☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل(محمد ندیم بھٹی) خصوصی رپورٹ(محمد نعمان چشتی) عید اسپیشل(طیبہ بخاری ) عید اسپیشل(سید علی شاہ نقوی) عید اسپیشل(ڈاکٹر آئی اے خان) عید اسپیشل(مولانا مجیب الرحمن انقلابی) عید اسپیشل(عبدالحفیظ ظفر) عید اسپیشل() غور و طلب( عبدالماجد قریشی ) فیشن(طیبہ بخاری ) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان)
ہمارے معدنی ذخائر اور غیر ملکی مداخلت

ہمارے معدنی ذخائر اور غیر ملکی مداخلت

تحریر : عبدالماجد قریشی

06-02-2019

ہمارا ملک معدنی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے ۔صرف صوبہ بلوچستان کی سرزمین میں اسقدر معدنیات کے ذخائرموجود ہیں جو ملک بھر کے معاشی مسائل کا خاتمہ کرکے یہاں خوشحالی لانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ زمین کی تہوں میں معدنی ذخائر پوشیدہ ہیں جن میں پٹرولیم سب سے اہم ہے۔

اس کے علاوہ بلوچستان میں بہت سی قیمتی معدنیات پائی جاتی ہیں جن میں سونا بھی شامل ہے۔ امریکہ بلوچستا ن میں سونے کے ذخائر کے حصول کیلئے تگ و دو کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان سنٹرل ایشین معدنی ذخائر کی ترسیل کا واحد پوائنٹ ہے جس کی وجہ سے امریکہ اس پر تسلط چاہتا ہے۔پاکستان میں ایک انتہائی بااثر اور بیرون ملک رابطے رکھنے والے گروپ نے خاموش مگر چکرا دینے والی دیدہ دلیری کے ساتھ ریکوڈک میں دنیا کی سب سے بڑی سونے کی کان پر قبضہ کر کے اسے خالی کر دیا ۔ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب سپریم کورٹ نے دنیا کی ایک بڑی کمپنی کوکئی ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کے بعد چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان کے علاقہ ریکوڈک میں ایک کھرب ڈالر سے زائد مالیت کے سونے ، تانبے اور دوسری قیمتی معدنیات کے ذخائر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مری اور بگٹی قبائل کے علاقوں میں گیس کے مزید ذخائر کی موجودگی کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔جبکہ دنیا کی مہنگی ترین معدنیات پائیریم کے ذخائراور نیوٹران کے لئے استعمال ہونے والی دھاتیں بھی ریکو ڈک میں موجود ہیں۔

دیگر اعزازات کے ساتھ ساتھ پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی سونے کی کان پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میںہے۔ بلوچستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ یہی وہ قدرتی وسائل ہیں کہ جن کی وجہ سے کچھ عناصر آئے روز پاکستان کے خلاف نت نئی سازشیں گھڑتے ہیں۔ اب پاکستان کے ارباب اختیار کو کسی شک میں نہیں رہنا چاہیے کہ ان سازشوں کی اصل وجہ کیا ہے او ر ان کے درپردہ عوامل کیا ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ان وسائل کو بروئے کار لاکر ہم ہر چیز میں خودکفیل ہوسکتے ہیں۔ لیکن وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے معاملہ ویسے کا ویسا ہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ بیرونی کمپنیاں کیسے وطن عزیز میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو بلوچستان میں بدامنی کی اہم وجہ ہی قدرتی وسائل ہیں ہماری کم بختی یہ ہے کہ آج تک ہم کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہ کرسکے۔

بلوچستان کے حالات بگاڑنے کے لئے ہمارے دشمن گز شتہ چند عشروں سے مسلسل سرگرم ہیں۔اگر اس بہت بڑے قومی خزانے سے بروقت استفادہ کیا جاتا توآج ہم یورپی اقوام سے کہیں آگے ہوتے۔ قوم تمام قرضوں کے بوجھ سے سبکدوش ہوجاتی۔ نئے ڈیم اور بجلی و پانی کے نئے منصوبے مکمل کرکے ہم کبھی کے اپنی بجلی اور توانائی کی ضرورتیں پوری کرلیتے۔ لاہور سے کراچی اور ڈیرہ اسماعیل خان سے گوادر تک موٹر وے کب کی بن چکی ہوتیں۔ ہر گاؤں اور شہروں کے ہر علاقے میں بہترین عمارتوں اور بہترین سہولتوں کے ساتھ سیکنڈری سطح تک کے سکول قائم ہو جاتے۔ یونیورسٹیوں اور اعلیٰ فنی اور سائنسی تعلیم اور تحقیق کے لئے ہمارے پاس وافر فنڈز کی بہتات ہوتی۔ شہروں ، قصبوں اور دیہات میں ہر کہیں بہترین اور معیاری سٹرکیںموجود ہوتیں۔ ہمیں اپنے ریلوے، پی آئی اے اور واپڈا جیسے اداروں کو کامیابی سے نفع بخش بنیادوں پر چلانے کے لئے کافی سرمایہ دستیاب ہو جاتا۔ مزید صنعتیں اور ٹیکنالوجی ملک میں آتی ، زراعت میں سرمایہ کاری سے زرعی پیدادار کئی گنا زیادہ ہوجاتی۔

اگر بلوچستان سے ہمارے اخراجات اور وسائل پورے نہ ہوتے تو چنیوٹ کے قریب ملنے والے سونے اور تانبے کے ذخائر، گلگت بلتستان کی وادی شگر میں موجود سونے کی کان، چترال میں موجود سونے کے ذخائر، ضلع چاغی میں موجود سونے اور تابنے کی بڑی کان، سوات کا قیمتی پتھر زمرد اور سیسہ جس سے ایلومینیم بنایا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان سے ملنے والا روپی ، اور نیلم، زمرد، سفائیر، ٹوپاز اور ترملین ، انتہائی قیمتی دھات یورینیم اور شمالی پنجاب کے نظر انداز کردہ تیل و گیس کے وسیع ذخائر اور تھر کے ریگستان میں موجود اربوں ٹن کوئلے کے ذخائر سب مل کر ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا سکتے تھے۔ قدرت کے بخشے ہوئے ان بے حد و حساب قیمتی ذخائر سے استفادہ نہ کرنے والے حکمرانوں کا کردار بھی ہمیںغربت و افلاس کا شکار رکھنے کے لئے سرگرم دشمنوں سے کسی طرح کم مجرمانہ نہیں رہا۔

ہمارے ہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے وطن عزیز میں باصلاحیت و ہنرمند لوگوں کی بھرمار ہے اور سینکڑوں باصلاحیت و اہل افراد ملک میں قدر نہ ہونے کی وجہ سے بیرون ملک لوگوں کو اپنے ہنر و قابلیت سے مستفید کر رہے ہیں ہمارے ہاں اگر کمی ہے تو اخلاص کی۔ ملک و قوم کے ساتھ مخلص ہونے کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر کھوکھلے د عوئوں اور نعروں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ امریکیوں کی دلچسپی کی ایک بڑی وجہ گوادر پورٹ بھی ہے جو چین ، روس کے علاوہ بین الاقوامی بحری راستے کی ایک اہم بندرگاہ ہے۔ اس پورٹ کے ذریعے یورپ ، مشرق وسطیٰ، چین اور روسی ریاستوں کی باہم تجارت آسان ہو گئی ہے ۔

امریکہ اس پورٹ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے لیکن یہاں چین کی موجودگی امریکہ کیلئے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ گوادر ڈیپ سی پورٹ کی تعمیر اور پاکستان کی معیشت پر اس کے گہرے مثبت اثرات کے ساتھ وسط ایشیاء سے اقتصادی تعلقات شاندار مستقبل اور ایشیائی خطے کی سیاست میں پاکستان کو جس مقام پر لے جائیں گے وہ امریکہ کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھی قبول نہیں۔ بھارت کی پریشانی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ بھارت کی بحری فوج کے سربراہ کابیان ریکارڈ پر ہے کہ بھارت کو گوادر میں چین کی موجودگی پر سخت تشویش لاحق ہے۔ امریکہ گوادر میں چین کی موجودگی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

یہی وہ حالات ہیں جن کی بنا پر بلوچستان دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں غیر ملکی ایجنسی کا ہاتھ ہے۔بلوچستان میں بے چینی پھیلانے میں بھارت پشت پناہی کررہا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت ہے۔ بلوچستان میں ترقیاتی کام چینی انجینئروں کی نگرانی میںہو رہے ہیں اور مستقبل میں گوادر کی بندر گاہ اور بلوچستان چین کیلئے گرم پانیوں تک رسائی کا باعث بن سکتے ہیں۔ دوسری طرف بھارت کو بلوچستان میںمعدنیات گیس، تیل اور قیمتی ہیرے جواہرات کے خزانے نظر آرہے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان مستقبل میں ان خزانوں سے استفادہ کرسکے۔ یہود و نصاریٰ اور ہنود ایک ایسا اتحاد ثلاثہ ہے جو بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کر کے افغانستان اور ایران کے بعض علاقے اس کے ساتھ ملا کر گرم پانیوں کے ساحل کو گریٹر بلوچستان کے نام پر اپنی زیر تسلط ریاست بنانا چاہتا ہے ۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد میٹرک امتحانات یونیورسٹی لے رہی تھی۔وقت گزرنے اور طلبہ کی تعداد میں اضافہ کی وجہ سے صوبوں میں میٹرک ...

مزید پڑھیں

الیکشن 2018کے نتیجہ میں پاکستان میں جمہوری حکومتیں قائم ہیں اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں آئین کے مطابق قانون سازی کا عمل جاری ہے ۔

...

مزید پڑھیں

یہ ان دنوں کی بات ہے جب جہالت میں ڈوبے عرب کے صحرا نورِ الٰہی سے منور ہوئے تو سارا جہاں جگمگانے لگا یوں تو ان دنوں کا اِک اِک لمحہ اور ان لم ...

مزید پڑھیں