☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
سمجھ توگئے ہوگے؟

سمجھ توگئے ہوگے؟

تحریر : امتیازعلی شاکر

04-26-2020

وقت کے ساتھ اکثرقصے کہانیاں اپنے آپکودہراتی ہیں تومعلوم ہوتاہے کہ تاریخ انسانی بڑی عجیب ہے انسان اس قدرضدی ہے کہ عذابوں کاشکارہوکربھی کچھ نہیں سیکھتا بڑے بوڑھے جب بچوں کوکہانیاں سناتے ہیں تواکثراُنہیں خودبھی معلوم نہیں ہوتاکہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ قصے کہانیاں پورے خدوخال کے ساتھ بچوں کے سامنے رونما ہوسکتے ہیں ۔
 

 

بڑے بز رگوں کی کہانیوں کے متعلق ہمیں تویہی معلوم ہے کہ زیادہ تر من گھڑت ہوتی ہیں جوفقط بچوں کی تربیت اوردل بہلانے کے لیے سنائی جاتی ہیں،ماں جی نے بچپن میں ایک کہانی اتنی بار سنائی کہ ابھی تک ذہن نشین ہے اس کہانی کافلسفہ آج سے پہلے کبھی سمجھ ہی نہیں آیاکرتاتھا ہرکہانی کی طرح اس کہانی میں بھی ایک بادشاہ تھا یہ توآپ کومعلوم ہی ہوگاکہ زیادہ تر کہانیوں میں ایک بادشاہ ہواکرتاہے توایک بادشاہ اپنی ریاست کی سیرکرنے نکلتاہے دوران سیربادشاہ کی نظرانتہائی خوبصورت خاتون پرپڑتی ہے اور بادشاہ سلامت دل ہاربیٹھتے ہیں بادشاہ کے وزیرمشیر اسے بتاتے ہیں کہ وہ خاتون گداگرہے گداگرمطلب ’’بھیک مانگنے والی ‘‘بادشاہ کادل کسی عورت پرآجانابھی ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں یہ توہم حقیقت میں بھی دیکھ چکے ہیں کہ حاکم کاکسی خاتون پردل آجائے توپہلے خاوند سے طلاق دلواکربھی نکاح کرلیتے ہیں اب بادشاہ کوکون منع کرسکتاتھا۔بادشاہ نے اس گداگرخاتون سے شادی کرلی وہ خاتون بہت خوش تھی اوربادشاہ کی خوشی کی بھی انتہاء نہ تھی گداگرخاتون جوگلی گلی صدالگاکرکھانے کاسوال کیاکرتی تھی اب اسے بادشاہ کے محل میں درجنوں طرح کے شاہی کھانے دستیاب تھے۔ خدمت کیلئے درجنوں نوکرچارہروقت حاضررہتے ٖبے شمارسہولیات کے باوجوگداگرخاتون جو ملکہ بن چکی تھی ڈپریشن کے سبب بیمار رہنے لگی،ملکہ کی بھوک پیاس ختم ہوگئی یہاں تک کہ کمزورہوتے ہوتے بسترسے لگ گئی۔ بادشاہ کے محل اورریاست کے تمام طبیب ملکہ کے علاج میں ناکام ہوگئے توبادشاہ نے ہمسایہ ریاستوں سے ماہر طبیب بلوائے وہ بھی ملکہ کے مرض کی تشخیص میں ناکام ہوگئے جبکہ ملکہ کی صحت دن بدن بگڑتی ہی جارہی تھی ،بادشاہ بہت پریشان ہوا بادشاہ کسی بھی قیمت پراپنی منظورنظرملکہ کوصحت منددیکھناچاہتاتھااس نے منادی کروادی کہ جوبھی ملکہ کے مرض کی تشخیص اورعلاج کرے گااسے منہ مانگاانعام دیاجائے گا بہت سارے مزیدمعالجوں نے کوشش کی آخرکارایک اہل دانش بزرگ نے ملکہ کے مرض کی تشخیص کچھ یوں کی کہ ملکہ بادشاہ کے محل کی سہولیات اورشاہی کھانوں کے سبب بیماررہتی ہے جس کے ممکنہ طورپردوعلاج ہیں پہلایہ کہ ملکہ گلی گلی صدالگاکرکھانے کاسوال کرے اورجوملے وہی کھائے توصحت مندہوجائے گی دوسری صورٖت میں محل کے سات دروازوں پرصدالگائے اورسات دروازوں میں شاہی نہیں بلکہ نوکروں کے کھانے میں سے الگ الگ کھاناتھوڑی تھوڑی تعدادمیں ملے وہی کھاناکھائے تواُمیدہے ملکہ صحت یاب ہوجائے گی بادشاہ یہ کیسے منظورکرلیتاہے کہ اس کی ملکہ گلی گلی صدالگائے اس نے بہت مجبورہوکردوسرے طریقے کاانتخاب کیااورمحل کے سات دروازوں پرصدالگانے پر ملکہ کوکھانا ملنے لگاچندہی دن میں ملکہ کی صحت ٹھیک ہوناشروع ہوگئی۔ بادشاہ نے اس بزرگ کوطلب کیااورکہاکہ مانگوں کیامانگتے ہوبزرگ نے جومانگناتھامانگ لیاتوبادشاہ نے سوال کیاکہ بزرگ کویہ کیسے علم ہوگیاکہ ملکہ صدالگاکرکھاناکھائے تواس کی صحت ٹھیک ہوجائے گی ؟بزرگ نے جواب دیاملکہ کسی بیماری میں مبتلانہیں تھی فقط اس کوعادت تھی مانگ کرکھانے کی لہٰذااسی وجہ سے اس کی صحت خراب تھی جوعادت پوری ہونے پر ٹھیک ہوگئی،ماں جی کی کہانی کیا یادآئی کہ ساتھ ہی کاہنہ کے ایک شاہ صاحب دوست کالطیفہ بھی یاد آگیا،شاہ صاحب کااندازاس قدرخوبصورت ہے کہ معمولی سالطیفہ بھی محفل میں رنگ جمادیتا ہے،شاہ صاحب اکثریہ لطیفہ سناتے ہیں کہ ایک شخص جب بھی گلی سے گزرتاتوگلی کی دوسری جانب چوک میں جنرل سٹورپرپنجرے میں بندایک طوطااسے دیکھ کربھیک منگا کہنے لگتاپہلے پہلے اس شخص نے سمجھاکہ طوطاویسے ہی بولتارہتا ہے پرکئی ماہ مسلسل غورکرنے پراسے محسوس ہواکہ طوطااسی کودیکھ کربھیک منگا بھیک منگا کہتاہے تواس نے جنرل سٹورکے مالک سے شکایت کی کہ تمہاراطوطامجھے گالیاں دیتاہے جس پرطوطے کے مالک نے حیرانگی سے کہاکہ بھلاطوطاآپ کوکیوں گالی دے گاتواُس شخص کومزیدغصہ آگیااوراس نے سختی کے ساتھ کہااپنے طوطے کومنع کرلوورنہ مجھ سے بُراکوئی نہیں ہوگاطوطے کے مالک نے طوطے کی طرف دیکھااورغصے سے چلاتے ہوئے بولامیں تمہاری گردن توڑدوں گاجوآئندہ ان صاحب کوگالی دی ابھی ان صاحب سے معذرت کرومعذرت نہ کرتاتوکیاکرتاطوطے نے اُس شخص سے معافی مانگ لی اگلے روزجب وہ شخص وہاں سے گزراتواس کاپورادھیان طوطے کی طرف تھاپرطوطاکچھ نہ بولاجب وہ شخص تھوڑاآگے نکل گیاتوطوطے نے سیٹی ماری اُس شخص نے پیچھے مڑکرطوطے کی طرف دیکھاتوطوطابولا سمجھ توگئے ہوگے۔اُوپردرج کہانی کااس لطیفے کے ساتھ کوئی تعلق ہے یانہیں؟بیان کردہ کہانی اوردورحاضرمیں کسی قسم کی مماثلت ہے کہ نہیں یہ فیصلہ آپ پرچھوڑتاہوں ہاں فقط اتناکہناچاہوں گاکہ اس تحریر کاکوئی سیاسی مقصدنہیں باقی آپ سمجھ توگئے ہوں گے؟ ہم عوام توفقط یہ یادکرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ہمیں کس نے بتایاتھاکہ بھیک مانگنے والوں کی کہیں عزت نہیں ہوتی باعزت قومیں کبھی بھیک نہیں مانگتی ہم پاکستان کواپنے پائوں پرکھڑاکریں گے کبھی کسی ملک سے بھیک نہیں مانگیں گے قرضے نہیں لیں گے میرے جیسے بہت سارے پاکستانیوں کو یادنہیں کہ یہ الفاظ کس شخصیت کے ہیں جنہیں یادہے وہ یقینا سمجھ توگئے ہوں گے؟
 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 میری طلب بھی انہی کے کرم کا صدقہ ہے ،یہ قدم اٹھتے نہیں اٹھا ئے جاتے ہیں۔رمضان المبارک کی ابتدا ہے اور ہر کوئی اس مہینے کی برکات حاصل کرنے کیلئے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق سحری و افطاری کا اہتمام کرتا ہے کرنا بھی چاہئے کہ بیشک رمضان المبارک تمام مہینوں میں سے افضل ترین مہینہ ہے اور اس مہینے میں عبادت کی جو فضیلت و اہمیت ہے بلاشبہ وہ کسی حجت کی محتاج نہیں۔    

مزید پڑھیں

 مشکل حالات ، غیر یقینی صورت حال میں سخت فیصلے او ر فی الفور عملی نفاذ ریاست کا استحقاق ہے۔ شہریوں کی جان ومال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ وبائی حالات میں شہریوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کیلئے ریاست سخت ترین اقدام سے بھی گریز نہیں کرتی۔    

مزید پڑھیں

کورونا وائرس کی وبائی بیماری نے اس وقت پورے کرہ ارض کو جکڑا ہواہے ، مگراس موقع پر یورپی ملک سوئیڈن ایک محدودپیمانے پر لاک ڈاون کرکے اپنے پڑوسی ممالک کے درمیان کھڑا ہے۔    

مزید پڑھیں