ملک

06-28-2020

  1874میں ہیروئن کو پہلی بار ایک یورپی دوا ساز کمپنی نے کھانسی
سینے میں درد ،نمونیہ اور تپ دق کی دوا بنا کر فروخت کیا

 26جون منشیات کا عالمی دن ہے مگر ’’ان دیکھی ‘‘ موت کے پنجوں میں محصور 1کروڑ12لاکھ افراد دن میں134کروڑ روپے کا 9 سو من ’’سفید زہر‘‘ اپنی رگوں میں اتار رہے ہیں ۔
منشیات ایک ایسا موضوع ہے جس پر بہت کچھ لکھاجا چکا ہے لیکن اس موضوع کی تشنہ لبی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے منشیات کے زمرے میں آنے والے مخصوص فعلیاتی مرکب ہیروئن کی مہلک وبا نے آج اقوام عالم کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور جس کربناک صورت حال سے آج کرہ ارض کے انسان دو چار ہیں وہ ایک لمحہ فکریہ ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس زہر کا خمیر کہاں سے اُٹھا کہ آج مغربی اجارہ دار امریکہ کی نظروں میں معتوب افغانستان اور پاکستان ہے اس پس منظر کو سمجھنے کیلئے ہمیں بہت پیچھے جانا پڑے گا ۔
ہیروئن ایک جرمن لفظ (Heroisch)سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے انتہائی طاقتور یہ ایک نیم قدرتی شے ہے جسے مارفین سے حاصل کیا جاتا ہے ہیروئن کی تیاری کیلئے مارفین کو ایسٹک ایسڈ سے ایکسپوز کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں مارفین کے کیمیائی ڈھانچہ میں تبدیلی واقع ہو جاتی ہے جس میں فینائل اور الکوحل کے او ایچ گروپس کی ایسی تیشن شامل ہے۔
آج سے چھ ہزار سال قبل کے زمانے میں بھی افیون کے استعمال کا پتہ چلتا ہے افیون سے تیار کردہ ادویات کے متعلق جو نظریہ آج پایا جاتا ہے ایسا اُنیسویں صدی میں نہیں تھا ۔گزشتہ صدی میں عورتوں کو جو درد شقیقہ ،بے خوابی ،ہسٹیریا ،سر کو بخارات کا چڑھنا اور اعصابی تکالیف میں مبتلا تھیں ،ڈاکٹرز نے افیون سے تیار کردہ ادویات کا بے تحاشا استعمال کروایا جس سے مریضہ نشہ آور ادویات کی عادی ہوتی چلی گئیں۔ صدی کے اختتام تک صرف سان فرانسسکو میں ایک سروے کے مطابق وہاں نشے کی عادی سفید فام عورتوں کی تعداد سیاہ فام عورتوں کی نسبت زیادہ تھی ۔ مارفین عام افیون سے حاصل کی جاتی ہے مارفین افیون کا سب سے اہم اور بڑا الکلائیڈ ہے جو اس کے دس فیصد بلحاظ وزن ہوتا ہے خام مارفین کو اُنیسویں صدی میں یورپ میں بے شمار پیٹنٹ ادویات میں استعما ل کیا جاتا رہا ،ان میں آئرز چیری پیکٹورال ،جینز ایکسپیکٹورنٹ ،سوتھنگ سیرپ وغیرہ خاصے مشہور تھے مارفین کو 1805میں فریڈرک سرٹر نر ایک جرمن ادویہ ساز نے الگ کیا۔ 1950میں زیر جلد پچکاری کی دریافت سے اس کا ایک نیا طریقہ استعمال مہیا ہو گیا چنانچہ خون میں مارفین کے براہ راست ٹیکے درد کے خاتمے کیلئے انتہائی موثر ثابت ہوئے تاہم اس نے علت یا عادی بنانے کا شدید مسئلہ پیدا کر دیا یوں تقریباََ نصف صدی گزر جانے کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ اس میں نشہ پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جس پر قدرے تشویش کا اظہا کیا گیا لیکن اس وقت تک پانی سر سے گزر چکا تھا ۔یاد رہے کہ امریکہ کی اپنی جنگ کے دوران وسیع پیمانے پر جنگ سے آنے والے زخمیوں کے ہر زخم کے درد سے آرام کیلئے استعمال ہوئی اس کا ایک ضمنی اثر قبض بھی ہے چنانچہ فوجیوں نے اسے پیچش کے علاج کیلئے بھی استعمال کیا اور لاکھوں فوجی مارفین کے عادی ہو گئے۔ مارفین اور دیگر نارکوٹکس کے کنٹرول کیلئے قوانین تو بنائے گئے ہیں لیکن ابھی تک نسخہ پر سخت درد سے نجات کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کے استعمال سے کاہلی ،کومہ ،غنودگی ،کنفیوژن ،جنونی بشاشت ،سردرد ،قبض اور نظام تنفس کی خرابی پیدا ہوتی ہے اگر اسے مقررہ مقدار سے زیادہ اور مقررہ مدت سے زیادہ دیر تک لیا جائے تو یہ انسان کو اپنا مستقل عادی بنا لیتی ہے بہر حال بہتر سے بہتر کی تلاش میں مارفین سے بھی بہتر دوا کی تلاش جاری رہی اور اس طرح 1874میں ہیروئن کو پہلی بار ایک مکمل دوا کے طور پر یورپ کی ایک کمپنی نے مارکیٹ میں متعارف کرایا اس کے متعلق کہا گیا کہ یہ کھانسی ،چھاتی کے درد ،نمونیہ اور تپ دق میں انتہائی موثر ہے یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ہیروئن نظام تنفس پر مارفین کی نسبت زیادہ طاقتور اثر رکھتی ہے وجہ یہ بیان کی گئی کہ ہیروئن مارفین سے زیادہ زود اثر ہے اور مزید براں اس کے جان لیوا اثرات صفر کے برابر ہیں اُس وقت یہ اعلان بھی کیا گیا کہ ہیروئن زیادہ موثر کم نقصان دہ ہونے کے ساتھ ساتھ نشے کی عادت پیدا نہیں کرتی لیکن اس کے سات سال بعد ہی اس کے اثرات کے خلاف پہلی آواز بلند ہوئی یہ تمام کارروائی ظاہر ہے یورپ میں ہوئی اور بالآخر مغرب ہی کے ایک دوا ساز ادارے نے بنی نوع انسان کو ہیروئن کی شکل میں ایک تحفہ دیا جس کو ہم آج بھی ضرر جان بنائے ہوئے ہیں ۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد 1960کی دہائی تک ہانگ کانگ اور مار سلز دنیائے عالم کیلئے ہیروئن ریفائرنگ مراکز کے طور پر کام کرتے رہے ہیں ،اس وقت تک ہیروئن تیار کرنے کا تمام کاروبار یورپی ممالک کے قبضے میں تھا لیکن جب جنوب مشرقی ایشیا کی سنہری مثلث جس میں برما ،تھائی لینڈ اور لائوس شامل ہیں اور جنوب مغربی ایشیا کا ہلال جس میں ایران ،پاکستان اور افغانستان شامل ہیں میں جدید لیبارٹریاں قائم ہوئیں اور ہیروئن بننے لگی۔ہیروئن کا فعلیاتی عمل مارفین جیسا ہے فرق صرف یہ ہے کہ یہ جنونی بشاشت اور سرورو ترنگ کے احساس کو زیادہ دیر تک قائم رکھتی ہے ہیروئن دراصل ٹرائی السٹائل مارفین ہے۔نارکوٹکس خصوصاً ہیروئن کی علت (addiction)کے تین اہم اجزاء ہیں جن میں جذباتی انحصار ،جسمانی انحصار برداشت شامل ہیں۔
نفسیاتی انحصار اس بات سے عیاں ہے کہ اس کے عادی کو دوا کیلئے ناقابل کنٹرول خواہش محسوس ہوتی ہے جبکہ جسمانی انحصار اس کے استعمال نہ کر سکنے پر شدید دورے اور کھنچائو کا محسوس ہونا ہے کیونکہ جسمانی خلیئے دوا کے عادی ہو جاتے ہیں اور اس کی عدم موجودگی میں صحیح کام نہیں کر سکتے تیسرا عنصر برداشت کا ہے جوں جوں عادت بڑھتی جاتی ہے نشہ طاری کرنے کیلئے دوا کی مقدار بھی زیادہ ہوتی جاتی ہے ہیروئن سے پیدا شدہ اموات زیادہ خوراک کا نتیجہ ہوتی ہیں وطن عزیز میں لاکھوں افراد کی تعداد اب کروڑوں تک پہنچ چکی ہے اور ہیروئن کی لعنت کی بدولت وہ اپنی زندگی قسطوں میں موت کے حوالے کر رہے ہیں خاندان کے خاندان اس موذی مرض میں مبتلا ہیں ایک سروے کے مطابق ایک کروڑ بارہ لاکھ افراد روزانہ تقریباًایک ارب چوبیس کروڑ کا نومن زہر اپنی رگوں میں اُتارتے ہیں کئی گھروں میں نوجوان میاں بیوی اس عادت کا شکار ہیں سب سے عبرت ناک پہلو یہ ہے کہ نوے فیصد ہماری نوجوان نسل ہے دوسرا وہ طلبا و طالبات ہیں جو اس زہرِ قاتل کو ایک فیشن سمجھ کر استعمال کرتے ہیں 1997میں میانوالی میں دو طالبات ہیروئن پیتی ہوئی پکڑی گئی تھیں اور ایسا اس لئے ہو اکہ میانوالی منشیات کا گیٹ وے ہے ۔
ڈائریکٹر جنرل انٹی نارکوٹیکس کنٹرول فورس میجر جنرل محمد عارف کی زیر نگرانی کام کرنے والی فورس نے ایسے بااثر افراد پر ہاتھ ڈالا جن کو سیاست دانوں کی پشت پناہی حاصل تھی ۔ان کا موقف ہے کہ نوجوان کسی بھی قوم کے کھیون ہار ہوتے ہیں اور کسی قوم کی پہچان بھی اُس کی نوجوان نسل کے کردار سے ہوتی ہے اگر کسی قوم کو تباہی کے دہانے پر پہنچانا مقصود ہو تو پہلا وار اُس کی نوجوان نسل کے اخلاق پر کیا جاتا ہے کیونکہ اگر کسی قوم کے دفاعی قلعے مسمار ہو جائی تو اُس کی تعمیر دوبارہ ممکن ہے لیکن اگر کسی قوم کی نسل ِ نو کے اخلاق پر ہونے والے وار کا گھائو کبھی نہیں بھر پاتا اور کائنات کی کوئی طاقت اُس قوم کو بلند و بالا نہیں کر سکتی ہم نے 100میٹرک ٹن یعنی 5ہزار ملین ڈالر سے زیادہ کی منشیات پکڑی اور اسے جلایا بدقسمتی یہ ہے کہ یہ فورس جب جانگسل تگ و دو کے بعد معاشرتی دشمنوں پر ہاتھ ڈال کر سلاخوں کے پیچھے دھکیلتی ہے تو عدالتوں سے یہ منشیات فروش وکٹری کا نشان بنا کر رہا ہوجاتے ہیں ۔
ہیروئین کے زہر سے ہماری نوجوان نسل کو ایک منظم سازش کے تحت تباہ برباد کیا جارہا ہے اس لعنت نے جہاں نوجوان نسل کو تباہی کے کنارے لاکھڑا کیا ہے وہاں اس گھنائونے کاروبار کے نتیجہ میں دولت سمٹ کر ایک نو دولتیئے طبقہ کے ہاتھ میں جمع ہو رہی ہے جو دولت کے نشہ میں انسانی جانوں کو قسطوں میں موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں جبکہ ہماری پولیس اکثر منشیات فروشوں کی شراکت دار ہے جانتے بوجھتے ہوئے بھی موت کے سوداگروں پر ہاتھ ڈالنے سے قاصر نظر آتی ہے دوسرے ممالک میں ہیروئن فروشوں کیلئے سخت ترین سزائیں ہیں مگر ہمارے ملک میں ایسا نہیں 1997میں مسلمان ملک سعودی عرب میں ایک ہی خاندان کے تیرہ افراد کے سر قلم کیئے جا رہے تھے ان تیرہ افراد میں پانچ بچے بھی شامل تھے جن کی عمریں پانچ سے گیارہ سال تھیں چوہدری شجاعت حسین جو اُس وقت وزیر داخلہ تھے کی درخواست پر اُن کی رہائی ممکن ہو سکی۔ انسانیت کی تڑپ رکھنے والے انسان کیلئے یہ بات کسی سانحے سے کم نہیں بچوں کے والدین تو قابل سزا ہوں گے لیکن گیارہ سے پانچ سال کی عمر تک کے بچوں کو بھلا اس زہر کے بارے میں کیا علم ہو سکتا ہے ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ یہ ناجائز کاروبار کرنے والے اس قدر بااثر ہیں کہ ناجائز اسلحہ کی تقسیم پر بھی اُن کا کنٹرول ہے ۔
ہماری نوجوان نسل کے مکمل مفلوج ہونے کا خطرہ ہے منشیات کی کمائی سے جو متوازی معیشت کا نظام چل رہا ہے اُس نے قومی اقتصادیات کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے موجودہ حکومت جہاں دیگر خرافات کے خاتمے کیلئے میدان میں آئی ہے وہاں منشیات کا کاروبار کرنے والوں پر ہاتھ ڈالنے کی اشد ضرورت ہے اور اس جرم کی اُنہیں کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہماری آئندہ نسلیں ذہنی اور تخلیقی قوتوں سے عاری ہو کر رہ جائیں گی ۔
19 برس قبل منگل 6فروری2001 جب ایک تعلیمی ادارے میں دو طالبات ہیروئین پیتی پکڑی گئیں ،تب یہ واقعہ وطن عزیز میں حیران کن تھا ۔آج وطن عزیز میں نظر آنے والے مناظر کا خوف آنکھیں بند کر دیتا ہے ،مستقبل کے معمار جون کی چلچلاتی دھوپ سے بے پرواہ زہر پئے جارہے ہیں ۔چولہے پر روٹی پکاتی مائیں چپکے چپکے روتی ہیں ۔سفید زہر اپنی رگوں میں اتارنے والے گلی گلی کاغذ، پلاسٹک ، لوہا چنتے ہیں ۔بسوں ،پارکوں، ہوٹلوں اوربازاروں میں روپیہ ،روپیہ بھیک مانگتے ہیں ۔بازو جلا کر علاج کے بہانے قسمیں اٹھا اٹھا کر روتے ہیں ان کی آنکھیں اور گال گڑھے ہیں ،لباس تن ڈھاپننے کی بجائے گالی بن چکا ہے ۔
لیکن! مستقبل کے معماروں کو ان باتوں سے کوئی غرض نہیں ان کا مقصد تو دو چار روپے بنانا ہے ۔وہ پھر کسی ویران گوشے سے اک پوڈر کی پڑیا خریدتے ہیں ہیروئین کا سگریٹ سلگتا ہے دواور دوچار کا دائرہ بنتا ہے کش دو کش دھواں ،سگریٹ اگلے ہاتھ میں چلا جاتا ہے ۔ان کا کوئی وطن نہیں نشے کے خمار نے انہیں وطن، زبان، تعلیم اور انسانیت سے دور کردیا ہے۔ ہیروئین کی مجبوری نے انہیں وقتی طور پر اکٹھا کیا۔بہنوں کی تعلیم اور شگن کیا ہوتے ہیں اِس سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔دن بھر بات بے بات گالیاں سنتے ہیں شام ڈھلے کسی گندگی کے ڈھیر پر ڈیرہ لگاتے ہیں ۔ہیروئین بھر بھر سگریٹ پیتے ہیں اور ستاروں کی طرف دیکھے بغیر سو جاتے ہیں ۔اگلی صبح پھر وہی سلسلہ چلتا ہے مستقبل کے معمار چلتے چلتے کسی گاڑی سے ٹھوکر کھا کر گرتے ہیں کوئی ہاتھ انہیں اٹھانے کو آگے نہیں بڑھتا۔کوئی آنکھ انہیں لہو لہان دیکھ کر نم نہیں ہوتی یہ خود مرتے ہیں اور خود ہی مرتے مرتے جی اٹھتے ہیں ۔
پھر ایسا ہوتا ہے کہ!
یہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر ہی سوئے سوئے بے سانس ہوجاتے ہیں کئی دن انہیں کوئی جگانے نہیں آتا۔مکھیاں ان کے ناک اور ہونٹوں پر بے فکر ہو کر بھنبھناتی ہیں ۔
کسی دوپہر!
جب کسی ممتا کے بھولے ،رمضو، بشیرے، پپو، نومی کی بدبو نا قابل برداشت ہو جاتی ہے تو کسی خیراتی ادارے کو اطلاع کر دی جاتی ہے ۔
کوئی ایمبو لینس یہ بوجھ اٹھاتی ہے ۔
کہاں کا جنازہ، کہاں کی قبر، یہی ہوتا ہے کہ کسی میڈیکل کالج کے سٹوڈنٹ مختلف اعضاء بانٹ کر تجربات کرتے ہیں ۔ اک انسان خاک ہوجاتا ہے جسے ماں باپ نے منتیں ، مرادیں مان مان مانگا تھا
ماں جب کبھی اپنے رمضو ، بشیرے کو یاد کرتی ہے تو رو رو سودائی ہو جاتی ہے ۔
اس سیاہ بخت کی بہن ، عاشی، روبی جب سکھیوں میں بیٹھتی ہے باتوں باتوں میں بھائی کا نام سنتی ہے تو چوڑیاں ، مہندی، گڑیا چولہے میں پھینک دیتی ہے ۔
اور!
جب موت کے سودا گروں کو اپنے اک گاہک کے موت کی خبر ملتی ہے تو ان پر کوئی اثر نہیں ہوتاوہ کالجوں میں نئے شکار تلاشتے ہیں ۔
26جون کا دن یہ سوچ لے کر آیا کہ اس جان لیوا کھیل سے حاصل کیا ہوتا ہے ۔کیا ایسا ممکن نہیں کہ ہم جب کسی معمار وطن کو سفید زہر کی طرف بڑھتا دیکھیں تو اسے روک لیں !

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  تانگہ کی تاریخ قدیم سنگی دور کا خاتمہ دس ہزار سال پہلے شروع ہوتا ہے اس دور کا انسان جانور مثلاً بھیڑ ،بکریاں اور گھوڑے وغیرہ پالتا تھا پہیہ بھی اسی دور میں معرض وجود میں آچکا تھا تب پہیہ پہلی بار کسی خاص مقصد کیلئے استعمال ہوا اور دو پہیوں سے چھکڑا بنانے کا کام لیا گیا اس چھکڑے کو گھوڑے اور بیل کھینچتے تھے جو سواری اور بار برداری کیلئے استعمال کیا گیا گھوڑے گاڑی کو تانگہ کا نام دیا گیا جو اشوریوں کے عہدِ حکمرانی میں ایجاد ہوا

مزید پڑھیں

 ’’پہناوا ‘‘خواہ بدن کا ہو یا پیروں کا،شروع سے ہی انسان کی ضرورت رہا ہے۔ مختلف تہذیبوں کے زیر اثر انسان نے اب تک جو عرصہ گزارا ہے اس کا99 فیصد حصہ ’’سنگی دور‘‘ پر مشتمل ہے ۔    

مزید پڑھیں

ریلوے پھاٹک کے شرقی کنارے شفیع جوگی کا مجمع دیکھنے دور دور سے لوگ آتے چھٹی ہوتی تو ایک ہائی سکول کے طلبا بھی وہ سانپ دیکھنے کیلئے بے تاب ہوتے ،جوگی نے مٹی کی ایک چھوٹی سی ڈولی کے منہ پر کپڑا باندھ کر رکھا ہوتا ،    

مزید پڑھیں