☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر مختار احمد عزمی) متفرق( حامد اشرف) غور و طلب(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(حکیم نیازاحمد ڈیال) کلچر(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(عابد حسین) افسانہ(وقار احمد ملک) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) کچن کی دنیا دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) کھیل(منصور علی بیگ) متفرق(ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی) خواتین(نجف زہرا تقوی)
خطرہ ہی خطرہ

خطرہ ہی خطرہ

تحریر : محمد سمیع گوہر

04-19-2020

کورونا وائرس انفیکشن کے سبب دنیا کے200سے زائد ممالک مریضوں کی تعداد میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی ا موات پر قابو پانے کی جدوجہدپر مجبور ہیں اور اندازہ لگایا جارہا ہے کہ دنیا کے بیشترممالک کو اس سال جون کے مہینہ تک انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے لاک ڈائون لازمی طور پر کرنا پڑے گا۔
 

 

ترقی پذیر ممالک جن کی معیشت کا انحصار بیرونی قرضوں اور امداد پر ہوتا ہے ان ممالک میں صنعتی ترقی کا پہیہ رک جانے، کاروباری سرگرمیاں معطل ہوجانے،سٹاک مارکیٹ کی مندی، ٹریولینگ اور ٹورازم ماند پڑجانے،ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام ہو جانے ، شاپنگ سینٹرز، شادی ہال،سینمااور ریسٹورینٹس کے بند کردینے کی بناء پر ٹیکسز کی وصولیابی نہ ہونے کی بناء پر ان کی معاشی ترقی بری طرح تباہی کی جانب گامزن ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ان ممالک نے اس عفریت کا مقابلہ کرنے کیلئے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم پلاننگ نہ کی تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ بیشتر ممالک اقتصادی طور پر دیوالیہ قرار دئیے جاسکتے ہیں۔ اس وقت یہ کہنا مشکل ہوگا کہ ایشیائی،یورپی ،افریقی اور امریکی ممالک کورونا وائرس کی بناء پر پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے مستقبل میں کیا اقدامات کرسکتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ترقی پذیر ممالک میں صارفین کی جانب سے روز مرہ کی اشیاء کی خریداری کی طلب میں خاصی کمی واقع ہو سکتی ہے کیونکہ وہ صارفین جن کو مالی مسائل کا سامنا نہیں ہیں انہوں نے لاک ڈائون شروع ہوتے ہی 3 سے 4 ماہ تک کی اشیاء ضرورت کی خریداری کرلی ہے۔ اس امر کا بھی امکان ہے کہ فوڈز،طبی سامان اور دیگر ضروری اشیاء کی طلب میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔   
موجودہ حا لات میں خوراک،طبی سہولیات اور دیگر ضروری اشیاء کی طلب میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن یہ غیر ضروری اشیاء جن میں ملبو سات،کاسمیٹکس، زیورات اور دیگر شامل ہیں کی طلب میں کمی کی بنا ء پر ممکن ہوا ہے۔کچھ دیگر فیکٹرز کی بنا ء پر طلب میں کمی واقع ہوئی ہے جن میں غیر ملکی خریداروں کی جانب سے تاخیر یا انکے آرڈز واپس لے لینے، ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں کمی، اور اسٹاک مارکیٹوں میں مسلسل مندی کا رحجان شامل ہیں لوگوں کی آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے اور ان میں خریداری کے رحجان سے دلچسپی میں کمی ہوئی ہے۔وہ ممالک جن کے بیرون ملک کام کرنیوالے افراد کی ایک بڑی تعداد ہے جن میں پاکستان،بھارت،سی لنکا،فلپائین،اور تھائی لینڈ قابل ذکر ہیں میں کورونا وائیرس کی بنا پر ملازمتوں سے فارغ کردینے کی وجہ سے ترسیل زر میں بہت کمی واقع ہوئی ہے۔ڈومیسٹک صارفین کی جانب سے  اشیاء کی خریدار میں کمی کی بناء پر صنعتی پیداوار میں کمی اوربے روزگاری میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ صارفین کی طلب میں کمی کا مینوفیکچرنگ سیکٹر پر کم اثر پڑے گا،جہاں کمپنیوں کو کریڈٹ کی سہولت ہو تو وہ تیار شدہ اشیاء کا بڑا ذخیرہ کرکے پیداوار میں کمی یا لیبر کا نکالنے سے بچ سکتے ہیں،تاہم چھوٹے پیمانے کے سروس سیکڑ پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔سپلائی سائیڈ پر ترقی پذیر ممالک میں خام مال کی برآمد اور اسپئیر پارٹس کی کمی کی بناء پر ان کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔بہرحال ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں اس کا اثر بہت کم ہوگا کیونکہ وہاں طویل سپلائی چین توقعات سے معمول کے مطابق ہے۔علاوہ ازیں فیول کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ ترقی پذیر ملکوں کو پہنچے گا جو بڑی مقدار میں اس کی درآمد کرتے ہیں۔قلیل مدتی طلب اور رسد کے اثرات کی شدت اور مدت کا انحصار کورونا وائرس کے پھیلاو پر قابو پانے کیلئے مختلف حکومتوں کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات پر ہے۔
اگر کورونا وائرس تیزی کے ساتھ پھیلنے کے آثار دکھائی دیں گے جیساکہ اس وقت یورپی اور امریکی ممالک میں ہورہا ہے تو حکومتیں غیر ضروری سامان فروخت کرنے والی فیکٹریاں اور دکانیں بند کرنا شروع کرسکتی ہیں۔اس وقت پاکستان اور بھارت میں لاک ڈائون کا عمل جاری ہے جس کی بنا ء پر جی ڈی پی او ر محصولات سے حاصل ہونے والی آمدنی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے اور یہ3سے 5 فیصد تک ہوسکتی ہے جیساکہ اٹلی میں اندازہ لگایا گیا ہے۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر آبادی کا غریب طبقہ  ہوگا جن میں دیہی اور شہری علاقوں میں ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے افراد شامل ہیں۔بہت سے ترقی پذیر ملکوں میں حکومتی سطح پر عوام کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کیلئے کام کرنے والے ادارے موجود نہیں ہیں اس لئے برا وقت کا سامنا کرنے پر انہیں اپنے دوستوں،پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے مدد طلب کرنی پڑتی ہے۔اس صورتحال نجی شعبہ میں کام کرنے والے فلاحی ادارے آگے آتے ہیں جیسا کہ اس وقت دیکھا جارہا ہے ،یہ فلاحی ادارے غریبوں کی مالی امداد،خوراک کی فراہمی،کام پر نہ جاسکنے والے افراد کو تنخواہ پہنچانا اور طبی امداد کی فراہمی کیلئے آگے آتے ہیں۔بہر حال ان فلاحی کاموں کے سلسلے میں سول سوسائٹی کی تنظیموں،این جی اوز،مذہبی گروپوں کو بڑے بڑے عطیات بھی فراہم کئے جاتے ہیں ۔بے شمار ملکوں میں یہ تنظیمیں غریب لوگوں کی امداد کیلئے کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور بڑے بڑے شہروں بشمول کراچی میں خوراک کی فراہمی اور دیگر امدادی کام میں مصروف نظر آتی ہیں۔حالانکہ کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ وبائی بیماری کب تک پھیلتی رہے گی لیکن یہ امر بالکل واضح ہے کہ صرف پرائیویٹ سیکٹر کے میکانزم سے اس وباء پر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے، دوسری جانب یہ میکنزم دیہی علاقوں میں کافی کمزور نظر آتا ہے کیونکہ دور دور تک پھیلی ہوئی بستیوں میں متاثرہ افراد تک پہنچنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ 
پرائیوٹ سیکٹر کی جانب سے قابل تعریف فلاحی سرگرمیوں کے باوجود حکومت کو بھی دیہی علاقوں میں پہلے سے موجود اپنی سرکاری مشینری کو فعال کرنے کی ضرورت ہے جن میں پولیس اسٹیشن،ہیلتھ کلینکس اور زرعی و لائیو سٹاک کے دفاترز شامل ہیں تاکہ متاثرہ لوگوں کو خوراک کی فراہمی،میڈیکل اور مالی معاونت فراہم کی جاسکے۔ان سرگرمیوں کو جاری رکھنے کیلئے حکومت اپنے دیگر جاری منصوبوں کے فنڈز غریب طبقے کی امداد کیلئے منتقل کرسکتی ہے۔دیہی علاقوں کے یہ غریب افراد جنکی آمدنی بہت محدود ہوتی ہے حکومت کی کوشش سے ان کے علاج معالجے کے اخرجات برداشت کئے جاسکتے ہیں اور اس ضمن میں عالمی فلاحی اداروں کو بھی متحرک کیا جاسکتا ہے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے پھیلاو پر قابو پانے کیلئے ورلڈ بنک نے 12بلین،ایشیائی ترقیاتی بنک نے 6 اعشاریہ 5 بلین اور آئی ایم ایف نے 50 بلین امریکی ڈالرز کی رقوم مختص کی ہیں جبکہ انٹرنیشنل این جی اوز کی جانب سے مختص کی جانے والی رقوم اس کے علاوہ ہیں۔اس کے علاوہ عالمی فوڈ پروگرام بھی ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے جس کو اس قسم کی مشکل صورتحال میں متاثرہ علاقوں میں سامان کی ترسیل اور وسائل میں اضافہ پر خصوصی مہارت اور تجربہ ہے۔اس موقع پر حکومت جو دو اہم امدادی پیکیچز کی پالیسی پر وضع کرسکتی ہے جن میں شرح سود اور ایکسچینج ریٹ میں کمی کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔سٹیٹ بنک کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ شرح سود میں کمی کا اعلان کرے اور کمرشل بنکوں کو ہدایت کرے کہ وہ صارفین اور بزنس مینوں کو پہلے سے دئے گئے قرضوں پر بھی اس کا اطلاق کرے۔
حکومت کو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا بھی فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس کا فائدہ صارفین کو بھی منتقل کرنا چاہیے خاص طور پر انڈسٹریل اور کمرشل صارفین کو جنکو تیل اور بجلی  کے نرخوں میں کمی کرکے اس کے ساتھ ڈیزل کی قیمتیں بھی کم کرنا ہونگی جوکہ زیادہ تر زراعت،صنعت اور ٹرانسپورٹ سیکٹرز میں استعمال کی جاتی ہے۔
کیا یہ اقدامات کافی ہونگے،بالکل نہیں اس کیلئے ترقی یافتہ ممالک کو بھی جتنی ممکن ہو سکے مدد کریں،ہمارا عظیم دوست چین اس مشکل وقت میں ایشیاء اور افریقہ کے بہت سے ممالک کو ضروری میڈیکل آلات اور فنی معاونت فراہم کررہا ہے۔امریکہ اور یورپی ممالک کو اپنی حدود سے نکل کر ترقی پذیر ممالک کی معاونت کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ایک اور مطالبہ جو ان ممالک سے کیا جارہا ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک جوکہ کورونا وائرس کی وباء سے شدید متاثر ہوئے ہیں ان کو دئیے جانے والے قرضے یا تو معاف کردیں اور یا انکی ادائیگی ری شیڈول کردیں تاکہ یہ ممالک اس رقم کو اپنے عوام کیلئے جاری فلاحی سرگرمیوں کو مزید بہتر طور پر انجام دے سکیں۔
 
 
 

 

مزید پڑھیں

 ’’اللہ کا شکر ہے‘‘یہ جملہ تو یوں بھی ہر وقت ہماری زبانوں پر رہنا چاہئے مگر آجکل تو خصوصاًہونا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے ہی ہمیں لاک ڈاؤن سے نکال کر شیطان کو لاک ڈاؤن کردیا ہے۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 میری طلب بھی انہی کے کرم کا صدقہ ہے ،یہ قدم اٹھتے نہیں اٹھا ئے جاتے ہیں۔رمضان المبارک کی ابتدا ہے اور ہر کوئی اس مہینے کی برکات حاصل کرنے کیلئے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق سحری و افطاری کا اہتمام کرتا ہے کرنا بھی چاہئے کہ بیشک رمضان المبارک تمام مہینوں میں سے افضل ترین مہینہ ہے اور اس مہینے میں عبادت کی جو فضیلت و اہمیت ہے بلاشبہ وہ کسی حجت کی محتاج نہیں۔    

مزید پڑھیں

 مشکل حالات ، غیر یقینی صورت حال میں سخت فیصلے او ر فی الفور عملی نفاذ ریاست کا استحقاق ہے۔ شہریوں کی جان ومال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ وبائی حالات میں شہریوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کیلئے ریاست سخت ترین اقدام سے بھی گریز نہیں کرتی۔    

مزید پڑھیں

کورونا وائرس کی وبائی بیماری نے اس وقت پورے کرہ ارض کو جکڑا ہواہے ، مگراس موقع پر یورپی ملک سوئیڈن ایک محدودپیمانے پر لاک ڈاون کرکے اپنے پڑوسی ممالک کے درمیان کھڑا ہے۔    

مزید پڑھیں