☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل عالمی امور غور و طلب فیشن سنڈے سپیشل خواتین کھیل فیچر صحت انٹرویوز طنزومزاح کچن کی دنیا
موٹاپا۔۔۔سگریٹ نوشی جیساخطرناک!

موٹاپا۔۔۔سگریٹ نوشی جیساخطرناک!

تحریر : ڈاکٹر فراز

09-22-2019

بطور سرجن مجھے دن میں ایسے مریضوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے جو خود اپنی موت کو دعوت دیتے ہیں ،میں انہیں تویہ بات کھل کر نہیں بتا سکتا کہ جناب آپ اپنی ہی عادات کی وجہ سے دھیرے دھیرے موت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ان کے کھانے پینے کی عادات اور پسندیدہ اشیا ہی انہیں دن بدن موت کے قریب لے جا رہی ہیںا ور جانتے بھی نہیں ہیں۔

اس وقت میں اپنے آنسو قابو نہیں کر سکا جب مجھے ایک ماں نے فخریہ انداز میں کہا کہ ۔۔۔ڈاکٹر صاحب، میرا بیٹا کھانے پینے میں بہت ’’چوزی‘‘ہے ،وہ پانی کی جگہ بوتل پیتا ہے اور برگر سے کم پر بات نہیں کرتا۔اسی لمحے مجھے پنڈی بھٹیاںکی ایک موت یاد آ گئی۔بے موت مرنے والا میرے بہت ہی پیارے دوست کا ہمسایہ تھا۔بالکل یہی جملے اس کی ساس نے بھی کہے تھے۔اس کی ساس کہتی تھی کہ میرا داماد بہت ہی خوش خوراک ہے، وہ پانی نہیں پیتا،روسٹ سے کم کھاتا ہی نہیں۔ جب بھی داماد ساس کے گھر آتا تو اس کا برادر نسبتی موٹر سائیکل کو کک مارتا نظرا ٓتا۔’’لگتا ہے کہ تمہارے داماد جی آئے ہوئے ہیں اور تم روسٹ لینے جا رہے ہو؟‘‘جی بالکل۔ یہ کہہ کر وہ غائب ہو جاتا۔ ایک دن میں اس کے گھر گیا تو کہرام مچا تھا۔ ہمسائے میں جوان موت پر پورا محلہ غم زدہ تھا۔۔میںسمجھ گیا کہ خوراک نے ایک اور جان لے لی ہے۔اس کے دو ننھے ننھے بچوں کی شکلیں میری آنکھوں کے سامنے گھوم گئیں اور میں وہاں سے اٹھ آیا۔یہ فوڈ زندگی کے سفر کو فاسٹ بنا کرتیزی سے موت کے قریب لے جاتا ہے۔ 

بطور سرجن مجھے دن میں ایسے مریضوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے جو خود اپنی موت کو دعوت دیتے ہیں ،میںانہیں تویہ بات کھل کر نہیں بتا سکتا کہ جناب آپ اپنی ہی عادات کی وجہ سے دھیرے دھیرے موت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ان کے کھانے پینے کی عادات اور پسندیدہ اشیا ہی انہیں دن بدن موت کے قریب لے جا رہی ہیںا ور جانتے بھی نہیں ہیں۔اس وقت میں اپنے آنسو قابو نہیں کر سکا جب مجھے ایک ماں نے فخریہ انداز میں کہا کہ ۔۔۔ڈاکٹر صاحب، میرا بیٹا کھانے پینے میں بہت ’’چوزی‘‘ہے ،وہ پانی کی جگہ بوتل پیتا ہے اور برگر سے کم پر بات نہیں کرتا۔اسی لمحے مجھے پنڈی بھٹیاںکی ایک موت یاد آ گئی۔بے موت مرنے والا میرے بہت ہی پیارے دوست کا ہمسایہ تھا۔بالکل یہی جملے اس کی ساس نے بھی کہے تھے۔اس کی ساس کہتی تھی کہ میرا داماد بہت ہی خوش خوراک ہے، وہ پانی نہیں پیتا،روسٹ سے کم کھاتا ہی نہیں۔ جب بھی داماد ساس کے گھر آتا تو اس کا برادر نسبتی موٹر سائیکل کو کک مارتا نظرا ٓتا۔’’لگتا ہے کہ تمہارے داماد جی آئے ہوئے ہیں اور تم روسٹ لینے جا رہے ہو؟‘‘جی بالکل۔ یہ کہہ کر وہ غائب ہو جاتا۔ ایک دن میں اس کے گھر گیا تو کہرام مچا تھا۔ ہمسائے میں جوان موت پر پورا محلہ غم زدہ تھا۔۔میںسمجھ گیا کہ خوراک نے ایک اور جان لے لی ہے۔اس کے دو ننھے ننھے بچوں کی شکلیں میری آنکھوں کے سامنے گھوم گئیں اور میں وہاں سے اٹھ آیا۔یہ فوڈ زندگی کے سفر کو فاسٹ بنا کرتیزی سے موت کے قریب لے جاتا ہے۔ 

پاکستان میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دیہات میں 24سے 44سال کی عمر کے9فیصد مردوں اور14فیصد خواتین موٹاپے کا شکار ہیں۔جبکہ شہروں میںموٹاپے کا تناسب دیہات کے مقابلے میں دگنے سے بھی زیادہ ہے یعنی شہروں میں 22فیصد مرد اور37فیصد خواتین موٹاپے کا شکار ہیں۔عمر کے ساتھ ساتھ موٹاپا بھی بڑھتا جاتا ہے۔دیہات میں45سے 64سال کی 19فیصد خواتین اور 11فیصد مرد موٹاپے کا شکار ہیں۔شہروں میں یہ تناسب بالتریب23اور40فیصد ہے۔اسے کم کرنا ضروری ہے، یہ قدرت کی جانب سے خطرے کی گھنٹی ہے۔ہمیں اس پر دھیان دینا چاہیے۔ہم سب کو یہ جان لینا چاہیے کہ ہمارا لائف سٹائل اب نہیں چلے گا، اگر ہم زندہ ہی رہنا چاہتے ہیںاور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت یعنی زندگی کو اپنی ہی عادات کی وجہ سے مو ت کے منہ میں دھکیلنے سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں آج کچھ باتوں پر غور فرمانا ہو گا۔جو کچھ میں اب لکھنے والا ہوں وہ کئی عالمی ادارے بھی کہہ چکے ہیں لیکن ہم اس خطرے سے ناواقف ہیں۔برطانیہ کے ادارے’’نیشنل ہیلتھ سروسز‘‘ نے خبردار کیا ہے کہ موٹاپاسگریٹ نوشی کی طرح ہے،یہ موت کا سبب بن رہا ہے اور 2035ء تک اس سے ہونے والی اموات دگنی ہو جائیں گی۔صرف برطانیہ میں موٹاپے سے ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 40ہزار سالانہ ہو گی۔ وہاں کی جاجنے والی ایک تحقیق سے یہ چونکا دینے والے اعدادا و شمار سامنے آئے ہیں کہ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کو قابو نہ کیا گیا تو یہ سگریٹ نوشی جیسا خطرناک ثابت ہو گا۔ اور مستقبل میں شرع اموات کے حوالے سے موٹاپا سیگریٹ نوشی کو کہیں پیچھے چھوڑ جائے گا۔اس حوالے سے یہ نمبر ون پر ہوگا۔ہر13منٹ میں کسی نہ کسی میں ان عادات کی وجہ سے کینسر پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اس وقت وہاں اس سے اموات کی تعداد 22ہزار ہے جو بڑھ کر41ہزار ہو جائے گی۔ہمارے ہاں بھی شرح اموات میں اس سے بھی زیادہ تیزی سے اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔یہاں اموات دگنی سے بھی زیادہ ہونے کا اندیشہ ہے۔کیونکہ ہم میں ورزش کی کمی ہے۔ ورزش نہ کرنے کی وجہ سے ہمارے ہاں جسم کا ایک اچھا خاصا حصہ موٹاپے کا باعث بن کر کئی بیماریوں کو دعوت دیتا ہے۔مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ایک سروے کے مطابق یہاں58فیصد بیماریاں غذا میں پائے یا پیدا ہونے والے نووائرس (Norovirus) سے جنم لیتے ہیں۔نان ٹائی فوڈل سالمونیلہ اے پی پی(nontyphoidal Salmonella spp) نامی وائرس سے 11فیصد ،کلاس ٹریڈیم پرفرنجیز (Clostridium perfringens) سے 10فیصداور کیمپیلو بیکٹرایس پی پی(Campylobacter spp) سے 9 فیصد ا،مراض جنم لیتے ہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق ایک طرف ہماری خوراک اچھی نہیں ،اور اگر اچھی ہے تو غذائیت سے بھرپور نہیں۔جو ہمیں صحت مند رکھنے کے قابل نہیں۔اسی لئے ماہرین غذائیت ہمیںبار بارمحفوظ خوراک لینے کا مشورہ دے رہے ہیں ورنہ خدانخواستہ سرطان جیسی موذی بیماریاں بھی ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہاں سرطان کے اسباب جینیاتی ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری عادات سے بھی جڑے ہوے ہیں۔یہاں میں یہ بھی کہنا چاہوںگا کہ سروے کے مطابق پھلوں اور سبزیوں سے بھی کئی امراض پیدا ہو رہے ہیں، پھل ہم دھوئے بغیر کھا رہے ہیں ،جبکہ ان کی پیداوار حاصل کرنے کے لئے بھی غیر صحت مندانہ کیمیکلز کے استعمال سے ان میں بیماریاں پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوجاتے ہیں جو ہمیں بیمار کر دیتے ہیں۔مثال کے طور پر سالمونیلہ اور ای کولی سے متعدد بیماریاں پھیل رہی ہیں۔جس پر کوئی توجہ نہیں دئی گئی۔

اس خطرے کو بھاپنتے ہوئے دنیا بھر میں پھیلتی ہوئی اس خرابی پر قابو پانے کے لئے عالمی ماہرین اور محققین نے شکاگومیں اہم اجلاس بلایا۔ اجلاس میں کینسر کے حوالے سے امریکہ کے سب سے بڑے ادارے ’’امریکن سوسائٹی آف کلینیکل آنکولوجی‘‘ نے کہا کہ ’’ہم نے کینسر کے حوالے سے دنیا بھر میں تحقیق کے لئے موٹاپے کو اپنی فہرست میں ٹاپ پر رکھ لیا ہے۔ہاروڈ کی ماہر ڈاکٹرجینیفر لیجیبل (Jennifer Ligibel) نے کہا کہ’’موٹاپا اقوام عالم کی صحت کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے‘‘۔انہوں نے عالمی تحقیق کی مدد سے ثابت کیا کہ وزن میں 11فیصد اضافے کی وجہ سے چھاتی کے سرطان کے اندیشے میں8فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔انہوں نے اپنے لیکچر میں پیٹ،معدے اور رحم مادر سمیت 13اقسام کے سرطانوں کے خوارک اور عادت کے تعلق کوواضح کیا۔کہا کہ عالمی اداروںنے ماہرین کی مدد سے خوارک کا ایک چارٹ تیار کیا ہے جس پر عمل کر کے بیماریوں میں 60فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔اسی اجلاس میں ڈاکٹرسیلی ڈیوس نے بچوں (اور بڑوں کی بھی) صحت کی حفاظت کے لئے غیر صحت مندانہ خوراک پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی۔انہوں نے کہا کہ’’ بچوں میں بیماریاں پھیلانے کا سبب بننے والی اشیاء پر ہر صورت میں بھاری ٹیکس عائد کئے جائیں‘‘۔ ماضی میں یہ کہا جاتا تھا کہ سرطان کے پھیلائو کی سب سے بڑی وجہ جینیاتی ہے۔اجلاس سے اس کی نفی تو نہیں کی گئی لیکن یہ وضاحت کی گئی کہ ہم خود بھی سرطان پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں اور ضروری نہیں کہ یہ کسی جیناتی خلل کی وجہ سے پیدا ہو، ہماری عادات بھی کم از کم 13اقسام کے سرطان کا سبب بن سکتی ہیں۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پاکستان میں ڈینگی بخار پھر سر اُٹھا سکتا ہے۔ اگست 2019ء کے مہینے میں کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی میں ڈینگی کے سینکڑوں کیس رپورٹ ہوئے ہ ...

مزید پڑھیں

زندگی میں جہاں دولت کمانا بہت اہم ہے وہیں اس دولت کا لطف اُٹھانا اس کے کمانے سے بھی کہیں زیادہ ضروری اور اہم ہے۔ اکثر لوگ کامیابی کے سفر م ...

مزید پڑھیں

موسم برسات میں بارشوں اور سیلاب کے بعد مختلف قسم کی بیماریاں پھیلنے کا زبردست اندیشہ ہوتا ہے جو وبائی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ ان بیماریو ...

مزید پڑھیں