☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل دنیا اسپیشل عالمی امور صحت کیرئر پلاننگ خواتین کچن کی دنیا دین و دنیا فیشن انٹرویوز ادب
تھیلیسیمیاایک مہلک بیماری

تھیلیسیمیاایک مہلک بیماری

تحریر : ندا فیض

03-24-2019

انسانی زندگی بہت قیمتی ہے ۔ اس کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے ۔ انسان کوساری زندگی میں کئی طرح کی بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ رہتا ہے ۔کئی بیماریاں اتنی خاموشی سے انسان کے جسم میں سرایت کرجاتی ہیں کہ پتا بھی نہیں چلتا کہ ہوا کیا ہے۔

لوگ اپنی سمجھ کے مطابق اس کا علاج مختلف ٹوٹکوں سے کرتے رہتے ہیں اور بعض حالات میں تعویذ گنڈوں کا آسرا ڈھونڈتے رہتے ہیں مگر لاعلمی انسان کو اس نہج پر پہنچادیتی ہے کہ جہاں سے واپس آنا ممکن نہیں ہوتا ۔تھیلسیماخون کی ایک جینیاتی بیماری ہے

جس میں خون کے خلیے جسمانی ضرورت کے مطابق آکسیجن کی مناسب مقدار سپلائی کرنے کے قابل نہیں ہوتے ۔ چنانچہ خون کی مقدار انسانی ضرورت کو پورا کرتی ہے کیونکہ بون میرو(Bone Marrow) نارمل طریقے سے خون کے سرخ خلیے تیار کرنے کے قابل نہیں ہوتا ۔ اس طرح دل اوردیگر جسمانی اعضاء خون کی کمی کے باعث کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں مریض زرد اور لاغر ہوجاتے ہیں اگر بروقت خون کی فراہمی نہ شروع کی جائے تو مریض موت کے منہ میں جاسکتا ہے ۔

تھیلسیمیا کی تین بڑی اقسام ہیں۔بیٹا تھیلسیمیا(Beta Thalassemia) کی دو ذیلی اقسام ہیں جیسا کہ میجر اور انٹر میڈیا۔دوسری قسم الفا تھیلسیمیا (Alpha Thalassemia) کی دو ذیلی اقسام ہیں۔

ایک ہوموگلوبن ایچ (Hemoglobin H) اور دوسری ہائیڈو فیٹالس (Hydrops Fetalis)کہلاتی ہے۔ایکم قسم تھیلسیمیا مائنر ہے۔اس کی کوئی ذیلی قسم نہیں۔ ھیلسیمیامیجر خون کی خطرنا ک بیماری ہے ۔

اس میں ہر ماہ خون کی تبدیلی اور ادویات کی ضرورت ہوتی ہے اگر ان مریضوں کو بروقت خون فراہم نہ کیا جائے یا علاج نہ کیا جائے تو یہ ایک سے آٹھ سال کی عمر میں وفات پاسکتے ہیں ۔تھیلسیمیا مائنز دوسری قسم ہے ۔ ہمارے ہاں 5سے 7فیصد لوگ تھیلسیمیا مائنر کا شکار ہیں ۔ انہیں علاج کرانے کی ضرورت نہیں ہوتی البتہ اگر دو تھیلسیمیا مائنز افراد آپس میں شادی کرلیں تو ان سے پیدا ہونے والے بچے تھیلسیمیا میجر میں مبتلا ہوسکتے ہیں

جن کی زندگی کے تحفظ کے لئے مستقل بنیادوں پر خون کی فراہمی کی ضرورت ہوتی ہے پاکستان میں ہر سال تقریباًہمارے ملک میں ہر سال تقریباً5ہزار میں سے 4500بچے تھیلسیمیا میجر کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں ۔اس وقت ہمارے ملک میں 60ہزارسے زائد بچے تھیلسیمیا میجر میں مبتلا ہیں۔

اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ تھیلسیمیا کیسے ہوتا ہے ؟ اس کی وجوہات کیا ہیں ۔

1: تھیلسیمیا مائنز کے افراد آپس میں شادی کرلیں تو بچے تھیلسیما میجر کے مریض پیداہوسکتے ہیں ۔

2: تھیلسیمیا کے اثرات کیرئیر صحت مند والدین سے بچوں میں منتقل ہوتے ہیں ۔

3

:جب والدین میں سے ایک کیرئیر ہوتو بچوں کے کیرئیر ہونے کا چانس 50فیصد ہوتا ہے ۔

4: جب والدین میں سے دونوں کیرئیر ہوںتو تھیلسیمیا کا مریض بننے کا چانس 25فیصد اور کیرئیر ہونے کا چانس 50فیصد ہوتا ہے ۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ تھیلسیمیا سے بچاؤ کے لئے عام افراد میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے اب وقت آگیا ہے کہ ہر باشعور اور پڑھا لکھا فرد اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور اس کا تدارک کرنے کی کوشش کرے ۔دنیا کے دوسرے ممالک میں اس مرض سے بچنے کے لئے شادی سے پہلے خون کے ٹیسٹ کروانے لازمی قرار دیئے جاچکے ہیں تاکہ شادی کے خواہشمند افراد اگر تھیلسیمیا مائنز میں مبتلا ہیں تو ان سے پیدا ہونے والے بچوں کو روکا جاسکے اپنی آئندہ نسل کو اس بیماری سے بچانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ شادی سے پہلے مرد اور عورت تھیلسیمیا ٹیسٹ کروائیں

اگر دونوں مائنز ہیں تو آپس میں شاد ی سے گریز کریں ۔تھیلسیمیا کے مریضوں کا دوطرح سے علاج کیا جاتا ہے ۔تھیلسیمیا کے مریضوں کو ہر دو سے تین ہفتے کے بعد خون کی منتقلی کی ضرورت پڑتی ہے ۔ یہ طریقہ ساری زندگی جاری رہتا ہے ۔انتقال خون کی وجہ سے مریض کے جسم میں فولاد کی مقدار زیادہ ہوجاتی ہے ۔ یہ دوا ساری زندگی دینا پڑتی ہے ۔دوسرا طریقہ بون میرو(Bone Marrow)

ٹرانسپلانٹ ہے ۔ یہ طریقہ علاج صرف چند خوش نصیبوں کو مل سکتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تھیلسیما کا ٹرانسپلانٹ اس صورت میں ممکن ہے ۔ جب تھیلسیمیا مریض کو ایسا ڈونر دستیاب ہو کہ جس کا جسمانی عطیہ مریض کے جسم کے قابل ہو ۔ضروری نہیں کہ ٹرانسپلانٹ ہمیشہ کامیاب ہو ۔ اس کی کامیابی اور ناکامی کے امکانات برابر ہوتے ہیں ۔ یہ مرض بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اس لئے اس سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی مہم چلانے کی اشد ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں

غصہ جذباتی تکلیف کی علامت ہے۔ اس سے جذبات میں برانگیختی پیدا ہوتی ہے۔ اس کی وجہ خود ساختہ بھی ہو سکتی ہے یا پھر ایسی کسی شے یا شخص کی وجہ س ...

مزید پڑھیں

یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ عمر کیساتھ ساتھ انسان بوڑھا ہوجاتاہے،جسمانی عضاء کمزور پڑنا شروع ہوجاتے ہیں اورآخر کار اس کی زندگی کا خاتمہ ہوج ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

آنکھیں بڑی نعمت ہیں ،اس ایک عام سے جملے کی اہمیت سے دنیا میںبینائی کی کمزوری کا سامنا کرنے والے ایک ارب باشندے ہی جانتے ہیں۔مگر ہم جنہیں ...

مزید پڑھیں

بطور سرجن مجھے دن میں ایسے مریضوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے جو خود اپنی موت کو دعوت دیتے ہیں ،میں انہیں تویہ بات کھل کر نہیں بتا سکتا کہ جناب آ ...

مزید پڑھیں

پاکستان میں ڈینگی بخار پھر سر اُٹھا سکتا ہے۔ اگست 2019ء کے مہینے میں کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی میں ڈینگی کے سینکڑوں کیس رپورٹ ہوئے ہ ...

مزید پڑھیں