☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ غور و طلب متفرق سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا کھیل شوبز دنیا اسپیشل رپورٹ گھریلو مشہورے روحانی مسائل
نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کیوں کم ہوئے ؟

نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کیوں کم ہوئے ؟

تحریر : ڈاکٹر یمنیٰ نایاب

11-03-2019

سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیماری کے متعلق خبریں گردش کر رہی ہیں۔ ڈاکٹروں کے بیانات آتے رہے کہ سابق وزیراعظم کے خون کے پلیٹ لیٹس کم ہوتے رہے ہیں۔ ایک صحت مند آدمی کے خون میں Platlets کی مقدار 150,000 سے450,000 تک ہوتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق نواز شریف کے Platlets ایک دفعہ تو 2000 تک پہنچ گئے تھے۔ ایمرجنسی میں میگا پلیٹلٹ کٹس لگائی گئیں جن سے 13000 تک ہوئے مگر پھر 6000 تک ہوگئے۔ ان کے مسوڑھوں سے خون آنے لگا۔ اورٹانگوں پر سرخ نشانات نمودار ہوگئے۔ ڈاکٹروں نے ان کو شیو کرنے اور برش کرنے سے منع کر دیاتھا۔ ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کو Immunoglobin کی ڈرپس بھی دیں۔

 

اب ہر شخص یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ خون کے پلیٹ لیٹس کیا ہوتے ہیں۔ ڈینگی کے علاوہ کون کون سی بیماریوں میں یہ کم ہوتے ہیں۔ ان کا کونسا لیول خطرناک ہوتاہے۔ کیا ایک دفعہ پلیٹ لیٹس گر کر دوبارہ نارمل ہو جاتے ہیں؟ کو ن کون سی بیماریوں میں پلیٹ لیٹس کی مقدار کم ہوتی ہے اور اس کا کوئی علاج ہے بھی کہ نہیں۔ ان سارے سوالوں کا جواب دینے کے لیے یہ مضمون لکھا گیاہے۔ 

خون میں سرخ اور سفید خلیوں کے علاوہ Platlets بھی ہوتے ہیں۔ پلیٹ لیٹس کا لفظ دراصل پلیٹ سے ماخوذ ہے۔ یہ جسم کے پولیس مین کا کردار ادا کرتے ہیں۔ جسم کے کسی حصے پر جب کٹ لگتاہے۔ خون نکلنے لگتاہے۔ خون کے یہ محافظ اس جگہ میں آکر پلیٹ کی طرح جمع ہو جاتے ہیں ۔ دماغ کو سگنلز بھیجتے ہیں کہ مزید پلیٹ لیٹس ادھر آجائیں اور یوں سارے جمع ہو کر خون بہنے سے روکتے ہیں۔ آج کل ڈینگی کا مرض عام ہے۔ ڈینگی میں بھی وہ آخری سٹیج ہوتی ہے جب ان کی مقدار چند ہزار رہ جائے۔ اس اسٹیج پر خون رسنا شروع ہو جاتا ہے جس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اس سال اب تک ڈینگی سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں 52 اموات ہو چکی ہیں۔ ڈینگی ٹیسٹ نیگٹو ہو تو پلیٹ لیٹس میں کمی کی دوسری وجوہات میں کوئی اور وائرل انفیکشن مثلاََ ہیپا ٹائٹس بی اور سی بھی ہو سکتاہے۔ خون کے خطر ناک امراض بلڈ کینسراور لیو کیمیا میں بھی خون میں پلیٹ لیٹس کی کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بیماریاں جن میں جسم کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے مثلاََ ایڈز ، SLE اور جوڑوں کے مرض میں بھی پلیٹ لیٹس کم ہو جاتے ہیں۔ مختلف قسم کی ادویات لینے سے بھی ایک دَم پلیٹ لیٹس گر سکتے ہیں ۔ پلیٹ لیٹس گرنا شروع ہوجائیں تو وہ ایک دَم مزید گرتے ہیں ۔ جسم کی قوت مدافعت میں کمی آجاتی ہے۔ ذرا سے انفیکشن سے حالت خراب ہو جاتی ہے۔ وائرل کے علاوہ مختلف قسم کے بیکٹیریا سے بھی پلیٹ لیٹس کی کمی ہو جاتی ہے۔ پلیٹ لیٹس گرنے کی ایک مشہور وجہ ITP ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ جسم کا مدافعاتی نظام ٖغیر فعال ہو چکا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی مقدار بتدریج کم ہورہی ہے۔ مختلف قسم کی کینسر کی بیماری میں استعمال ہونے والی ادویات، مرگی کی بیماری کی ادویات سے بھی ان کی مقدار گر جاتی ہے ۔خون میں جب پلیٹ لیٹس کی رفتار گرتی ہے تو جسم میں کمزوری ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ قوت مدافعت ختم ہونے کی وجہ سے بندہ ڈائون ہوجاتا ہے۔ جسم میں شدید کمزوری، جوڑوں میں درد ہوتاہے۔ منہ مسوڑھوں اور ناک سے خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ جوڑوں میں سوجن ہو جاتی ہے۔ زیادہ خون رسنے ، شاک میں جانے کی وجہ سے موت بھی ہوسکتی ہے۔ جسم پر سرخ رنگ کے دھبے نمودار ہوتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جسم پر کسی نے چاقو سے زخم لگائے ہوئے ہیں۔ جسم پہ ذرا سا کٹ لگ جائے تو خون بہنا بند نہیں ہوتا۔ مرض کی تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ CBC، ہیپاٹائٹس B اور C ، ٹوٹل باڈی ایکین۔ بون میروسیمئر اور PET سکین کروائے جاتے ہیں جن سے بیماری کی تشخیص کی جاتی ہے۔ بیماری میں تلی بھی بڑھ جاتی ہے۔ وٹامن B/2 اور B9 کی کمی کی وجہ سے بھی پلیٹ لیٹس کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ پلیٹ لیٹس کم ہونے کا اچانک پتہ چلتا ہے۔ ان میں بتدریج کمی ہوتی رہتی ہے۔ لیکن جب تک بیماری سے بندہ ادھ موا نہیں ہو جاتا۔ اس کا پتہ نہیں چلتا۔ اس کے بعد تشخیص کرنے سے اس کمی کی وجہ کا پتہ چلتا ہے۔ لیکن جسم کے مختلف حصوں سے Bleeding اس بات کی نشا ندھی ہوتی ہے کہ بیماری خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ جسم کے مختلف حصوں سے Bleeding ہو جانا میڈیکل ایمرجنسی ہے۔ فوراََ ڈاکٹر اور ہسپتال سے رجوع کرنا چاہیے۔فوری طور پر پلیٹ لیٹس کی کمی کو میگا پلیٹلٹ کٹس لگا کر پورا کیا جاتا ہے۔ مگر ان کے لگانے کے باوجود پلیٹ لیٹس اور خون کے سفید خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ جاری رہتی ہے۔ میگا کٹس کے علاوہ جسم کی قوت مدافعت بڑھانے کے لیےImmunoglobulin کی ڈرپس لگائی جاتی ہیں۔ اگر خون میں پلیٹ لیٹس کی مقدار کسی بیماری کی وجہ سے نہ گررہی ہو جیسا کہ ITP کی بیماری میں ہوتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ خود ہی نارمل مقدار میں آنا شروع ہو جاتے ہیں۔اگر کسی دوا کی وجہ سے کمی ہو رہی ہو تو فوری طور پر اس دوا کو بند کر دیا جاتا ہے۔ ڈینگی کے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے اس بات کا مشاہدہ اور تجربہ کیا گیا کہ ڈینگی وائرس سے متاثر مریضوں میں ڈینگی بخار میں جب پلیٹ لیٹس کی مقدار گرتی ہے تو پیپتا کے پتوں کا جوس استعمال کرنے سے فوری طور پر ان کی مقدار میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے۔ ڈینگی بخار کے ہزاروں مریضوں کو پیپتا کے پتوں کا جوس دیا گیا جسے لینے کے بعد ان کے پلیٹ لیٹس کی تعداد دو تین دن میں نارمل ہوگئی۔ ڈینگی کے علاوہ ITP کے مریضوں میں بھی پپیتا کا شربت کامیابی سے استعمال کیا گیا اس کے علاوہ ہیپاٹائٹس B اورC میں بھی خون میں پلیٹ لیٹس کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ ان مریضوں میں پپیتا کے پتوں کا جوس کامیابی سے استعمال کیاگیا۔ اگر کچھ بن نہ پڑے تو پھر پلیٹلیٹس کی میگا کٹس لگاتے ہیں اور اس سے بھی فرق نہ پڑے تو پھر جسم کے مدافعاتی نظام کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے ImmunoGlobulin کی ڈرپس لگاتے ہیں ۔ ساتھ ساتھ سٹیرائیڈ دوائیں بھی دیتے ہیں جن سے خون میں پلیٹ لیٹس کی مقدار میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگر پلیٹ لیٹس کی مقدار میں کمی ہوتی رہے تو اور کوئی علاج کار گر نہ ہو تو پھرآپریشن کرکے تلی کو نکال دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے پلیٹ لیٹس کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے۔ اگر سیٹرائیڈ دوائیں بھی کارگر نہ ہوں تو آپ کے مدافعانی نظام کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے رٹوکوسین نامی دوا دیتے ہیں جس سے بعض صورتوں میں افاقہ تو ضرور ہوتا ہے۔ لیکن اس طرح کی دوائوں کے مضر اثرات بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اور بھی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں ۔ ان سب باتوں کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ شفاء من جانب اللہ ہے۔ اللہ چاہیں توپپیتا کے پتوںکے جوس سے بھی ITP اور پلیٹ لیٹس کم ہونے کی دوسری وجوہات کو ختم کر سکتے ہیں جیسا کہ ہم نے مشاہدہ اور تجربہ کیا کہ پپیتا کے پتوں کا جوس لینے سے بہت سے ڈینگی کے مریض شفایاب ہوئے اور ان کے پلیٹ لیٹس بھی نارمل مقدار میں آگئے۔ آج کل بھی ڈینگی مریضوں میں شربتِ پپیتا کا استعمال کامیابی سے جاری ہے اور اس سے ڈینگی کے ہزاروں مریض صحت یاب ہو رہے ہیں۔ 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

آج کل پرائیوٹ پریکٹس میں ہر دوسرا مریض ، سر درد، ناک سے پانی بہنا اور خارش، سانس میں رکاوٹ، ذرا سے چلنے سے سانس کا پھول جانا جس میں دردیں ...

مزید پڑھیں

ہم دن میں کتنی باراپنوں سے جھوٹ بھی بولتے ہیں اور بہانے بھی بناتے ہیں ؟۔دن میں کئی مرتبہ ۔جھوٹ کو ام الخبائث کہا گیا ہے، یہ تمام گناہوں کی ...

مزید پڑھیں

بھارتیا جنتا پارٹی کے سربراہ امیت شاہ کی کالی چال اور نریندمودی حکومت کے حالیہ فیصلے نے جہاںآزاد جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو ختم ک ...

مزید پڑھیں