☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) صحت(ڈاکٹر فراز) خصوصی رپورٹ(عبدالماجد قریشی) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() تاریخ(ایم آر ملک) غور و طلب(پروفیسر عثمان سرور انصاری) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) متفرق(عبدالمالک مجاہد) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
کورونا وائرس۔۔کتنا خطرناک ہے؟

کورونا وائرس۔۔کتنا خطرناک ہے؟

تحریر : ڈاکٹر فراز

02-02-2020

 ہمارا بہترین دوست ملک چین ان دنوں صحت کی بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے،جہاں’’کورونا وائرس فیملی ‘‘ سے تعلق رکھنے والے خطرناک وائرس نے چین کے اہم تجارتی اور سیاحتی مرکزصوبہ وہان کے مرکزی شہر’’ہیبائی‘‘ (Hebei) میں ہزاروں افراد کو بیمار ڈال دیا ہے۔25جنوری کو چین کے صدر ژی ژن پنگ نے اعلان کیا کہ’’ ان کے ملک کو’ کورونا وائرس‘ کے حملے کا سامناہے،
 

 

مرض کی صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے لیکن حکومت شہریوں کی حفاظت کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے‘‘۔ان کی ہدایت پر ملک بھر کے ڈاکٹر سر جوڑ کربیٹھے،دن رات ایک کر کے وہان علاج کی اضافی جدید سہولتیں مہیا کر دیں۔

وائرس کا حملہ اس قدر شدید تھا کہ جہاں چند ہی دنوں کے اندر اندر صوبہ کے تمام ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ۔ کسی ایک ہسپتال میں ایک بستر بھی خالی نہ تھا، تاحیات صدر ژی ژن پنگ کی ہدایت پر 6دن کے اندر اندر 1ہزار بستروں پر مشتمل نیا ہسپتال بھی بنالیا گیا ہے۔ ان سطور کے منظرعام پر آنے تک شائد ہسپتال میں علاج بھی شرو ع ہو چکاہوگا۔علاج کے لئے فوج طلب کر لی گئی ہے،450فوجی جوان اپنے تمام طبی آلات کے ساتھ جمعہ کے روز ہی متاثرہ حصوں میں پہنچ گئے تھے ۔ ملک کے دیگر حصوں سے 20 لاکھ اضافی ماسک منگوا کر وہان اور 19متاثرہ صوبوں اور شہروں میں بھجوا دئیے گئے ہیں ۔ یہ علاقہ چین کے مرکزی دارالحکومت بیجنگ سے1152.2کلومیٹر، شنگھائی سے 691 اور ژیانگ ژو سے1054.3کلومیٹر دور ہے۔اس طرح نئے وائرس نے ہم سے 4659کلومیٹر کی دوری پر وبائی مرض کی شکل اختیار کر لی ہے۔یہ علاقہ کراچی سے 4659.05کلومیٹر اور پشاور سے 3996 کلومیٹرکی مسافت پر واقع ہے۔ بہت ہی خوبصورت ،قدرتی حسن سے مالا مال اور بڑی تجاری منڈی ہونے کی وجہ سے اسے دنیا بھرمیں خاص مقام حاصل ہے۔سیاح کاروں اور موٹر سائیکلوں پر وہان جاتے رہے ہیں۔موٹر سائیکل کا سفر سات آٹھ دن میں مکمل ہوتا ہے۔ کاروں پر چار پانچ دن لگ جاتے ہیں۔ہوائی جہاز کراچی سے وہان آٹھ گھنٹوں کے اندر اندر پہنچا دیتا ہے۔ہوائی جہاز کا فاصلہ 2515.69نوٹیکل میل بنتا ہے۔

مرض میں مبتلا مریضوں کی کل تعداد2ہزار ہے،ہلاک شدگان تادم تحریر 106ہیں۔لیکن یہ مرض خطرناک بھی ہو سکتا ہے ،کیونکہ علاج کرتے ہوئے ایک چینی ڈاکٹر بھی موت کی آغوش میں چلا گیا۔ وائرس صرف ٹچ کرنے یا قریب آنے سے بھی ایک دوسرے کو لگ سکتا ہے۔فضائی سفر کے باعث کورونا وائرس نے امریکہ، آسٹریلیا ،کینیڈا ، جاپان اور ویٹ نام سمیت کئی ممالک میں بھی لوگوں کو مریض بنا دیا ہے ۔تما م تر احتیاط کے باوجود بھی یہ مرض کئی دوسرے ممالک میں بھی منتقل ہو چکا ہے جن میں فرانس (3مریض)، آسٹریلیا (1مریض)، جاپان (2مریض)، جنوبی کوریا (2مریض)، ملایشیاء (3مریض) ، سنگا پور (3مریض)، تھائی لینڈ (4مریض)، نیپال (1مریض)، امریکہ (2 مریض ) ، ہانک کانگ (5مریض)، تائیوان (3مریض)،جزیرہ میکائو (2مریض)اور ویت نام (2مریض) بھی شامل ہیں۔ فرانسیسی وزیر صحت اژنیس بزژں (Agnès Buzyn) نے فرانس میں سب سے پہلے مریض سامنے آنے پر بھی تحقیقات کا حکم دے د یا ہے۔وزیر صحت نے کہا ہے کہ ’’اس مرض کی تشخیص کانظام سب سے زیادہ پہلے فرانس نے بنایا ہے اسی لئے ہم نے اس کا سراغ بھی دوسرے ممالک کی با نسبت پہلے لگا لیا ہے‘‘۔آسٹریلیا کے وزیر صحت جینی میکا کوس (Jenny Mikakos)کے مطابق ’’آسٹریلیامیں یہ مرض غالباََگوانگ ژو(Guangzhou) سے میلبورن آنے والے ایک مسافر سے لگا۔ طیارے میں دوران سفر اس میں اس قسم کی کوئی علامت ظاہر نہ ہوئی تھی،لیکن اس وقت وائرس میں شائد اتنی شدت نہ ہو گی ۔برطانیہ میں ادارہ صحت نے پچھلے دنوں میں وہان کا سفر کرنے والے ان 2ہزار افراد کو وزارت سے رابطے کی ہدایت کر دی تھی ،ان کے بھی مکمل ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں۔ 
وائرس کے خلاف لاک ڈائون 
چین نے اپنے کروڑوں عوام کو موذی وائرس سے بچانے کے لئے 13شہروں میں لاک ڈائون کر دیا ہے۔ بھارت کی طرح یہ لاک ڈائون کسی تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے نہیں ہے بلکہ وائرس سے آخری اور فیصلہ کن جنگ لڑنے کے لئے کیا گیا ہے جس سے اس کا پھیلائو رک گیا ہے۔صوبہ ہوبائی (Hubei) کو دیگر شہروں سے کاٹ کر اسے محفوظ بنا دیا گیا ہے۔پورے علاقے میں ہول سیل منڈیاں بند کر دی گئی ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ سیکٹر پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔اس صوبے میں پھیلنے والے وائرس کو سنجیدگی سے لینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ علاقہ دنیاکی بڑی تجارتی منڈی بھی ہے ،ہفتے بھر میں لاکھوں تاجریہاں کا رخ کرتے ہیں۔ تجارتی منڈی ہونے کے باعث وہان کو چین کے دیگر شہروں سے ملانے کے لئے 104اور دیگر ممالک کے لئے 29پروازیں پروازیں چل رہی تھیں، ایک ہفتے میں 3پروازیں ہیتھرو ایئر پورٹ جاتی تھیں اب ان کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔حکومت کی ہدایت پر سامان خورد و نوش جمع کرنے کے بعدلوگ گھروں میں محصور ہو گئے ہیں ۔خال خال ہی کوئی دکھائی دیتاہے۔رکاوٹیں کھڑی کر کے کاروں کو سڑکوں پر آنے سے روک دیا گیا،کوئی ویرانی سی ویرانی ہے،یہ منظر ہے وہان کے پررونق صوبے کا۔ مارکیٹوں میں شیلف خالی پڑے ہیں، سماجی رابطے نہ ہونے کے برابر ہیں، البتہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پرایک طوفان بدتمیزی مچا ہوا ہے۔ اطلاعات اور افواہوں کا بازارآب و تاب سے کام کر رہا ہے۔ایک شہری مسٹر وانگ نے فون پر بتایا کہ ’’میں روزانہ دن میں کئی مرتبہ کھڑکی سے جھانک کر سڑک کامنظر دیکھتا ہوں۔رات کامنظر بہت ڈرا دینے والا ہوتا ہے۔جدھر دیکھو،کسی جنگل کی مانندہر جانب گپ اندھیرا آنکھوں کا استقبال کرتا ہے۔کوئی کام کاج نہیں ،سب ہی جلدی سو جاتے ہیں۔ہر گھر کی بتیاں سر شام ہی گل ہو جاتی ہیں، روشنیوں کاشہر سیاہی میں ڈوبا نظر آتا ہے‘‘۔
کبھی امریکہ نے آگ برسائی تو کبھی جاپان قابض ہوا
224ارب ڈالر سے بھی زیادہ کے جی ڈی پی کے حامل صوبے وہان کا شمار ترقی یافتہ عالمی صوبوں اور ریاستوں میں ہوتا ہے۔پاکستان کو بسیں مہیا کرنے والی ایک بڑی کمپنی کا صدر دفتر بھی یہیں واقع ہے جبکہ فٹ بال اور باسکٹ بال کے متعدد عالمی مقابلوں کی میزبانی کا شرف بھی اسی صوبے کو حاصل ہوچکا ہے۔1938ء میں یہ اہم مرکز ’’جنگ وہان‘‘میں جاپان نے چھین لیا تھا،جاپان نے جنوبی چین میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے اسی علاقے کو مرکز بنایا تھا۔بعد ازاں د ازاں یہ علاقہ چین نے جاپان سے واپس لے لیا تھا۔ 1944ء میں امریکی طیاروں نے آگ کے گولے برسا کر اس پررونق ساحلی شہر کو کھنڈرات میں بدل دیا تھا۔ امریکی طیاروں نے آگ لگانے والے بم برساپورے شہر کو تھرڈ ڈگری آگ سے جلا کر راکھ کر دیا تھا۔لیکن قسمت پھر بھی نہ بدلی اور 1967ء میں یہ شہر سیلاب سے اجڑا۔اب وبائی مرض کی لپیٹ میں ہے۔ 
نوول کورونا وائرس کیسے پھیلا؟
طبی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پہلے یہ مرض کسی جانور سے انسانوں میں منتقل ہوا اور اب انسان اس کا کیریئر بن چکا ہے ،اور یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے شخص میں پھیل رہا ہے۔یہ بات مشکوک ہے لیکن کہی جا رہی ہے کہ نئی قسم چمگادڑ یا سانپوں سے انسان میں منتقل ہوئی ہو گی۔و ہان کے علاقے میں ان دونوں جانوروں کی بہتات ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شائد ان سے یہ کسی دوسرے جانور میں منتقل ہوا جس نے انسان کو بیمار ڈالا۔دوسری رپورٹ میں سمندری حیات کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ان کے نزدیک سمندری حیات کورونا وائرس کی پیدائش یا پھیلائو کاسبب بن سکتی ہے ۔ماہرین اس نئے قسم کے نوول کورونا وائرس کو جنم دینے والے جانور اور اس کے ’’کیریئر‘‘ کی تلاش میں ہیں ۔
یہ وائرس انفلوئنزا کی دوسری اقسام سے زیادہ خطرناک ہے؟
اس سوال کے جواب میں طبی ماہرین نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ ’’ہم نہیں جانتے کہ کتنا خطرناک ہے، اور کیوں ہے؟‘‘پہلے تجزیئے کے وقت 800میں سے26کا انتقال ہوا تھایعنی شرح اموات3 فیصد تھی ۔بعد ازاں2000میں سے106کی ہلاکت سے بھی کم و بیش یہی نتیجہ نکالا گیا۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بہت سے مریض ازخود ٹھیک ہو گئے ہوں، اس لئے ڈیٹا میں شامل ہونے سے رہ گئے۔ موسمیاتی فلو سے شرح اموات کا تناسب 1فیصد سے کم ہوتا ہے لیکن چونکہ یہ مرض بہت زیادہ افراد کو لاحق ہوتا ہے اسی لئے دنیا بھر میں ہر سال 4لاکھ افراد فلو سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔
کیا ہمیں گھبرانے کی ضرورت ہے؟
یہی سوال جب ایک اہم طبی ماہر سے کیا گیا تو انہوں نے برجستہ کہا کہ ’’نہیں، ہرگز نہیں‘‘۔۔۔سانس کی نالی کے ذریعے پھیلنے والا یہ مرض قابل علاج ہے۔شدت پیدا ہونے پر اسے کنٹرول کرنا مشکل ہے لیکن اس کا علاج ممکن ہے۔ اس وائرس کاشکار ہزاروں مریض صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔طبی ماہرین نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ’’عمومی طور پر بہت تیزی سے پھیلنے والے وائرس زیادہ خطرناک نہیں ہوتے،یہ کمزو رپڑ جاتے ہیں‘‘۔ یہ عمر رسیدہ افراد کے علاوہ ان لوگوں کے لئے خطرناک ہو سکتے ہیں جنہیں ماضی میں کبھی نمونیہ ہوچکا ہواور انہوں نے اس کا مکمل علاج نہ کرایا ہو۔یہ بھی دیکھا گیاہے کہ بیمار اورہلاک شدگان کی زیادہ تعداد عمر رسیدہ افراد کی ہے ۔بچوں کو یہ وائرس نشانہ نہیں بنا سکا۔ کمزور مدافعتی نظام کے مالک افراد بھی نوول کورونا وائرس کا نشانہ بن سکتے ہیں۔اپنا علاج بروقت شروع نہ کرنے والے ڈاکٹر یا نرس وغیرہ کے لئے یہ وائرس کسی حد تک خطرناک ہو سکتا ہے ۔پھیپڑوں کوزیادہ متاثر کرنے کے بعد موت کاسبب بن سکتے ہیں مگرہر کیس میں ہلاکت لازمی نہیں ہے۔
کیا یہ نمونیا کی قسم ہے؟
بالکل صحیح۔عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ برس ہی اسے ’’نوول کورونا وائرس.2‘‘(2019-nCoV)قرارد یا ہے ۔اس کی رشتے داری نمونیا سے قائم کی گئی ہے، دنیا اس وائرس سے زیادہ واقف نہیں ہے۔ ڈاکٹروں نے لاکھ جتن کئے کہ کسی طریقے سے یہ پتہ چل جائے کہ یہ نمونیا کی کون سی قسم ہے مگر وائرس نے یہ بھی معلوم کرنے کا موقع نہیں دیا۔ ریڈیا لوجیکل، کلینکل، مائیکرو بائیولوجیکل سمیت ہر طریقہ ناکام ہوا جس کے بعد اسے نمونیا کی ’’ناقابل وضاحت‘‘ قسم لکھاجانے لگاہے۔ییل یونیورسٹی کے پروفیسرژی چن(Xi Chen) نے کہا۔۔۔’’ہمیں اس وائرس کی پیدائش کے بارے میں زیادہ علم نہیں۔ بس اتنا جانتے ہیں کہ یہ اتنی تیزی سے پھیلتا ہے کہ اسے روکنا مشکل ہو جاتا ہے‘‘۔ اصلی نام معلوم نہ ہونے پر ہی اسے ’’کورونا وائرس فیملی ‘‘ کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔یہ در حقیقت متعدد اقسام کے وائرسز کے ایک گروپ کا مشترکہ نام ہے جو براہ راست سانس کی نالی پر اثراندا زہونے کے بعد پھیپھڑوں اور پھر دیگر حصوں کو متاثر کرتے ہیں۔ حملے کی نوعیت ملتی جلتی ہونے کے باعث انہیں ایک ہی فیملی قرارد یا گیا ہے۔ ’’سارز‘‘ بھی اسی خاندان کے وائرس ہیں۔ دیگر اقسام میں نزلہ اور زکام پیدا کرنے والے وائرس بھی شامل ہیں۔یہ بات قابل تشویش ہو سکتی ہے کہ اس وائرس میں مبتلا اکا دکا مریض چین کے ہر صوبے میں ملے ہیں،حتیٰ کہ بیجنگ،شنگھائی،چونگ ژنگ (Chongqing)اورتیان ژنگ(Tianjin) کے شہر بھی محفوظ نہیں ہیں جہاںان کی تعداد13ہزار سے زائد ہے۔لیکن ہمیں گھبرانے کی ہرگزضرورت نہیں۔عالمی تحقیقاتی اداروں نے ہنگامی بنیادوں پر بیماری کے علاج اور ویکسین کی تیاری کا بیڑا اٹھا لیاہے۔
یہ وائرس کہاں سے آیا؟
 وہان میںاس کی ہسٹری موجود نہیں۔سب سے پہلے10جنوری کو 29دسمبر سے 4جنوری کے درمیانی عرصے میں شین ژین (Shenzhen) سے وہان کا سفر کرنے والے 6 مریضوں میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ۔تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ابتدائی طور پر جن میں اس کی علامات دیکھی گئیں ان میں سے زیادہ تر باشندے ہوانان (Huanan) میں سمندر حیات کی ایک بڑی منڈی سے منسلک تھے، اس کا کیریئر کسی سمندری جانور کو ہی سمجھا جا رہا ہے۔یہ سب کے سب تازہ گوشت فروخت کرتے تھے۔ چین کے حکام نے بتایا کہ جب انہوں نے ٹیسٹ کئے تو ابتدائی رپورٹیں مثبت تھیں،ان میں کسی بیکٹیریا کی تصدیق نہیں ہوئی۔ بعد میں ان میں بھی کورونا وائرس کی موجودگی کا پتہ چلایعنی ایسا ممکن ہے کہ یہ مرض شروع میں کسی مرحلے پرظاہر ہی نہ ہوتا ہو۔بعد میں جان لیوا بن کر ابھرتا ہو۔
ابتدائی اور دیگر علامات کیا ہیں؟
وائرس میں مبتلا مریض میں اولین طور پر نمونیا کی علامات ظاہر ہوتی ہیں، بعد ازاں مریض کو کھانسی، بخار اور سانس میں تکلیف کی شکایت ہوتی ہے۔شدت پیدا ہونے کی صورت میں کوئی عضو کام کرنے سے چھوڑ دیتا ہے۔ ڈاکٹر صرف اتنا جانتے ہیں کہ اس مرض میں کئی طرح کی علامتیں ظاہر ہوسکتی ہیں جن میں بخار، سانس کی نالی میں سوزش اورپھیپڑوں میں انفیکشن بھی شامل ہیں۔ اس مرض کی مخصوص علامات کا سراغ نہیں لگایا جا سکا ۔ کئی علامتوں کی وثوق سے تصدیق نہیں کی جا سکتی یعنی کچھ علامات کا ظاہر ہونالازمی نہیں۔ مثال کے طور پر تین بزرگ مریضوں میں سے ایک مریض کو عام نوعیت کی کمزوری اور خشک کھانسی محسوس ہوئی، شائد اچانک ہی اس کے تمام سفید خلیے مر گئے تھے۔ مریض میں خاص قسم کی نقصان دہ پروٹین کی مقدار تیزی سے بڑھنے لگی۔ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسے خاص قسم کا نمونیا ہو گیا ہے۔اس کے برعکس نوجوان مریضوں میں خون کے ٹیسٹ نارمل تھے۔جبکہ عمر رسیدہ مریضوں میں خون کے ٹیسٹ شدید ابنارمل تھے۔پہلی مرتبہ سامنے آنے کی وجہ سے سائنسدان زیادہ نہیں جانتے، صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایبولہ اور برڈ فلو کی طرح اس وائرس کی ا فزائش بھی جانوروں میں ہی ہوتی ہے۔ 
انیٹی بائیوٹکس کتنی موثر ہیں؟
وائرل مرض ہونے کی وجہ سے انیٹی بائیوٹکس ادویات کے استعمال کا کوئی فائدہ نہیں۔فلو کے علاج میں استعمال ہونے والی دوائیں ا س مرض میں موثر نہیں ۔مریض ہسپتال میں داخل ہوتو سانس میں رکاوٹ کی صورت میں مدد مل سکتی ہے۔طبیعت کی بحالی کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ آپ کا امیون سسٹم کیسا ہے۔ چین میں جن لوگوں کا انتقال ہوا ہے ان کی صحت پہلے سے ہی خراب تھی۔
 احتیاط اور بچائو
مرغی اورایسے دوسرے پرندوں سمیت ہرجانورسے دور رہنے کی کوشش کریں ۔
صفائی ستھرائی کا مکمل خیال رکھیں۔
سانس کی کسی پریشانی میں مبتلا افراد ماسک پہن کر رکھیں ، ماسک کی صفائی
 کابھی خیال رکھا جائے ۔
رش والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔اگر وہاں جانا ضروی ہو تو اپنا منہ ٹشو یا
 کپڑے سے ڈھانپ کر رکھیں
گھر،بازار یا دفتر میں بیمار کو ٹچ کرنے سے گریز کریں۔
خوارک کاخاص خیال رکھیں تاکہ جسم کا مدافعتی نظام ٹھیک کام کرتا رہے۔
 ’’کورونا وائرس ‘‘والے ممالک میں مقیم پاکستانی
پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان ممالک میں مقیم ہے جہاں اس نئے وائرس نے پہلی مرتبہ اپنا اثر دکھایا ہے۔اللہ کی رحمت سے تما م پاکستانی محفوظ ہیں۔ویت نام اورتایئوان جیسے چند ممالک کے نام شامل نہیں ہیں، وہاں بھی پاکستانی رہتے ہیں لیکن ان کی تعداد برائے نام ہے۔
چین:پاکستانیوں کی تعداد 65ہزار کے قریب ہے جن میں 15654طالب علم بھی شامل ہیں۔پاکستانیوں کی زیادہ تعدادازبکستان کے قریب واقع شنگھائی میں مقیم ہے۔یہ صوبہ وہان سے 3432کلومیٹردور ہے ، اللہ کی رحمت سے ہمارے بھائی محفوظ ہیں۔ایک ہزار سے 2ہزار تک پاکستانی چھوٹے بڑے تاجر روزانہ ہی چین میں موجود رہتے ہیں ، یہ بھی رب کریم کے کرم سے صحت مند ہیں۔
امریکہ:700000
فرانس:104000
 ملایشیاء:100000
 آسٹریلیا: 61913
ہانک کانگ: 18094
جاپان:10849
جنوبی کوریا:10423
سنگا پور:10000
نیپال : 10000
 تھائی لینڈ:3000
 کورونا وائرس فیملی کے تین خطرناک حملے 
مرس:مرس (Mers) یعنی ’’مشرق وسطیٰ میں نظام تنفس کا سنڈروم ‘‘ بھی اسی فیملی سے تعلق رکھتا ہے ۔یہ وائرس زیادہ تر مشر ق وسطیٰ کے لوگوں کو بیمارکر ڈالتا ہے لیکن اس و ائرس نے 2004میں نیدر لینڈ میں ایک بچے کوبیمار کر دیا تھا۔ کئی دوسرے ممالک میں بھی اس وائرس کی تصدیق ہوئی۔طبی ماہرین کے مطابق اس وائرس کی پیدائش چمگادڑوںمیں ہوئی۔بعد ازاں چمگادڑ سے کتے اور کتے سے انسان کو لگا۔یہ بھی ممکن ہے کہ چمگادڑ سے انسان کو یہ براہ راست منتقل ہوا ہو۔ بعد ازاں انسان سے انسانوں میں پھیلا ۔ 
سرس :سرس ’’ Severe Acute Respiratory Syndrome‘‘(Sars)کی وباء2002 ء اور 2003ء میں پھیلی تھی۔اس وائرس کو ڈاکٹرز سمجھ ہی نہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے 37ممالک میں کھلبلی مچا دی تھی ۔ دنیا بھر 8500افراد بیمار اور 1ہزار سے زیادہ موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔کہا جاتا ہے کہ اس وائرس نے بھی چمگادڑ کے جسم میں پرورش پائی اور پھر بذریعہ اونٹنی انسان میں منتقل ہوا۔ ابتدا میں یہ وبا ء قابو سے باہر تھی بعدازاں سائنس دانوں نے اسے کنٹرول کر لیاتھا۔چینی صوبہ وہان میں نمونیا فیملی کے وائرس کی ایک وباء 2003ء میں بھی پھیلی تھی ۔ اس کے مریض 2012ء میں مشرق وسطیٰ کے ہسپتالوں میں بھی داخل ہوئے تھے، کئی دوسرے ممالک میں بھی یہ وبا پھیلتی رہی ہے۔لیکن اس سے ہلاکتوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔اس وائرس کی افزائش جانوروں میں ہوتی ہے۔یہ جانور کے ذریعے سے منتقل ہو تا ہے۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 وضو سے کورونا وائرس کا خاتمہ ممکن ہے اگر ہم اپنی زندگی کودین اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق گزاریں تو کوروناسمیت دنیاکے ہر وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے جب ہم اپنی زندگی میں صفائی لے آئیں گے تو آدھی سے زیادہ بیماریاں بغیر کسی علاج کے ہی ختم ہو جائیں گی۔ جدیدطبی تحقیقات کے مطابق اگر کوئی دن میں پانچ بار وضو کرتا ہے تو وہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔وضو کے طریقے کو دیکھا جائے اور سائنسی بنیادوں پر اس کو پرکھا جائے تو حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں

 عبادت کی نیت سے اور پابندی اوقات کے ساتھ کھانے پینے اور جنسی خواہشات سے باز رہنے کو روزہ کہا جاتا ہے۔ طبی اصطلاح میں غذا کو کیفیت یا کمیت کے لحاظ سے محدود کرنے کو روزہ کہہ سکتے ہیں۔سائنس کی ترقی اور طبی تحقیقات نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ انسان کی شخصیت ایک کل ہے اور طبیعت انسانی کے افعال و وظائف نفس اور جسم دونوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ 

مزید پڑھیں

 کرونا وبا ء نے جہاں پوری دنیا کومتاثرکیاہے وہاں ہماری ریاست، سیاست اورمعاشرت پربھی گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ ایسادکھائی دیتاہے کہ اس سے پاکستانی ریاست کی شکل میں تبدیلی ناگزیر ہے۔    

مزید پڑھیں