☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ غور و طلب متفرق سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا کھیل شوبز دنیا اسپیشل رپورٹ گھریلو مشہورے روحانی مسائل
آپ بھی پوچھیے

آپ بھی پوچھیے

تحریر : حکیم نیازاحمد ڈیال

11-03-2019

کیا سبز چائے پینی چاہیے؟

ہارون آباد سے ارم طاہر لکھتی ہیں کہ سبز چائے صحت کے لیے کیسی ہے؟ایک نارمل انسان جس کا وزن بھی مناسب ہو کیا وہ بھی سبز چائے پی سکتا ہے؟ دانتوں یا جلد کے لیے سبز چائے کے مضر اثرات تو نہیں ہیں؟یہ بھی بتائیں کہ ٹی بیگ والی استعمال کرنی چا ہیے یا کھلی جو عام مل جاتی ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ٹی بیگ والی سبز چائے میں کیمیکلز شامل ہوتے ہیں جس وجہ سے وہ نقصان دہ بن جاتی ہے۔پلیز وضاحت فرمادیں۔

مشورہ:سبز چائے کیفین کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے اور کیفین کی ایک خاص مقدار کی ہم سب کو روزانہ کی بنیاد پر ضرورت ہوتی ہے۔ کسی بھی غذائی عنصر کی اضافی مقدار بدن انسانی پر مضر اثرات مرتب کرنے کا باعث بنا کرتی ہے۔ایک صحت مند انسان کو موسم کی مناسبت سے ایک سے دو کپ سبز چائے پی لینے میں کوئی قباحت نہیں ہے ہاں البتہ ہر انسان کو چاہیے کہ اپنی جسمانی ضرورت کے مطابق ہی اپنی غذا منتخب کرے ۔ جہاں تک ٹی بیگ کے نقصانات کی بات ہے تو ہمارے خیال میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ٹی بیگ تو استعمال کی سہولت کے لیے بنائے جاتے ہیں۔جدید تحقیقات کی رو سے دیکھا جائے تو سبز چائے کے بے شمار فوائد سامنے آ رہے ہیں۔سبز چائے کے چند بڑے فوائد میں کولیسٹرول میں کمی، وزن پر کنٹرول،فالج سے حفاظت، ذیابیطس ٹائپ ٹو سے بچائو ،زخموں کو مندمل کرنے اور کینسر کی کئی اقسام کے خلیات کا خاتمہ شامل ہے۔نظام ہضم کو تیز کرنے،دل و دماغ کو محرک رکھنے اور اعصاب کو چست کرنے کے لیے بھی مفید خیال کی جاتی ہے۔سبز چائے کے فوائد کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی ہیں۔ایسے افراد جنہیں کیفین سے الرجی کی پرابلم ہو انہیں نیند کی کمی، جلدی مسائل،اینگزائٹی ،بد ہضمی،ہائی بلڈ پریشر جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسی طرح ایسے لوگ جوخون پتلا کرنے والی ادویات کا استعمال کر تے ہیں سبز چائے ان کے لیے بھی مضر ثابت ہوسکتی ہے۔حاملہ اور بچے کو دودھ پلانے والی خواتین کو بھی سبز چائے پینے سے پرہیز کرنا چاہیے۔جن افراد کو امراض قلب،گردہ،جگر اور جلدی بیماریوں کا سامنا ہو انہیں بھی سبز چائے کے استعمال سے نقصان ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ بہر حال ایک صحت مند انسان کو اپنی بدنی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی اپنی خوراک ترتیب دینی چاہیے ورنہ مفید سے مفید تر غذ ا کی غیر ضروری اور اضافی مقدار بھی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ مختصر یہ کہ اعتدال پسندی میں ہی صحت کا راز پوشیدہ ہے ۔

ذیابیطس کا مرض لاحق ہے

خوشاب سے ثقلین لکھتے ہیں کہ میری عمر 23 سال ہے اور مجھے ذیابیطس کا مرض لاحق ہے۔اس بیماری کی وجہ سے میری زندگی بہت متاثر ہو رہی ہے۔اگر آپ کے پاس شوگر سے نجات یا اس کے اثرات سے بچائو کی کوئی ترکیب ہے تو پلیز ضرور رہنمائی فرمادیں۔میں ریگو لر دوا کھانے سے ڈرتا ہوں۔مفید غذائیں اور مناسب پرہیز تجویز فرما دیں۔

مشورہ:جواں عمری میں لاحق ہونے والی ذیابیطس عام طور پر کسی بیماری کا علاج کرنے کی غرض سے کھائی جانے والی دوا کے مضر اثرات کانتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔بسا اوقات قوت مدافعت کی انتہائی کمزوری سے بھی انسان کئی موذی امراض میں گرفتار ہوجایا کرتا ہے جن میں شوگر بھی شامل ہے۔باقی موروثی طور پر شوگر ٹائپ ! کا ہونا تو جدید میڈیکل سائنس کی رو سے ثابت ہو ہی چکا ہے۔ اگر آپ کے خاندان میں شوگر کا مرض عام ہے تو آپ کو شوگر ہوجانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔ سب سے پہلے آپ اوپر بیان کردہ وجوہات کے تحت اپنی بیماری کی جانچ پڑتال کریں۔ شوگر لاحق ہونے کی جو وجہ سامنے آئے اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی دوا اور غذا ترتیب دیں۔جدید طبی ماہرین کے نزدیک شوگر ٹائپ !انتہائی خطرناک اور تکلیف دہ مرض ہے۔ سوائے انسولین کے ماہرین اس کا کوئی دوسرا حل نہیں بتاتے۔ آپ بھی کسی ماہر معالج سے مل کر اپنا طبی معائنہ کروائیں اور اخذ کردہ نتائج کے مطابق ہی غذا ور دوا کا استعمال کریں۔ فطری طرز علاج کی رو سے آپ کریلے اور پیاز، سہانجنہ کے پھول اور پھلیوں کی بھجیا، مشرومز،مچھلی، مولی،پالک ،پپیتہ،اور خرگوش کے گوشت کا استعمال کریں۔سہانجنے کے پتوں کا قہوہ پینا بھی مفید ثابت ہوگا۔نہار منہ پسینہ لانے والی ورزش کو اپنا معمول بنا لیں،بطور گھریلو ترکیب تخم حرمل اور خراطین ہم وزن سفوف بنا لیں۔ہمیں امید ہے کہ آپکو خاطر خواہ افاقہ ہوگا۔ 

بال بہت باریک اور کمزور ہیں

شاہ پور کانجراں سے مہوش نے لکھا ہے کہ میرے بال بہت باریک اور کمزور ہیں۔یہ مزید بڑھ بھی نہیں رہے۔مجھے ڈر ہے یہ کہیں گرنے نہ لگ جائیں۔اللہ کا شکر ہے ابھی تک ایک بال نہیں گرتا۔براہ کرم کوئی گھریلو ٹوٹکہ بتادیں جس کے استعمال سے میرے بال مضبوط،گھنے اور لمبے ہوجائیں۔

مشورہ:سب سے پہلے تو قارئین نوٹ فرمالیں کہ ہم ٹوٹکے نہیں بلکہ مفید گھریلو طبی تراکیب بتاتے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر خاطر خواہ فائدہ حاصل کیا جاسکتاہے۔بالوں کی کمزوری اور باریک پن آپ کے مزاج میں شامل سردی اور تری کو ظاہر کرتا ہے۔آپ اپنی خوراک میں گرم اور خشک غذائیں شامل کر کے اپنا مزاج گرم اور خشک کر لیں۔آپ کے بال مضبوط، موٹے اور گھنے ہو جائیں گے۔ دماغ ،اعصاب اور معدے کو تقویت دینے والے تقریباََ تمام غذائی اجزاء گرم اور خشک مزاج کے حامل ہوتے ہیں۔خشک میوہ جات جیسے اخروٹ، کاجو، پستہ، چلغوزے،انجیر،خوبانی اور خشک شہتوت وغیرہ نہ صرف دماغ و اعصاب کو طاقتور بناتے ہیں بلکہ مزاج کی بڑھی ہوئی سردی بھی دور کرتے ہیں۔ اسی طرح دار چینی، زیرہ سفید، مرچ سیاہ، سونٹھ، لونگ، جائفل ، جلوتری اور اجوائن وغیرہ بھی مزاجاََ گرم ہوتے ہیں اور معدے کو مضبوط بھی بناتے ہیں۔بالوں کوفوری مضبوط کرنے کے لیے ایلو ویرا کے گودے کا بالوں پر لیپ کرنا شروع کردیں۔بطور علاج کچی ہلدی کو سرسوں کے تیل میں گھوٹ کر پیسٹ نما بنا کر محفوظ کر لیں۔ نہانے سے دو گھنٹے قبل ہلدی ملا پیسٹ بالوں پر اچھی طرح جڑوں تک لیپ کردیں۔ دو تین گھنٹوں کے بعد بال دھو کر بالوں میں ناریل اور ارنڈی کے تیل باہم ملا کر بالوں میں ہلکا ہلکا مساج کریں۔ یہ ترکیب متواتر تین چار ہفتے کرنے سے نہ صرف یہ کہ بال جھڑیں گے نہیں بلکہ موٹے،مضبوط اور گھنے بھی ہوجائیں گے۔خوراک میں متوازن،معیاری اور ملاوٹ سے پاک غذائی اجزاء شامل کریں۔ نہار ،منہ تیز قدموں کی سیر بھی لازمی کریں۔کولڈ ڈرنکس، فاسٹ فوڈز،چاول،بیکری پروڈکٹس اور بادی و ثقیل غذائوں سے پرہیز بھی ضروری ہے۔