☰  
× صفحۂ اول (current) سائنس کی دنیا(محمد فہد عباس) خصوصی رپورٹ(سید آصف عثمان گیلانی) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) کھیل(طیب رضا عابدی ) آ ئی ٹی دنیا(رضوان عطا) سائنس کی دنیا(انجنیئررحمیٰ فیصل) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) رپورٹ(محمد حسن رضا) سپیشل رپورٹ(ڈاکٹر خالد عثمان) عالمی امور(سید سرمد حسین) عالمی منظر(اسماء نوید) رپورٹ(ایم آر ملک) شوبز(مرزا افتخاربیگ) سپیشل رپورٹ(نجف زہرا تقوی) صحت(ڈاکٹر سید فیصل عثمان) خصوصی رپورٹ(طاہرہ خالق) قومی منظر(محمد واسع جیلانی) رپورٹ(عبدالخالق خان) خواتین(نجف زہرا تقوی)
سال گزشتہ میں کراچی سے خیبر تک بیماریوں سے جنگ عوام کے سنگ

سال گزشتہ میں کراچی سے خیبر تک بیماریوں سے جنگ عوام کے سنگ

تحریر : ڈاکٹر سید فیصل عثمان

01-05-2020

گزشتہ سال طب کی دنیا کے لئے بھی اہم رہا،یوں تو 2019ء پوری دنیا کے لئے ہی اچھا سال ثابت نہ ہو سکا، کئی حوالوں سے اسے اہم وبائی امراض کا سال بھی کہہ سکتے ہیں ۔نئی اقسام کی بیماریوںنے گزشتہ برس انسان کو اپنی لپیٹ میںلئے رکھا ۔

مڑ کر دیکھیں تو افریقہ سے یورپ تک ، امریکہ سے جنوبی امریکہ تک، یورپ سے ایشیاء تک ہر ملک کسی نہ کسی نئے طبی مسئلے کا شکار رہا۔یہ بھی درست ہے کہ سائنسی ایجادات نے انسان کی زندگی آسان کر دی مگر یہ بات بھی غلط نہیں کہ سائنسی ایجادات انسانوں کے لئے مشکلات کا باعث بھی بنتی رہیں۔ پاکستان،برطانیہ اور امریکہ سمیت متعددممالک میں کمپیوٹر اور موبائل فون کمر اور آنکھوںکی تکلیف کا باعث بن گیا،کمر درد30 سے 40فیصد بچوں میںعام ہو گیامگر موبائل کو پھر بھی چمٹے رہے ۔اب دنیا بھر کا چکر لگاتے ہیں۔۔لیکن پہلے سرسری سا جائزہ پاکستان کا بھی لے لیتے ہیں۔

1جنوری:پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا نیا آرڈیننس منظوری کیلئے صدر پاکستان عارف علوی کو بھجوا دیا گیا، کرپشن میں ملوث ملاز مین کو گولڈن ہینڈ شیک کے تحت عہدوں سے ہٹایا جا سکے گا۔

10جنوری:کینال ویو سوسائٹی میں خاتون کو سوائن فلو ہو گیا تاہم اللہ نے بچا لیا۔ 

11جنوری:ملک میں جان بچانے والی ادویات سمیت تمام ادویات کی قیمتوں میں 15فیصد تک اضافہ کردیا گیا ۔جان بچانے والی ادویات میں 9فیصد اور دیگر ادویات کی قیمت میں 15فیصد اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری ہوتے ہیں ملک بھر میں شدید تنقید شروع ہو گئی۔حکومت نے کہا کہ پرانا سٹاک پرانی قیمت پر فروخت ہو گا لیکن وہ اس پر عمل درآمد کرنے پر ناکام رہے۔ عوامی دبائو پر حکومت نے بتایا کہ ادویہ ساز کمپنیوں نے 40فیصد اضافہ مانگا تھا ۔

31جنوری: پشاور ہائی کورٹ نے جان بچانے والی ادویہ کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیدیا۔ جسٹس اکرام اللہ اور جسٹس مس مسرت ہلالی پر مشتمل بنچ نے ادویہ کی ذخیرہ اندوزی کو بھی روکنے کا حکم جاری کیا۔

یکم فروری:ملتان میں سوائن فلو کا مریض منیر احمد شیخ زید ہسپتال میں دم توڑ گیا ۔ بلوچستان میں کئی ہفتوں سے جاری ڈاکٹروں کی کبھی جزوی اورکبھی مکمل ہڑتال ختم ہو گئی۔

5فروری :حکومت نے غریب ترین افراد کیلئے لاکھوں صحت کارڈ جاری کرنے کیلئے خصوصی اسکیم کا اعلان کردیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 5 سال میں8 کروڑ افراد کو علاج کیلئے فی کس7 لاکھ بیس ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ پنجاب میں ایک کروڑ لوگوں کو صحت کارڈ ملے گا۔اس کے ذریعے 150 سے زائد سرکاری اور نجی ہسپتالوں میںدماغ کی سرجری ، انجیو پلاسٹی، گائنی اور سرطان کے علاج کی سہولت حاصل ہو گی۔11فروری کو ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا کہ پنجاب صحت کارڈ پر عمل درآمد 22فروری سے شروع ہو ۔گا 3.5کروڑ افراد مستفیض ہو نگے، مارچ کے آخر تک ڈی جی خان سمیت چار اضلاع میں آٹھ لاکھ کارڈ تقسیم ہونگے۔

20فروری:راولپنڈی میں خصوصی صارف عدالت نے غلط علاج کی وجہ سے ایک خاتون کی موت پر ڈاکٹر کو 27.84لاکھ روپے جرمانہ کر دیا۔ پولیو کے قطرے نہ پلانے پر اداکار فواد خان اورا ان کی اہلیہ سمیت سمیت آٹھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔اسی روز حکومت نے پولیو مہم کا بائیکاٹ کرنے والوں کو پچاس لاکھ روپے جرمانے کا حکم دیدیا۔ حکومت نے کہا کہ اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ پنجاب حکومت نے تمام بڑے ہسپتالوں میں پناہ گاہیں بنانے کی منظوری دے دی۔26اپریل کو چمن میں پولیو ٹیم پر فائرنگ سے خاتون پولیو ورکر شہید ہو گئی ، سلطان زئی کے علاقے میںپولیو ٹیم کو گھر سے نکال دیا۔ بورے والا میں بھی دھکے مارنے کے واقعات پیش آئے ۔پولیو ٹیم پر حملے کے بعد کچھ وقت کیلئے ملک بھر میں پولیو مہم روک دی گئی ۔اس دوران سوشل میڈیا پربھی پولیو کے خلاف مہم شروع کی گئی جسے بلاک کر دیا گیا ۔

7اپریل: ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ حکومت نے پرانے اسٹاکس مہنگے بیچنے پر 57کمپنیوں کے خلاف کریک ڈائون کیا ،لاہور کراچی اور پشاور میں مہنگے داموں بیچنے پر 226ادویات کا ذخیرہ ضبط کر لیا گیا ۔اب تک22 لاکھ خاندانوں کو پنجاب میں صحت کارڈ جاری کر دیئے گئے۔ادویہ ساز کمپنیوں کے خلاف ہونے والی کارروائی روک دی گئی۔ وزیر اعظم نے قیمتوں کا جائزہ لینے کیلئے ڈاکٹر عشرت حسین ، وفاقی مشیر عبدالرزاق دائود اور اس وقت کے وزیر صحت عامر کیانی پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی کمیٹی کو نئی ڈرگ پالیسی بنانے کا حکم ۔ادویات کی قیمتیں 72گھنٹوں میں نیچے لانے کی دھمکی بھی کار گر ثابت نہ ہو سکی۔ ملتان، لاہور اور فیصل آباد سمیت ملک بھر میں مریض ادویات کو ترسنے لگے ۔17اپریل کوفارما سیوٹیکل کمپنیوں نے حکومت اور صارفین کے دبائو پر 395ادویات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا۔قیمتوں میں اضافہ18اپریل کو وفاقی وزیر صحت عامر کیانی کی وزارت کو لے ڈوبا ۔16مئی کومشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے 554ادویات کی قیمتوں میں ناجائز اضافہ واپس لینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیوں سے آٹھ ارب روپے واپس لے کر غریبوں کو دیں گے لیکن یہ پیسے ابھی تک نہیں مل سکے۔

 2مئی: خیبر پختونخواہ میں ہسپتالوں میں ممکنہ نج کاری کے خلاف ڈاکٹر ہسپتال چھوڑ کر سڑکوں پر آ گئے ۔پشاور میں سرکاری دفاتر کے خلاف دھرنا ۔اسمبلی کو جانے والا راستہ بھی بلاک کردیا ،لاہور میں بھی ہیلتھ بل کے خلاف ینگ ڈاکٹرز سڑکوں پر آ گئے ۔

22مئی:میڈیکل اور ڈینٹل کالج میں داخلہ کیلئے پی ایم ڈی سی کے اختیارات رات ختم کر دیئے گئے۔

14جون: پنجاب حکومت کے بجٹ میں ڈاکٹروں، وکیلوں ، ٹھیکیداروں اور وکلاء پر بھی پروفیشنل ٹیکس عائد کر دیا گیا ۔میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے انٹری ٹیسٹ کے نمبرز 120مقرر کر دیئے گئے ان نمبروں سے کم پر داخلہ نہیں ملے گا۔نئے نظام پر عمل درآمد شروع ہو گیا۔ 

20جون:مقامی کمپنیوں نے 6ہزار ادویات کی قیمتیں تقریباََدگنی ہو گئیں۔ سرطان ، دل ، شوگر اور دیگر امراض کی ادویات قیمتوں میں اضافے کے بعد نایاب ہو گئیں ۔

3جولائی :پنجاب میں صحت و تعلیم کے ادارے سولر انرجی پر چلانے کا فیصلہ۔ اس سلسلے میں نجی بنکوں سے بھی قرضوں کی فراہمی کیلئے رہنما اصول مرتب کیے گئے ۔

19اکتوبر:چار نومولود بچے جیکب آباد میں اور پانچ حافظ آباد میں جاں بحق ہو گئے۔

20اکتوبر:پاکستان میڈیکل ڈینٹل کونسل تحلیل کر دی گئی میڈیکل کمیشن اور ٹربیونل قائم کر دیئے گئے میڈیکل کمیشن ہی سپریم باڈی ہو گا جس کے تحت پی ایم ڈی سی ، نیشنل میڈیکل اینڈ ڈینٹل اکیڈمی بورڈ اور نیشنل اتھارٹی قائم ہونگے ۔

7نومبر :لاہور شہر کا کوالٹی انڈیکس 455سے تجاوز کر گیا جس سے لوگوں کیلئے سانس لینا بھی دشوار ہو گیا ۔

4دسمبر:سندھ حکومت نے آوارہ کتوں کیلئے ہوسٹل بنانے کی منظوری دے دی مقدمے کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ نے آبزرویشن دی کہ غریب فٹ پاتھ پر پڑے ہیں ان کو بھی رہائشی سہولتیں مہیا کی جائیں۔

11دسمبر:لاہور میں وکلاء کا دل کے ہسپتال پر دھاوا تین مریض جاں بحق ہو گئے ایمرجنسی اور دیگر شعبوں میں توڑ پھوڑ سے علاج مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق سات کروڑ کا نقصان ہوا جیل روڈ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔ ایمرجنسی کو تالے لگانے کے بعد پانچ سو مریض گھر بھیج دیئے گئے ۔14دسمبرکوسابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دل کے ہسپتال پر ہونے والے حملے کو افسوسناک قرار دیااور کہا کہ دونوں پیشے معزز ہیں وہ اپنے وقار کا خیال رکھیں وکلاء کی لڑائی کے بعد ایک ویڈیو کراچی میں بھی وائرل ہو گئی جس میں انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں گھس گھس کر ڈاکٹروں کو ماریں گے ۔

پاکستان اور افریقی ممالک میں پولیو وائرس 

28نومبرکی آخری اہم رپورٹ کے مطابق پولیو کی متعدد ویکسی نیشنز کے باوجود پاکستان میں اس کا نام و نشان نہیں مٹایا جا سکا۔ 7جولائی سے3نومبر تک پولیو مزید 111کیسز سامنے آئے ہیں۔ 4 دیامیر، 3 کوہستان، 2توغوراور1کیس چارسدہ میں سامنے آیا۔ان مریضوں کی عمریں 8سے66مہینے تھیں۔اس طرح مجموعی عمر 22 مہینے بنی۔دیامیر اور توغور میں فضلے میں بھی پولیو جراثیم پائے گئے جسے صحیح طریقے سے ٹھکانے نہ لگانے سے اس مرض کے پھلائو کو نظرا نداز نہیں کیا جا سکتا۔ 21اگست سے 25اکتوبر تک کراچی ،لاہور اور راولپنڈی میں پانی کے نمونوں میں چند ایک مقامات پر پولیو کے جراثیم پائے گئے ہیں، جس پر حکومت نے ان علاقوں کے مکینوں کو محتاط رہنے کی وارننگ جاری کی تھی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان پولیو کے حوالے سے خطرناک ملک ہے ۔جبکہ 2018ء میں صرف 12111کیسزسامنے آئے تھے ۔چنانچہ متاثرہ حصوں میں فوری طور پر آگاہی اور روک تھام کی مہمات شروع کی گئیں۔27لاکھ بچوں کو ویکسین پلائی گئی۔ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹ گرام ،دیامیر،چار سدہ، شانگلہ،مہمند اور کوہستان ،راولپنڈی اور اسلام آبادمیں بھی ویکسی نیشن مہم شروع کی گئی۔

فلپائن کے شہرمنیلا میں یکم جولائی سے 23ستمبر تک سیویج کی سکینگ میں پولیو وائرس پایا گیا۔ 6لاکھ افراد کو پولیو وائرس والے علاقے میں مقیم تھے۔فوری طور پر وارننگ جاری کی گئی۔27ستمبرکوفلپائن میں پولیو وائرس ٹائپ ون کی بھی تصدیق ہوئی۔پولیو وائرس کی ایک خطرناک قسم (cVDPV2)نے مغربی افریقہ،مرکزی افریقہ اورHorn افریقہ کے کئی ممالک میں بچوں کو شکار بنایا۔ کانگو، چاڈ، کیمرون، نائجیریا ، ری پبلک آف نائجر،بینن ، گھانا، ٹوگو،اورکوٹ ڈی آئیوری میں بھی اس کے ہزاروں کیسز سامنے آئے۔ایتھوپیا، صومالیہ،انگولہ،کینیا اور موزمبیق بھی خطرناک ملک قرار دئیے گئے ۔ چاڈ میں پہلا کیس 16 اکتوبر کو سامنے آیاجب ایک 5سالہ بچہ اس مرض سے ہلاک ہو گیا۔عالمی ادرہ صحت اور یونیسف کی مشترکہ تحقیق سے یہی بات ثابت ہو گئی کہ 2018میں 41فیصد بچوں کو پلائی گئی ویکسین غیرموثر تھی،پھر پولیو تو ہونا تھا ۔15اکتوبر کوبینن اور گھاناکی سرحدوں کے قریب ٹوگو میں بھی اس مرض کے آثار پائے گئے۔ نائیجریا میںبڑی تعدا دمیں ویکسین کو غیر میعاری پایا گیا۔6جولائی کو اس کے کیسز تیزی سے سامنے آنا شروع ہوئے ۔ زیمبیا میں بھی 5سال سے کم عمر کے بچوں میں اس وائرس کے جراثیم پائے گئے۔کانگو میں کئی مقامات پر پولیو وائرس کے خطرے کی نشاندہی کی گئی جس کی سب سے بڑی وجہ ویکسی نیشن کمی تھی ۔کئی علاقوں میں ویکسی نیشن 28فیصد سے بھی کم بچوں کو پلائی گئی ۔عالمی ادرہ صحت نے فرانس میں پولیو وائرس کا ایک بھی کیس سامنے نہ آنے کے باوجودوارننگ جاری کی تھی کیونکہ اردگرد کے ممالک میں پھیلے پولیو وائرس سے بچنا بھی تو ضروری تھا۔

حیدر آباد میں ’’ سوپربگ ٹائیفائیڈ‘‘

حیدرآباد سے سامنے آنے والے’’ سوپر بگ ٹائیفائیڈ‘‘ نے دنیا بھر کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔سندھ میں 8 ہزار کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں ۔ متاثرہ افراد میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے جو سکول میں آلودہ پانی سے مرض کا شکار ہوئے۔’’سوپر بگ ٹائیفائیڈ‘‘ کے علاج میں استعمال ہونے والی زیادہ تر اینٹی بائیوٹکس بھی بے اثر ہیں۔

پاکستان ،فرانس، سپین اور کیوبامیں ڈینگی بخار

پاکستان میں ڈینگی بخار کا پہلاکیس 8جولائی کو ٹیچنگ ہسپتال پشاور میںسامنے آیا۔بعد ازاںپنجاب، بلوچستان ،سندھ ،آزاد کشمیراور اسلام آباد میں بھی کیسز رپورٹ ہوئے۔8جولائی سے 12 نومبرتک ملک بھر میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد47,120ہو گئی تھی جن میں سے 75 مریض جانبر نہ ہو سکے۔خیبر پختونخوا میں7,641کیسزکنفرم ہوئے۔جن میں virus serotype 1 (DENV-1) اور virus serotype 2 (DENV-2)کے مریض شامل تھے۔پنجاب میںکل 9,676اور آزاد کشمیر میں 1,689 رپورٹ ہوئے ۔اسلام آباد کے 8ہسپتالوں میں کل I12,986کیسز میں سے 22 اموات کی اطلاع ملی۔سندھ میں12,053مریضوں میں سے33 جاں بحق ہو گئے۔بلوچستان میں 3,075میں سے 3کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملی۔9نومبرکوسپین کی انتظامیہ نے خبردار کیا کہ سپین میں ڈینگی ایسے پھیل رہاہے جیسے ایڈزہو۔اس سے بچائو کے لئے خصوصی ہدایات جاری کی گئیں۔یہ مرض2تا 4ستمبر تک ڈومینیکن ری پبلک اور28نومبر سے 30 نومبر تک کیوبا اورمیں پھیلا ہواتھا۔کیوبا سے یہ مرض 5ستمبر کوسپین پہنچا۔45دنوں کے اندر اندر اس کے کئی کیسز سامنے آئے۔ سپین کے بعد ڈینگی نے کئی دوسرے ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ڈومینیکن ری پبلک میں یہ مرض کیوبا سے پہنچا۔ سپین میں ڈینگی مچھر کی موجودگی کی کوئی علامات موجود نہ ہونے سے بھی اس خیال کوتقویت ملتی ہے ۔اس قسم کے ڈینگی کا پہلا کیس کوریا میں 2013ء میں سامنے آیا تھا۔6نومبر کو عالمی ادارہ صحت نے وارننگ جاری کر دی۔سپین میں اس قسم کے ڈینگی کے 2018ء میں 198کیسز سامنے آئے تھے۔یورپی کمیشن نے بھی وارننگ جاری کی۔وہاں 2018کے مقابلے میں ڈینگی وائرس میں 6000 فیصد اضافہ ہوا،ایک جزیرے پر 22ہزار افراد کو مشکوک قرار دے کر حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔وہاں علاج کے لئے ہسپتالوں میں الگ سے کمرے بنا دیئے گئے ہیں۔

سندھ میں کتوں کے حملے! 

کتے کا کاٹنا بذات خود کوئی مرض نہیں ۔انسان خود کو کتوں سے بچا سکتا ہے مگر ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں درختوں ، کیڑے مکوڑوں اور حیوانات کے حقوق ہیں لیکن انسان کا کوئی حق نہیں ۔انسان بے شک کتے کے کاٹے سے ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر جائے لیکن کتے مار مہم شروع نہیں ہوگی!۔تاہم آخری اطلاعات کے مطابق وہاں کتا مارمہم کی بجائے کتوں کا ’’ زہرمار ‘‘مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس کے لئے ٹیکے تیار کر لئے گئے ہیں۔عالمی اداروں نے خبردار کیاتھا کہ سندھ میں اگست 2019ء تک کتوں کا شکار بننے والوں کی تعداد 92,000ہو گئی ہے۔اکثر زندہ بچ گئے لیکن متعدد خالق حقیقی سے جا ملے۔اقوام متحدہ کے مطابق محکمہ صحت سندھ بچوں اور بڑوں کو کتوں سے بچانے میں ناکام رہا۔کراچی میںبھی کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ ہواجہاں 18ہزار افراد کو کتوںنے کاٹا۔ ریکارڈ کے مطابق سول ہسپتال کراچی میں ریبیز کے علاج کے لئے 10,288 اورجناح پوسٹ گریجویٹ میں 7,697افرادلائے گئے ۔ ہسپتال کے پاس صرف6029کٹس تھیں۔زیادہ تر کٹس چین سے آتی تھیں مگر وہاں ریبیزکے خاتمے کے بعد یہ ویکسین بنانے والی فیکٹری بند ہو گئی تھی۔کراچی میں زیادہ ترواقعات ابراہیم حیدری ، سنجرانی ٹائون،نارتھ کراچی،بلدیہ ٹائون، اورنگی، محمود آباد،لیاقت آباد،فیڈرل بی ایریا اور گولیمار میں پیش آئے۔پنجاب میں کتوں نے 3034 افراد کو زخمی کیا جن میں سے 11جاں بحق ہو گئے ۔پنجاب کے 1,732یعنی 83فیصد ہسپتالوں اور کلینکس میں ریبیز کی ویکسین دستیاب نہیں ہے۔

لاڑکانہ میں ایچ آئی وی ایڈزپر چیخ و پکار 

عالمی ادارہ صحت نے کراچی اور لاڑکانہ میں ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلائو پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ ہمارے بارے میں اچھی نہیں ہے۔عالمی اداروں نے کہاکہ ’’رتو ڈیرو میں بچے تڑپ رہے تھے لیکن انتظامیہ کو اپنے شہر میں ایچ آئی وی کی کوئی اطلاع نہ تھی ۔سندھ کی انتظامیہ سوئی ہوئی تھی کہ 25اپریل کو میڈیا کے الرٹ نے اسے چوکنا کیا۔میڈیا سے ہی انتظامیہ کو لاڑکانہ میں ایچ آئی وی ایڈز کی سن گن ہوئی ۔ 25 اپریل کے بعد سے میڈیا نے لاڑکانہ میں بچے اس میں اس مرض کے مسلسل پھیلائو کی خبریں دینا شروع کیں۔ خبروں سے آنکھ کھلنے کے بعدبہتر تشخیص کے لئے عالمی ادارہ صحت کی مہیا کردہ کٹس دیہی مراکز صحت اور بنیادی مراکز صحت پہنچا دی گئیں‘‘۔30192افراد کی سکریننگ کی گئی جن میں 876میں اس کی تشخٰص ہو گئی ۔719مریضوں (82فیصد )کی عمریں 15سال سے کم تھیں۔رپورٹ میں 2019 میں 21ہزار نئے کیسز سامنے آنے پر پاکستان کا شمار ایچ آئی وی ایڈزکے تیزی سے بڑھنے والے ممالک میں کیا گیا ہے، بڑی وجہ سندھ ہے جہاں ہر چند سال کے بعد یہ مرض کسی وباطرح پھیلنے لگتا ہے۔ نئی نسل میں ایچ آئی وی کا پھیلائو کسی المیے سے کم نہیں۔یاد رہے،لاڑکانہ میں یہ مرض پہلی مرتبہ نہیں پھیلا،یہ مرض ہر ایک دو سال بعد شہریوں کو نشانہ بناتا رہتا ہے۔ 2003ء سے 2019ء تک وہاں یہ چار مرتبہ پھیلا ۔2003ء میںاس مرض نے بذریعہ سرنج منشیات کا استعمال کرنے والوں کو شکار بنایا۔2016ء میں 12 پیڈیاٹرک مریض نشانہ بنے،تیسری مرتبہ2016 ء میں ہی ڈیالسزیونٹ میں زیر علاج مریضوں میں ایچ آئی وی ایڈز کی مثبت رپورٹ ملی۔چوتھی مرتبہ2019ء میں اس نے بچوں کو بھی معاف نہیں کیا۔

187ممالک خسرہ کی لپیٹ میں 

اگر دیکھا جائے توگزشتہ تین برسوں سے خسرہ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔ 27نومبر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ،امریکہ ،ترکی اور روس سمیت سمیت187 ممالک میںخسرہ کے مریضوں کی تعداد 413308تھی ۔خسرہ نے بڑا حملہ کانگو، نائیجیریا، اور میڈاگاسکر میں کیا جہاں17نومبرتک 2.50 لاکھ مریضوں میں سے 5110موت کا نوالہ بن گئے۔2016سے2017تک اس کے مریضوں کی تعداد میں31فیصد اضافہ ہوا تھا۔پاکستان ،مالدیپ، یوکرائن،کمبوڈیا،سری لنکامیں بھی انہی برسوں میں پھیلا ۔ مغربی پیسیفک ممالک میںاضافے کی شرح 82فیصد تک ہے ۔2017ء میں 11 ہزار اور 2018ء میں2.66لاکھ مریض سامنے آئے۔خسرہ نے متعدد ان ممالک کو بھی بیمار ڈال دیا ، جہاں اس کا خاتمہ ہو چکا تھاجیسا کہ چین، کمبوڈیا، جاپان،نیوزی لینڈ،آسٹریلیا ، برونائی دارالسلام،ہانک کانگ،کوریا کمبوڈیا،سنگا پور ۔آسٹریلیا میں 12اپریل تک 97 کیسز سامنے آئے جو گزشتہ چار سالوں کے اسی عرصے سے کہیں زیادہ ہیں۔اکثرممالک میں یہ مرض اسرائیل، ملایشیاء، میانمار،انڈونیشیا،تھائی لینڈ اور ویٹ نام کے مسافروں نے پھیلایا۔اس لئے ترقی یافتہ ممالک نے ٹریول وارننگ بھی جاری کی۔ چین میں جنوری میں178، فروری میں156اور مارچ میں 267مریض ہسپتال میں داخل ہوئے۔ ہانگ کانگ میں اس مرض کا نام و نشان مٹ چکا تھا مگر11اپریل کو وہاں بھی ا یک مریض سامنے آنے پر کئی اور کیسز کا بھی پتہ چلا۔ہانگ کانگ کے ہوائی اڈے پر بھی 4مارچ کو 27کیسز سامنے آئے۔مکائو میں 32، جاپان میںیکم جنوری سے 3اپریل تک 378 مریضوںکاعلاج ہوا جبکہ وہاں پچھلے 10برس میں بھی اتنے کیسز سامنے نہیں آئے تھے۔ملایشیاء میں 2018ء میں 934 اور 2019ء میں 1934 کیسز سامنے آئے،اضافہ 900 فیصد ہے۔نیوزی لینڈ میں یکم جنوری سے 10اپریل تک تین مقامات پر72 افراد خسرہ کا شکار ہوئے۔کینٹبری میں39، آک لینڈ میں 16 اور waikato میں 12 افراد کو خسرہ نے بیمار ڈالا۔باقی ماندہ کیسز دودوسرے علاقوں میں سامنے آئے۔ فلپائن میں2017ء کے بعد سے خسرہ میں تیزی سے ا ضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فروری تک یہ پانچ ریجنز میں پھیل چکا تھا۔ مارچ تک خسرہ نے381جانیں لے لی تھیں۔ کل 25956افراد بیمار ہوئے۔ کوریاکے 8حصوں میں کل 150افراد خسرہ کی وباء کا شکار ہوئے۔13نومبر تک گینیا میں11سواور چاڈ میں 26 ہزار مریض رپورٹ ہوئے۔یکم جنوری سے 17نومبر تک پاکستان میں 1,978، لبنان میں 1,060 ، یمن میں 6ہزار،صومالیہ میں2,795،سوڈان میں3,659، تیونس میں 1,367،عراق میں1,222، یوکرائن میں 56,802، قذاقستان میں 10,126، جارجیا میں 3,904، روس میں3,521،ترکی میں2,666اور کرغستان میں 2,228کیسزسامنے آئے۔ 9نومبر تک برازیل میں12ہزار بیماروںبیاکی اطلاع ملی۔زیادہ تر مریض سائو پالو میں تھے ۔ونزویولہ میں520اورکولمبیا میں215 کیسز رپوٹ ہوئے۔امریکہ کیوں پیچھے رہتا، بلکہ ’’سب پہلے امریکہ ‘‘کی بات خسرہ میں بھی پوری ہوئی۔نیو یارک جیسی جیسے ترقی یافتہ ریاست میں بھی اس وباء نے امریکیوں کو پریشان کر دیا۔ وہاں دومرتبہ بڑے اور کئی مرتبہ چھوٹے پیمانے پر یہ وباء پھیلی۔ 18 نومبر تک بنگلا دیش میں4,181اور روہنگیا مسلمانوں کے کیمپوں میں خسرہ سے 5,286افراد بیمار ہوئے،انہیں علاج کی سہولت نہ مل سکی۔تھائی لینڈمیں 12سال کی عمر تک کے 4,852بچے اورنیوزی لینڈ میںکل 2084 کیسز سامنے آئے جن میں سے 80 فیصد آکلینڈ میں تھے۔کمبوڈیا میں 490افراد خسرہ کا نشانہ بنے۔ٹوگو،امریکن ساموا اورفجی میں بھی یہ وبا پھیلی۔

پاکستان میں بینائی کی کمزوری

 پاکستان میںنا بینا پن کے خاتمے کے لئے وژن 2020کے تحت ’’نظر سب کیلئے ‘کاپروگرام مرتب کیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں نابینا افراد کا تناسب کل آبادی کا 1.8 فیصد ہے۔ 22کروڑ افراد میں سے 36لاکھ افراد بصارت سے محروم ہوں گے۔ آنکھوں کے 80فیصد امراض قابل علاج ہوتے ہیں۔عالمی اداروں کے مطابق جنو بی ایشیاء میں آنکھوں کی بیماریاں ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ ہیں۔ شہروں کی بانسبت دیہات اور خواتین میںآنکھوں کی بیماریاں زیادہ عام ہیں ۔ دنیا بھر میں آنکھوں کے امراض کی تفصیل اس طرح ہے: نظر کی کمزوری میں 82.6کروڑ افراد،مایئوپیامیں 12.4کروڑ افراد،موتیا میں65 لاکھ افراد،گلاکومامیں70لاکھ افراد،کورنیل اوپے سیٹیزمیں40لاکھ افراد،ڈائی بیٹک ریٹنو پیتھی میں 30 لاکھ افراداورٹریکومامیں20لاکھ افرادمبتلا ہیں۔سروے کے مطابق 30سے39برس کی عمر میں 94.4 فیصد افراد کی آنکھیں ٹھیک تھیں ۔ 70یا اس سے ز ائد برس کی عمر میں23.1فیصد سے زائد افراد بینائی کی کمزوری یا امراض میں مبتلا پائے گئے۔ 30 سے 39سال کی عمر میں نابنیا پن 0.4فیصد افراد میں پایاگیا،کچھ علاقوں میں70برس یا سے زائد کی عمر یہ یہ تناسب 15.7فیصد سے بھی تجاوز کر گیاتھا۔نابیناپن کا شکار 87.2فیصد افرادکی عمریں50سال یا اس سے زائد تھیں۔شہروں کی بانسبت دیہات اور خواتین میں بینائی کی کمزوری اور آنکھوں کی بیماریاں زیادہ تھیں۔ شہر میں اگر ان امراض کاتناسب 2.5 فیصد تھا تودیہات میں 3.8فیصد نکلا۔یہ جاننابھی ضروری ہے کہ ہر صوبے میں نابینا افراد کی تعداد ایک جیسی نہیں ہے، کہیں کم اور کہیں زیادہ ہے، کیونکہ بینائی کے چلے جانے کا تعلق روزگار، زندگی کے معمولات اور کھانے پینے کی اشیاء کے میعار سے بھی ہے۔ سب سے زیادہ نابینا افراد پنجاب پھر ، سندھ، خیبر پختونخوااور بلوچستان میں ہیں ۔ سندھ میں نابینا افراد کی تعداد چھ لاکھ ہو چکی ہو گی۔نابینا پن کی بڑی وجوہات موتیا اور ذیابیطس ہیں۔2017ء میں ہونے والے سروے کے مطابق 3.55 کروڑ (17فیصد) افراد ذیابیطس میں مبتلا تھے۔ اب چار کروڑ افراد ذیا بیطس میں مبتلا ہوں گے۔پانچ برس کی عمر میں علامت ظاہر ہونے پر موتیا سے بچائو سو فیصد ممکن ہے ۔ ایک اور سروے میں بتایا گیا کہ ہمارے ہاں85.4افرد کو آنکھوں کی بیماری سے محفوظ رکھا جا سکتا تھا یہاں قابل علاج بیماریوں کا تناسب دوسرے ممالک کے مقابے میںنسبتاََ زیادہ ہے ۔

ایبولہ وائرس

جنوری تا5دسمبرتک ایبولہ وائرس کی تلاش جاری رہی ،کئی ممالک میں تو اس کی ویکسین بھی ختم وہ گئی ۔کانگو اس کا گھر ثابت ہوا جہاں کئی بار یہ وبا پھوٹی وہاں آخری بار یہ وبا 27نومبر سے3دسمبر تک جاری رہی ۔ یہیں سے دوسرے ممالک میں بھی یہ وائرس منتقل ہوا جس سے دوسرے ملکوں میںبھی خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئیں۔سیاسی عدم استحکام،پر تشدد مظاہروں اور حکومت مخالف مظاہروں نے کئی ممالک میں ایبولہ وائرس کا راستہ صاف کر دیا،اور یہ مرض انسانوں کی جانوں سے کھیلتا رہا۔ ایک طرف حکومت حکومت نے جینا حرام کر دیا تو دوسری طرف اس وائرس نے زندگی ہی چھین لی۔یہ کمبی نیشن افریقی ممالک میں تباہ کن نکلا۔ مظاہروں پر بھی عالمی ادارہ صحت نے گہری تشوشی ظاہر کی۔اگر مظاہرے نہ ہوتے تو اس خطرناک بیماری کو روکا جا سکتا تھا۔دسمبر تک اس وائرس کا حملہ جاری رہا،یہی مہینے احتجاج اور مظاہروں کے بھی تھے۔کئی علاقوں میں ویکسینشن یا ادویات مہیا کرنا بھی مشکل ہو گیا۔جس سے اموات میںاضافہ ہوا۔پڑتال کے دوران(Beni) میں 82 فیصد، (Oicha) میں68فیصد اور (Mabalako) میں 42 فیصد مریضوں میںاس کے جراثیم پائے گئے۔ صرف 5 دسمبر تک ایبولہ کے کانگو میں 3346 کیسز سامنے آئے ،کئی خطرناک تھے۔3دسمبر تک کانگو میں 3313 مریضوں میںسے 2207ہلاک ہو گئے۔

سعودی عرب اور امارات میں سانس کی بیماری 

(Middle East respiratory syndrome (MERS-CoV) ) نامی یہ مرض دنیا کے کئی حصوں میں وقتاََ فوقتاََ دہشت کی علامت بنا رہا۔ ماضی میں اس کا نام و نشان مٹ چکا تھا لیکن کچھ عرصے سے یہ عرب ممالک اور افریقہ میں نمودار ہو اہے۔ دنیا بھر میں 2012سے نومبر 2019 تک اس کے 2,470 مریض سامنے آئے۔اگرچہ یہ مرض بڑے پیمانے پرہلاکتوں سبب تو نہیں بنتا مگر اس سے بچائو کے لئے خصوصی اقدامات کرنا بھی لازمی ہے۔بے قابو ہونے پر یہ بیماری خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔اس میںمریض کی سانس رکنا شروع ہو جاتی ہے، دم گھٹنے سے مر بھی سکتا ہے۔ قے آنا،ناک مسلسل بہنا،سردرد،کھانسی ، سانس کا اکھڑنااور بخار اس کی عام علامات ہیں۔7اکتوبر کومتحدہ عرب امارات نے عالمی ادارہ صحت کو العین کے ہسپتال میںاس کے ایک مریض کی موجودگی سے آگاہ کیا۔ امارات نے عالمی ادار صحت سے ہنگامی بنیادوں پر کی مشاورت مانگ لی۔ اس پر قابو پانے کے لئے تربیت یافتہ طبی ماہرین کی ضرورت ہے، اس کا علاج عام ڈاکٹر کے بس میں نہیں۔2012سے اب تک امارات میںاس کے 88کیسز سامنے آئے ہیںجن میں سے 12جانبر نہ ہو سکے۔31 اکتوبرکوسعودی عرب کے تین شہروں (ریاض ، جدہ اور طائف)میںاس بیماری کے کیسز سامنے آنا شروع ہو گئے،5 دسمبرتک مرض بے قابوہو گیا،اور15مریضوںمیں سے 6 ہلاک ہو گئے۔ عالمی ادرہ صحت نے اسے عالمی وبا ء قرا ردیتے ہوئے بتایا کہ چند برسوں میں ہسپتالو ں میں زیر علاج 2484مریضوں میں سے857ہلاک ہو گئے ۔ 

’’لاسا فیور‘‘ کے مریضوں کافضاء میں علاج 

28نومبرکوعالمی ادارہ صحت کے سروے سے دی نیدرلینڈزمیں لاسا فیور (Lassa Fever)کی نشاندہی ہوئی۔پہلا مریض ایک ڈاکٹر نکلا۔ غیر محفوظ طریقے استعمال کرنے سے ڈاکٹر بھی اس مرض کا نشانہ بن گیا۔یکم جنوری سے17نومبر تک کئی ممالک میں اس بخارسے مرنے والوں کی تعداد6اور بخار میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد182تھی۔19نومبر کو(Masanga hospital) میں لاسا فیور میںمبتلا ایک مریض ملاک ہو گیا۔مرنے سے پہلے مریض نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ اسے یہ مرض ایک ڈچ ڈاکٹر سے لگا۔جس کے بعد سرے لون میں ڈاکٹروں برطانیہ اور ہالینڈ کے سمیت کئی ممالک کے ڈاکٹروں کے لئے ایک تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی۔واقعے کے بعد ہالینڈ میں21روزہ ’’واچ مہم‘‘ شروع کی گئی۔اسی لئے ہالینڈ سے جرمنی جانے والے 8افراد کوجرمنی میں داخلے کی اجازت نہ ملی،انہیں’’فضا میں ہی روک لیا گیا۔‘‘ ایک خصوصی ایئر ایمبولنیس منگوائی گئی جس میںکی مدد سے انہیں8گھنٹے فضا میں رکھا گیا۔ان میں 4پائلٹ ،2ڈاکٹر او ردوعملے کے دیگر ارکان شامل تھے۔کئی ہفتوں تک ان کی مزید نگرانی کی گئی۔جنوبی افریقی ممالک (لائییریا، ٹوگو اور نائیجیریا )سے لاسا فیوریورپ میں داخل ہو گیا۔ 2018میں اس بخار نے 23افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا۔

ذکا وائرس،ہیضہ اورریت مکھی بخار 

زرد بخار عمومی طور پر ہر سال دسمبر سے مئی تک پھیلتا ہے ،مارچ تک 75 مریضوں میں سے 17 ہلاک ہوئے۔دنیا میں ذکا وائرس کا خوف طاری رہا، کئی ممالک میںا س سے ہلاکتوں کی تعداد 851ہو گئی ۔ 9اکتوبرکوفرانسیسی حکام نے بتایا کہ ذکا وائرس کے تین کیسز (Hyeres) کے علاقے میں سامنے آئے ہیںجس کے بعد ہنگامی بنیادوں پر حفظان صحت کے اقدامات کئے گئے ،اسی لئے تین کیسوں کے بعد فرانس میں کوئی اور کیس رپورٹ نہیں ہوا۔فرانس میں’’ریت مکھی بخار‘‘یا ریلیٹ ویلی بخار(Rift Valley Fever) کی علامات بھی پائی گئیں۔ یہ بخار ہندوستان، سیستان اور مصرر وغیر ہ میں ایک خاص قسم کی مکھی کے کاٹے یاجانوروں کے فضلے سے پھیلاتا ہے۔4جنوری کو فرانسیسی حکام نے عالمی ادارہ صحت کو آگاہ کیاکہ ا ن کے شہر Mayotteمیں5افراد اس مرض کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔اس مرض سے بچائو کے لئے خام گوشت اور دودھ کی فروخت پر27فروری کوپابندی لگا دی گئی۔20مارچ کوMayotteمیںجانوروں کی خرید فروخت بھی ممنوع قرار دے دی گئی۔ مرض پھیلانے والی مکھی کی ’’سرکوبی‘‘کے لئے پورے علاقے میں سپرے کر کے ان کی افزائش روک دی گئی۔مرنے والوں میں 88فیصد مرد اور71فیصد کھیت مزدورتھے۔ 28اگست کو جنوب مشرقی سوڈان میں ہیضہ کی تصدیق ہوئی۔پہلا کیس ایتھوپیا سے ملحقہ سرحدی علاقے میں سامنے آیا۔بعد ازاں 278مریضوں میںسے 8جانبر نہ ہو سکے ۔ مرض پرقابو پانے کے لئے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی تھی۔اگست میں زرد بخار ونزویلہ،کانگو اور نائیجیریا کے کئی حصوں میں پھیلا جس پر محتاط رہنے کی وارننگ دے دی گئی۔ونزویلہ میں5.71لاکھ افراد کوخوراک مہیا کی گئی۔نائیجیریااورکانگو میں عوام کے کئی مہینے اسی مرض سے ڈرتے ڈرتے گزر گئے۔ 29اگست سے22ستمبر تک اس چار ممالک میں231افراد ہلاک ہوئے ۔

سنگا پور میں’’ بندر پاکس‘‘

مئی میں ہی سنگا پور میں ’’بندر پاکس‘‘ کی ایک قسم پھیلنا شروع ہو گئی تھی۔9مئی کوجاری ہونے والے پہلے حکم سے مرض کی شدت کا اندازہ ہوا۔ وزارت صحت نے نائیجیریا سے سنگاپورورک شاپ میں شرکت کرنے کے لئے آنے والے 38سالہ شہری میں ’’ بندر پاکس‘‘ کے مریض کی نشاندہی کی ۔اس مریض کو تیز بخار ہوجاتاہے،جلد پر دھبے پڑ جاتے ہیں اورخارش اور کھجلی ہونے لگتی ہے۔مریض کویکم مئی سے 7 مئی تک ہوٹل کے کمرے میں ہی رکھا گیا۔ بعدازاں ورک شاپ میں شرکت کرنے والوں کا بھی طبی معائنہ کیا گیا۔یہ مرض خود بخود خود ہی ختم ہو جاتا ہے ،لیکن لیکن احتیاط نہ کرنے پر یہ ہزاروں افراد کو بیمار کر دیتا ہے ۔یہ جان لیوا تو نہیں لیکن اس کے مریضوں کی تعدا ددرجنوں ہزار ہو سکتی ہے۔یہ 14سے 21دن میں خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔کئی افریقی ممالک میں یہ مرض بہت عام ہے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 آپ کے کچن میں بے شمار ایسی جڑی بوٹیاں اور مصالحہ جات ہیں جو آپ کی بیماری کا علاج ہیں۔ ہلدی، دار چینی، شہد، پودینہ، الائچی، لونگ، زیتون کا تیل بہت سی بیماریوں اور ان کی علامات میں اکسیر کا کام کرتی ہیں۔    

مزید پڑھیں

 ہمارا بہترین دوست ملک چین ان دنوں صحت کی بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے،جہاں’’کورونا وائرس فیملی ‘‘ سے تعلق رکھنے والے خطرناک وائرس نے چین کے اہم تجارتی اور سیاحتی مرکزصوبہ وہان کے مرکزی شہر’’ہیبائی‘‘ (Hebei) میں ہزاروں افراد کو بیمار ڈال دیا ہے۔25جنوری کو چین کے صدر ژی ژن پنگ نے اعلان کیا کہ’’ ان کے ملک کو’ کورونا وائرس‘ کے حملے کا سامناہے،    

مزید پڑھیں

اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ سبزیاں اللہ کی خاص نعمتوں میں سے ہیں۔ پاکستان میں ہر طرح کی موسمی سبزیاں دستیاب ہیں۔ سبزیوں میں تمام غذائی اجزاء، وٹامنز، معدنیات اور خاص طور پر فائبر (ریشہ) وغیرہ موجود ہوتے ہیں۔ سبزیاں کھانے سے آدمی تندرست و توانا رہتا ہے۔ بیماری کے دوران سبزیوں کے استعمال کی خاص طور پر تاکید کی جاتی ہے۔ اچھی صحت کے لیے فریش اور سبز پتوں والی سبزیوں کی افادیت مسلمہ ہے۔

مزید پڑھیں