☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) غور و طلب(محمد ندیم بھٹی) دنیا اسپیشل(ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() متفرق(عبدالماجد قریشی) رپورٹ(محمد شاہنواز خان) کھیل(طیب رضا عابدی ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) خواتین() خواتین() خواتین() خواتین() دنیا کی رائے(محمد ارسلان رحمانی) دنیا کی رائے(عارف رمضان جتوئی) دنیا کی رائے(وقار احمد ملک)
دنیا میں انسانیت کا خاتمہ۔۔

دنیا میں انسانیت کا خاتمہ۔۔

تحریر : محمد ندیم بھٹی

12-08-2019

انسان سراپا محبت ہے،اللہ تعالیٰ نے اسے محبت کا پتلا بنا کر دنیا میں بھیجا ،حقوق العباد کی اہمیت بھی اسی لئے قائم رکھی کہ وہ ایک دوسرے کے کام آنا سیکھے ،شاعر نے کبھی اس محبت اور ایک دوسرے کا بوجھ اٹھانے کے جذبوں کو یوں بیان کیا،

کرومہربانی تم اہل زمیں پر

خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر

حال ہی میں ایک معصوم بچی کو دفنایا گیا مگر خون پھر خون ہے بول اٹھا،اس وقت تفتیش جاری ہے اور کئی طرح کے دلائل سامنے آئے ہیں، جواز پہ جواز پیش کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں ہر سال سینکڑوں بچیاں قتل یا کاروکاری کر دی جاتی ہیں ۔کیوں؟ پسند کی شادی کرنے کی وجہ سے گھر والوں کی عزت نیلام کرنے کی ذمہ دار سمجھی جانے والی ان بچیوں کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔صرف ہمارا معاشرہ ہی نہیں ،ہر معاشرے کی بنیادیں ہل رہی ہیں،ہر معاشرہ کسی نہ کسی ایسی خرابی کا شکار ہوتا جا رہا ہے جس سے آنے والے برسوں میں اس کا قائم رہناہی مشکل ہو جائے گا۔لندن میںبرج سٹریٹ میں پیش آنے والا واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔جہاں برطانیہ میں پیدا ہونے والے،وہیں پرورش پانے والے ایک شخص نے چھریوں کے وار کر کے اپنے ہی ہم وطنوں کے خون سے ہاتھ رنگ لئے۔ اس قسم کے جرائم کو پاکستان میں مذہبی دہشت گردی اورتنگ نظری سے تعبیر کیا جاتا ہے،مگر دنیانے اس کی خوفناکی پر پردے ڈالنے کے لئے کئی اچھے اچھے الفاظ چن لئے ہیں، مگر یہ غیر انسانی رویہ کسی طرح بھی قابل برداشت نہیں۔ کوئی دلیل اس کی خوفناکی اوراس میں چھپے ہوئی بے رحمی کو کم نہیںکر سکتی ۔اس کا کوئی جواز بھی قانون کے مطابق نہیں۔

 لیکن اب دنیا میں سب کچھ بدلتا جا رہا ہے،محبت ناپید اور نایاب سی شے بن کر رہ گئی ہے، جسے دیکھو زبان سے شعلے اگل رہا ہے،الفاظ کم اور توپ کا گولہ زیادہ دکھائی دیتے ہیں،ہر جانب لفظوں کے بم چل رہے ہیں ،کوئی ایک دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔’’انسان اتنا بے رحم کیوں ہو گیا ہے؟‘‘یہ نکتہ یکم دسمبر کو ہی شائع ہونے والے اپنے مضمون میں (Sean Illing) نے بھی اٹھایا ہے،انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی ہے کہ ہم اپنے اس قسم کے رویے کو بھلا کس طرح مختلف تاویلیں پیش کر کے درست قرار دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ مصنفہ لکھتی ہیں کہ ’’جب جرمن فوجیوں نے یورپ میں ظلم کا بازار گرم کیا تو انہیں بچپن سے یہی پڑھایا گیا تھا کہ دوسری قوموںاور مذاہب سے تعلق رکھنے والے انسان تو ہیں مگر ان کے جیسے نہیں ۔وہ کم تر ہیں۔ان میں کوئی کمی ہے اور یہ کمی ان کا جرمن نہ ہونا ہے، اس لئے وہ سب کے سب قتل کرنے کے قابل ہیں۔بچپن کی تعلیم نے انہیں یہ سکھایا ہی نہیں کہ باقی قومیں بھی انسان ہیں اور وہ بھی برابر کے سلوک کی حقد ار ہیں۔تعلیم نے انہیں صرف یہی سکھایا کہ دوسرے سب لوگ ایک’’Object‘‘ہیں اور جرمن ان کے ساتھ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔میری رائے میں انسان درحقیت اب Dehumanizeہو چکا ہے‘‘۔ ماہر نفسیات پائول بلوم (Paul Bloom) نے ان سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا کہ انسان کے ’’ڈی ہیومنائز‘‘ ہونے کی تشریح پورے طور پر آج کے حالات پر فٹ نہیں بیٹھتی۔ اس کے لئے کچھ اور بھی سوچنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ بیشتر افرادڈی ہیومنائزیشن کو ہی الزام دھرتے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ جب آپ کسی اچھائی کی تعریف اور برائی کی مذمت کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں، تو برائی خودبخود جگہ پانا شروع ہو جاتی ہے۔جیسا کہ دنیا کے کئی حصوں میں جنیوسائیڈ ہو رہا ہے،وہاں سے غلامی کی خبریں آ رہی ہیں، لیکن بہت سے لوگوں نے ہونٹ سی رکھے ہیں، وہ کچھ نہیں بولتے۔ اس سے بھی معاشرے دھیرے دھیرے ’’ڈی ہیومنائز‘‘ ہوتے جا رہے ہیں یعنی ان میں انسانیت کا خاتمہ ہو رہا ہے۔کیونکہ ہم ناہیں انسان ہی نہیں سمجھتے،۔ انسان سمجھتے تو پھر ہی کچھ کہتے‘‘۔ 

اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی جینو سائیڈ یا غلامی ہے، تشدد یا جبر ہے، وہاں دوسروں کو انسان سمجھنے کی حس ہی دم توڑ چکی ہے،اسی لئے ردعمل کی توقع عبث ہے۔ میں اس کی سادہ سی مثال دوںگا، دنیا میانمار میں ہونے والے قتل عام پر چیخ رہی ہے،7لاکھ روہنگیا مسلمان اپناگھر بار چھوڑ کر بنگلہ دیش جا چکے ہیں لیکن دو ہفتے قبل وہاںچند سو لوگوں نے اس قتل عام اور آن سان سوچی کے حق میں جلوس نکلا، انہوں نے آن سان سوچی کے حق میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، تعداد میںکم تھے مگر قرائن بتا رہے ہیں کہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے سربراہ مارکوزی داروسمین(Marzuki Darusman) نے رپورٹ میں لکھا تھا۔۔۔ بنگلہ دیش ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ بدھ مت جرنیولوں کی پابندیوں اور نسل کشی کا شکار مسلمانوں کی تعداد 2.50 لاکھ سے 4لاکھ کے درمیان ہوگی۔سیدھے سادھے لفظوں میں اسے نسل کشی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔مارزی دارومین نے صاف کہا کہ سلامتی کونسل جنگی جرائم کی تحقیقات کے لئے عالمی عدالت انصاف کو ریفر کرے۔

بھارت کو دیکھیے،یہ ملک بری طرح ڈی ہیومنائز ہو چکا ہے۔ ابھی چند روز پہلے ہی نریندر مودی نے کہا ہے کہ’’ ہم ملک بھرمیں این آر سی کروا کے غیر ملکیوں کو نکال باہر کریں گے‘‘۔21لاکھ بنگالیوں کو غیر ملکی قرار دینے کے بعد ملک کے کئی حصوں میںبڑی بڑی جیلیں بنائی جا رہی ہیں،جہاں انہیںقید کیاجائے گا، ملک بھر میں این آر سی کے بعد کوئی چار کروڑ کے قریب لوگ جیلوں میں بند کئے جائیں گے۔انہیں اس پر دکھ ہے نہ افسوس، وہ یہ سب کچھ ایک بڑے مقصد کی خاطر کر رہے ہیں، جس کے حصول میں چار چھ کروڑ افرادکا قتل کوئی معنی نہیں رکھتا۔لاک ڈائون کو کئی مہینے ہو چکے ہیں۔ لاک ڈائون سے جموں و کشمیر کاریاستی تشخص ختم ہو گیا ہے۔ حکومت نے نقل حمل پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔لاکھوں عوام کو گھروں میںنظربند کر دیاگیاہے۔ ریاست کو فوجیوں سے بھر دیاگیا ہے،خود حکومت کے اعتراضات کے مطابق وہ عوام کو سروسز مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ طالب علم اپنے رشتے داروں سے رابطہ نہ ہونے پر کرب میں مبتلاہیں۔ کشمیر میں عوام کو ادویات، طبی سہولیات اور تعلیمی اداروں تک رسائی کو مشکل بنا دیا ہے۔یہ بنیادی جمہوری حق کے منافی ہے۔جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںکی سینکڑوںرپورٹیں ملی ہیں ۔

لیکن کیا کریں،ان دونوں ممالک میںایک ایسے تصور، آئیڈیالوجی نے جڑ پکڑ لی جس نے پورے میں نظام ہی کو’’ ڈی ہیومنائز‘‘ کردیا۔کیا فوج کیا بیوروکریسی ، سب ایک ہی خطوط پر سوچ رہے ہیں۔ رہے عوام ۔۔وہ تو بیورو کریسی کی لائن پر چلتے ہیں۔وہ بھی میانمار میں ڈی ہیومنائز ہو چکے ہیں۔ اسی لئے کچھ لوگ اسے (instrumental violence) قرار دیتے ہیں ۔وہ یہ جانتے ہی نہیں ہیںکہ وہ کسی انسان کا خون کر رہے ہیں۔ان کے نزدیک کچھ ’’Objects‘‘ ہیں جن سے وہ جان چھڑا رہے ہیں یہ ’’ Objects‘‘ انکے راستے کی دیوار بنے ہوئے ہیں چنانچہ وہ دیوار گرا رہے ہیں اور بس۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی بہت بڑے مقصد کے حصول کی خاطر کر رہے ہیں۔ اور بڑے مقصد کے ئے یہ چھوٹی چھوٹی قربانیاں لازمی ہیں۔ہر جگہ جہاں جہاں بھی ظلم ہوتا ہے، یہی کچھ ہوا ہے، کیمپ نازی کے ہوں یا میانمار میں بدھ متوں کے،بھارت میں نریندر مودی کے ہوں۔۔ پھر یورپ میں بڑھتا ہوا نفرت انگیز جرم ہویا امریکہ میں گوروں کی حاکمیت کے علم بردار،پس منظر میں یہی ہے کہ وہاں انسان کسی مشین یا جانور سمجھا جانے لگا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نفرتوں کی دیواریں کچھ لوگ اپنے عمل سے او رکچھ زبان سے کھڑی کر رہے ہیں ۔دنیا کو تباہی کی جانب لے جایا رہا ہے۔ 

اس قسم کی سوچ پہلے اتنی تیزی سے نہیں پھیلتی تھی جتنی تیزی سے اب اسے ہوا مل رہی ہے۔سوشل میڈیا ایک ایسا فورم ہے جہاں سے دہشت پھیل رہی ہے۔الفاظ گولوں اور بموں کی مانندہیں ، ہر جگہ آگ ہی آگ بحرکائی جا رہی ہے،کوئی خاندان ہو یا محلہ،تعلیمی ادارہ ہو یا سماجی دفتر، حکومت ہو یا این جی او،شہر ہو یا گائوں، ملک ہو یا براعظم،سپر طاقت ہو یا کمزور طاقت،کوئی عالمی تنظیم ہو یا مقامی تنظیم ۔۔۔ہر جگہ ایک خاص سوچ اور آئیڈیالوجی پروان چڑھائی جا رہی ہے۔سوشل میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی ان نفرت انگیز جرائم کے بنیادی ہتھیار بن چکے ہیں ۔اگر اسی طرح معاملہ چلتا رہا تو آنے والے برسوں میں کوئی ملک بھی انتشار و افتراق سے نہیں بچے گا،تباہی و بربادی انسان کا مقدر ہو گی۔ 

اس کا ادراک کسی اور نے نہیں،جرمن چانسلر انجلا مرکل نے بھی کیا ہے ۔حال ہی میں ایک بہت بڑے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا ’’ہمارے ملک میںاظہاررائے کی مکمل آزادی ہے لیکن اظہار رائے کی ایک حد ہو اور یہ وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے نفرت جنم لیتی ہے‘‘۔انہوں نے خبرادر کیا کہ اظہار رائے کی لا محدود آزادی کے بعد ہم ایک معاشرے کے طور پر زندہ نہیں رہ سکیں گے اور ایک خاص سوچ کے غلام بن جائیں گے‘‘۔ 

ان کی دلیل پر دنیابھر میں لے دے ہو رہی ہے کوئی ان کے ساتھ کھڑاہے تو کوئی مخالفت میںبول رہا ہے۔لیکن ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر ہم نے اپنا ہر قسم کا نکتہ نظر پوری قوت سے پھیلانا شروع کر دیا تو کمزور اور کم بولنے والے طبقے کچلے جائیں گے، معاشرے پر شور و غل کی حاکمیت قائم ہو جائے گی جیسا کہ ہم تمام تر ترقی کے باوجود قبائلی اور سوچ اوردقیانوسی رسومات کو ختم نہیں کر سکے ،حالانکہ یہ کسی نصاب میں موجود نہیں۔ بلکہ سینہ بہ سینہ پروان چڑھائی جا رہی ہیں ۔ جیسا کہ ایک ماہر نفسیات نے کیا خوب کہا تھا جب کوئی بات کئی نسلوں میں پائی جاتی ہو، تو وہ انسانی جین کا حصہ بن جاتی ہے یعنی اپنے اس مقصد کو پورا کرنا ہی فرد کے خون میں شامل ہو جاتا ہے ،وہ یہ نہیں دیکھتا کہ سامنے اس کی ماں ہے یا بہن،دوست ہے یا دشمن ،اپنے ہی مک کا ہے یا کسی دورسے ملک کا۔گلے پر چھری چلانا ہی اس کا مقصد بن جاتا ہے۔

ہمارے ہاں بھی کئی قوانین موجود ہیں مگر ایک حد سے آگے نہیں جاتے،امریکہ میں پہلی ترمیم راستے کی دیوار بن جاتی ہے۔یورپ میں اس کے قوانین ہی واضح نہیں ہیں ۔ برطانیہ میں ہزاروں خواتین کو سرعام تشد کا نشانہ صرف اس لئے بنایا گیا کہ وہ عورت ہیں۔پچھلے برس اس قسم کے کم ازکم ایک ہزار واقعات پیش آئے تھے۔تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود وہاں بھی عورت کی عزت کم ہوتی جا رہی ہے۔وجہ صرف یہ ہے کہ میڈیا پر اس قسنم کا مواد حد سے زیادہ پاپ لوڈ کیا جا رہا ہے جس میں عورت کوبھی ایک ’’Object‘‘کے طور پر لیا گیا ہے۔ امریکہ میں بھی اس قسم کے جرائم اپنی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔ایف بی آئی کے مطابق یہ سولہ برس میں سب سے زیادہ ہیں،2018ء کے اعداد و شمار ملاحظہ کیجئے ۔

امریکہ میںرنگ ، نسل یا آباء اجدادکے خلاف جرائم : 59.6فیصد(کل تعداد5155) زیادہ تر سیاہ فاموں اور افریقی امریکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

مذہبی تعصب کی بنیاد پر جرائم:18.7فیصد(کل 1617واقعات)

عورت ہونے کی وجہ سے جرائم:16.7فیصد

جینڈر کی بنیاد پر جرائم:2.2فیصد

معذوروں سے تعصب کی بنیاد پر جرائم:2.1فیصد

اگر ہم جائزہ لیں تو ہر معاشرہ ایک خاص مشکل کا شکار ہے،پاکستان میں مشکلات تعلیم کی کمی اور اس کی کچھ قدیم اور پرانی رسومات میں مضمر ہیں۔ جبکہ امریکہ اوریورپ میںبرائی کامرکز ان کاماضی ہے وہ یہ جان گئے ہیںکہ ماضی میںہونے والی ان کی تمام تر ترقی کاراز غیر ملکی غلاموں کی محنت کا مرہون منت ہے، اسی لئے اب ان کی پوری کوشش ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے تلخ ماضی سے چھٹکارا پالیں۔اس کی ایک ہی صورت ہے کہ انہیں وہ لوگ ہی نظر نہ آئیں جو ان کی ہزیمت کا باعث بنے ہیں یعنی سیاہ فام باشندوںاور مسلمانوں سے جان چھڑا لی جائے اور حتیٰ کہ یہودی بھی۔انہوں نے ہی ان کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیا تھا۔یہودیوں کی عبادت گاہوں پر بھی اس قدر حملے ہوئے ہیں کہ اب انہوں نے بھی کان پکڑ لئے ہیں۔وہ بھی کئی بستیوں سے نکل رہے ہیں۔

گھوم پھر کر سارے الزامات سوشل میڈیا پر ہی لگتے ہیں۔ اسی لئے واٹس ایپ اور فیس بک کے بانی کئی طرح کے نئے قوانین کی تیاری کے لئے مسلسل رابطے میں ہیں ، انہوں نے کچھ باتیں ماننے سے انکار کر دیا ہے مگر کچھ باتیں انہیںبھی ماننا پڑی ہیں ۔اس گروپ کو گزشتہ چند برسوں میں 10ارب ڈالر کے جرمانے ہو چکے ہیںاسی لئے فیس بک انتظامیہ بھی بہت محتاط ہے لیکن اظہار رائے کے قوانین اپنی جگہ مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ میری رائے میں وقت کے ساتھ ساتھ ان قوانین کو بھی پس پشت ڈالنا ہو گا ورنہ کہیں انجل مرکل کی یہ بات سچ نہ ثابت ہو جائے کہ معاشرے تباہی کا شکار ہوسکتے ہیں!

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد میٹرک امتحانات یونیورسٹی لے رہی تھی۔وقت گزرنے اور طلبہ کی تعداد میں اضافہ کی وجہ سے صوبوں میں میٹرک ...

مزید پڑھیں

الیکشن 2018کے نتیجہ میں پاکستان میں جمہوری حکومتیں قائم ہیں اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں آئین کے مطابق قانون سازی کا عمل جاری ہے ۔

...

مزید پڑھیں

یہ ان دنوں کی بات ہے جب جہالت میں ڈوبے عرب کے صحرا نورِ الٰہی سے منور ہوئے تو سارا جہاں جگمگانے لگا یوں تو ان دنوں کا اِک اِک لمحہ اور ان لم ...

مزید پڑھیں