☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر مختار احمد عزمی) متفرق( حامد اشرف) غور و طلب(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(حکیم نیازاحمد ڈیال) کلچر(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(عابد حسین) افسانہ(وقار احمد ملک) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) کچن کی دنیا دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) کھیل(منصور علی بیگ) متفرق(ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی) خواتین(نجف زہرا تقوی)
لاک ڈائون کا ’’تحفہ ‘‘ زمین کے ارتعاش میں کمی

لاک ڈائون کا ’’تحفہ ‘‘ زمین کے ارتعاش میں کمی

تحریر : خالد نجیب خان

04-19-2020

 ’’اللہ کا شکر ہے‘‘یہ جملہ تو یوں بھی ہر وقت ہماری زبانوں پر رہنا چاہئے مگر آجکل تو خصوصاًہونا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے ہی ہمیں لاک ڈاؤن سے نکال کر شیطان کو لاک ڈاؤن کردیا ہے۔
 

 

لاک ڈاؤن بیشک جزوی طور پر ہی ختم ہوا ہے مگر فی الحال اتنا بھی غنیمت ہے۔سب لوگ جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں بہت سے ممالک کی انتظامیہ کو کرونا کا مقابلہ کرنے کیلئے کرفیوکا نفاذ کرنا پڑا ہے جس سے وہاں کی عوام کو بیشمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں عوام کو کرفیو کی وجہ سے جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا ُن میں سے بہت سے لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ’’ اِس سے تو بہتر تھا کہ مودی صاحب ہمیں کورونا سے ہی مرنے دیتے‘‘۔ اللہ کے فضل و کرم سے ہمیں ایسی کسی صورتحال کاسامنا نہیں کرنا پڑاہے ۔ یقینا وہ دن بھی ضرور آئے گا جب پاکستان کورونا فری قرار پاجائے گا۔
وزیر اعظم عمران خان کا خیال ہے کہ اپریل کے آخر تک کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے اور کل آبادی کے چار سے پانچ فیصد لوگوں کو ہسپتال جانا پڑسکتا ہے۔بیشک ایک خطرناک وبائی مرض کے پھیلائو میں یہ اعدادو شمار بہت بڑے نہیں ہیں مگر اسکا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں ہے کہ تمام احتیاطی تدابیر کو بالائے طاق رکھ دیا جائے ۔ پاکستان میں اِس وقت کورونا کے حوالے سے شرح اموات 2 فیصدیا اِس سے بھی کم ہے مگر اس بات کا بھی توکوئی یقین نہیں ہے کہ جسے کورونا ہو گا اُسکا شمار98 فیصد میں ہوگا یا2 فیصد میں ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ بات تو پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ کورونا نے پاکستان کی ساری عوام کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا ہے جسکی ضرورت گزشتہ کئی دہائیوں سے بڑی شدت سے محسوس کی جارہی تھی۔
 کورونا کی شدت خدا نخواستہ اگر بڑھتی بھی ہے تو پاکستانی قوم میں آ جانے والا ڈسپلن اُسکو جلد ہی ختم کردے گا۔ڈسپلن ایک ایسی خوبی ہے جس کے آگے بڑے بڑے مسائل اپنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں پاکستان دشمن قوتیں ایسی تدابیر کرتی رہی ہیں جس سے پاکستانی لوگ مختلف گروہوں میں بٹ کر ملک کو کمزور اور دشمن کو مضبوط کرتے رہے ہیں۔
 انگریزی میں کہاوت ہے کہ’’Pay the devil his due‘‘ یعنی اگر شیطان نے بھی کوئی اچھا کام کیا ہے تو اُسے اُس کا حق ضرور دیں ۔تو ہمیں بھی کورونا کو اُس کا حق ضرور دینا چاہئے ۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اربوں افراد کورونا وائرس کی وبا ء کی وجہ سے گھروں تک محدود ہیں یا اُن کی نقل و حرکت محدود ہونے کی وجہ سے زمین کے حرکت کرنے کے انداز پر بھی فرق پڑ رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام یا تفریح کی غرض سے ٹرینوں اور گاڑیوں کا سفر بھی خاصا محدود ہو گیا ہے اور بہت سے بھاری کارخانے بھی بند ہیں۔اتنے بڑے پیمانے پر انسانی سرگرمیوں میں کمی سے زمین کی سطح پر پیدا ہونے والا ارتعاش بھی کم ہو گیا ہے۔ زمین کے کل وزن چھ سو ارب کھرب ٹن کے پیش نظر حقیقت میں یہ ایک حیران کن بات ہے۔
   بیلجیئم کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ’’ سماجی پابندیاں لگنے کے بعد سے زمین کی تھرتھراہٹ کی فریکوئنسی 1-20 ہرٹز کے درمیان ہے۔ یاد رہے کے ایک سے 20 ہرٹز کی فریکوئنسی سے نکلنے والی آواز ایک بڑے گٹار یا موسیقی کے بڑے آلے سے زیادہ گہری ہوتی ہے۔نیپال کے زلزلوں کے ماہرین نے بھی ارتعاش کی اِس کمی کو محسوس کیا ہے۔
    کورونا وائرس کے حملے کے بعد اِسکے خوف سے پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں کلب اور عیاشی اور فحاشی کے تمام مراکز بھی بند ہوچکے ہیں اور یقینا آئندہ بھی کچھ عرصہ تک بند ہی رہیں گے ۔ یقیناًیہ ایک اچھی بات ہے اور اِس کا کریڈٹ کورونا کے سوا کسی اور کو نہیں دیا جاسکتا۔
 کورونا کی وجہ سے لوگوں نے گھروں سے نکلنا تو کم کر ہی دیا تھا مگر جو لوگ ضرورتاً باہر نکلتے رہے ہیں اُنہوں نے فطرت کے وہ تمام نظارے بھی دیکھ لئے ہیں جو اِس سے قبل مصروفیت اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث اُن کی نظروں سے دور ہی رہتے تھے ۔ بیشمار ایسے لوگ ہیں جنہیں غمِ روزگار کے باعث سجدہ شکر بجا لانے کی فرصت نہیں ملتی تھی،انہوں نے بھی اب اپنے پروردگار سے نہ صرف رجوع کیاہے بلکہ اِس پر کاربند رہنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے۔ تمام اہل خانہ کو اِس نے ایک مرتبہ پھر سے جمع ہونے کا موقع فراہم کیا ہے اور اُنہیں اپنی خاندانی روایات کو تازہ کرنے کا موقع ملا ہے خصوصاً وہ روایات جو جدید گیجیٹس کے آجانے کی وجہ سے بالکل ہی گم ہو چکی تھیں۔
 چند روز پہلے تک ہمارے ہاں گھروں، بازاروں اور محلوں میں صفائی کا جو معیار تھا وہ کچھ ایسا بہتر ہوگیا ہے کہ انسان کو بیماریوں سے محفوظ رہنے کا سبق مل گیا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اِن کٹھن حالات نے لوگوں کی جو تربیت کی ہے وہ زندگی بھر اُن کے کام آئے گی۔
 کورونا وائرس کے معاملے کے دوران میں ہماری حکومت نے شرح سود میں بھی نمایاں کمی کردی ہے۔ یوں تو سودی نظام کو ہی گول کرکے واپس بھیج دینا چاہئے تھا مگر بھاگتے چور کی لنگوٹی کے مصداق ہمیں اِس پر بھی اکتفا کر لینا چاہئیے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا کی وجہ سے بہت سے لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے ، خصوصاًچھوٹی چھوٹی ملازمتیں کرنے والے یہ لوگ ملازمت کی پابندیوں سے آزاد ہو کر اب چھوٹے موٹے کاروبار کرکے نئی زندگی انجوئے کرنے لگے ہیں اور اُن کی زندگی کا یہ رخ یقیناً ایسا ہے کہ اِسکا زوال بھی ممکن نہیں ہے۔
 محققین کا کہنا ہے کہ قدرتی ماحول کی تباہی کی ذمہ داری انسانی سرگرمیوں پر ڈالی جاسکتی ہے، جن میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ انسان نے جنگلی جانوروں کے ساتھ باہمی میل جول خاصا بڑھا لیا ہے۔اِن جنگلی جانورں کے مخصوص وائرس اب انسانوں میں منتقل ہونا شروع ہو رہے ہیں۔
    ایڈز سارس،برڈ فلواور اب کورونا قابل ذکر ہیں۔ امریکی محققین نے 140 ایسے وائرس کا جائزہ لیا ہے، جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوئے اور پھر ان کاموازنہ آئی یو سی این کی ریڈ لسٹ میں شامل ان جانوروں سے کیا گیا، جن کے ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔پتہ یہ چلا کہ پالتو جانوروں کے علاوہ چمگادڑوں، چوہوں اور پرائیمیٹ کہلانے والے جانوروں میں سب سے زیادہ زونوٹک وائرس پائے جاتے ہیں۔ محققین نے یہ بھی بتایا کہ وائرس کے جانوروں سے انسانوں میں منتقلی کے سب سے زیادہ امکانات ایسی صورت میں ہوتے ہیں جب متعلقہ جانوروں کو اپنے قدرتی ماحول کی تباہی کے سبب ناپیدگی کا خطرہ ہو۔ 
سائنسدان ابھی تک حتمی طور پر اس بات کا تعین نہیں کر پائے ہیں کہ نیا کورونا وائرس کون سے جانور سے انسانوں میں منتقل ہوا۔ اب تک شک پینگولین اور چمگادڑ پر ہے۔
کورونا وائرس کے حملے کے بعد جس طرح لوگ فطرت کی طرف رجوع کررہے ہیں توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ مسئلہ جلد یا بدیر ضرور ختم ہو جائے گا۔
 
 
 
 

 

مزید پڑھیں

کورونا وائرس انفیکشن کے سبب دنیا کے200سے زائد ممالک مریضوں کی تعداد میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی ا موات پر قابو پانے کی جدوجہدپر مجبور ہیں اور اندازہ لگایا جارہا ہے کہ دنیا کے بیشترممالک کو اس سال جون کے مہینہ تک انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے لاک ڈائون لازمی طور پر کرنا پڑے گا۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 میری طلب بھی انہی کے کرم کا صدقہ ہے ،یہ قدم اٹھتے نہیں اٹھا ئے جاتے ہیں۔رمضان المبارک کی ابتدا ہے اور ہر کوئی اس مہینے کی برکات حاصل کرنے کیلئے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق سحری و افطاری کا اہتمام کرتا ہے کرنا بھی چاہئے کہ بیشک رمضان المبارک تمام مہینوں میں سے افضل ترین مہینہ ہے اور اس مہینے میں عبادت کی جو فضیلت و اہمیت ہے بلاشبہ وہ کسی حجت کی محتاج نہیں۔    

مزید پڑھیں

 مشکل حالات ، غیر یقینی صورت حال میں سخت فیصلے او ر فی الفور عملی نفاذ ریاست کا استحقاق ہے۔ شہریوں کی جان ومال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ وبائی حالات میں شہریوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کیلئے ریاست سخت ترین اقدام سے بھی گریز نہیں کرتی۔    

مزید پڑھیں

کورونا وائرس کی وبائی بیماری نے اس وقت پورے کرہ ارض کو جکڑا ہواہے ، مگراس موقع پر یورپی ملک سوئیڈن ایک محدودپیمانے پر لاک ڈاون کرکے اپنے پڑوسی ممالک کے درمیان کھڑا ہے۔    

مزید پڑھیں