☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا حافظ اسد عبید اشرفی) عالمی امور(صہیب مرغوب) دنیا اسپیشل(عذرا جبین) رپورٹ(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() آرٹ(عثمان سرور انصاری) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) خواتین(نجف زہرا تقوی) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) متفرق(طارق جاوید سیال) متفرق(قاضی محمد اسرائیل گڑنگی) دنیا کی رائے(ارشاد احمد ارشد) دنیا کی رائے(غلام سرور) دنیا کی رائے(عظمیٰ ظفر)
ڈپریشن ۔۔ اسباب، بچائو اور علاج

ڈپریشن ۔۔ اسباب، بچائو اور علاج

تحریر : ڈاکٹر آصف محمود جاہ

12-29-2019

’’آج تو کام کرنے کو بالکل دل نہیں کر رہا … کیونکہ میں بہت ڈپریس ہوں۔ باس کی ناراضگی سے صبح سے ڈپریشن ہے۔‘‘

’’امتحان میں ناکامی سے اسلم ڈپریشن میں مبتلا ہے۔ امجد کو کاروبار میں نقصان ہوا ہے۔اس وجہ سے وہ ذہنی طور پر اضطراب اور پریشانی کا شکار ہے۔ علی کے بیٹے نافرمان ہیں۔ اس وجہ سے ڈپریشن میں مبتلا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے باوجود نوکری نہ ملنے کی وجہ سے مستقل ڈپریشن میں مبتلاہے۔ اس کی شادی کو دو سال ہوگئے ہیں اولاد نہیں ہوئی۔ اس وجہ سے دونوں میاں بیوی ڈپریشن میں مبتلا ہے۔ ہادی دو دن سے کسی سے بات نہیں کر رہا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ اس کا دوست ناراض ہو گیا ہے جس کی وجہ سے وہ ڈپریشن میں مبتلا ہے۔ دو گہری سہیلیوں میں لڑائی ہو گئی ہے اس وجہ سے وہ دونوں ڈپریشن میں مبتلا ہیں۔ہمارا دوست بھٹی شادی کے لیے تگ و دو میں مصروف ہے جوں جوں شادی لیٹ ہو رہی ہے اس کا ڈپریشن بڑھتا جا رہا ہے ۔ مال و دولت ہونے کے باوجود مل اونر ڈپریشن میں مبتلا ہے۔ پوچھنے پر بتایا کہ اللہ نے ہر چیز سے نوازا ہے مگر طبیعت ہر وقت پریشان رہتی ہے۔ نیند رات بھر نہیں آتی۔ ڈپریشن ہر عمر کے مرد و خواتین میں ہو جاتا ہے بلکہ چھوٹی عمر کے بچے بھی اسکا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ لفظ ہماری زبان کا حصہ بن چکا ہے اور اس کا استعمال بہت عام ہے کیونکہ افتراق و انتشار، پریشانی، معاشی مسائل اور بے چینی کے اس دور میں ہر کسی کو تھوڑی بہت پریشانی، پژمردگی، مایوسی وغیرہ لازماً رہتی ہے جس کو ڈپریشن کا نام دیتے ہیں۔ اسے اگر صحیح طریقے سے کنٹرول نہ کیا جائے تو پھر یہ خطرناک نفسیاتی بیماری کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس کی وجہ سے نفسیاتی بیماری کے ساتھ آدمی کا جسم بھی بیمار ہو جاتا ہے۔

وجوہات:ڈپریشن کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ افراتفری کے اس مادی دور میں ہر کوئی خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے اور اس کے لیے جائز اور ناجائز ہر طرح کے وسائل کو بروئے کار لاتا ہے۔ اگر نتائج اس کی توقع کے خلاف نکلیں تو پھر بندے کو پریشانی و پژمردگی گھیر لیتی ہے اور وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ امتحان میں ناکامی، گھریلو ناچاقی، محبت میں ہار، لمبی اور پرانی بیماری، مالی مسائل وغیرہ کی موجودگی میں آدمی آسانی سے اعصابی تنائو کا شکار ہو جاتا ہے اور ہر وقت ڈپریشن میں مبتلا رہتا ہے۔اگر صحیح علاج نہ کیا جائے تو پھر ڈپریشن کی بیماری لمبی ہو جاتی ہے اور پورے جسم پر اس کے بداثرات ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ کبھی ایک تکلیف شروع ہوتی ہے اور کبھی دوسری۔ کسی قسم کی دوا کارگر نہیں ہوتی۔

علامات:ڈپریشن کا شکار شخص ہر وقت پریشانی میں مبتلا رہتا ہے۔ کسی چیز میں اس کا دل نہیں لگتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ دنیا سے بالکل جی اٹھ گیا ہے اور ہر شے بے معنی لگتی ہے۔

دل تو میرا اداس ہے ناصر

شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

علاج اور بچائو:جو لوگ اللہ پہ کامل یقین رکھتے ہیں اور ان کے دل میں اللہ پاک سے سب کچھ ہونے کا یقین ہوتا ہے وہ کبھی ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتے۔ وہ ہر تکلیف، پریشانی، ناکامی کی صورت میں اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ نفسیاتی الجھنوں اورڈپریشن جیسی مصیبتوں سے بچنے کے لیے اللہ سے لو لگائیں۔اس پہ بھروسہ رکھیں۔ہر حالت میں اس کی طرف رجوع کریں۔انشاء اللہ کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوگی اور ڈپریشن آپ کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا۔

اپنے آپ کو پہچانیے:اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ایک خاص مقصد کے لیے دنیا میں بھیجا ہے۔ کوئی شے بے مقصد نہیں بنائی گئی۔ اللہ پاک کے نزدیک آپ کی بہت اہمیت ہے۔ اپنی اہمیت کو جانیے اور اس مقصد کو سمجھنے اور پورا کرنے کی کوشش کریں۔ اپنا کام پوری لگن اور دیانتداری سے کریں۔ انشاء اللہ مسائل خود بخود حل ہوتے جائیں گے۔

اپنے فیصلے خود کریں:جو لوگ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرتے ہیں وہ ہمیشہ خوش و خرم رہتے ہیں۔ کامیابی کے لیے صحیح فیصلے کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے تمام پہلوئوں پہ خوب غور کریں۔ اللہ سے مدد مانگیں کہ وہ آپ کو صحیح راہ دکھلائے،پھر اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیں۔ انشاء اللہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ 

ذہنی اضطراب Anxiety کیا ہے۔ اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے

دیکھنے میں چنگے بھلے اور صحت مند نوجوان کو ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا۔ وہ دو دن سے بے حد تکلیف میں مبتلا تھا اور کوئی چیز ہضم نہ ہوتی تھی۔ سر کے درد، بے چینی اور قے وغیرہ نے تنگ کر رکھا تھا۔پورا چیک اپ کرنے کے بعد اس کا ہر سسٹم نارمل نکلا۔ ای سی جی (ECG) اور دوسرے ٹیسٹ بھی بالکل ٹھیک تھے۔ مزید ہسٹری لینے سے پتہ چلا کہ اس کی دو دن پہلے شادی ہوئی تھی اور شادی کے دن سے ہی وہ سخت اضطراب کا شکار تھا۔ مزید پوچھنے پر بتایا کہ اس نے شادی سے پہلے قوت بڑھانے کے لیے کسی حکیم سے کوئی کشتہ لیا تھا جس نے قوت بڑھانے کی بجائے الٹا اثر کیا اور یوں نوجوان پریشانی، اضطراب اور بے چینی کا شکار ہوا جس کی وجہ سے مندرجہ بالا علامات پیدا ہوئیں۔آج کل کے افراتفری کے دور میں ہر کوئی Anxiety یا اضطراب کا شکار ہے۔ زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں کسی نہ کسی مسئلے کی وجہ سے بندہ پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے۔ عورتیں بہت جلد اور آسانی سے بے چین اور فکر مند ہو جاتی ہیں۔

وجوہات:اضطراب، بے چینی یا پریشانی ہونے کی مندرجہ ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں۔-1موروثی اثر،-2لمبی بیماریاں، -3معاشرتی حالات،-4بے روز گاری،-5معاشی اور مالی مسائل،-6گھریلو الجھنیں اور مسائل،-7 شادی میں ناکامی اور-8امتحان میں ناکامی۔

علامات:پریشانی اور اضطراب کی حالت میں بندہ بجھا بجھا سا رہتا ہے۔ بے سکونی دامن گیر رہتی ہے۔ اکیلا رہنے کو دل کرتا ہے۔ ہر وقت کسی انجانے خوف کا دھڑکا لگا رہتا ہے اور بندہ پریشان رہتا ہے۔ کھانے میں دل نہیں لگتا ہے۔ گھر میں چین آتا ہے نہ باہر۔ان ذہنی علامات کے ساتھ بعض جسمانی علامات بھی ہو سکتی ہیں جن میں چھاتی میں درد،نبض کا تیز چلنا، سانس کا مشکل سے آنا، بھوک کا ختم ہو جانا، بے ہضمی، قبض یا ڈائریا، سر درد، چکر آنا، بار بار پیشاب کا آنا وغیرہ شامل ہیں۔ ان علامات کے ساتھ آدمی سچ مچ کا بیمار لگتا ہے اور یہ گمان تک بھی نہیں ہو تاکہ اصل پرابلم دماغ میں ہے۔اور اس کے فوری علاج کی ضرورت ہے۔ اس صورت ِ حال میں لوگ جعلی عاملوں اور پیروں فقیروں کی طرف دوڑتے ہیں جو عوام کی ضعیف الاعنقادی کا فائدہ اٹھا کر نہ صرف ان کی جیبیں خالی کرتے ہیں بلکہ مستقل روگ بھی لگا دیتے ہیں۔

اضطراب یا بے چینی پہ قابو:اضطراب بڑھتے بڑھتے نفسیاتی اور جسمانی بیماری کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جس کے لیے باقاعدہ طور پر مستقل علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر کے مشورہ سے علاج شروع کیا جائے۔ Anxiety یا اضطراب کو کنٹرول کرنے کے لیے اللہ پہ بھروسہ رکھیں۔کوئی بھی کام شروع کرتے وقت اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔ اپنا کام ایمانداری سے کریں اور نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں۔

-1 آج کے لیے کام کریں:کامیاب ہونے کے متمنی لوگوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ اپنا آج کا کام مکمل دیانتداری اور دل جمعی سے کریں۔ اپنی طرف سے کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ انشاء اللہ کامیابی آپ کا مقدر بنے گی اور آپ پریشان نہیں ہوں گے۔

-2روزانہ کا پروگرام:روزانہ صبح اٹھتے وقت فجر کی نماز پڑھ کر ایک پروگرام بنائیں اور اس کے مطابق روز کا کام روز کریں۔ جو چیزیں زیادہ اہم اور ضروری ہیں۔ انہیں اولیت اور فوقیت دیں۔ کام کے ساتھ اپنے جذبات کو بھی روزانہ چیک کریں۔ اپنے خیالات کو پراگندہ نہ ہونے دیں۔ نفرت، غصے، پشیمانی اور حسد والے جذبات کو دل سے نکال دیں۔ محبت، خوشی، پیار اور تعاون کے جذبات کو دل میں بسالیں۔ اس سے آپ کا من راضی ہوگا۔ اگر من راضی ہو تو بندہ کبھی مضطرب یا پریشان نہیں ہوتا۔

-3 آرام:اپنے آپ کو جسمانی طور پر Relax رکھیں۔ دن میں جب بھی موقع ملے جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر مکمل Relax کریں۔ اس سے بدن کو سکون ملنے کے ساتھ ساتھ ذہن کو بھی سکون ملے گا۔

-4 ہمیشہ خوش رہیے:خوش رہنے کی کوشش کریں۔ ہر کسی سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔ دوسروں کا دل اپنی خوش اخلاقی سے جیتیں۔ ہر شے کے مثبت پہلو پہ نظر رکھیں۔ اس سے آپ کا ذہن کبھی انتشار کا شکار نہ ہوگا۔ روزانہ کسی نہ کسی ضرورت مند کی ضرور مدد کریں۔ اس سے آپ کے اپنے کام آسان ہونگے۔

-5 جذباتی ڈائری:ایک ایسی ڈائری بنائیے، جس میں آپ کے روزانہ کے جذبات کا ریکارڈ ہو۔ اس کے ساتھ ان عناصر کا بھی تذکرہ ہو جو جذبات کو بھڑکا کر ٹھنڈا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس ڈائری سے آپ کو اپنے جذبات کو سمجھنے اور ان پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

-6 غذا کا حصہ:اپنی خوراک کو متوازن رکھیں۔ زیادہ مصالحہ دار اور چٹ پٹی اور مرغن غذائوں سے پرہیز کریں کیونکہ ایسی غذائیں کھانے سے بندہ کسی کام کا نہیں رہتا۔

-7 بہت سے مشاغل اپنائیں:خالی ذہن شیطان کی آماجگاہ ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو کسی نہ کسی تعمیری کام یا کسی سوشل ورک میں مصروف رکھا جائے۔ ان اصولوں پہ عمل کر کے اضطراب اور پریشانی سے مکمل طور پر بچا جا سکتا ہے۔

نفسیاتی الجھنیں بھی بیماریاں بن کر ظاہر ہوتی ہیں

اس سلسلے میں ایک پرانی مریضہ کی کہانی یاد آگئی۔’’جوان عو رت کچھ دنوں سے چلنے پھرنے سے بالکل معذور ہو چکی تھی۔ گھر والے فالج کا اٹیک سمجھے اور اسی وجہ سے امراض اعصاب کے وارڈ میں داخل تھی‘‘۔چیک اپ کرنے پر وہ چنگی بھلی نظر آئی اور کسی بھی بیماری کا سراغ نہ ملا۔ مزید استفسارپر پتہ چلا کہ اصل میں یہ عورت پانچ ماہ کی حاملہ ہے۔ اس سے پہلے دو دفع اس کا حمل ضا ئع ہو چکا ہے۔ اب تیسری دفعہ زبر دست ذہنی دبائو اور فکر کی وجہ سے وہ سخت پریشان تھی اور دو تین دن پہلے جب وہ سو کر اٹھی تو ایسے لگا کہ ٹانگوں میں بالکل جان نہیں رہی۔ بہتیری کوشش کی مگر اٹھ نہ پائی۔ بعد میں ہسپتال لائی گئی۔ خیر کچھ دنوں کی سائیکو تھراپی اور سمجھانے بجھانے کے بعد اس کو چلانے کی مشق کرائی گئی اور چند دن گزارنے کے بعد وہ خود چل کر گھر کو سدھاری۔ مختلف قسم کی نفسیاتی الجھنوں اور فکر وپریشانی وغیرہ میں جب اعصابی تنائو حد سے بڑھ جائے تو پھر یہ کسی نہ کسی قسم کی جسمانی بیماری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بندہ کسی حقیقی بیماری میں مبتلا ہے۔

اس طرح کی جھوٹ موٹ کی بیماریوں میں دمہ ، دل کی تکلیف جوڑوں میں درد، نظام ہضم کی بیماریاں، جلد کی بیماریاں، چلنے پھرنے سے معذور ہو جانا، دورے پڑنا وغیرہ شامل ہیں۔ نفسیاتی الجھنوں وغیرہ سے ہونے والی جھوٹ موٹ کی بیماریوں کے علاج میں سب سے اہم بات اس نفسیاتی وجہ کا سراغ لگانا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ بیماری ہوئی ہو۔ اس کے لیے مریض کو مکمل طور پر اعتماد میں لینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ مکمل اعتماد میں لیے گئے مریض کا علاج بہت آسان ہو جاتا ہے اور وہ اپنے متعلق تمام باتیں بتا دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کو خاص وجہ اور سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ خاندان کے افراد اور اس مریض کے ساتھ رہنے یا کام کرنے والے دوسرے لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کا مکمل خیال رکھیں۔ کوئی ایسا کام یا ایسی بات نہ کریں، جس سے اس کے جذبات کے مجروح ہونے کا احتمال ہو۔ ایسی صورتوں میں دوائوں کا استعمال ڈاکٹر کے مشورہ سے ہونا چاہیے کیونکہ دوائوں کے مضر اثرات کی وجہ سے بیماری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ٍٍٍڈپریشن اور ذہنی اضطراب میں ادویات کا استعمال 

افراتفری، انتشار، ذہنی پستی، پریشانی و فکر کے دور میں ہر کسی کو مصنوعی سہارے کی تلاش ہے۔ یہی حال سکون آور ادویات کا ہے جو یا تو سکون حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں یا پھر نیند کے لئے۔ یہ دوائیں دماغ کے متعلقہ کام میںرکاوٹ ڈال کر اسے سلا دیتی ہیں اور آدمی سکون محسوس کرتا ہے لیکن پھر اگر ان ادویات کا زیادہ استعمال کیا جائے تو ان کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا اور پھر بندہ ان کا غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ اسی لئے ادویات پر انحصار میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آخری نتیجہ نشے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے وقتی نیند لانے والی ان تمام ادویات سے پرہیز کیا جائے اوراگر زیادہ پریشانی، فکر یا تھکان کی وجہ سے نیند نہ آ رہی ہو تو ڈاکٹر سے مشورے کے بعد ہلکی دوا لینے میں کوئی حرج نہیں ۔ 

آسان اور متبادل علاج: تمام پریشانیوں سے بچنے کے لیے آزمودہ اور روحانی نسخہ اللہ کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ پریشانی میں گھبرائیے نہیں۔ دو رکعت نماز صلوٰۃ الحاجت پڑھ کر اپنے مسائل کے حل کے لیے اللہ کے سامنے گڑگڑائیے۔ ان شاء اللہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ نیند نہ آنے کے مسلے سے ہر کسی کو کبھی نہ کبھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس کی وجوہات کا تدارک ضروری ہے۔مندرجہ ذیل آسان حل پر عمل کریں۔ 

ژسونے سے پہلے اپنے آپ کو جسمانی اور ذہنی طور پر ہلکا کریں۔ شام کا کھانا بھوک رکھ کر کھائیں۔ اس کے بعد ہلکی سی چہل قدمی کریں۔ 

ژنہار منہ یا خالی پیٹ ایک سیب،دودھ کے گلاس کے ساتھ یا ملک شیک بنا کر لیں۔ 

ژکاجو جنرل ڈپریشن اور اعصابی کمزوری میں ٹانک سے کم نہیں۔ کاجو وٹامن B بی گروپ سے پُرہے۔ خصوصاً موسم سرما میں خوب کھائیں۔ 

ژبہتر ہے سونے سے پہلے غسل کرلیں۔ اس سے فرحت بخش تازگی کا احساس ہوگا۔ 

ژآپ کا سونے والا کمرہ اچھا، صاف اور ہوادار ہونا چاہے۔ جب بھی پریشانی، مایوسی، ناکامی کا خوف، بیماری بے سکونی حدسے بڑھ جائے تو درج ذیل آیت فوراً پانچ مرتبہ اور اول و آخر درودشریف پڑھ کر تلاوت فرمائیں۔ 

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوْئَ

ترجمہ:(بھلا وہ کون ہے جب بے کس اور مضطرب اسے پکارے تو دعا قبول کرتا ہے اور مصیبت کو دور کرتا ہے) ۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 آپ کے کچن میں بے شمار ایسی جڑی بوٹیاں اور مصالحہ جات ہیں جو آپ کی بیماری کا علاج ہیں۔ ہلدی، دار چینی، شہد، پودینہ، الائچی، لونگ، زیتون کا تیل بہت سی بیماریوں اور ان کی علامات میں اکسیر کا کام کرتی ہیں۔    

مزید پڑھیں

 ہمارا بہترین دوست ملک چین ان دنوں صحت کی بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے،جہاں’’کورونا وائرس فیملی ‘‘ سے تعلق رکھنے والے خطرناک وائرس نے چین کے اہم تجارتی اور سیاحتی مرکزصوبہ وہان کے مرکزی شہر’’ہیبائی‘‘ (Hebei) میں ہزاروں افراد کو بیمار ڈال دیا ہے۔25جنوری کو چین کے صدر ژی ژن پنگ نے اعلان کیا کہ’’ ان کے ملک کو’ کورونا وائرس‘ کے حملے کا سامناہے،    

مزید پڑھیں

اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ سبزیاں اللہ کی خاص نعمتوں میں سے ہیں۔ پاکستان میں ہر طرح کی موسمی سبزیاں دستیاب ہیں۔ سبزیوں میں تمام غذائی اجزاء، وٹامنز، معدنیات اور خاص طور پر فائبر (ریشہ) وغیرہ موجود ہوتے ہیں۔ سبزیاں کھانے سے آدمی تندرست و توانا رہتا ہے۔ بیماری کے دوران سبزیوں کے استعمال کی خاص طور پر تاکید کی جاتی ہے۔ اچھی صحت کے لیے فریش اور سبز پتوں والی سبزیوں کی افادیت مسلمہ ہے۔

مزید پڑھیں