☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا شخصیت عالمی امور سنڈے سپیشل یوم عاشور کچن کی دنیا صحت تحقیق غور و طلب تاریخ
پولیس تو ملزموں کو بہت پیار سے رکھتی ہے! پھر تھانوں میں لوگ کیوںمرتے ہیں؟

پولیس تو ملزموں کو بہت پیار سے رکھتی ہے! پھر تھانوں میں لوگ کیوںمرتے ہیں؟

تحریر : افتخار شوکت ایڈوکیٹ

09-08-2019

گزشتہ چند دنوں میں ایک شخص لاہور کے عقوبت خانے میں دم توڑ گیا اور دوسرے نے پولیس کی حراست میں موت کو گلے لگا لیا۔دونوں کیسوں میں آئی جی اور دیگر اعلیٰ افسران نے تحقیقات کا حکم جاری کردیا ہے۔

اس تحقیقات کے نتائج سابقہ تحقیقات سے مختلف ہونے کی کوئی امید نہیں ہے ۔تحقیقات کے بعد ہمیں پتہ لگے گا کہ ان دونوںافراد کا پولیس کی حراست میں مرنے کوجی چاہ رہا تھا اس لئے وہ گرفتار ہو گئے تھے۔ان میں سے ایک پر کیا الزام تھاہم اس سے واقف نہیں۔ دوسرا ذہنی مریض تھا ،اسی لئے اے ٹی ایم مشین میں ’’ ڈکیتی ‘ کا ڈرامہ کرتا رہا اور تھانے پہنچ گیا۔پڑھی لکھی، تربیت یافتہ پولیس کو پتہ چل جانا چاہیے تھا کہ اس کا ذہنی توازن درست نہیں۔کوئی ذہنی معذور شخص ہی کیمروں کی طرف دیکھ کر اس کی طرف منہ چڑاسکتا ہے، چالاک ڈاکو اور چور تو منہ چھپا کر اے ٹی ایم مشینوں میں داخل ہوتے ہیں مگر یہ اتنا بے وقوف تھا کہ کیمروں ہی کامنہ چڑا رہا تھا۔اس کے گرفتار ہوتے ہی پولیس کو ’’سونے کی چڑیا‘‘ہاتھ لگ گئی۔ پولیس درجنوں نامعلوم وارداتیں اسی پر ڈال کر اپنی کارروائی مکمل کرنے کے موڈ میں تھی۔ورنہ اس کے باپ کی بار بار آنے والی کالیں اور اس کے ہاتھ لکھا ہوا نام اور پتہ مقتول کی ذہنی کیفیت کا عکاس تھا ۔مگر یہ بات سمجھنے کے لئے سینے میں دل اور کھوپڑی میں عقل کا ہونا بھی ضروری ہے۔

ہمیں ان دونوں کیسوں میں دل و دماغ کی کمی دکھائی دیتی ہے۔اب آئی جی پنجاب لکیر پیٹ رہے ہیں۔ہمیں ساہیوال کیس کو بھی نہیںبھولناچاہیے جس میں آئی جی نے اپنی پہلی ہی پریس ریلز میں ایک کمسن بچی سمیت تین معصوم افرا د کو بھی دہشت گرد قرار دے دیاتھا۔یہی راگ صوبائی وزیر قانون بھی الاپتے رہے۔ کیس کی تحقیقات بھی پرانے کیسوں سے مختلف نہیں ہوںگی ۔پولیس کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ تھانے میں ملزموں کو بہت ہی پیار سے رکھتی ہے اگر ایسا ہی ہے تو لوگ تھانوں میں کیوں مرتے ہیں؟ 

کیا وہ مجرم تھا؟

پچھلے ہفتے صلاح الدین کی ایک وڈیووائرل ہوئی۔جس میں وہ کیمرے کی جانب دیکھتے ہوئے سکیورٹی کا مذاق اڑارہا تھا،اس وڈیو میں وہ اے ٹی ایم مشین کے ساتھ جاہلانہ انداز میںکھینچا تانی کرتے ہوئے بھی نظر آیا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ اس مذاق کی قیمت اسے اپنی جان دے کر چکانی پڑے گی ۔یہ بچگانہ حرکت کوئی بے وقوف یا دیوانہ ہی کر سکتا تھا۔وڈیو کی مدد سے اسے جمعہ کے روز حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس کے ترجمان ذیشان رندھاوا نے بعض اخبار نویسوں کو بتایا تھا کہ صلاح الدین دوران حراست بھی پاگلوں جیسی حرکات و سکنات کر رہا تھا۔ جب اس کی دیوانگی پولیس کے علم میں آ چکی تھی توپولیس کو فوراََ ہی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تھا ۔اس کے والد کا فون بار بار بند کرنے کی بجائے ان سے بھی مدد لینا چاہیے تھی۔ ویسے بھی ازروئے قانون پولیس کسی بھی شخص کی گرفتاری کے بعداس کے خاندان کو آگاہ کرنے کی پابند ہے۔ صلاح الدین کی گرفتاری سے اس کے خاندان کو آگاہ نہ کرکے پولیس اہل کاروں نے آئین کی مندرجہ ذیل دفعات کی خلاف ورزی کا ا رتکاب کیا۔ آئین کے باب اول میں بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے ۔اس میںواضح طور پر درج ہے کہ بنیادی حقوق سے متصادم کوئی قانون نہیں بنایا جا سکے گا۔نہ ہی کام کیا جا سکے گا۔

(1)جان و مال کا تحفظ:آئین کے باب اول کے آرٹیکل 9میں ہر فرد کی بلا امتیاز جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

(2)گرفتاری اور نظر بندی کی صورت میں تحفظ:آئین کے آرٹیکل 10میں ہر فرد کی گرفتاری کیلئے کچھ شرائط متعین کی گئی ہیں۔جن کے تحت اس کے اہل خانہ کو اطلاع دیئے بغیر پولیس کسی بھی شخص کو حراست میں نہیں رکھ سکتی۔ صلاح الدین کیس میں پولیس نے اہلخانہ سے چھپاکر آئین کے آرٹیکل 10کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔اسی آرٹیکل کی سب کلاز ٹو کے تحت پولیس 24گھنٹے میں گرفتار شخص کو قریب ترین مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرنے کی پابند ہے مگر صلاح الدین کوکسی بھی مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنے کا کوئی انتظام ہی نہیں کیا گیا جبکہ اسے صرف ڈاکٹر کر روبرو پیش کرنے کا انتظام کیا گیا، وہ بھی کب؟ کچھ پتہ نہیں۔

(3)بادی النظر میں پولیس اہل کارآئین کے آرٹیکل 14(2) کیخلاف ورزی کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔اس آرٹیکل کے تحت پولیس کسی بھی شخص سے معلومات اگلوانے کے لئے تشدد کرنے کی مجاز نہیں ہے۔تضحیک آمیز سلوک بھی آئین کی خلاف ورزی ہے۔

 بیانات میں غیر معمولی خامیاں

صلاح الدین کابیان حقائق کے منافی تھا کہ وہ اے ٹی ایم مشین میں کچھ پھنسا دیتا تھا اور یہ فن اسے ہی آتا تھا۔بعد میں آکر وہ پیسے اور کارڈ نکال لیتا تھا۔یہ بات درست نہیں کیونکہ جس کسی کے پیسے اے ٹی ایم مشین میں پھنس جائیں ،وہ ا سی وقت عملے سے شکایت کرتاہے ،اور کارڈ یا پیسے لئے بغیر بینک سے نہیں جاتا۔اگرصلاح الدین نے ایسا کوئی بیان دیا بھی تھا تو پولیس کو ٹھنڈے دماغ سے اس پر غور کرنا چاہیے تھا کہ ماضی میں کارڈ یا پیسے لئے بغیر لوگ بینک سے کیوں چلے گئے اور اگر چلے بھی گئے تو ان کی شکایات کہاں درج ہوئی ہیں؟۔بیان کے مطابق وہ چوری شدہ کارڈ کئی ہزار روپے میں فروخت کرتا رہا ہے مگر ان کارڈوں کی عام مارکیٹ میں کوئی مانگ نہیں ہے،یہ صرف ہائی ٹیک چوروں کے لئے ہی قابل استعمال ہو سکتے تھے۔یہ سچ ہے کہ کچھ اہل کاران کسی ملزم کے ہاتھ لگتے ہی دیگر مقدمات بھی اسی پر ڈال کر کھاتے مکمل کرنے کا سوچتے ہیں۔بے چارے صلاح الدین کو الزامات سے بچنے کے لئے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔

ہمارے ہاں اے ٹی ایم مشینوں پر چوریاں

مارچ میںایف آئی اے کے نوٹس میںا یک بڑا کیس آیاتھا جس میں غیر ملکی بھی لوث تھے۔درجن بھر غیر ملکیوں نے جعل سازی سے 579 اے ٹی ایم کارڈوں سے کروڑوں روپے نکال لئے تھے۔ ان چوروں کا بڑا نشانہ کراچی کی کلفٹن کالونی اور ارد گرد کا علاقہ تھا۔انہوں نے زیادہ تر وارداتیں اسی علاقے میں کیں۔ ہوا یوں کہ 20مارچ کو دو غیر ملکی اے ٹی ا یم مشین سے سکیمنگ کارڈ نکالتے ہوئے پکڑے گئے تھے، جس سے وارداتوں کا سراغ ملا۔انہوں نے مختلف اے ٹی ایم مشینوں پر Skimming Cardلگا دیئے تھے جس سے انہیں اے ٹی ایم کارڈوں کے پن کوڈز اور دیگر معلومات مل جاتی تھی۔انہیں یہ پتہ چل جاتا تھا کہ جس اکائونٹ سے روپیہ نکالا جا رہا ہے اس اکائونٹ میں مزید کتنے روپے موجود ہیں۔کئی اکائونٹس میںسے انہوں نے متعدد مرتبہ ٹرانزکشنزکی تھیں۔ان غیر ملکیوں کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ جبکہ غیر ملکی سفارت خانے کو بھی ان کے شہریوں کی ا س حرکت سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

اے ٹی ایم مشینوں میں کتنا سرمایہ موجودرہتا ہے؟

ملک بھر میں اے ٹی ایم مشینوں کی تعدادتیزی سے پھیل رہی ہے، بینکوں میںقطاروں سے بچنے کی خاطر لوگ اے ٹی ایم مشینوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ملک میںا سوقت ان مشینوں کی تعداد 15ہزارکے لگ بھگ ہے۔جن میں قراقرم ہائی وے پر نصب دنیا کی سب سے اونچی اے ٹی ایم مشین بھی شامل ہے۔ ان کے علاوہ پاکستان میں15.5لاکھ کریڈٹ کارڈ، 2.39 کروڑ ڈیبٹ کارڈ،87لاکھ پراپرائٹری (Proprietory) اے ٹی ایم کارڈ، 77.78 لاکھ سوشل ویلفیئر کارڈ اور 227487 پری پیڈ کارڈ بھی زیر استعمال ہیں۔جن کے ذریعے کئی ہزار ارب روپے سالانہ کی ٹرانزیکشن ہو رہی ہے۔ صرف اے ٹی ایم کارڈوں کے ذریعے سال بھر میں 130456 ہزار مرتبہ ٹرانزکشنز میں 1606513 ملین (1606ارب روپے ) نکالے جاتے ہیں۔ ان کے ذریعے سال بھر میں19.26لاکھ افراد قطاروں میں کھڑے ہونے کی بجائے اے ٹی ایم مشینوں کی مدد سے اپنے بل جمع کراتے ہیں۔ بلوں کا حجم تین ارب روپے بنتا ہے ۔اے ٹی ایم کے ذریعے سے سرمایہ ٹرانسفر بھی کا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں یہ کام نیا اورا بھرتا ہوا شعبہ ہے مگرپھر بھی درجنوں ارب روپے ٹرانسفر کئے جاتے ہیں۔ یہ کہاجا سکتا ہے کہ سال بھر میں اے ٹی ایم مشینوں میں کئی سو ارب روپے ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی مشینیں انتہائی مضبوط میٹرئیل سے بنائی جاتی ہیں، انہیں توڑناا ور ان سے پیسے نکالنا آسان کام نہیں ۔تربیت یافتہ افراد ہی ان سے سرمایہ چرانے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔ اے ٹی ایم مشینیں استعمال کرنے والے ہر شخص کی تصویر محفوظ ہو جاتی ہے لہٰذا ان کے ساتھ چھڑ خانی پولیس(اور پولیس تشدد کوبھی ) دعوت دینے والی بات ہے۔

آپ اپنی اے ٹی ایم پن کوڈ کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟

کسی بھی کارڈ کی حفاظت کے لئے چند ایک کام کرنانہایت ضروری ہیں۔اول یہ کہ اپنا پن کوڈ اور کارڈکسی کو نہ دیں۔یہ نمبر دینے سے چوری کے اندیشے بڑھ جاتے ہیں ۔اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ اے ٹی ایم کارڈ استعما ل کرتے وقت کوئی ہاتھوں کی انگلیوں کی گردش نوٹ نہ کر رہا ہو، اگرچہ سیفٹی کے لئے بینکوں کی اے ٹی ایم مشینوں میں دوسرے افراد کو موجود نہیں ہونا چاہئے لیکن کچھ لوگ گھس ہی جاتے ہیں، اس صورت میں آپ اپنے اکائونٹ کی سیفٹی کے لئے ہاتھ کی انگلیوں کی حرکت کو چھپانے کی کوشش کریں۔بینکوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ لوگ بھول جانے کے ڈر سے ایک ہی پن کوڈ بہت عرصے تک رکھتے ہیں، یہ چور کو دعوت دینے کے برابر ہے۔لہٰذا ایک مخصوص مدت کے بعد اپنا پن کوڈ بدل دینا بہتر ہے۔

اے ٹی ایم سے پیسہ نکلنے پر ہم کیا کریں؟

اپنے اکائونٹ سے غیر قانونی طور پر سرمائے کی منتقلی کا ایس ایم ایس ملنے پر فوراََبینک حکام سے رابطہ کرنا چاہیے ۔کارڈ فوری طور پر منسوخ یا بلاک کردینا چاہیے ۔اس کے بعد بینک کو تحریری طور پر سرمایہ نکلنے کی شکایت بھی کرنا چاہیے ۔عالمی اصولوں کے مطابق بینک ہی اس کے نکالے گئے سرمائے کولوٹانے کا پابند ہے۔کئی بینکوں نے ایسے کیسوں میں چوری شدہ سرمایہ واپس بھی کیا ہے۔ 

اے ٹی ایم مشینوں کا تحفظ

دنیا بھر میں اے ٹی ایم مشینوں کے تحفظ کے لئے اکثر ہی کوئی نہ کوئی قدم اٹھایا جاتا رہتا ہے۔ ان کی حفاظت کوبہتر بنانے کے لئے 14 فروری 2017ء کو امریکہ میں ایک بڑی کانفرنس منعقدہوئی تھی۔ ہر کسی کوای میل الرٹ جاری کرنے کا فیصلہ بھی اسی کانفرنس میں ہوا تھا۔ مذکورہ کانفرنس کا مقصد اے ٹی ایم مشینوں کو بڑھتے ہوئے سائبر کرائمز اورچوروں سے بچانا بھی تھا۔ ورنہ ایک اسیا بھی واقعہ پیش آیا جس میں چور پوری اے ٹی ایم مشین ہی لے کر بھاگ گیا تھا۔کانفرنس میں58فیصد شرکاء نے سائبر کرائمز کو اے ٹی ایم مشینوں کے لئے خطرناک قرار دیا تھا۔اداروں کے78فیصد سربراہوں نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ اے ٹی ایم فراڈ میں کسی ایک ملازم کے بھی ملوث ہونے کا کوئی امکان نہیں ۔اگر ایسا ہوا بھی تو اسے پکڑا جا سکتا ہے۔ یہی صورتحال ہمارے ہاں بھی ہے ۔یہاں بھی اے ٹی ایم فراڈ میں ملوث ہونے کی صورت میںبینک کے عملے کو آسانی سے پکڑا جا سکتا ہے۔کچھ بینکوں کے سربراہوں نے یہ بھی کہا کہ اے ٹی ایم مشینوں پر مالویئر وائرس کے حملے کا اندیشہ ہے مگر اس کا بھی سدباب کر لیا گیاہے۔ اس کے باوجود امریکہ میںچھوٹے کرائمز میں 50فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔2016ء میں وہاں اے ٹی ا یم سے پیسے چرانے کے4لاکھ اور2017ء میں 6لاکھ واقعات پیش آئے تھے ۔اسی لئے امریکہ میںکئی مرتبہ وارننگ بھی جاری کی جاچکی ہے۔ایف بی آئی نے امریکہ اور اقوام کو خبردار کیا ہے کہ اے ٹی ایم مشینوں پر سائبر کریمینلزحملہ کر سکتے ہیں۔لہٰذا سب محتاط رہیں۔ پچھلے دنوں لاہور اور ملتان میںایسے کئی کیسزسامنے آئے تھے جن میں کچھ صارفین کے اکائونٹس سے روپیہ چوری ہوا تھا،بعض کیسوں میںیہ بیرون ملک ایک خاص اکائونٹ میں منتقل ہو گیا تھا۔ان کیسوں کی تعدا درچنددرجن ہوگی ۔ قانون کے مطابق بینکوں نے یہ روپیہ صارفین کو واپس کر دیا ہے۔

 نئی اورمحفوظ ٹیکنالوجی

جاپان نے 2006ء میںصارفین کی رقم کے تحفظ کی خاطر ایک اہم قانون نافذ کرتے ہوئے تمام بینکوں کو پابند کر دیا کہ اگر ان کے کسی صارف کے اکائونٹ میں سے ایک روپیہ بھی چوری ہوا تو اس کا ذمہ داربینک ہی ہو گا اور بینک چوری شدہ روپیہ صارف کو ادا کرنے کا پابند ہو گا۔جس کے بعد جاپانی بینکوں نے دوسرے ممالک پر سبقت لیتے ہوئے نئی طرح کی 80ہزار بائیو میٹرک اے ٹی ایم مشینیں لگا دی ہیں۔ یہ مشینیں اسی اکائونٹ ہولڈرکوپیسہ دیں گی، جس انگلی یا انگوٹھے کانشان مشین میں محفوظ ہو گا۔ لہٰذا جاپان میں کارڈوں کے پن کوڈزکی مدد سے چوری کرنے کا امکان ہی صفر ہو گیا ہے ۔ دوسرے ممالک بھی اس ٹیکنالوجی پر عمل کر رہے ہیں مگر کچھ پیچھے ہیں۔ 

 

صلاح الدین کی موت اوراے ٹی ایم کی50ویں سالگرہ

جس روز پولیس حراست میں صلاح الدین کے موت واقع ہوئی تھی اسی روز دنیا کی پہلی اے ٹی ایم مشین ایجاد کرنے والے 90سالہ موجد نے اے ٹی ایم کی ایجاد کی پچاسویں سالگرہ منائی ۔ اوریہاں صلاح الدین کا بوڑھا باپ اپنے بیٹے کا مردہ جسم لینے پولیس کے پاس پہنچا۔ یہ 1968ء کی ایک سرد صبح تھی جب امریکی بزنس میں ڈونلڈ ویزل(Donald Wetzel)کو سفر کے لئے ڈالروں کی ضرورت پڑ گئی۔ بینک کھلے تھے مگر سانپ جیسی جل کھاتی لمبی قطار اس کی منتظر تھی۔ یخ ، ہڈیوں کو جما دینے والی سردی میںوہ کافی دیر تک کھڑا رہا،دوسروں کی طرح اس کا جسم بھی سردی میں ٹھٹھراتا رہا۔ وہ دل ہی دل میںغصہ بھی کھاتا رہا کہ اسی کا پیسہ اسی کو آسانی سے کیوں نہیں مل رہا۔کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماںہے۔ضرورت پڑی یعنی ماں نے پکارا کہ کوئی ایسی مشین بنائو جس 24گھنٹے ،سات دن پیسے ملتے رہیں۔ لہٰذا 40 سالہ ڈونلڈ اسی کام میں جٹ گیا۔اسی ضرورت کی کوکھ سے ’’آٹو میٹڈ ٹلر مشین‘‘(اے ٹی ایم نے جنم لیا)۔دنیا کی پہلی اے ٹی ایم مشین 2 ستمبر 1969ء کو امریکی لانگ آئی لینڈ کی نسائو (Nassau) کائونٹی میں واقع کیمیکل بینک برانچ کی راک فیل میں لگائی گئی تھی۔دل چسپ بات یہ ہے کہ اے ٹی کی ایجاد کو 50برس بیت گئے ،دنیا بھر میں35لاکھ سے زیادہ اے ٹی ایم مشینیں نصب ہیںلیکن مشین بنانے والے کی بیگم نے آج تک اسے استعمال نہیں کیا۔ وہ کہتی ہے کہ’’ میں نے اگر اس میں کارڈ ڈال تو واپس نہیں آئے گا‘‘۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

انسان سراپا محبت ہے،اللہ تعالیٰ نے اسے محبت کا پتلا بنا کر دنیا میں بھیجا ،حقوق العباد کی اہمیت بھی اسی لئے قائم رکھی کہ وہ ایک دوسرے کے ک ...

مزید پڑھیں

عوام ہر بجٹ کے وقت چیختے ہیں، چلاتے ہیں، کوئی وزیر یا سیکرٹری خزانہ ان کا گھریلو بجٹ ہی بنا دے،15،16 ہزار روپے میں جینے کا گر سکھا دے ، کہ وہ ...

مزید پڑھیں

آج کل پرائیوٹ پریکٹس میں ہر دوسرا مریض ، سر درد، ناک سے پانی بہنا اور خارش، سانس میں رکاوٹ، ذرا سے چلنے سے سانس کا پھول جانا جس میں دردیں ...

مزید پڑھیں