☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) صحت(ڈاکٹر فراز) خصوصی رپورٹ(عبدالماجد قریشی) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() تاریخ(ایم آر ملک) غور و طلب(پروفیسر عثمان سرور انصاری) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) متفرق(عبدالمالک مجاہد) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
’’گرما گرم انڈے ۔۔۔گرم انڈے۔۔۔‘‘

’’گرما گرم انڈے ۔۔۔گرم انڈے۔۔۔‘‘

تحریر : پروفیسر عثمان سرور انصاری

02-02-2020

گرما گرم انڈے ۔۔گرم انڈے۔۔۔

اس آواز کا سردیوں کی یخ شاموں سے لے کر گہری راتوں کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جس طرح بہار کیساتھ پھولوں کا گرمیوں کی آمد کے ساتھ آموں کا غیر محسوس طریقے سے انتظار ہمارے معاشرے کے مجموعی مزاج کا حصہ ہے ایسے ہی اس آواز کے بغیر سردی کا احساس ادھورا رہتا ہے۔کچھ سردی پسند افراد تو اس آواز کے کانوں تک آنے کے ساتھ ہی چادر کی بکل کھول کر دوبارہ لپیٹتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے پٹاخے کی آواز کے ساتھ جسم کپکپا سا جاتا ہے کہ انسان کے جسم میں کچھ افعال اس کی طبیعت اور گذشتہ تجربات کی بنا پر خود بخود ہی انجام پاجاتے ہیں۔ اس آواز کے ساتھ سردی کا احساس تو ہے ہی اس کے علاوہ بہت سی داستانیں بھی وابستہ ہیں ۔ایسا ہو بھی کیوں نا کہ جب کوئی کام مخصوص اوقات میں کچھ عرصہ معاشرے کا حصہ بنا رہے تو ثقافت کا جز بن جایاکرتا ہے۔ 

 جو انڈہ 10سے 12روپے میں کسی بھی دکان سے باآسانی مل جاتا ہے وہی انڈہ ابال کر 30سے35روپے میں بیچا جاتا ہے۔ اس طرح اس کام میں تقریباً 200گنا تک منافع کا تناسب ہے جو شاید کسی دوسرے کاروبار میں ممکن نہیں اگر روز کے 100انڈے بھی بیچے جائیں تو منافع 2ہزارسے25سو کے درمیان بنتا ہے یعنی 60ہزار سے 75ہزار ماہانہ کے درمیان پہنچ جاتا ہے جو کہ کسی بھی اچھے رینک کے پڑھے لکھے سرکاری اور پرائیویٹ ملازم کی تنخواہ سے کہیں زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ ہر آنے والے سال گزشتہ سال کی نسبت اس کام کے کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی لاری اڈا، ریلوے سٹیشن، پبلک پلیس، بازار اور سڑک ایسی نہیں جس پر ہمیں ایسے لوگوں کی بہتات نظر نہ آئے جو ہاتھ میں واٹر کولر پکڑے جس کے اندر کپڑے میں لپٹے گرم انڈے ہوتے ہیں جو اپنی مخصوص آواز میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں مصروفِ عمل ہوتے ہیں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد گنجان آبادیوں کی گلیوں میں بھی ہوم ڈلیوری دیتے ہوئے موجود پائی گئی ہے اس کاروبار کے چمکنے کی بڑی وجہ سردیوں میں سوئی گیس کی کمی اور لوڈ شیڈنگ کے ساتھ ساتھ خواتینِ خانہ کی ٹی وی ڈراموں میں کھو جانے کی حد تک مصروفیت بھی ہے آج کے دور کی خودساختہ مصروفیت بھی ہے اور گلوبل ویلج کی سوغاتِ عظیم انٹرنیٹ کے باعث طبیعت میں پیدا ہونے والی کاہلی بھی ہے کہ آج ہم ہر چیز ریڈیمیڈ اور جلد از جلد اپنی دہلیز پرچاہتے ہیں اس پیشے میں منافع کی شرح اور بھی بڑھ جاتی ہے مگر اس کے لیے ضمیر کا مردہ ہونا ضروری ہے جو کہ دولت پسند افراد میں پیسے کی ہوس سے پہلے ہی ہوچکا یہی وجہ ہے کہ انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہیچریز میں خراب ہوجانے والے انڈوں کو جو باہر پھینک دیا جاتا تھا آج نہیں پھینکا جاتا اور ذیادہ منافع کمانے کی ہوس میں مبتلا افراد جو ساری گرمیاں انڈے اپنے گوداموں میں اس لیے چھپا کے جمع کرتے رہتے ہیں کہ سردیوں میں مہنگے فروخت کرکے زیادہ دولت کمائی جاسکے ان کو بھلا اتنا حوصلہ کون لاکے دے کہ وہ اپنے گوداموں میں مدت اور گرمی کے بڑھ جانے کے باعث گل سڑ جانے والے انڈوں کو ضائع کردیں اور حوصلہ ملے بھی کہاں سے یہ کوئی جنس یا شے تھوڑی ہے جوکہیں سے خریدی جاسکے یہ تو احساس ہے جو صرف پیدا ہی ہوسکتا ہے اور وہ بھی زندہ احساس کے تخم سے کہ مردہ اوصاف جنم دینے کی صلاحیت سے محروم ہوا کرتے ہیں ایسے غلیظ اور مضرِ صحت انڈے بیچنے کا صحیح وقت سردی ہی ہے اور صحیح طریقہ ابال کربیچنے میں ہے ۔ ہمارے ایک دوست راوی ہیں انہوں نے ایک بار ابلا ہوا انڈا خریدا جب اس کا چھلکا اتار گیا تو اندر سے نامکمل چوزے کا وجود پایا گیا وہ دوست اس دن سے ایسے بیزار ہوئے کہ اپنے ہی گھر کی پلی ہوئی مرغی کا انڈا بھی نہیں کھاتے ایسا کاروبار جس میں کچرا بھی تین گنا قیمت پربک جائے اپنے اندر جاذبیت تو پوری رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ انڈے کے کاروبار میں پاکستان کے بااثر سیاستدان اور اگر بات یقین کی حدوں سے پرے کہیں اپنی اہمیت نہ کھو دے تو میں جرات رکھتا ہوں کہنے کی کہ ماضی کے حکمران بھی اس گھنائونے کاروبار میں ملوث ہیں اور اس رجحان کے دن بدن بڑھنے کی یہ بھی ایک وجہ ہے۔ 

بالغ اور بڑی عمر کے افراد کا یہ روزگار قابلِ تحسین اور دلچسپ بھی سمجھا جاسکتا ہے مگر پیسے کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے باعث کم عمر بچوں اور جوان عورتوں کا بھی اس روزگار میں بڑھتا ہوا اضافہ یقینا تشویش کا باعث ہے کہ سردیوں کی اندھیری رات ان دونوں کے لیے ہی کسی بھی صورت اس اخلاقی بگاڑ والے معاشرے میں خطرے سے خالی نہیں جس معاشرے میں دن دیہاڑے تشدد کے واقعات رونما ہونے کی شرح بڑھ رہی ہے۔ اس معاشرے اور اس میں ہونے والے ایسے ظالمانہ واقعات کو دیکھتے ہوئے تو بالکل ہی غیر محفوظ اور اپنے آپ کومشکلات میں ڈالنے سے کم نہیں ۔

 پچھلے کچھ سالوں سے اس روزگار سے وابستہ افراد میں معصوم بچوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شمولیت کو دیکھا گیا ہے جس سے حکومت کے قانون پر عمل درآمد یقینی بنانے کے عزم اور دعوے پر سوالیہ نشان سا لگ گیا ہے سڑکوں پر روزی روٹی کی کھوج میں پھرنے والے یہ معصوم بچے اس بات کی دراصل تصدیق کررہے ہوتے ہیں نہ تو اس ملک کے قانون ساز اداروں کو اس بات کا ادراک ہے کہ انہوں نے اب تک کون کون سے قانون بنائے ہیں اور نہ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اراکین نے کبھی یہ زحمت گوارہ کی ہے کہ وہ فرصت کے کسی لمحے قانون کی کتاب کھول کر دیکھ ہی لیں کہ جن فرائض کی انجام دہی کے لیے وہ پاکستان کے غریب عوام کے ٹیکسوں سے ادا ہونے والی موٹی موٹی تنخواہیں لیتے ہیں وہ اصل میں ہیں کیا اور ان کو کرنا کیا ہے ایسے بیکار میں مصروف اہم ذمہ داریوں پر فائز افراد کی سہولت کے لیے آئین اور قانون کی موٹی موٹی کتابوں سے وہ حقائق ذیل میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کے بہترین حل کے لیے ان شاطرانہ معصوم لوگوں کو عہدوں پر فائزکیا گیا میں تو اس حقیقت سے پردہ اٹھا کے ہی رہوں گا کہ یہ افراد خود بخود ہی ہر طرح کے منفی ہتھکنڈے بروئے کار لاتے ہوئے ان عہدوں پر براجمان ہوچکے ہیں۔ 

اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق چائلڈ لیبر دراصل وہ کام ہے جو بچے کے لیے بلحاظ عمر اور کام کی نوعیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کم از کم متعین اوقات سے زیادہ اورپر خطر ہو پاکستان میں بچوں سے ملازمت کروانے اور چائلڈ لیبر کی ممانعت ہے۔1973کے آئین کے آرٹیکل 3کے تحت ریاست استحصال کی تمام اقسام کے خاتمہ اور اس بنیادی اصول کی تدریجی تکمیل کو یقینی بنائے گی کے ہر کسی سے اس کی اہلیت کے مطابق کام لیا جائے گا۔ آئین کے آرٹیکل 11کے تحت 14سال سے کم عمر بچے کو کسی کارخانے یا کان یا دیگر پرخطر کام میں نہیں رکھا جائے گا آئین کے آرٹیکل 37کے تحت ریاست منصفانہ اور نرم شرائط کار اس امر کی ضمانت دیتے ہوئے احکام واضع کرے گی کہ بچوں اور عورتوں سے ایسے پیشوں میں کام نہ لیا جائے جو ان کی عمر اور جنس کے لیے نا مناسب ہوں آئین کی ان شکوں پر عمل درآمد کروانے کے لیے جو قوانین مرتب کیے گئے ۔ان کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ روڈ ٹرانسپورٹ ورکر آرڈیننس 1961شاپس اینڈاسٹیبلیشمنٹس آرڈیننس 1969،ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 1991، ایمپلائمنٹ آف چلڈرن رولز 1995اور مرچنٹ شپنگ آرڈیننس 2001وغیرہ وہ قوانین ہیں جو بچوں کے کام کرنے کی نوعیت اوردورانِ کام تحفظ کا بندو بست کرنے کے لیے ہیں آئین کے آرٹیکل 3کی تفصیل میں درج ہے کہ بچے ایسے پیشوں میں ملوث نہیں ہونگے جو مسافروں ،سامان یا ڈاک کی بار بردارے سے متعلق ہوں ریلوے سٹیشنوں پر سامان خوردونوش کی سپلائی یا پھر باہم رسائی کے متعلق ہوں جس میں ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم تک جانا اور چلتی ہوئی ٹرین میں چڑھنااور اترنا شامل ہوں اس تفصیل کی روشنی میں یہ بات واضع ہوجاتی ہے کہ بس اسٹاپ ،لاری اڈے اور سڑکوں کے کنارے بھی اسی آرٹیکل میں آتے ہیں۔

یہ وہ قوانین ہیں جن کی خلاف ورزی سرعام ہورہی ہے مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ارے نہیں نہیں یہ کہاوت پرانی ہونے کے ساتھ ساتھ شاید اب 100فیصد تک اپنی صداقت اور عملیت بھی کھو چکی ہے یقین تو نہیں آتا چلو اپنی اس تاریخی کہاوت کے بقاء کی خاطر ہم اسے 5سے 10فیصد تک سچ مان ہی لیتے ہیں وگرنہ حقیقت تو یہاں تک پہنچ چکی کہ اختیار اور دولت کے نشے میں بد مست یہ لوگ اب شایدپہاڑ بھی سر پر آن پڑنے سے ہوش میں نہ آپائیں کہ غفلت کی نیندموت کی مانند ہے جس سے بیداری یومِ حساب سے پہلے ممکن نہیں۔ 

سردیوں کی دھند اور گہری رات میں جگہ جگہ انڈے بیچتے ہوئے معصوم بچے اصل میں اس بات کا اعلان کررہے ہوتے ہیں کہ اس ملک کے قوانین صرف کتاب میں چھپنے کے لیے بنائے جاتے ہیں ناکہ ان پر عمل کرنے کے لیے یہاں کوئی صاحبِ دل نہیں جو معاشرے کی اس المیے کی طرف توجہ کرسکے اور اس سے وابستہ ممکنہ خطرات کو محسوس کرکے ان معصوم بچوں کی بہتر پرورش کے لیے کچھ احسن قدم اٹھا سکے ان کے بگڑتے ہوئے مستقبل کو سنوارنے کی ہلکی سی کوشش کرسکے ۔اگر ایسا کوئی نہیں تو میں بتاتا چلوں محلے میں لگی ہوئی آگ سے اپنے گھر کو بچانے کاواحد طریقہ اس آگ کوبجھانا ہی ہے۔جبکہ دوسری جانب جرائم پیشہ افراد معاشرتی حقائق سے بہت اچھی طرح واقف ہیں اور جرم کی گنجائش نکال لینے میں انتہائی زیرک دماغ رکھتے ہیں سڑکوں پر انڈے بیچنے والے 4سال سے لے کر 14 سال کی عمر تک کے یہ بچے اور جوان خواتین کئی قسم کی معاشرتی برائیوں اور جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں جن میں جنسی جرائم، بھیک مانگنا ، چوروں کے لیے ریکی کرنااور منشیات کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی شامل ہے۔

سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کی شرح نے عوام کو بے حسی کے سمندر میں دھکیل دیا ہے وگرنہ ایسی بات بھی نہیں اولاد تو جانوروں کو بھی پیاری ہوتی ہے چھوٹی سی چڑیا بھی اپنے بچوں کا کھانا گھونسلے میں لا کر ہی دیتی ہے انہیں ہوائوں کے دوش پر تنہا نہیں چھوڑتی انڈے بیچنے والے معصوم بچوں کی مائیں تو پھر بھی انسان ہیں ان کے دکھ درد اور تکلیف کا اندازہ کوئی دوسرا کیسے کرسکتاہے کسی کو کیا خبر کہ ان کو کس حد تک حوصلے کی ضرورت ہوتی ہوگی جب وہ اپنے معصوم بچوں کو انڈے دے کر باہر بھیجتے ہوئے یہ کہتی ہوگی کہ جاپتر اﷲ کے حوالے تو یقین کرو اس وقت اس کا اﷲ کی ذات پر توکل واقع ہی اوجِ ثریا کو چھوتاہوگا ۔ماں کی ممتا کس قدر تڑپتی ہوگی جب بھوک اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ اپنے بچوں کی محبت ہی ہڑپ کرجاتی ہے۔ آج میں حکومت سے ہاتھ جوڑ کر درخواست گزار ہوں کہ خدارا، اس قوم کی مائوں کو بھوک سے بچانے کی کوئی تدبیر کرو کہ قومیں مائوں کی آغوش سے ہی پروان چڑھتی ہیں ،اگر یہ آغوش ہی نہ رہی تو قوم کا کیا ہوگا ۔میں تو کہہ نہیں سکتا ،آپ محسوس کرلیں ۔

 

لاری اڈے پر انڈے بیچنے والا معصوم نشے کا عادی کیسے بنا؟

 

8، 9سالہ معصوم بچہ جوگجرات کے لاری اڈے پر انڈے بیچنے سے منسلک ہے نشے کی لت کا شکار ہو چکا ہے جب اس سے اس بابت تفصیل پوچھی گئی تو حیرت انگیز حقائق سامنے آئے۔ عمیر نے بچگانہ معصومیت سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آدھی آدھی رات تک سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے انڈے بیچنے سے بمشکل 4سے 5سو تک کما پاتا تھا تو اپنے حالات اور شدید محنت سے اکثر پریشان رہتا تھا کہ اسی دوران اسے ایک آدمی ملا جس کے نام سے وہ آج بھی واقف نہیں اس آدمی نے اس کی انڈوں کی بالٹی میں ایک شاپر رکھتے ہوئے کہا کہ کسی کو بتائے بغیر اس شاپر کو شاہ دولہ چوک میں کھڑے اس شخص کو دے آئو جو تمہیں پاس بلا کر یہ شاپر مانگے گا اس کام کے اس نے مجھے ایک ہزارروپے بھی دیے اتنی آسانی سے اتنے سارے پیسے ملنے کی وجہ سے مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں نے روز کے روز ایسا کرناشروع کردیا اب میں گھر سے ملنے والے پیسوں کے انڈے بھی نہیں خریدتا تھا اور نہ ہی گھوم پھر کر بیچتا تھا۔ میرے گھر والے بھی بڑے خوش تھے کہ میں بڑے پیسے کما کر لارہا ہوں جبکہ میں تو بس ایسا ہی ایک شاپر ایک جگہ سے دوسرے جگہ پہنچا کر باقی سارا وقت اسی لاری اڈے کے کسی کونے میںآگ جلائے سکون سے بیٹھا رہتا تھا۔ پھر ایسے ہی ایک روز میں نے اس شاپر میں موجود وہ سیاہ چیزدیکھ ہی لی جس نے میرے بختوں میں سیاہی ہی سیاہی بھر دی۔ جب میں نے اس چیز کے حوالے سے اس آدمی سے بات کی تو اس نے مجھے اس کے فوائد بتائے اور سگریٹ بھی بنا کر دیا ۔چند کش لگا کر مجھے عجیب سی کیفیت کا احساس ہوا ۔ اس کے بعد سے میں ہر قسم کے نشے کا عادی ہوچکا ہوں۔ میں بھی دوسرے بچوں کی طرح سکول جانا چاہتا ہوں، کھلونوں سے کھیلنا چاہتا ہو ں مگر میں بدنصیب غریب گھرمیں پید اہوا اور زندہ رہنے کی کوشش کرتے کرتے مجھے پتہ ہی نہیں چلا کب موت کی بانہوں نے مجھے جھکڑ لیا کہ آج میں چاہتے ہوئے بھی ان سے آزادی حاصل کرنے میں ناکام ہوں۔ 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 میری طلب بھی انہی کے کرم کا صدقہ ہے ،یہ قدم اٹھتے نہیں اٹھا ئے جاتے ہیں۔رمضان المبارک کی ابتدا ہے اور ہر کوئی اس مہینے کی برکات حاصل کرنے کیلئے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق سحری و افطاری کا اہتمام کرتا ہے کرنا بھی چاہئے کہ بیشک رمضان المبارک تمام مہینوں میں سے افضل ترین مہینہ ہے اور اس مہینے میں عبادت کی جو فضیلت و اہمیت ہے بلاشبہ وہ کسی حجت کی محتاج نہیں۔    

مزید پڑھیں

 مشکل حالات ، غیر یقینی صورت حال میں سخت فیصلے او ر فی الفور عملی نفاذ ریاست کا استحقاق ہے۔ شہریوں کی جان ومال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ وبائی حالات میں شہریوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کیلئے ریاست سخت ترین اقدام سے بھی گریز نہیں کرتی۔    

مزید پڑھیں

کورونا وائرس کی وبائی بیماری نے اس وقت پورے کرہ ارض کو جکڑا ہواہے ، مگراس موقع پر یورپی ملک سوئیڈن ایک محدودپیمانے پر لاک ڈاون کرکے اپنے پڑوسی ممالک کے درمیان کھڑا ہے۔    

مزید پڑھیں