☰  
× صفحۂ اول (current) عالمی امور سنڈے سپیشل کھیل کچن کی دنیا خواتین فیشن فیچر متفرق دین و دنیا ادب کیرئر پلاننگ
کم سنی کی شادیاں ۔۔۔۔

کم سنی کی شادیاں ۔۔۔۔

تحریر : طاہر اصغر

06-09-2019

وہ بچپن کے دن جب ایک کم سن لڑکی گڑیوں سے کھیل رہی تھی،کھلونے اکھٹے کرتی تھی،اور چھوٹے چھوٹے گھروندے بناتی ہے ، اس کے ہاتھوں سے گڑیاچھین کے شادی کے بندھن سے کیونکر باندھ دیا جاتا ہے ۔۔۔کم سن بچیوںکو بھیڑبکریوں کی طرح ہانک کے شادی کے نام پرایک عمر رسیدہ شخص کو سونپ دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ایسی ہی خاتون اپنی کہانی سناتی ہے ۔

’’میری شادی 14 سال کی عمر میں کروائی گئی تھی۔ جب 15 سال کی ہوئی تو ماں بن گئی۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کس طرح بچے کو سنبھالوں۔ وہ دن تو ہمارے پڑھنے اور کھیلنے کودنے کے تھے، لیکن میں ماں بن چکی تھی‘۔ یہ کہانی خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والی عائشہ حسن کی ہے جو اب 48 سال کی ہیں۔پشاور میں رہائش پذیر عائشہ ایک سرکاری دفتر میں ملازمت کرتی ہیں ۔انہیں اب اندازہ ہوا ہے کہ ان کے خاندان نے چھوٹی عمر میں ان کی شادی کروا کے ان کے ساتھ کتنی ناانصافی کی تھی۔انھوں نے بتایا کہ بیاہ سے پہلے ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ شادی کس سے ہورہی ہے، نہ ہی انھوں نے لڑکے کو دیکھا تھا۔ ’اس وقت ایسا کوئی رواج تھا ہی نہیں کہ لڑکی پہلے لڑکے کو دیکھ لے اور لڑکی کے مشورہ سے شادی ہو سکے‘۔تب دل بہت خفا تھا اور چھوٹی عمر میں اپنے والدین سے دور ساس کے گھر میں زندگی گزارنا بہت مشکل تھا۔ بچہ رات کو روتا تھا تو میں سوتی رہ جاتی کیونکہ میری آنکھ نہیں کھلتی تھی۔ بہت مشکل وقت تھا اور اب بھی وہ وقت یاد کر کے پریشان ہو جاتی ہوں۔میں بالکل اکیلی ہو گئی تھی۔ شوہر جیسا بھی ہو، جیون ساتھی ہوتا ہے۔ خصوصاً ہمارے معاشرے میں بچوں کے سر کا سایہ بھی وہی ہوتا ہے۔‘‘

پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کے مطابق خیبر پختونخوا میں 15 فیصد لڑکیاں 15 سے 19 سال کے درمیان ماں بن جاتی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں یہ تناسب باقی صوبوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔پنجاب میں یہ چھ فیصد، سندھ میں 10 فیصد، اسلام آباد میں پانچ فیصد، بلوچستان میں 12 فیصد اور قبائلی علاقوں میں یہ شرح 13 فیصد ہے۔اس وقت مجھے بہت حیرت ہوئی تھی جب کندھ کوٹ کایک گائوں میں ایک کم عمر شادی شدہ جوڑے نے جلدی شادی کی وجہ پوچھنے پر بتایا کہ فصل کی کٹائی کے لئے ایک فرد کا اضافہ ہوگیا ،اور وہ مزدوری بچ گئی۔ پاکستان میں اب بھی سب سے زیادہ جبری اور کم عمری کی شادیاں سندھ ، بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات میں ہوتی ہیں۔ڈاکٹروں کے مطابق وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کا وزن بہت کم ہوتا ہے اور ایسے بچوں کے زندہ رہنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔طبی ماہرین کا خیال ہے کہ کم عمری میں ماں بننا زچہ اور بچہ دونوں کی صحت پر بری طرح اثرانداز ہوتا ہے۔پشاور کی ڈاکٹر ملیحہ نثار نے بتایا کہ کم عمری میں ماں بننے کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں میں سب سے خطرناک بچے کا وقت سے پہلے پیدا ہونا ہے۔ان کے مطابق وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کا وزن بہت کم ہوتا ہے اور ایسے بچوں کے زندہ رہنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔’دوسری پیچیدگی خون کے دباؤ کا بڑھنا اور دوران زچگی زیادہ خون نکلنا ہے۔ اس سے ماں کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ کم عمری میں دوران حمل مردہ بچے بھی پیدا ہوتے ہیں اور مس کیریج کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔‘

پاکستان مختلف قومیتوں، مذہب، ذاتوں، رنگ و نسل پر مشتمل آبادی والا ملک ہے۔ ہر علاقے، قوم، مذہب اور ذات کے الگ الگ رسم و رواج ہیں، یہ رسم و رواج جہاں اِن علاقوں یا اِن کے رہنے وانوں کی پہچان ہیں وہیں دوسری طرف یہ ہماری تہذیب کئی خوبصورتی بھی بڑھاتے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ کچھ رسم و رواج جتنے پرانے اور پختہ ہیں اتنے ہی نقصان دہ بھی، اِن پر عمل پیرا ہونا اِن لوگوں کے لئے باعثِ اذیت اور تباہی ہیں جن پر یہ مسلط کیے جاتے ہیں۔انہی پرانے اور منفی رسم و رواج میں میں سے ایک کم عمری میں کرائی جانے والی شادی ہے سندھ بلوچستان خاص طور پر اِس رسم کی لپیٹ میں ہیں اور کتنی ہی زندگیاں کم عمری کی شادی سے ہونے والے نقصانات کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ 2017 میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 16 سال سے کم عمر میں شادی کرائے جانے والے بچوں کی تعداد 7.3 ملین (% 6.0 ) اور 18 سال سے کم عمر میں شادی کرائے جانے والے بچوں کی تعداد 15.5 ملین (% 12.6 ) ہے جن میں زیادہ تعداد اْن بچیوں کی ہے جو اپنے خاندان کے کسی نہ کسی مرد کے کیے ہوئے کسی جرم کی پاداش میں ہرجانے کے طور اس سزا کے لئے منتخب کی جاتی ہیں یا اْن کی شادی کروانے کے لئے بدلے میں دی جاتی ہیں۔ تنازعات جن کا نتیجہ کبھی طلاق اور کبھی قتل یا خودکشی نکلتا ہے۔

کسی بھی قبائلی نظام میں لڑکیوں کی تعلیم کو اتنا ضروری نہیں سمجھا جاتا اور اگر انہیں اسکول میں داخل کروا بھی دیا جائے تو پرائمری کے بعد آگے مڈل اسکول میں داخلہ دلوانے کے بجائے شادی کروادی جاتی ہے۔ پاکستان کی آبادی کا 57فیصدحصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے پر المیہ یہ ہے کہ ہر سال کیے گئے مختلف سروے اپنی جو رپورٹ پیش کرتے ہیں اس میں ہمیشہ پاکستان میں لٹریسی ریٹ کم ہی ہوا ہے ،خاص طور پر صوبہ سندھ میں جس کا ایک بڑا سبب کم عمری کی شادی ہے۔کم عمری کی شادی کی وجہ سے جہاں تعلیم کی شرح کم ہوئی ہے وہیں خواتین میں صحت سے متعلقہ مسائل میں اضافہ ہوا ہے صحت کے لئے ملنے والی سہولتیں ویسے ہی اتنی ناقص اور ناکارہ ہیں جو ایک بالغ عورت کی زندگی کے لئے خطرہ بن سکتی ہیں اس صورتحال میں وہ بچی جو پہلے ہی متاثر ہو آپس کی صحت کو کیسے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

کم عمری کی شادی میں صرف ان بچیوں کی صحت تباہ ہو رہی ہے۔ بچوں کی زیادتی ، غربت ، پرورش ، تعلیم کے مسائل اتنی آسانی سے کہاں نظر انداز کئے جاسکتے ہیں؟ ان بچیوں کے لئے سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ ان کی بچپن کی شادیوں نے ان سے ان کا بچپن ہی چھین لیا ہے۔ وہ سارے سپنے جو وہ اپنی آنکھوں میں چھپائے پھرتی تھیں ان کو مسخ کر دیا ہے ، ہم سب اتنی آسانی سے بری الزمہ تو نہیں ہو سکتے نا؟جدید دور میں تو نفسیات دان یہی کہتے ہیں کہ شادی ایک ایسا فیصلہ ہے جو نہایت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے اور یہ بات نارمل شادیوں کے لئے کی جاتی ہے جہاں ایجاب و قبول کو اہمیت دی جاتی ہے، مرضی کے مطابق شادیاں ہوتی ہیں۔ لیکن ان شادیوں کے بارے میں کیا کہیں گے کہ جہاں ان بچیوں کا معصوم بچپن ہی ان سے چھینا جا رہا ہے؟کیا ان بچیوں کے میچیور ہونے اور بالغ النظری کا انتظار نہیں کیا جا سکتا؟

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق 21 فیصد لڑکیوں کی 18 برس کی عمر تک شادی ہو چکی ہوتی ہے جبکہ تین فیصد لڑکیوں کی 15 برس سے کم عمر میں شادی ہو جاتی ہے۔یونیسیف کے مطابق کم عمری میں شادی کی وجہ سے بچے اپنا بچپن کھو بیٹھتے ہیں اور ان کی نہ صرف پڑھائی متاثر ہوتی ہے بلکہ کم عمری میں شادی ان کی صحت پر بھی شدید اثرانداز ہوتی ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں کو گھریلو تشدد اور زبردستی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔پاکستان میں عموماً پسماندہ علاقوں میں بچوں کی کم عمری کی شادی کو رسم و رواج کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ کہیں ’ونی‘ کہیں ’سوارہ‘ تو کہیں کسی اور روایت کے تحت بھی کم عمر بچوں کو بیاہ دیا جاتا ہے۔تاہم جنوبی پنجاب میں کم عمری کی شادی کا رجحان باقی صوبوں سے نسبتاً زیادہ ہے۔جس عمر میں بچے ابھی خودکو سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتے اور نہ ہی میاں بیوی معاشی طور پرمستحکم ہوتے ہیں کہ اْن کو ایک بڑی ذمہ داری میں الجھا دیا جاتا ہے ۔وہ آنکھیں جو کچھ کرنے کچھ بننے کے خواب دیکھنا شروع ہی کرتی ہیں کہ وہ خواب چھین کر ان کو رسم و رواج کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کم سنی کی شادیاں کیوں ہو رہی ہیں۔ اسکی پہلی بڑی وجہ تو غربت ہے۔ غریب والدین روپوں اور پرتعیش زندگی کے لئے اپنی معصوم بچیوں کی زندگیوں کا سودا کر دیتے ہیں۔ جبری شادیوں کی ایک بڑی وجہ وٹہ سٹہ بھی ہے کیونکہ ایک رشتے کی کامیابی پر دوسرے کی کامیابی کا انحصار کر لیا جاتا ہے۔ اندرون سندھ اور قبائلی علاقوں میں سوارہ اور ونی جیسی فرسودہ رسمیں عام ہیں جہاں خون بہا نہ ہونے کی صورت میں مجرم محفوظ رہتا ہے اور اسکی کم سن بہنیں ،بیٹیاں ظلم و ستم کا شکار ہوتی ہیں۔

کم عمری کی شادیوں کو روکنے کے لیے 1929 میں بنا ۔چائلڈ میریج رسٹرینٹ ایکٹ نا فذ تھا۔ لیکن یہ قانون بہت پرانا بھی ہے اور اس میں کم عمری میں شادی کروانے والے کے لیے سزا بھی صرف ایک ماہ قید اور 1000 روپے جرمانہ ہے۔ اس قانون شادی کے لیے کم از کم عمر 16 سال مقرر تھی، جو ماہرین کے مطابق 18 سال ہونی چاہیے۔تاہم صوبہ سندھ نے 2011ء میں اس قانون کو تبدیل کر کے نیا قانون نافذ کردیاتھا، جس کے تحت شادی کے لیے کم سے کم عمر 18 سال مقرر کر دی گئی ، قانون توڑنے والوں کی سزائیں بھی بڑھا دی گئیں۔ پنجاب کے 2015ء کے چائلڈ میرج رسٹرینٹ ایکٹ میں لڑکی کے لیے شادی کی عمر 16 سال ہی ہے، جبکہ لڑکے کا کم از کم عمر 18 سال کا ہونا لازمی ہے۔ اس تضاد پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اعتراض کیا ہے۔خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے ایک مسودہ بنایا تھا جس میں شادی کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی، اس پر اب تک اتفاق نہیں ہو پایا،اس معاملے میں خیبر پختونخواباقی صوبوں سے پیچھے ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی پچھلی صوبائی حکومت نے 2014 ء میں ایک مسودہ بنایا تھا جس میں شادی کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی تھی، لیکن اس پر بھی اتفاق نہ ہو سکا۔ کم عمری کی شادیوں کے بارے میں 2014 کے مسودے کی تمام شقوں پر فریقین متفق تھے، لیکن عمر کی حد پر اعتراضات اب بھی موجود ہیں۔

پاکستان میں رائج کم عمری کی شادیاں روکنے کا قانون ’چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929‘ کے مطابق لڑکے کی شادی کی کم سے کم عمر 18 سال جبکہ لڑکی کے لیے شادی کی کم سے کم عمر 16 سال ہے۔ مسلم فیملی لاء آرڈیننس کے مطابق شادی کے لئے لڑکی کی عمر سولہ سال اور لڑکے کی عمر اٹھارہ سال رکھی گئی ہے ۔پنجاب میں الگ قانون کے تحت لڑکی کی عمر سولہ سال اور لڑکے کی عمراٹھارہ سال مقرر کی گئی ہے۔6 مارچ 2015ء کو سندھ اسمبلی کے بعد پنجاب اسمبلی نے بھی کم عمر بچوں کی شادی کی ممانعت سے متعلق ترمیمی بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیاتھا۔ اس بل کے مطابق بچوں کی کم عمر میں شادی کرنے والوں کے ورثا کو 6ماہ قید کے ساتھ 50 ہزار روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا جب کہ سزا کا اطلاق نکاح خواں پر بھی ہوگا۔قبل ازیںبچوں کی شادی کی ممانعت کے ایکٹ برائے 1929 کے تحت کم عمری میں شادی کروانے والوں کو ایک ہزار روپے جرمانہ اور ایک ماہ قید کی سزا ہوتی تھی۔ خلاف ورزی کی صورت میں نکاح خواں یا ولی کو 50 ہزار جرمانہ اور چھ ماہ کی قید یا دونوں سزائیں بیک وقت دی جا سکتی ہیں۔ جبکہ سندھ اسمبلی میں 2014 میں پاس ہونے والے بل کے مطابق شادی کے لئے بچی کی عمر اٹھارہ سال مقرر کی گئی ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں تین سال قید اور 45 ہزار روپے جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے ، اسکے ساتھ ساتھ کم عمری کی شادی کو ناقابل ضمامت جرم بھی قرارد یا گیا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے جرمانے اور سزاؤں میں بھی اضافہ کیا گیا تھا۔اسلامی نظریاتی کونسل نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کیے گئے کم عمری کی شادی کی روک تھام سے متعلق بلوں پر اپنا موقف جاری کردیا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے شعبہ تحقیق نے کہا کہ کمسنی کی شادی کے ان اسباب کو ختم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں جن کی وجہ سے پاکستان میں بعض خاندان کمسنی کے دوران بچیوں کو بیاہ دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔

چند ہفتے قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن ڈاکٹر رمیش کمار نے کم عمری میں شادی پر پابندی کا ترمیمی بل منظوری کے لیے پیش کیا تو وفاقی وزراء آمنے سامنے آگئے تھے۔وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر مذہبی امور نور الحق قادری اور وزیر پارلیمانی امور علی محمدنے بل کی مخالفت کی جب کہ وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور اپوزیشن کی بعض جماعتوں کے ارکان نے بل کی حمایت کی۔اب یہ کمیٹی کے زیر غور ہے۔امید ہے کہ خیر کی خبر ہی ملے گی!

امریکہ میں کمسنی کی شادیوں کو قانونی تحفظ حاسل ہے

 

اگر یہ کہا جائے کہ امریکہ جیسے ملک کی کئی ریاستوں میں کمسنی کی شادی کو قانونی تحفظ حاصل ہے تو شاید بہت سے لوگوں کو اس بات کا یقین نہیں آئے گا۔ زیادہ تر ریاستوں میں 18 سال سے کم عمر میں شادی کرنا غیر قانونی ہے لیکن نیویارک سمیت کئی ریاستوں میں قانونی طور پر 14 سال تک کی عمر کے لوگ بھی شادی کر سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ ان کے والدین اور عدالت کے جج اس کی منظوری دے دیں۔ ریاست ورجینیا میں 2016 میں ہی کم عمری کی شادی کے خلاف اسمبلی میں قانون منظور کیا گیا تھا۔یہ واقعی حیرت انگیز بات ہے کہ نیویارک میں 14 سالہ لڑکیوں کو شادی کرنے کی قانونی اجازت ہے۔ کئی ریاستوں میں تو 12 سال تک کے بچوں کو ان کے والدین اور عدالتی جج کی منظوری کے ساتھ شادی کی اجازت ہے۔وہاں غیر شادی شدہ لڑکیوں کے مقابلے میں کم عمر میں شادی کرنے والی لڑکیوں کی ہائی سکول کی تعلیم بھی مکمل نہ کرنے کا امکان 50 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔جن لڑکیوں کی 16 سال سے بھی کم عمر میں شادی ہوتی ہے ان میں غربت کا امکان 31 فیصد بڑھ جاتا ہے۔اسی طرح 18 سال سے کم عمر میں شادی کرنے والی لڑکیوں کو صحت اور نفسیاتی پریشانیاں بھی 23 فیصد زیادہ جھیلنا پڑتی ہیں اور بہت سے معاملات میں ایسی لڑکیوں کو شوہر کے ہاتھوں تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔2000ء اور 2010ء کے درمیان امریکہ کی 38 ریاستوں میں 18 سال سے کم عمر کے تقریباً ایک لاکھ 67 ہزار بچوں کی شادیاں ہوئیں۔ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں ہر چار میں سے ایک لڑکی کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے ہی ہو جاتی ہے ۔

 

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پاکستان کاشمار سب سے زیادہ خیرات دینے والے ممالک میںہوتا ہے ۔ یہاں گداگری ایک پیشہ بلکہ مافیا کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ گلیوں ، بازاروں ...

مزید پڑھیں