☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) متفرق(خالد نجیب خان) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) کچن کی دنیا() خواتین(نجف زہرا تقوی) خواتین(مریم صدیقی)
کرونا وائرس۔ عالمی عفریت کرونا وائرس انفیکشن کے خلاف جہاد اور آسان احتیاطی تدابیر

کرونا وائرس۔ عالمی عفریت کرونا وائرس انفیکشن کے خلاف جہاد اور آسان احتیاطی تدابیر

تحریر : ڈاکٹر آصف محمود جاہ

03-22-2020

اللہ تعالیٰ بہ یک وقت رحیم و کریم اور قہارو جبار ہے۔ یہ کائنات اسی کی عظیم الشان ہستی کا پرتو ہے اور یہاں وقوع پذیر ہونے والے واقعات و حادثات اسی کی نشان دہی کرتے ہیں۔
 

 

جہاں لامحدود نعمتیں اور عنائیتں، جو عیاں بھی ہیں اور نہاں بھی، اس کے رحیم و کریم ہونے کی دلیل ہیں وہاں ارضی و سماوی مصائب اور آفات اس کے قہار و جبار ہونے کا پتہ دیتی ہیں۔ اسی تناظر میں خیر و شر اور جزا و سزا ایک ہی تصور کے دو جڑے ہوئے اور باہم مربوط رخ ہیں۔ کسی ایک رخ کے بغیر تصویر ادھوری اور بے معنی ہو جائے گی۔ چناں چہ کارخانہ قدرت میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات و حادثات ہی وہ ذریعہ ہیں جس سے وہ عظیم ذات مسلسل اور ہر لحظ اپنا اظہار کر رہی ہے۔ تمام تر تباہی میں تعمیر کی کئی صورتیں مضمر ہوتی ہیں۔ پچھلے کئی سال سے دُنیا اور ملک عزیز کو ارضی و سمادی آفات نے گھیر رکھا ہے۔ کبھی زلزلے ہیں۔ کہیں آگ تباہی مچا رہی ہے، کہیں برفانی تودے اور بارشیں تباہی اور موت کا باعث بن رہے ہیں۔ حال ہی میں کوروناوائرس ایک عالمی عفریت بن چکا ہے جو بڑی تیزی سے دُنیا کے تمام ممالک میں پنجے گاڑ چکا ہے۔ دُنیا بھر کی عموماََ اور چین کی باالخصوص معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ ائیر لائنوں کا کاروبار بند ہو چکا ہے، فضائی رابطے منقطع ہیں۔ ہر طرف کوروناکا شوروغوغا ہے۔ امیر ترین ممالک اور عالمی ادارے کوروناوائرس سے نمٹنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔ عالمی بینک نے کوروناوائرس سے نبٹنے کے لیے 20 ارب امریکی ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ عالمی میڈیکل لیبارٹریوں میں تحقیق جاری ہے۔کوروناوائرس کے لیے میڈیسن بنانے کے لیے اور اسے مارکیٹ میں پہنچانے کے لیے تدبیریں سوچی جارہی ہیں۔ ویکسین بنانے کے بھی وعدے کیے جا رہے ہیں۔ مگر ابھی تک کوئی تدبیر کار گر ہوتی نظر نہیں آرہی۔
ہمارے لیے اہم بات برادر اسلامی ملک ایران میں کوروناوائرس سے ہونے والی اموات ہیں۔ ایران میں سینکڑوں لوگ اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ سعودی عرب نے بھی فی الحال عمرہ فلائٹس پر پابندی لگا دی ہے۔ ہزاروں عمرہ زائرین اللہ سے دُعا کر رہے ہیں کہ وہ جلد از جلد اللہ کے گھر اور روضہ رسول ﷺ پہ حاضری دیں۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے۔کوروناوائرس دُنیا کے تمام ممالک میں پھیلتا جا رہا ہے۔ پوری دُنیا کا میڈیا اور عالمی ادارہ صحت کوروناوائرس کی دہشت پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ افواہیں سر گرم ہیں کہ ایک منصوبے کے تحت کوروناوائرس کی دہشت پھیلائی جا رہی ہے تاکہ چین جو دُنیا کی سب سے بڑی اقتصادی قوت بنتی جا رہی تھی اس کی صنعت و حرفت برباد ہو جائے اور وہ عالمی اقتصادی قوت نہ بن سکے۔ کچھ لوگ اسے حیاتیاتی جنگ کا بھی نام دے رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ کوروناوائرس اصل میں لیبارٹری میں تیار کر کے اسے فضامیں چھوڑا گیا۔ اس پوری دُنیا میں صنعتوں کا پہیہ جام ہو چکا ہے۔ سٹاک مارکیٹیں کریش ہو چکی ہیں۔ خام تیل کی قیمتیں 40 فیصد تک کم ہو گئی ہیں۔ 
کرونا وائرس بہت تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے۔ برادر ملک ایران میںکوروناسے اموات کی تعداد700 تک ہے اور 7 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہیں۔ تفتان بارڈر پر زائرین کی آمدورفت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ایران سے آنے والے زائرین کوقرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے۔ ایک چھوٹے سے نظر نہ آنے والے جر ثومے نے چند ہفتوں میں عملاََ عالمی لاک ڈائون کر دیا ہے۔ دُنیا بھرمیں تہلکہ مچا ہوا ہے۔  202 ممالک میں سے 162ممالک میں کوروناپھیل چکاہے۔ بچے ہوئے ممالک میں شیطان کی آفت کی طرح پھیلتا اور انسانی جسموں میں سرایت کرتا جا رہا ہے۔
 ’’ چین سے آنے والے ایک دوست نے بتایا کہ چینیوں نے علاج دریافت کر لیا ہے‘‘۔کوروناکے علاج کے لیے موثر دوا تیار کر لی گئی ہے کوروناویکسین کی تیاری کے لیے تیزی سے کام جاری ہے۔ امید ہے چند ماہ تک ویکسین تیار کر لی جائے گی۔کوروناوائرس چین کے شہر ووہان سے حرام جانوروں کا گوشت کھانے سے شروع ہوا ۔ کروڑوں لوگ متاثر ہوئے۔ 3000 کے قریب لوگوں کو اس نے ہلاک کیا لیکن چین کے ڈاکٹروں، پیرا میڈیکس، رضاکاروں اور حکومتی اہلکاروں کے مل کر کام کرنے سے چین نے دو ماہ کے عرصے میں بیماری پر قابو پالیا۔ ہر وقت احتیاطی تدابیر کر کے بھی آفت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ووہان شہر میں بیماری سے نپٹنے کے لیے 7 ہسپتال ایمرجنسی میں بنائے گے اب ان ہسپتالوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ چین کے بعدکوروناوائرس انفیکشن یورپ اور خاص کر اٹلی اور اسپین میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اٹلی میں چونکہ سیاحت سب سے زیادہ ہے۔ اس لیے وہاں یہ مرض چین سے آنے والے سیاحوں کی وجہ سے پھیلا اب اٹلی کو عملی طور پر لاک ڈائون کر دیا گیا ہے۔ لوگ گھروں میں محصور ہیں۔ اٹلی کا میلان شہر ایک برباد شہر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ لگتا ہے یہاں کوئی ذی روح رہتا نہیں۔اس وقت دُنیا بھر میں 50 کروڑ سے زائد طالب علم گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ بہت سے تعلیمی اداروں نے آن لائن کلاسیں شروع کر دی ہیں۔چین کے ڈاکٹرز اور کمیونٹی ورکرز کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے اپنی جانوں کی پروہ کیے بغیر مریضوں کی خدمت کی اور اس خدمت کے دوران 53 کمیونٹی ورکرز مریضوں کا علاج کرتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ 53 کمیونٹی ورکرز نہ صرف چین بلکہ دُنیا بھر کے ہیروز ہیں جنہوں نے دکھی  انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کی۔ چین کے 53 کمیونٹی ورکرز کو سلام ۔
کرونا کی علامات کیا ہیں؟
 اصل میں کوروناوائرس جب حملہ کرتا ہے تو شروع کے دنوں میں تو کوئی خاص پتہ نہیں چلتا۔ آہستہ آہستہ کوروناوائرس اپنی تباہ کاریاں پھیلانا شروع کرتا ہے۔ سانس کی بیماری مثلاََ دمہ، سانس اکھڑنے کی تکلیف اور کمزور پھیپھڑوں والے مریض اور دل کی بیماری کے مریض کوروناوائرس سے بہت جلد متاثرہوتے ہیں۔ شروع میں فلو اور زکام کی طرح کی علامات ہوتی ہیں۔ سانس اکھڑنا شروع  ہو جاتا ہے۔ بڑی عمر کے لوگوں میں دو چار دنوں بعد نمونیا ہو جاتا ہے اور فور ی طور پر ہسپتال میں داخل کرا کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایمرجنسی علاج نہ ہونے کی صورت میں فوری موت واقع ہو جاتی ہے۔ 
یہ مرض خطرناک نہیں ہے
اصل میں دیکھا جائے توکوروناوائرس خطرناک بیماری نہیں ہے ،کرونا وائرس فلو وائرس ، ایبووائرس کی طرح کا ایک وائرس ہے۔ اس سے زیادہ تر اموات علاج نہ ہونے کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بات ذہین میں رکھیں کہ کوروناوائرس سے متاثر ہونے والے 98 فیصد مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ اگر چین کے شہر ووہان میں ایک لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں لیکن 70 سے 80 ہزار لوگ صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔ دُنیا بھر میں ٹی بی، ایڈز، ڈائریا، ہیپاٹائٹس سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں اموات ہوتی ہیں۔ صرف ٹی بی کے جرثومہ سے ہونے والی اموات ہر سال 15 لاکھ ہیں۔ اسی طرح ڈائریا سے بہت ساری اموات ہوتی ہیں۔ اسی طرح آج کی تیزی سے پھیلتی ہوئی بیماری کینسر ہے جس کے ہزاروں کیس روزسامنے آ رہے ہیں اور اس سے سالانہ لاکھوں کی تعداد میں مر رہے ہیں جبکہ کوروناوائرس سے ابھی تک تین سے چار ہزار لوگ فوت ہوئے ہیں۔ 
کیاکوروناکاعلاج مشکل ہے؟
اگرچہ کوروناوائرس پاکستان میں بھی آنا شروع ہو گیا ہے مگر شکر ہے کہ مریضوں کی تعداد زیادہ نہیں ، پریشان ہونے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انشاء اللہ کوروناوائرس پاکستان میں نہیں پھیلے گا۔ یہ وائرس حرام جانوروں کا سوپ پینے اور ان کا گوشت کھانے سے پھیلا۔ اسلام دین فطرت ہے۔ صفائی نصف ایمان ہے۔ پانچ دفعہ وضو کر کے نماز پڑھنے سے جسمانی صفائی کے ساتھ روحانی بالیدگی بھی حاصل ہوتی ہے۔ وضو کرتے وقت تین دفعہ کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے سے کسی قسم کا وائرس جسم میں داخل نہیں ہو سکتا۔ ان دنوں اگر وضو کے لیے نیم گرم پانی کا استعمال زیادہ بہتر ہے کیونکہ زکام کے ایبو وائرس کی طرح کوروناوائرس بھی   Heat Sensitiveہے۔ اگر کسی کو زکام، فلو کی علامات ہیں تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اسی دوران احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس پہ قابو پایا جاسکتا ہے۔ ایک بات ذہین میں رکھیں کہ وائرس سے ہونے والے مختلف انفیکشن خود بخود ختم ہو جاتے ہیں جیسا کہ چین کے شہر ووہان میں تقریباََ 70ہزار لوگ صحت یاب ہو چکے ہیں۔ اگر کسی کوکوروناوائرس ہو جائے یا اس کا خدشہ ہو تو فوری طور پر گرم پانی کا استعمال شروع کر دیں۔ دن بھر میں 7-5 گلاس پانی استعمال کریں۔ اس کے ساتھ 4-3 گلاس فروٹ جوس لیں۔ کھانے میں کھیرا، ٹماٹر اور سلاد کا استعمال کریں۔ صبح نہار منہ ایک کپ گرم دودھ میں دو چمچ زیتون کا تیل، ایک چمچ ہلدی، اور ایک چمچ شہد استعمال کریں۔ زیتون کے تیل میں اللہ تعالیٰ نے مختلف بیماریوں سے شفا رکھی ہے۔ اس کے علاوہ سینہ کی بیماریوں اور انفیکشن کے علاج کے لیے ہلدی ایک اکسیر ہے۔ ہلدی اور زیتون کے تیل میں اللہ تعالیٰ نے بے حد شفاء رکھی ہے۔ ان دونوں میں انفیکشن کنٹرول کرنے کے صلاحیت اور اینٹی وائرل خصوصیات موجود ہیں۔ اور شہد میں تو ویسے ہی ہر بیماری کے لیے شفاء ہے۔ زکام اور گلے کے انفیکشن کے لیے پودینہ، سونف، دار چینی اور ادرک کا قہوہ بھی مفید ہے۔ مریض کو پینے والی گرم چیزیں دینے سے مرض میں خاطر خواہ افاقہ ہوتا ہے۔ مریض کے ساتھ خوش گوار رویہ رکھا جائے کیونکہ علیحدگی میں رہنے سے مریض سے رابطہ رکھا جا سکتا ہے۔ چین کی اپنے شہریوں تک محدود کرنے کی ہدایات سے 1440 سال پہلے رسول اللہ  ﷺ  کی دی گئی ہدایات یاد آتی ہیں۔ مدینہ میں جب طاعون کی بیماری پھیلی تو آپ نے اس مرض میں مبتلا ہونے والے افراد کو اپنا شہر چھوڑنے سے منع فرمایا تاکہ مرض دوسرے علاقوں میں صحت مند افراد میں منتقل نہ ہو۔ مسلم شریف کی جلد نمبر 2 میں حضرت اسامہؓ سے روایت ہے کہ حضور  ﷺ نے فرمایا کہ طاعون اور متعدی بیماری ایک عذاب ہے جو پہلی امتوں پر مسلط کیا گیا۔ جب کسی علاقے یا شہر میں کوئی وبا پھیل جائے تو ضروری ہے کہ متاثرہ شہر کے باشندے اپنا علاقہ چھوڑ کر نہ جائیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ دوسرے شہروں کے لوگ متاثرہ شہر یا علاقے میں نہ جائیں۔ جو ہدایات آج کی میڈیکل سائنس میں اب سامنے آرہی ہیں وہ ہادی دو جہاں  ﷺ نے ہمیں 1440 سال پہلے بتا دیں (ماشاء اللہ) ۔کوروناوائرس سے بچائو کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں۔ مریض کے زیر استعمال ٹشو پیپرز اور دوسری اشیاء کو مناسب طریقے سے تلف کیا جائے جبکہ کھانسی یا چھینک آنے پر منہ اور ناک کو ٹشو یا رومال سے ڈھانپ کر رکھا جائے بخار، کھانسی اور سانس لینے کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر یا ہسپتال سے رابطہ کریں۔ نزلہ، زکام اور سانس میں رکاوٹ محسوس ہو تو دفتر یا سکول ، کالج جانے سے پرہیز کریں، گھر میں رہ کر آرام کریں ، دوچار دن آرام کرنے سے طبیعت بحال ہو جاتی ہے۔ 
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوروناکوئی مہلک مرض نہیں۔ اس سے اموات کی تعداد بہت کم ہے۔ یہ بات اب اظہر من الشمس ہے کہ کوروناوائرس انفیکشن حرام جانوروں کا گوشت کھانے سے پھیلا۔ قرآن پاک میں اللہ کا ارشاد ہے ’’ کھائو پیو جو حلال اور پاکیزہ ہے‘‘ پاکیزہ ہے‘‘ پاکیزگی میں صفائی اولین شرط ہے کیونکہ صفائی نصف ایمان یا ایمان کی شرط ہے مسلمان دن میں پانچ دفعہ وضو کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ بار بار کلی کرنے سے نظام تنفس کا اوپر والا حصہ صاف و شفاف رہتا ہے اور اس میں کسی قسم کا جراثیم داخل ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔کوروناانفیکشن سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے طرززندگی کو بدلیں۔ سادہ اور کم خوراک لیں۔ حضور  ﷺ نے فرمایا کہ اپنے معدوں کو جانوروں کا قبرستان مت بنائو۔ یعنی مرغن اور ہر وقت گوشت والی غذا کھانے سے پرہیز کریں۔ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں اور جب کھانے کا مزا آنے لگے یا طبیعت مزید کھانے کی طرف حائل ہو تو فوراََ ہاتھ کھینچ لیں۔ کھانا کھاتے ہوئے اپنے معدے کی تین حصے بنا لیں۔ ایک کھانے کے لیے، دوسرا پینے کے اور تیسرا ہوا کے لیے۔ حضور  ﷺ  سادہ غذا کھاتے تھے جو اور ستو کی روٹی استعمال کرتے کوروناکی وبا کے دنوں میں سادہ غذا استعمال کریںگرم پانی قہوہ اور جوشاندہ استعمال کریں۔ حضور  ﷺ نے فرمایا کہ ہر بیماری کی دوا ہے۔ بیماری اللہ کی طرف سے آتی ہے اور شفا بھی اللہ ہی دیتے ہیں۔دوا کی ماہیت بیماری کے مطابق ہو تو وہ جسم میں داخل ہو کر شفا دیتی ہے۔ حکومت پاکستان نے جو احتیاطی تدابیر بتائی ہیں۔ ان پر عمل کر کے بیماری کے خطرات سے بچا جا سکتا ہے۔ مسلمان تو ویسے ہی صفائی پسند ہے۔ بار بار ہاتھ دھوئیں۔ مسجد نبوی ﷺ میں بھی لو گ Sanitizer استعمال کرتے اور اس کو لوگوں میں بانٹتے نظر آئے۔ اللہ پہ یقین رکھیں۔ صبح و شام دُعائیں پڑھ کر گھر سے نکلیں۔ درود شریف، استغفار، آیت الکرسی اور آیت کریمہ کا زیادہ سے زیادہ ذکر کریں۔ ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔کوروناوائرس انفیکشن کے خطرے کے باعث جو لوگ بے روز گار ہو گئے ہیں اور ان کو کام نہیں مل رہا۔ ان کا خیال رکھیں کہ کہیں ان کے بچے بھوکے تو نہیں سو رہے۔ صدقہ دیں۔ غریبوں اور ناداروں کی مدد کریں۔ صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ انشاء اللہ آپ کوروناوائرس انفیکشن کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہیں گے۔ 
 
قوت مدافعت میں اضافے کا ایک طریقہ  
 
 علاج کے علاوہ کورونا انفیکشن سے بچائو کی ایک صورت قوت مدافعت میں اضافہ کرنا بھی ہے۔ اس کے لیے آپ خود سے بھی شربت بنا سکتے ہیں۔50 گرام ہلدی، 50 گرام دارچینی، دو چمچ Olive Oil ۔ ایک چمچ شہد، ساری چیزوں کو مکس کر کے پانی میں پکا لیں۔ کرونا انفیکشن کی تشخیص کے بعد دو چمچ روزانہ استعمال کریں۔ اس سے سینے کا انفیکشن ، دائمی کھانسی، ہچکی اور بے چینی میں کمی آ سکتی ہے۔ انفیکشن کے دنوں میں پینے والی چیزیں گرم پانی، قہوہ، جوشاندہ، سبزیوں کا سوپ زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔
 
عبادت کے ساتھ دعا بھی مانگئے !
 
بیماری اور وبا اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ سے خیروعافیت کی دُعا کریں۔ بیماریوں سے پناہ مانگیں اور مندرجہ ذیل  دعا بھی پڑھیے 
اَللّٰہُمَّ اِنّیِ اَعُُوذُبِکَ مِنَ البَرَصِ وَالجنونِ وَالجُذَامِ وَ مِن سَیِئی الا سقَام (آمین)
’’ ا ے اللہ! میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں برص سے، دماغی خرابی سے، کوڑھ سے اور ہر قسم کی بُری بیماریوں سے۔‘‘
اس دُعا کے بار بار پڑھنے سے اللہ آپکو کورونا وائرس سمیت ہر طرح کے متعدی امراض سے محفوظ رکھے گا۔ صدقہ بلا اور بیماری کو ٹالتاہے۔ اس لیے صحت مند رہنے کے لیے دوا، دُعا کے ساتھ صدقہ بھی ضرور کریں۔ زیادہ سے زیادہ استغفار کریں۔ نماز کی پابندی کریں۔
ہمارے ملک میں بھی بہت سی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ ’’ پرہیز علاج سے بہتر ہے‘‘ کہ مصداق عوام الناس کو حکومتی اقدامات کا ساتھ دینا چاہیے۔ مگر پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہر بیماری اللہ کی طرف سے آتی ہے اور اللہ ہی شفا دیتے ہیں۔ انشاء اللہ کورونا وائرس کی وبا بھی جلد ختم ہو جائے گی۔ پاکستان میں اب تک تقریباََ 180 کیسوں کی تشخیص ہو چکی ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ ہر کھانسی، نزلہ زکام یا چھنیکیں آنا، کرونا کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ پچھلے دنوں ایک فلائٹ پر دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی۔ ایک مسافر کو چھینک کیا آئی تمام مسافروں نے اس سے دور بھاگنا شروع کردیا اور زور زور سے چیخنے اور شور مچانے لگے۔ پرائیویٹ پریکٹس میں آج کل اگر 100مریض آتے ہیں تو ان میں 90% فیصد کھانسی نزلہ زکام او بخار کے مریض ہیں۔ ان کو عام سی دوا دے کر فارغ کر رہے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ آپ کو نزلہ کھانسی ہے جوشاندہ لیں قہوہ لیں انشاء اللہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ کورونا دوسے وائرل انفیکشن کی طرح ایک مرض ہے۔ صرف 2 فیصد مریضوں میں یہ مہلک ثابت ہو کر موت کا باعث بن سکتا ہے۔ 
 
جنوری اور فروری میں بیماریوں اور حادثات سے ہونے والی اموات  
 
یونیورسٹی میں چیمبرگ کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اس سال کے پہلے دو مہینوں میں مختلف بیماریوں اور حادثات سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کچھ یوں ہے
 
جنوری اور فروری میں دُنیا بھر میں ہونے والی اموات
 
بیماری/ حادثات ہلاکتیں
کورونا وائرس انفیکشن 2360
نزلہ زکام انفیکشن 69602
ملیریا 140584
خودکشی 153,696
حادثات 193,479
ایچ آئی وی 240,950
الکحل 358,471
سگریٹ نوشی 716,498
کل اموات  1,177,141
 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 آج دنیا میں ہر جانب وائرس وائرس ہو رہی ہے، ہمیں دنیا کی سب سے چھوٹی بائیولوجیکل لائف کے سوا کچھ یاد نہیں۔ بات بھی ٹھیک ہی ہے،وائرس کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔یہ نہ سمجھئے کہ دو تین ہفتوں کے لاک ڈائون سے وائرس بھی ڈائون ہو جائے گا۔وائرس کئی دن نہیں بلکہ کئی ہزار سال تک بھی کسی نہ کسی مردہ شے پر بھی اس حالت میں رہ سکتا ہے کہ موقع ملتے ہی پھر سے اٹھ کھڑا ہو یعنی جان پڑ جائے۔  

مزید پڑھیں

 وبائی امراض کرہ ارض پر کوئی نئی یا اچنبھے کی چیز نہیں ہیں۔اٹھاروی صدی سے اب تک پولیو، ہیضہ، طاعون، ایڈز،انفلوئنزا،سارس،زیکا،برڈفلو،سوائن،نیفاہ،ایبولااور کورونا جیسے کئی موذی ، مہلک اور خطرناک وبائی امراض اپنی تباہ کاریاں کر چکے ہیں۔    

مزید پڑھیں

 بڑی بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں صحت کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ۔ اپنی صحت کے بارے میں جب آپ خود ہی فکر مند نہ ہوں گے تو پھرکوئی اور کیوں ہوگا؟ہمارے ارد گرد کم ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ساتھ دوسروں کی صحت کا بھی خیال کرتے ہیں۔    

مزید پڑھیں