☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل صحت فیچر کیرئر پلاننگ رپورٹ ہم ہیں پاکستانی فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا کھیل خواتین متفرق روحانی مسائل ادب
کیا ہم ساری زندگی کنوارے رہیں گے!

کیا ہم ساری زندگی کنوارے رہیں گے!

تحریر : ڈاکٹر سعدیہ اقبال

07-28-2019

رشتے آسمانوں پہ طے ہوتے ہیں،کچھ کی قسمت میں آزاد رہنا لکھا ہوتا ہے،وہ کہتے ہیں کہ ہم ساری زندگی اکیلے ہی رہیں گے،

اپنی زندگی جئیں جب چاہیں گے ا ٹھیں گے جب مرضی آئے گی سو جائیں گے جتنی دیر چاہیں گے سوتے رہیں گے،جو جی میں آئے گا کریں کوئی ہمیں روکے یا ٹوکے گا نہیں ۔۔۔ یہ ہمیں برداشت نہیں‘‘۔فیکٹری میں کام کرنے والے ایسے ہی ایک نوجوان شبیراشرف نے کہا کہ،

 

اس زندگی کا اپنا ہی مزہ ہے، مگر میں کیا کروں لوگ اس طرح بھی زندہ نہیں رہنے دیتے۔مالک مکان کہتا ہے ہم اکیلے کو گھر نہیں دیتے۔طلبا کی طرح ہوسٹلوں میںرہنا پڑتا ہے۔اس سے کافی پرشانیاں ہوتی ہیں۔لیکن میں شادی کر کے گلے میں گھنٹی نہیں باندھنا چاہتا‘‘۔

سلیم کہتا ہے کہ’’ میرے ہمسائے میںہر وقت گولہ باری ہوتی رہتی ہے،جیسے بھارت بھی وہیں آ گیاہو،اتنی گولہ باری کہ میرے گھر کا سکون بھی برباد ہو گیا ہے، کئی مرتبہ تو مجھے اور میرے والدین کو بھی یواین او بن کر ان کے گھر جانا پڑا تھا۔اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ بسا اوقات ایک دوسرے کی مسائل دیکھ کر بھی نوجوان پریشان ہو جاتے ہیں اور زندگی سے فرار کے راستے تلاش کرنے لگتے ہیں۔ شادی ان کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ شادی سے فرار حاصل کرنے والوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے،دیر سے شادی کرنے والوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ساری زندگی کنوارے ہی رہیںگے۔

کچھ نوجوان توایک شادی سے ڈرتے ہیںاورکچھ دو شادیاں کر کے بھی نہیں پچھتاتے۔ تیسری کی خواہش مچلتی رہتی ہے۔کچھ رشتے شادی کی رات ہی ٹوٹ جاتے ہیں۔میں شادی کے اگلے روز ہی طلاق کا مطالبہ کر نے والی دو تین لڑکیوں کو بھی جانتا ہوں ۔۔کہتی تھیں۔۔’’یہ شادی تو ہم نے خاندان کو خوش کرنے کے لئے کی ، اب ہمیںاپنی زندگی خود جینا ہے،اپنے سٹائل سے جینے کے لئے دوسری شادی کروں گی‘‘۔ان کی حیثیت بھی کنواروں سے کم نہیں۔اسی لئے کئی نوجوانوں کی دو دو مرتبہ شادی ہوتی ہے مگر سہانے سپنوں کی وجہ سے وہ بھی نہیں چل پاتی۔ایسا کم ہے مگر ہے ضرور۔یہ سماجی المیے کے سوا کچھ نہیں۔بیوی کو ’’Better Half‘‘ کہنے والے اسی بیٹر ہاف سے دور بھاگنے لگتے ہیں۔بہتر ہاف ،بدتر ہاف کے روپ میں ڈسنے لگتا ہے تو طلاق کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔یورپ میں شادیوں سے زیادہ طلاقیں ہورہی ہیں ۔مرد وخواتین اپنے اپنے راستے جدا کر رہے ہیں،کیوں؟کونسی آفت آگئی کہ اب شادیاں کم اور جدایاں زیادہ ہو رہی ہیں؟پاکستان میں بھی ایسا ہی ہے ۔چند ہی دنوں میں لومیرج میں سے لو نکل جاتا ہے اور صرف میرج رہ جاتی ہے، پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ رشتہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ اکثر کیسوں میں زندگی کی گاڑی بس چلتی رہ تی ہے کیونکہ بچے ہو جاتے ہیں ،اور وہ ایک بائنڈنگ فورس کی صورت میں دونوں کو الگ نہیں ہونے دیتے۔ایسا کیوں ہے ،کچھ تو گڑبڑ ہے!

کچھ افراد کا کہنا ہے کہ وہ آزاد رہنا چاہتے ہیں مگر ان کی تعداد نہایت ہی کم ہے، آٹے میں نمک کے برابر۔وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی جینا چاہتے ہیں۔مگر اپنی زندگی شادی سے بہتر تو نہیں ہو سکتی جو کہ ایک سماجی فریضہ بھی ہے۔اس کے بغیر فرد مکمل ہی نہیں ہوتا۔شادی شدہ افراد کے پاس اپنے ماں باپ کے لئے بھی وقت نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس غیر شادی شدہ افراد کی با نسبت غیر شادی شدہ افراد کہیں زیادہ متحرک ہوتے ہیں ،والدین کا خیال بھی رکھتے ہیںاور محلے میں بھی خدمت انجام دیتے ہیں۔مغرب میں 18برس کی عمر میں 62فیصد شادیوں کی وجہ سے ہی نوجوانوں کو اپنے ماں باپ کو اولڈ ہومز کی زینت بنانا پڑتا ہے۔اب ہمارے ہاں بھی ایسا ہی ہورہا ہے۔اب یہ نوبت ہمارے ہاں بھی آ گئی ہے،میرے ایک پرانے دوست کا باپ شدید بیمار تھا،مسلسل ہسپتال جانا پڑتا تھا۔ اس کے تین بھائی تھے ،ایک دن دوسرے دو بھائیوں نے کہا کہ،

’’ابا جی کی بیماری کے بارے میں آپ ہمیں نہ بتایا کریں ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے جب بھی ہسپتال جانا ہو تو خود ہی لے جایا کریں،ہم ابا جی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے‘‘۔

میرے دوست نے ایسا ہی کیا۔انہوں نے اباجی کی بیماری کے بارے میں پھر اپنے بھائیوں کو کبھی تکلیف نہ دی۔ چند مہینو ں کی علالت کے بعد اباجی کا انتقال ہو گیا۔ پتہ نہیں کہاں سے ان بھائیوں کو بھی خبر ہو گئی، ایمبولینس کے گھر پہنچنے سے پہلے وہ میرے دوست کے گھر پہ تھے۔تدفین سے پہلے جائیداد میں حصہ مانگ رہے تھے۔ دوران علالت اپنے بیٹوں کی نفرت دیکھ کر اباجی نے جائیداد کا ایک حصہ اپنے پیارے بیٹے کو دے دیا۔دونوں بھائیوں نے اسے بھی متنازعہ بنا دیا ۔ اب کئی سال ہو چکے ہیں جائیداد کی تقسیم کا یہ مقدمہ اب عدالت میں زیر سماعت ہے۔ ایسی بیٹے بھی ہیں ۔ ان کی تعداد کم ہے لیکن بڑھ رہی ہے جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔یہ مستقبل میں بڑا سماجی المیہ بن سکتا ہے۔ وہ اس بارے میں مغرب کی اقدار اپنا رہے ہیں جو ہمیں کسی دلدل میں دھنسا سکتی ہے۔ ہمارے سماج میں بھی یہی مصیبت سرایت کررہی ہے جس سے ڈھانچے کی بنیادیں ہل رہی ہیں۔ اکثر لوگ اپنے والدین یا بھائیوں کو ایک روپیہ دیتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں۔ اپنے بچوں کی فکر انہیں دل ہی دل میں کھائے جاتی ہے، میرے بعد ان کا کیا بنے گا؟بعض تو اپنا بڑھاپامحفوظ بنانے کی خاطر بچوں کو بھی فراموش کر دیتے ہیں۔ہماری حکومت سماجی خدمات کے شعبے میں زبانی جمع خرچ سے زیادہ ’‘’خرچ ‘‘ نہیں کرتی۔

یہ اپنی زندگی کیا ہے؟سماجی اور معاشی امورکے ماہرپروفیسر گلشن بیگ کہتے ہیں کہ ،

’’اپنی زندگی کچھ بھی نہیں ہے،انسان دنیا میں آتا کیوں ہے؟اللہ کی عبادت ا ور انسانیت سے محبت۔دنیا میں زندگی کو جاری و ساری رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے شادی کا مقدس رشتہ بنایا ۔ہم اس کو ترک نہیںکر سکتے۔نہ ہی اپنی زندگی نام کی کوئی زندگی موجود ہے۔اپنی زندگی تو روم کے جلتے وقت بانسری بجانے والے نیرو نے ہی گزاری تھی۔جسے ساری دنیا لعن طعن کر رہی ہے۔زندگی وہی ہے جو ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر گزارتے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ سوشل میڈیا نے نوجوانوں کے ذہن کو پراگندا کر دیا ہے، موبائل نے شادی،دوستی، تعلقات اور رشتے داری سے متعلق ہر تصور کو ہی بدل دیا ہے۔حتیٰ کہ ماں باپ کا تصور بھی بدل گیا ہے۔ موبائل فون نے فرد کو مصنوعی زندگی کا عادی بنا دیا ہے، ایک ایسی زندگی کا جو اس زمین پر تو کہیں بھی موجود نہیں ۔شادی کے اگلے ہی روز جب زندگی کی پرتیں ایک ایک کرکے کھلنا شروع ہوتی ہیں، معاشی مسائل سر اٹھانا شروع کرتے ہیں تو پھر نوجوان کو امی یاد آجاتی ہے۔اس وقت سوشل میڈیا نے جو بھوت ذہن پر سوار کر دیا ہوتا ہے، اتر چکاہوتا ہے اسی لئے رشتے جس تیزی سے بنتے ہیں اسی تیزی سے بگڑتے بھی ہیں‘‘۔

 اس بارے میں رشتے کرانے والی ایک خاتون نے کہا کہ،

’’اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ مائوں کو اپنے بیٹے کی تمام عادتوں کا پتہ ہوتا ہے، ہم جانتی ہیں کہ لڑکا ٹھیک نہیں اور مستقبل میں مزید خراب ہو جائے گا، لیکن مائیں کہتی ہیں کہ نہیں۔۔۔آپ اچھی سی لڑکی ڈھونڈ دیں، وقت کے ساتھ ساتھ خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ شادیاں زیادہ دیر تک نہیں چلتیں۔‘‘

لیڈی ڈاکٹرسعدیہ اقبال کا تعلق کئی این جی اورز سے بھی رہا ہے، اس حوالے سے وہ مختلف دیہات کے دورے بھی کرتی رہی ہیں،انہیں طرح طرح کے افراد سے ملنے کا بھی اتفاق ہوا ہے، اس سوال کے جواب کہ کچھ لوگ شادی کے بعد بھی اپنی زندگی میں تبدیلیاں نہیں لانا چاہتے اور مسلسل پرانی ڈگر پر چلتے رہتے ہیں اور یہی بات رشتے میںزہر گھول دیتی ہے تو انہوں نے کہا کہ ،

’’جلدی طلاقوں کی کئی وجوہات ہیں۔مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ نئی نسل کا ایک بڑا حصہ خوابوں والی زندگی کا عادی ہو چکا ہے،وہ خوابوں سے باہر حقیقی زندگی اور اس کی تلخیوں سے واقف ہی نہیں ہے، ان میں سے بھی بہت سے ایسے بھی ہوں گے جو اپنی پرانی ڈگر چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے،وہ نئی ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل نہیں رہے۔ میں نے اس صورت میں کئی گھر ٹوٹتے دیکھے ہیں ۔ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ نفسیات کا کنسلٹنٹ بن کر بھی ان کی کونسلنگ کرنا پڑتی تھی ۔میں تو یہی مشورہ دوں گی کہ شادی بہت دیکھ بھال کر کی جائے۔ عارضی چمک دمک کا شکار ہونے کی بجائے حقیقی مسائل اور زندگی کی ضروریات کو اہمیت دی جائے یعنی یہ دیکھا جائے کہ لڑکے یا لڑکی میں دوسروں کے ساتھ مل بیٹھ کر کام کرنے یا دوسرے خاندان کو اپنانے والے کتنے جراثیم پائے جاتے ہیں۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں شادی کا بنھایا جانا ممکن نہیں دکھائی دیتا۔ 

امریکیوں کاشادی پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے، کہاں 1960ء میںعہد نوجوانی میں ہی 72فیصد امریکی لڑکوں اور لڑکیوںکے ہاتھ ’’پیلے ‘‘ہو جاتے تھے او رکہا ں یہ وقت آ گیا کہ 18برس کے ہوگئے مگر 50فیصد بھی شادی سے محروم ہیں۔امریکہ میں پہلی شادی کی عمر 18تقریباََبارہ برس کا اضافہ ہو چکا ہے ۔ لڑکے کی شادی کی مجموعی عمر 30برس اور لڑکی کی 28برس ہو چکی ہے، آدھی آبادی اس عمر سے پہلے شادی کا لفظ سننا بھی گوارہ نہیں کرتی۔

شادی سے کئی دوسرے رشتے کمزور پڑ جاتے ہیں،شادی نوجوان کو پرانے راستے سے ہٹا کر نئی ڈگر پہ ڈال دیتی ہے،جہاں وہ خود کو کسی مشین کی طرح پاتا ہے،ماہرین کے نزدیک ایسی شادیاں دیر تک نہیں چلتیں ۔ لاکھوں لڑکوں نے اپنے سہارے کے لئے ہی شادی رچائی ،پھر جب وہی بیوی بوجھ دکھائی دینے لگی تو کسی بے جان شے کی طرح راستے میں جہاں چاہا ، چھوڑ دیا۔ شادی کے جہاں ہزار ہا فائدے ہیں وہاں اس کی قیمت بھی چکانا پڑتی ہے،یہ واقعی بہت کچھ چھین لیتی ہے،بلکہ اکثر مرد کو تمام رشتوں سے کاٹ کر تنہائی کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔کہتے ہیں شادی وہ موتی چور کے لڈو ہیں جو کھائے وہ پچھتائے اور جو نہ کھائے وہ بھی پچھتائے ۔

سوشل سائنسد ان اینڈریو چارلن نے اس کا جواب مغرب کی بے راہ روی میں تلاش کیا ہے۔جبکہ جج انتھونی کینیڈی نے اپنے ایک فیصلے میں لکھا تھا،’’اکیلا آدمی پریشان رہتا ہے، بیماری ،حادثے میں کون مدد کو آئے گا ،برے وقت میں حفاظت کے لئے کوئی اچھا محلے دار تلاش کرتا ہے توکوئی لے پالک بچوں کی صورت میں اپنے بڑھاپے محفوظ کرنے کے جتن کرتا ہے۔ مرد کی یہ سوچ کس قدر خود غرضانہ ہے، اپنی ذات کے خول سے وہ باہر کیوں نہیں دیکھتا ،کیوں اسے خود کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اپنی ضرورت کی خاطر وہ کیوںدوسروں کواپنے ساتھ جکڑ لیتا ہے ۔ 

(All or Nothing Marriage) میں ماہر نفسیات ایلی فنکل(Eli Finkel)نے لکھا ہے ، 

’’دوسو برس میں شادی کے بارے میں مرد کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے، لوگ ا پنی بیوی سے وہ امیدیں لگا بیٹھے ہیں جنہیں پورا کرنا بیویوںکے بس میں نہیں۔صرف ایک نسل پہلے مثالی شادی میںپیار ، محبت، تعاون،خاندان اور برادری کی جھلک نظر آتی تھی۔مگراب ہم چاہتے ہیں کہ بیوی ہمارے معاشرتی مقام میں اضافے کا سبب بنے،ہمیں عزت و وقار دلوائے جو ہم خود حاصل نہیں کر سکے۔سیلف ڈویلپمنٹ میں بھی میاںکی معاون بنے۔اسے آزادی اور وقت دے، زیادہ توقعات نہ رکھے ،نہ پوچھے وہ کہاں ہے، کیوں ہے ، کب آئے گااو رپھر کہاں جائے گا۔یعنی اب مرد نے بیوی سے وہ توقعات لگالی ہیں جو پہلے وہ پورے معاشرے سے رکھتا تھا۔یہ کام عورت کے کرنے کے ہرگز نہیں ہیں۔‘‘

اب ہم دیکھتے ہیں کہ اینڈریو چرلن(Andrew Cherlin) کیا کہتی ہیں۔بقول اینڈریو ’’شادی معمولی واقعہ نہیں ۔ یہ انسان کی زندگی میں تناور درخت کی مانندہے۔اور پھر جب بچے ہو جائیں تو مرد اپنی تمام ذمہ داریاں بیوی کے سر تھوپ کر بچ نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اکثر کیسوں میں گھر بھر کی محنت اور دیکھ بھال کی بھاری ذمہ داریاں اسے بیمار ڈدال دیتی ہیں۔ تب شوہر اسے سبز جھنڈی دکھادیتا ہے۔شادی نہ ہونے کی صورت میں اس کی تمام تر ذمہ داری دوسروں پر ہوتی ہے جو اس کے بہن بھائی یا قریبی رشتے دار بھی ہو سکتے ہیں۔میںان دونوں باتوں کو ہی نہیں مانتا۔میرے نزدیک بیوی خاندان اور معاشرے میں مرد کو بہتر مقام حاصل کرنے میں معاون بنتی ہے ،اسی لئے میں شادی کو Stabilizing Force بھی سمجھتا ہوں،جنتا گڑ دڈالو گے اتنا ہی میٹھا ہو گا ۔

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

جنریشن گیپ کیا ہے ؟

دو نسلوں کے درمیان فکری نظریات، اقدار ، روایات اور طرزِ عمل کے اختلاف یا غیر ہ ...

مزید پڑھیں

یہ دنیا انسانوں سے بھری ہوئی ہے،اربوں افرادپر مشتمل ہے، ہر شہر میں ہنگامہ سا بپا ہے،کراچی اور لاہور تو کب کے کروڑ کو کراس کر چکے ۔ کراچی ڈ ...

مزید پڑھیں

دنیا کے سبھی معاشرے انسانی اورسماجی تبدیلیوں سے دو چار ہیں۔ دقیانوسی نظام تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا ساتھ دینے سے قاصر ہے۔ ہمارے تمام ...

مزید پڑھیں