☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ صحت رپورٹ سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا دلچسپ دنیا طنزومزاح انٹرویوز کھیل خواتین تاریخ روحانی مسائل
دیکھنے کا حق کب ملے گا؟

دیکھنے کا حق کب ملے گا؟

تحریر : محمد ندیم بھٹی

10-20-2019

آنکھیں بڑی نعمت ہیں ،اس ایک عام سے جملے کی اہمیت سے دنیا میںبینائی کی کمزوری کا سامنا کرنے والے ایک ارب باشندے ہی جانتے ہیں۔مگر ہم جنہیں اللہ تعالیٰ نے دیکھنے، سننے اوربولنے کے سمیت ہر نعمت سے نوازہ ہے،وہ اس کی قدر نہیں کرتے۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ آنکھوں کی متعدد بیماریاں عمر میں اضافے سے جڑی ہوئی ہیں مگر بہت سی بیماریوں کو ہم خود دعوت دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گلاکوما(Glaucoma) یا عمر میں اضافے سے ہونے والی بینائی کی کمزوری سب سے عام خرابی ہے۔عالمی اداروں نے یہ بھی کہا ہے کہ جنو بی ایشیا (جہاں ہم رہتے ہیں) ممالک میں آنکھوں کی بیماریاں ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ ہیں۔ہمارے ہاں شہروں کے مقابلے میں دیہات میں آنکھوں کی بیماریاں بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔ جبکہ یہاں مردوں کے مقابلے میں خواتین میںآنکھوں کی بیماریاں زیادہ عام ہیں ، اس پر ہم آگے چل کر بحث کریں گے۔عالمی اداروں نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ مائیوپیا (Myopia) سے عالمی پیداوار میں255ارب ڈالر اور نظر کی کمزوری سے 25ارب ڈالرکی کمی ہو رہی ہے۔انہوں نے الگ سے تو نہیں بتایا لیکن ہم بھی اربوں ڈالر کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں آنکھوں کے امراض کی تفصیل اس طرح ہے:

نظر کی کمزوری میں مبتلا:82.6کروڑ افراد

مایئوپیا:12.4کروڑ افراد

موتیا:65لاکھ افراد

گلاکوما:70لاکھ افراد

کورنیل اوپے سیٹیز :40لاکھ افراد

ڈائی بیٹک ریٹنو پیتھی:30لاکھ افراد

ٹریکوما:20لاکھ افراد۔

ٹریکوما (Trachoma)مرض 55ممالک میں پایا جاتا ہے ، اس مرض نے لاکھوں افراد کوقوت بصارت سے محروم کر دیا ہے۔ ان ممالک میںپاکستان،مراکش، چین ، میانمار، مصر، بھارت،عراق، برازیل، فغانستان، آسٹریلیا، ایران، میکسیکو اوراومان بھی شامل ہیں۔تاہم وہاں ان امراض پرقابو پا لیا گیا ہے، انسان نے اس مرض پر فتح پا لی ہے۔1985ء میں36کروڑ سے زائد افراد اس مرض میں مبتلا تھے مگر اب ان کی تعداد گھٹ کر صرف 8کروڑ رہ گئی ہے۔ہر سال آنکھوں کے مریضوں میں 10لاکھ سے 20لاکھ تک کا اضافہ ہو رہا ہے۔جنوب مشرقی ایشیا کی آبادی کل آبادی کا 25فیصد ہے مگر یہاں آنکھوں کی بیماریوں کا تناسب 33فیصد ہے۔دنیا کے 40فیصد غریب اور موتیا کا شکار 60فیصدمریضوں کا یہی گھر ہے۔

اقوام متحدہ نے نابینا افراد کوسہولتوں کی فراہمی اور ان کے غم میں شریک ہونے کے لئے1965ء کے بعد سے 15اکتوبر کو میں’’یوم سفید چھڑی ‘‘منانے کا علان کیا۔ اس سال 15اکتوبر کوہم دھرنا دھرنا کھیلتے رہے اور بینائی سے محروم افراد آنکھوں والوں کی نظروں میں آ ہی نہ سکے۔ انہیں عزت و وقار دینے کا یہ ایک دن بھی چپکے سے گزر گیا ۔ ملک کے کسی حصے میںکوئی بڑی سرکاری تقریب منعقد نہیں ہوئی۔ پاکستان میں بصارت سے محروم افراد کے لئے کوئی بڑامنصوبہ شروع نہیں کیاگیا ۔آٹھویں ترمیم کے بعد بینائی سے محرو م افرادکی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی صوبوں کے کنٹرول میں آ گئی تھی مگر صوبے کہاں کبھی کسی کو سنبھال پائے ہیں ۔ وہ تو گلی کوچوں میں دندنانے والے کتوں اور خطرناک بیماریوں سے قوم کے مستقبل کو بھی نہ بچا سکے ۔

ہم کو ان سے ہے وفا کی امید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے! 

ہماری آبادی 22کروڑ سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ ملک گیر جائزہ رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں نابینا افراد کا تناسب کل آبادی کا 1.8 فیصد ہے۔ قابل علاج اور ناقابل علاج آنکھوں کے امراض میں مبتلا افراد 1994میں 13کروڑ اور 2002میں 17کروڑ اور2003میں نابینا افراد کی تعداد 12.5لاکھ تھی۔گزشتہ کئی برسوں میں نئی جائزہ رپورٹ سامنے نہیں آئی مگر 1.8فیصدکو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ 22کروڑ افراد میں سے 36لاکھ افراد بصارت سے محروم ہوں گے۔یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کی رنگینیوں سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے،ان میں اکثریت کو اگرہم چاہیں تو بینائی لوٹا سکتے ہیں ۔ان کی بینائی قدرتی طور پر خراب نہیں ہوتی۔ آنکھوں کے 80فیصد امراض کے ہم خود ہی ذمہ دار ہیں، ان لاکھوں لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دیکھتی آنکھوں کے ساتھ دنیا میں بھیجا مگر ہم نے ملاوٹی خوراک ، چینی اور ایسے کئی اجزاء کے ذریعے ان کی بینائی چھین لی۔اسی لئے ہم انہیںان کی بینائی لوٹا سکتے ہیں، ان کی زندگیوں میں دوبارہ رنگ بھر سکتے ہیں، اس کے لئے مضبوط ارادوں اور محنت درکار ہے،توجہ اور لگن کی ضرورت ہے ،پیسہ بھی چاہیے مگر زیادہ نہیں ۔اتنا نہیں جتنا ہم ایک ہی منصوبے میں اڑا دیتے ہیں۔ 

ملک میں آنکھوں کے امراض کی شدت کا اندازہ 1990کی دہائی میں ہوا تھا۔جب ’’نیشنل کمیٹی فار دی پری وینٹیو آف بلائینڈنس ‘‘(NCPB) بنائی گئی تھی۔جس نے آنکھوں کے امراض پر قابو پانے اور ان کے مریضوں کی صحیح تعداد جاننے کے لے تین سالہ سروے کے بعدپانچ سالہ پرگرام (1994تا1999)مرتب کیا تھا۔یہ پانچ سالہ پروگرام بری طرح ناکام رہا۔

 سروے میںہر عمر کے گروپ بنائے گئے ۔ جوں جوں عمر بڑھتی جاتی ہے آنکھوں کی بیماری کا تناسب بھی بڑھتا جاتا ہے۔ 30سے39برس کی عمر میں 94.4 فیصد جوانوں کی آنکھیں ٹھیک تھیں ۔انہیں بینائی کی کسی قسم کی شکایت کا سامنا نہ تھا،جبکہ70یا اس سے ز ائد برس کی عمر میں23.1فیصد سے زائد افراد بینائی کی کمزوری یا امراض میں مبتلا پائے گئے۔ نابنیا پن بھی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ 30 سے 39سال کی عمر میں 0.4فیصد افراد میں یہ مرض پایاگیا مگرکچھ علاقوں میں70برس یا سے زائد کی عمر یہ یہ تناسب 15.7فیصد سے بھی تجاوز کر گیاتھا۔نابیناپن کا شکار 87.2فیصد افرادکی عمریں50سال یا اس سے زائد تھیں۔30 تا39سال کی عمر کو نکال دیا جائے تو باقی ہر عمر کے گروپ میںمردوں کی با نسبت خواتین زیادہ نابینا پن کا شکار تھیں۔ شہروں کی بانسبت دیہات میں بینائی کی کمزوری اور آنکھوں کی بیماریاں زیادہ تھیں۔اگر کسی شہر میں آنکھوں کے امراض کاتناسب 2.5فیصد ہے تو دیہات میں یہ 3.8فیصد نکلا۔اگرچہ مردوں اور عورتوں کی تعداد میں قابل ذکر فرق نہ تھا، تاہم پھر بھی خواتین میںان امراض کا تناسب 0.7فیصد زیادہ تھا۔

 عمومی طور پر گلوکوما اور ریٹینائٹس کی خرابی کا شکار افراد کی پوری تعداد ڈاکٹروں سے رجوع ہی نہیں کرتی لہٰذا ان کی تعداد ہمیشہ ہی کم سامنے آتی ہے۔چنانچہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے ۔ان خرابیوں میں مبتلا افراد کی تعدا ددوسرے صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں کچھ زیادہ ہے ۔ بلوچستان کے مرد اور خواتین دوسرے صوبوں کی بانسبت اس مرض سے محفوظ ہیں۔جنوبی پنجاب میں پنجاب کے دوسرے حصوں کی با نسبت آنکھوں کی بعض بیماریوں کا تناسب دگنا تھا۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملک بھر میںنابینا پن کی سب سے بڑی وجہ موتیا ہے، تقریباََ 66.7فیصد افراد اسی مرض میں مبتلا پائے گئے ہیں۔جبکہ Refractive کی خامی 36.7فیصد اورConeal opacityچھ فیصد افراد میں پائی گئی ۔لاعلاج خرابی(Aphkia) 3 فیصد تک مریضوں کو ہوتی ہے۔

مختلف جائزہ رپورٹوں میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جتنے افراد آنکھوں کے مرض میں مبتلا ہیں ان سے بھی تین گنا زیادہ کی بینائی بہت زیادہ کمزور ہے۔ ان کی تعدادقبل ازیں 60لاکھ بتائی گئی تھی مگر آبادی کے تناسب سے یہ تعداد سوا کروڑ بھی ہو سکتی ہے۔پہلے پہل خال خال ہی کسی بچے کے چہرے پر عینک نظر آتی تھی، عینکوں کی دکان بھی کہیں کہیں ہوتی تھی مگر اب کوئی بازار عینک کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا، بلکہ عینک منڈیاں بھی بن چکی ہیں یہ سب موبائل فونز اور دوسری غلط عادات کا نتیجہ جن سے بچنا ہی نہیں چاہتے۔

 نا بینا پن کے خاتمے کے لئے’’وژن 2020‘‘مرتب کیا گیا ۔ اس وژن کا ایک ہی مقصد ہے کہ ’’نظر سب کیلئے ‘‘۔عالمی اداروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ اگلے دو سال کے اندر اندر ایسے اقدامات کرلینا چاہیں کہ پاکستان میںکوئی ایک شخص بھی ایسا نہ ہو جو ہماری یا اپنی کسی غفلت کی وجہ سے بینائی سے محروم ہو جائے۔

یہ جاننابھی ضروری ہے کہ ہر صوبے میں نابینا افراد کی تعداد ایک جیسی نہیں ہے، کہیں کم اور کہیں زیادہ ہے، کیونکہ بینائی کے چلے جانے کا تعلق روزگار، زندگی کے معمولات اور کھانے پینے کی اشیاء کے میعار سے بھی ہے۔ نابینا افراد کی سب سے زیادہ تعداد پنجاب میںمقیم ہے ،اس کے بعد سندھ اور پھر خیبر پختونخوااور بلوچستان کا نمبر آتا ہے ۔سندھ میں 1.8فیصد اضافے کے ساتھ نابینا افراد کی تعداد چھ لاکھ ہو چکی ہو گی۔

ہمارے ہاں نابینا پن کی بڑی وجوہات ہیں ،موتیا اور ذیابیطس ۔ان ددونوں امراض سے بچائو ممکن ہے مگر ہماری لاپرواہی سے یہ دونوں امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔یہاں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد چار کروڑ ہو گی۔2017ء میں ہونے والے سروے کے مطابق 3.55کروڑ (17فیصد) افراد ذیابیطس میں مبتلا تھی۔ اب چار کروڑ افراد ذیا بیطس میں مبتلا ہوں گے، اس مرض میں ہونے والے اضافے کو پیش نظر رکھا جائے تو آنکھوں کے امراض میںمبتلا افراد کی تعد36لاکھ سے زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ اس کا تعلق ذیا بیطس سے بھی ہے۔اس مرض میں اضافہ سابق حکمرانوں کی نااہلی اور غفلت کے سوا اور کیا ہے؟ قابل تشویش بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت بھی اس سمت میںکچھ نہیں کررہی۔ہم صرف شعور بیدار کر کے بھی ان کئی امراض پر قابو پا سکتے ہیں۔ہماری لکھنے پڑھنے ،ٹی وی دیکھنے یا موبائل کے اندھا دھند استعمال سے بھی بینائی متاثر ہو رہی ہے۔ نظر کی کمزوری اور لکھنے پڑھنے کے غیر صحت مندانہ طریقے بینائی کی کمزوری کی شکایا ت میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔قبل ازیں ترقی یافتہ ممالک میںآنکھوں کی کئی بیماریوںپرقابو پا لیا گیاتھا ،مگر موبائل فونز کے استعمال نے وہاں بھی بیماریوںکو بے قابو کر دیا ہے۔

پانچ برس کی عمر میں علامت ظاہر ہونے پر موتیا سے بچائو سو فیصد ممکن ہے ۔ ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ا گر بینائی صرف پانچ برس کی عمرمیں کم ہونا شروع ہو جائے تو بچہ بڑا ہو کر خدانخواستہ موتیا کا شکار ہو سکتا ہے۔ موتیا ہوتا تو بڑی عمر میں ہی ہے مگر اس کی علامت بچپن میں بھی ظاہر ہو سکتی ہے۔جن میں بینائی کی کمزوری بھی شامل ہے۔ایک اور سروے میں بتایا گیا کہ ہمارے ہاں85.4افرد کو آنکھوں کی بیماری سے محفوظ رکھا جا سکتا تھا یہاں قابل علاج بیماریوں کا تناسب دوسرے ممالک کے مقابے میںنسبتاََ زیادہ ہے ۔حیرت انگیز طور پر آنکھوں کی بیماری کا تعلق براہ راست جنس، علاقے (شہر یا دیہات)اور ناخواندگی سے بھی ہے۔ یہ بات اب کوئی راز نہیں کہ سگریٹ آپ کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی ہے۔آپ اسے نہیں چھوڑیں گے تو یہ آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔یہ تونہیں جانتے کہ سگریٹ کس طرح آنکھوں پر اثرا نداز ہوتی ہے مگر یہ بینائی کو متاثر ضرورکر تی ہے۔ورجینا بیچ میں ہونے والی تحقیق سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ سگریٹ نوشی سے موتیا کے اندیشوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔صرف سگریٹ ہی نہیں دوسری قسم کا نشہ بھی موتیا کا باعث بنتا ہے۔ خوراک اچھی رکھیے۔اچھی اور صحت مند خواراک آ پ کو کئی امراض سے بچا سکتی ہے جن میں انکھوں کے امراض بھی شامل ہیں۔آپ خون میں چینی کی مقدار کو نارمل رکھ کر آنکھوں کو بھی نارمل رکھ سکتے ہیں ،یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ڈاکٹر صاحبان ہر وقت ہمیں ہرے پتوں والی سبزیاں کھانے کا مشورہ دیتے ہیں مگر ہم نہیں مانتے،اسی لئے آج آنکھوں کے امراض بے قابو ہوتے جارہے ہیں۔ہری سبزیوں میںموجودغذائی اجزا آنکھوں کو صحت مند رکھنے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں،آنکھوں کے لئے حیاتین ضروری ہیںمگر ہم ان کا استعمال نہیںکرتے۔ہمیں اینٹی آکسیڈنٹس والی غذائیں زیادہ مقدار میں کھانا چاہیں۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

بطور سرجن مجھے دن میں ایسے مریضوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے جو خود اپنی موت کو دعوت دیتے ہیں ،میں انہیں تویہ بات کھل کر نہیں بتا سکتا کہ جناب آ ...

مزید پڑھیں

پاکستان میں ڈینگی بخار پھر سر اُٹھا سکتا ہے۔ اگست 2019ء کے مہینے میں کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی میں ڈینگی کے سینکڑوں کیس رپورٹ ہوئے ہ ...

مزید پڑھیں

زندگی میں جہاں دولت کمانا بہت اہم ہے وہیں اس دولت کا لطف اُٹھانا اس کے کمانے سے بھی کہیں زیادہ ضروری اور اہم ہے۔ اکثر لوگ کامیابی کے سفر م ...

مزید پڑھیں