☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) غورطلب(ڈاکٹر جاوید اقبال ندیم) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() خواتین(نجف زہرا تقوی) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) ستاروں کی چال(مرزا وحید بیگ)
وجودیت انسان کے وجودی مسائل کا تعین کرتی ہے

وجودیت انسان کے وجودی مسائل کا تعین کرتی ہے

تحریر : ڈاکٹر جاوید اقبال ندیم

06-21-2020

وجودیت ایک ایسی فلسفیانہ تحریک ہے جس کی جڑیں تاریخی اعتبار سے ابتدائے علم و فن تک پھیلی ہوئی ہیں۔ انسان میں پیدا ہونے والی جذبی،ہیجانی، ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی تبدیلیوں کا فکری انداز سے وجودیت میں گہرائی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ 

انسان کے وجودی مسائل کا تعین کرنا ہی وجودیت کا خاصا ہے۔ یہ انسانی ذات کی انفرادیت کا فلسفہ ہے اسی لئے اسے وجود کے حوالے سے وجودیت کہا جاتا ہے۔ انسانی وجود اور جوہر کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔

 پریشانیوں ، مشکلات، مصائب اور ذہنی تکالیف کا شکار ہونے والے فرد کو اپنے وجود کے موجود ہونے کا احساس وجودیت سے دلایا جاتا ہے کہ وہ موجود ہے اور وجودی طور پر زندہ ہے۔ فرد کو وجود کے ہونے کا احساس دلانا ایک بہت اہم مرحلہ ہے جس سے وجود کے جوہر (Essence) کا پتہ چلتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ مسائل و مشکلات کے حصار سے باہر نکل آتا ہے اور دوبارہ اپنی حقیقت زندگی کی طرف لوٹ آتا ہے یہی اس فلسفیانہ تحریک کا حسن ہے، وجودیت ایک انسانی ذہنی رویہ ہے جس کی وضاحت کے لئے وجودی فلسفی منطقی استدلال کے بجائے ڈرامہ، تمثیل، کہانی اور ناول وغیرہ کی مدد لیتے ہیں۔
آج کا انسان بھی متعدد مسائل میں جکڑا ہوا ہے۔ ذہنی اور جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ مالی تشویش انسان کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ ہمہ مہم جسمانی بیماریوں ملیریا، پولیو، تپ دق، ڈینگی بخار اور نئی آفت کورونا وائرس سے پھیلنے والی متعدی بیماری نے انسانی ذہن مائوف کر دیئے ہیں۔ وہی صورت حال پیدا ہو گئی ہے جیسے جنگ عظیم اول اور دوئم سے بے حد انسانی معاشرہ تباہی کا شکار ہو گیا تھا۔ اسی وقت وجودیت کا آغاز ہوا تھا کیونکہ انسان مذکورہ مسائل کا شکار تھا۔ وجودی فلسفیوں نے مسائل و مشکلات میں گھرے ہوئے افراد کے علاج کے لئے کہانیاں، سٹیج شو، ناول اور متعدد مضامین لکھے جس میں وہی کردار کام کر رہے تھے جو مسائل سے گھرے ہوئے انسان کے تھے۔ فلسفہ وجودیت انسان کو اندرونی اور بیرونی طورپر مضبوط کرتا ہے۔ اندرونی جذبی اور فکری احساس کو اجاگر کرتا ہے اور بیرونی قوتوں کا پتہ لگاتا ہے تاکہ مثبت قوتوں سے استفادہ کیا جا سکے اور منفی کا توڑ کیا جا سکے۔ وجودی فلسفیوں کے معروضی فلسفہ کے بجائے موضوعی تصورات انفرادیت اور داخلیت کی طرف توجہ دی۔
کوہل سٹون کا خیال ہے کہ وجودیت کا اہم موضوع انسان ہے۔ کرکیکارڈ مذہبی فلسفی ہونے کے باوجود انسانی وجود کو اہمیت دیتا ہے اور وہ تعلق بیان کرتا ہے جو اس کے ر ویہ سے خدا کے بارے میں پیدا ہوتا ہے۔ یاں پال سارترے تو وجودیت کو انسانیت کا دوسرا نام دیتا ہے اور انسان کو اپنے مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ ڈنمارک کے وجودی فلسفی سورن کرکیگارڈ (1813-55) نے پہلی بار باقاعدہ طور پر وجودیت کی فکر انگیز تحریک کواچھالا اور رفتہ رفتہ کئی ایک فلسفی اس قافلہ میں شامل ہونے لگے۔ کرکیگارڈ کے افکار ابتداء میں معروف نہ ہو سکے لیکن جب جنگ عظیم اول اور دوئم میں انسانیت کا جنازہ نکل گیا اور تمام تر اخلاقیات کا خون ہو گیا تو آفاقی فلسفیانہ افکار بھی معمولی دکھائی دینے لگے پھر کرکیگارڈ کے وجودی فلسفہ کی سمجھ آنے لگی تو یوں وجودیت کا باقاعدہ طور پر آغاز کرکیگارڈ کے افکار سے ہوا۔
عالمی جنگوں کے بعد بیسویں صدی کا انسان جب عجیب و غریب ذہنی کشمکش کا شکار تھا تو وہ اندرونی طور پر انتشار، ہیجان، افراتفری، تشکیک، گھن، تشویش، حزن، تنہاء یاور منفیت کی وجہ سے معروضی موت کا ذائقہ چکھ رہا تھا۔ وجودی فلسفیوں نے ہی انسان کی ڈھارس بندھائی اور وجودیت کو علاج کے طور پر استعمال کیا۔ وجودیت انسان کا وہ طرز فکر ہے جو عقلی، ذہنی، تصوری اور خیالی کے بجائے انسان کے اندرونی جذبی پہلوئوں کی وضاحت کرتا ہے کیونکہ جذبہ انسانی وجود کو اندر سے ٹٹولتا ہے۔ حقیقت کو پانے کے لئے موضوعیت اور داخلیت کو اجاگر کیا جاتا ہے تاکہ انسان کی اصولی اور اساس معلوم کی جا سکے اس لئے کرکیگارڈ نے افسردگی، مایوس اور اکتاہٹ کا وجودیت میں بیان کیا ہے۔ افسردگی مایوسی اور اکتاہٹ ایسی ذہنی کیفیات ہیں جو انسان کو خارجی دنیا سے الگ کر کے تنہا کر دیتی ہیں۔ ہائیڈیگر نے فکر اور اضطراب جیسے جذبی رجحانات کا سہارا لیا کیونکہ فکر آزادی کو ماضی و حال سے نکال کر مستقبل کی منصوبہ بندی میں لے جاتی ہے۔ ہائیڈیگر کا خیال ہے کہ جب انسان کو احساس موت (Boing unto Death) سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ دہشت زدہ ہو جاتا ہے۔ موت کا خوف اسے دہشت زدہ جب کرتا ہے تو وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا ہے جس سے اس کے اندرون میں اپنی زندگی اور وجود کو بامعنی اور مصدق بنانے کے لئے تحریک پیدا ہوتی ہے۔
وجودی فکر انسان کی اپنی شخصیت کے گرد ہی چکر لگاتا ہے۔ کیونکہ انسان اپنی حیثیت خود پہچانتا ہے۔ یا وجودی فلسفی اسے اپنی حقیقت پہچاننے کے لئے اکساتے ہیں۔ مختلف طریقے اور انداز اپنائے جاتے ہیں۔ تقاریر، تحاریر اور ڈراموں کی مدد سے انسانی وجود کو حوصلہ ہمت اور جرات بخشی جاتی ہے اور احساس دلایا جاتا ہے کہ اگر کوئی فکر انسان معاشرہ یا قوم مدد نہیں کر سکتی تو انسانی وجود کو انسان ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ یہ احساس اجاگر کرنے کے لئے اسے اسی کی حقیقت سمجھائی جاتی ہے۔ کیونکہ انسان کے اصل خدوخال ختم ہو چکے ہوتے ہیں اور وجود اپنی حیثیت کھو چکا ہوتا ہے۔ ہر خارجی و داخلی دخل کے بغیروہ خود اندرونی طور پر خالصتاً داخلیت کی روشنی میں اپنے انداز زیست یا لائحہ عمل کا فیصلہ کرتا ہے اور ہر بار نئی ہمت اور قدر پیدا کرتا ہے تاکہ وہ اپنی حقیقت اور ماہیت کی صحیح اور حقیقی طور پر وضاحت کر سکے۔ اسے اب کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ تمام خارجی سہاروں نے ہی اسے بے سہارا اور بے آسرا کر دیا ہوتا ہے۔

وہ پائوں پر اپنے اندرون پر اور اپنے وجود پر کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ یہ یقینا بے حد کٹھن مرحلہ ہے ۔ہم متعدد منازل طے کرتے ہی انسان کو اپنی حیثیت پہچاننی پڑتی ہے۔ وجودیت، انسانی جدوجہد اور اقدار کے پیچیدہ مسائل کو اپنے انداز سے حل کر کے نئی اقدار پیدا کرتی ہے۔ عقل کے بجائے جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔ فرد خود گہرائی میں ڈوب کر اپنا سراغ پا لیتا ہے کیونکہ وجودی انسان خارجی اور معروضی دنیا کے بجائے صرف اپنے حقیقی اور ذاتی تجربے پر ہی اکتفاع کرتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ ذاتی ہی حقیقی ہوتا ہے۔ وجودیت انسان کی لامحدود اور بے مثل انفرادیت اور ذاتیت کی وجہ سے قدرتی طاقت اور معروضی سے چھٹکارا پا لینے کے بعد انسانی وجود ہی کو بنیادی اور اصلی محور قرار دیتی ہے۔ وجودیت تنہائی اور لاتعلقی کا فلسفہ ہے کیونکہ اس فکری تحریک نے اس وقت زور پکڑا تھا جب انسان اپنی تمام اقدار کھو چکا تھا۔ خصوصاً جنگ عظیم اول اور دوئم کے وقت۔ اسے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔ معاشرہ اور بنی بنائی اخلاقیات یا اصول و ضوابط سے مایوس ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کائنات میں کوئی بھی میرا مددگار اور رہنما نہیں ہے۔ ہر قدر اور قانون کو ٹھکرا کر وحشیوں کی طرح بھٹکتا ہے۔ اخلاق، تہذیب اور مذہب کا پاس نہیں رہتا۔ اس کا خیال ہے کہ میرے مسائل حل کرنے میں یہ سب ناکام رہے ہیں اس لئے خود اپنی دنیا تلاش کرنی چاہیے، وجودیت ہی کی بدولت یہ تمام کام سرانجام دیئے جاتے ہیں۔ وجودیت فلسفہ کو علم سے عمل میں تبدیل کر کے عقلی بندھنوں سے آزاد کر دیتی ہے۔
فلسفہ میں وجود (Existence) اور جوہر (Essence) میں فرق بہت قدیم ہے۔ خاصا وسیع موثر اور مفید بھی ہے۔ یہ کہنا کہ کوئی شے وجود رکھتی ہے سادہ طور پر یہ حقیقت عیاں کرنے کا ہے کہ یہ ’’یہ ہے‘‘۔ وجود کی خاصیتوں میں سے واضح اس کا ٹھوس ہوتا اور یہ بتانا کہ وہ خالص ہے مثلاً چاندی کا روپیہ میز پرپڑا ہے تو وہ دنیا میں ایک مخصوص شے کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا وجود مجھ پر حقیقت آشکار کرنے اور قبول کرنے یا ماننے کے لئے ہے۔ میں نہ تو روپیہ کے وجود میں ہونے اور نہ وجود میں نہ ہونے کی خواہش کر سکتا ہوں بے شک میں اس کی شکل بدل سکتا ہوں اس کا نام لے کر ہم وجود سے جوہر کی طرف ابتداء کر چکے ہیں۔ اگر کسی چیز کا وجود اس حقیقت سے ہے کہ وہ یہ ہے تو اس کا جذبہ کیا ہے۔ پر مشتمل ہے، کسی شے کا جوہر ان بنیادی خصوصیات پر مبنی ہوتا ہے جو اس کو کسی دوسری شے بننے کے بجائے وہ چیز بناتی ہیں جو کہ وہ حقیقتاً ہیں۔ اگر فرد کی خصوصیات فرد میں نہ پائی جائیں یا اس میں فرد ہونے کا جوہر موجود نہ ہو تو وہ فرد نہیں ہو سکتا بلکہ کوئی اور شے ہو گا۔ جوہر انسانی فطرت ہے۔ وجودیوں نے صرف اور صرف انسان کی بات کی ہے کہ اس میں وجود اس کے جوہر سے پیشتر ہے۔ اس کا سادہ سا مطلب ہے کہ انسان پہلے ہے اور اس کے بچہ وہ ’’یہ وہ‘‘ ہے۔ پیڈیگر کا کہنا ہے کہ انسان کا جوہر اس کے وجود میں پنہا ہے۔ سارترے کا خیال ہے کہ پہلے سے ہے اور جوہر بحد میں فریڈرک نٹشے (Fredrike Nietzsche) نے سپرمین (Super man) کا تصور پیش کیا ہے۔ ان تمام کا خیال ہے کہ انسان ابھی نامکمل اور ناتمام ہے۔ وہ اپنی تکمیل کی طرف بڑھ رہا ہے انسان کے مکمل ہونے کے لئے اس کے وجود میں ہی رہنمائی دی گئی ہے۔
یاں پال سارترے نے سبز مٹروں کی مثال پیش کی ہے بعض لوگوں کے خیال میں سبز مٹر اور کھیرے وہی بنتے ہیں جو ان کی خاصیت ہوتی ہے۔ لیکن سارترے کا خیال ہے کہ انسان اور مٹر ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں۔ انسان کا جوہر یعنی قیمت اور خاصیت پہلے سے طے شدہ نہیں ہے انسان انتخاب (Choice) کرنے کا ارادہ رکھنے میں آزاد اور خود مختار ہے۔ انسان کا جوہر اس کی آزادی میں تجسس کے طور پر پنہاں ہے۔ سارترے نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’شے اور لاشیئت‘‘ (Being and nothingness) میں لکھا ہے کہ میں نے اپنے ہونے کا انتخاب اپنے لئے نہیں بلکہ ہونے کے وصف کیا ہے؟ میں جو رویہ بھی اختیار کرتا ہوں اسی رویہ سے میرے سامنے آزادی کے بند دریچے کھلتے ہیں۔ انسان بنیادی طور پر آزاد ہے وہ اپنے رویہ (Attitnde) کی وجہ سے سوچنے کے طور پر آزاد ہے ہر کوئی سچائی، حسن اور اچھائی کے قاعدے منتخب کرتا ہے۔ ہم اپنے انداز و اطوار خود بناتے ہیں۔

ہمارا طریق زندگی اور لائحہ عمل اپنے ذہنی پروگرام کے مطابق ہوتا ہے۔ اس لئے ہم ایسا کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہیں اقدار بنانے کا فیصلہ کرنے کے پس منظر میں جو قاعدے و قوانین کارفرما ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ آخر کار ہمارے انتخاب و فیصلے کے محرکات آزاد ہیں۔ ہمارے احساسات، جذبات اور تخیلات یقینا آزاد ہوں تو پھر میں ذمہ دار ہوں، مجھے اپنے کئے کی ذمہ داری ماننی چاہئے۔ سارترے کا نقطہ نظر ہے کہ قدامت پسندی چھوڑ کر خود سوچنے کے انداز سے زندگی گزاری جائے اور اس کو آزادی کا نام دیا جاتا ہے اس کا کہنا ہے کہ ’’مجھے دوسری جنگ عظیم کی شکست کا تجربہ جون 1940ء میں ہوا۔ اس لحاظ سے میں نے خود اس کا انتخاب کیا۔ اس میں یہ بات قبول کرتا ہوں کہ میں ہربات، ہر عمل اور ہر کہے کا جو بھی مجھ سے وابستہ ہے اس کا خود ذمہ دار ہوں۔‘‘سارترے کے خیال میں ہر شخص زندگی میں کوئی ایسا کردار ضرور ادا کرتا ہے جو اس کے حقیقی وجود سے مطابقت نہیں رکھتا۔