☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(ڈاکٹر اسرار احمد) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) غور و طلب(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(ڈاکٹر محمد نوید ازہر) متفرق(ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا دلچسپ رپورٹ(خالد نجیب خان) زراعت(صابر بخاری) سپیشل رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) کھیل(منصور علی بیگ) طب(حکیم نیازاحمد ڈیال) تعلیم(عرفان طالب) صحت(نغمہ اقتدار) سیاحت(وقار احمد ملک)
شعبہ صحت پر خرچ کرنے کی ضرورت

شعبہ صحت پر خرچ کرنے کی ضرورت

تحریر : نغمہ اقتدار

05-03-2020

 کرونا وبا ء نے جہاں پوری دنیا کومتاثرکیاہے وہاں ہماری ریاست، سیاست اورمعاشرت پربھی گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ ایسادکھائی دیتاہے کہ اس سے پاکستانی ریاست کی شکل میں تبدیلی ناگزیر ہے۔
 

 

شاید یہ بات سمجھنا میرے لئے جنوری 2019 ء سے پہلے میرے لئے دشوار تھی۔ جب سے ہم پیدا ہوئے ہیں سیاست دانوں کی لوٹ مار ایک طرف ، دنیا بھر میں ایٹم ہتھیاربنانے پر بہت بڑے بڑے بجٹ رکھے گئے ہیں۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ وباء سے ڈاکٹرز، پیرامڈیکس، اوراسپتال کاعملہ لڑتاہے۔ حالات نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔ ہم کوپتہ چل گیاہے کہ صحت کابجٹ کس قدرکم ہے۔ اسپتالوں میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے لاک ڈاون کئے جارہے ہیں، لیکن جہاں لاک ڈائون ہوتاہے وہاں لوگوں کے پاس کھانے کونہیں ہوتااوربھوک سے مرتے ہیں۔ ہمارے سامنے ایک دنیاکھل گئی ہے جہاں سرمایہ داروں کوبلین کے حساب سے سبسڈی دی گئی اورغربت وافلاس کے شکارعوام کیلئے کہاگیاکہ ان کاڈیٹا دستیاب نہیں۔ ایدھی اورسیلانی عوام کی ضروریات کوایک بہت محدودپیمانے پرہی پوری کرسکتے ہیں، این جی اوزریاست کی جگہ نہیں لے سکتے ناہی پرائیوٹ اسپتال عوامی صحت کے مسئلہ کاحل ہیں۔ اس سے پہلے دہشت کے خلاف عالمی جنگ میں ہمارے بچے قتل ہوتے رہے، جامع مسجدوامام بارگاہ ہو ،سکول ہو کالج ہو سب نشانے بنتے رہے۔ اس سے یہ عقدہ کھلاکہ چند لوگوں کی حکمرانی، دولت اورسیاست میں تعلق کھل کر سامنے آگیا۔ وباء کے ابتداء میں ہم کوتسلی دی گئی کہ لاک ڈائون ضروری ہے۔ لیکن ایسانہیں تھا۔ لوگوں کی ضروریات ان کو سماجی دوری کے ضابطے توڑنے پرمجبورکررہی ہیں۔ زیادہ تر لوگ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے اپنی جگہوں پر سمجھ رہے تھے کہ زیادہ سے زیادہ پانچ دن ہم اس حال میں رہیں گے اور موسم کے باعث سب کچھ نارمل ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مئی کا مہینہ آچکا ہے آج بھی وہی معاملہ ہے۔ دنیا بھر کے ملکوں سے اگر آپ کے ساتھیوں سے دوستوں سے رشتہ داروں سے رابطہ ہو تو آپ کو پتہ چلے گا کہ کیا صورتحال ہے۔ پاکستان میں زیادہ کورونا کے کیس ہمارے سامنے نظر نہیں آ رہے کیونکہ ہمارے پاس ٹیسٹنگ کی سہولیات بہت ہی کم تھیں۔ اگرعام ٹیسٹنگ کی جائے تو پتہ چلے گا کہ کتنے زیادہ لوگ اس میں مبتلا ہیں۔ یہ وباء ہمیں پہلی جنگ عظیم کے دوران ہی 1918کی فلو کی وباء کی یاد دلاتاہے جس میں دس کروڑ کے لگ بھگ انسان لقمہء اجل بنے، اورکروڑوں کے حساب سے دونوں جنگوں، فاشزم اورمعاشی بحران کے نتیجہ میں مرے۔ ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ دنیا کو ایٹمی اسلحے سے پاک کرنا ہوگا اور بڑی رقم شعبہ صحت کی ریسرچ پر لگانا ہوگی ۔تمام بڑے ترقی یافتہ ممالک کو غور کرنا چاہیے کہ وہ ترقی یافتہ ہونے کے باوجود وبائی امراض پر قابو کیوں نہیں پارہے ۔ عوامی صحت وفلاح بہبود پرزیادہ خرچ کرناہوگا۔ پاکستان کو بھی صحت کے شعبے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں کوئی ایسا ہسپتال نہیں جو بین الاقوامی معیارکاہو جہاں عام مزدوراورکسان کاعلاج ہو سکے بلکہ ایسے اسپتال صرف اشرافیہ کیلئے مخصوص ہیں۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں اشرافیہ نے عوامی فلاح کے بجائے تاج محل جیسے مقبرے تعمیرکرنے میں حکمرانوں کوزیادہ دلچسپی رہی۔ ہمارے حکمران موٹرویز اوردیگرمیگاپروجیکٹس میں دلچسپی لیتے رہے مگرعوامی اسپتالوں، کالجوں اورنرسنگ کیلئے ان کے پاس رقم نہیں۔ اب یہ سب کچھ بدلناہوگا۔ سب سے پہلے ضروری ہے کہ کس طرح ہم اپنے عوام کوسماجی تحفظ دے سکیں۔ یہ محض کوروناوائرس کیلئے دوا ایجاد کرنے کی کوششوں کانام نہیں بلکہ عوامی صحت کامستقل 

بندوبست کرنے کی خاطرادارتی کوششیں ضروری ہیں۔ ہمارے ملک میں سائنس اورسماجی بہبوددونوں کی بنیادیں انتہائی کمزوراسی وجہ سے ہیں کہ اس کی اہمیت کومحض زبانی کلامی ہی تسلیم کیاجاتاہے۔ علمی اقدامات ناپید ہیں۔ یونیورسٹی کالج اسکول میں کبھی بھی سائنسی اپروچ کی بنیاد رکھی ہی نہیں گئی۔ تعلیم پرپیسہ خرچ نہیں کیاگیا۔ اب وقت آگیاہے کہ ہم عوامی صحت اورروزگارکواہمیت دیں اوروسائل کابہت بڑاحصہ عوامی بہبودپرخرچ کریں، تاکہ آفات، وبائوں اورحادثات کی صورت میں ہنگامی حالات کامقابلہ کرنے کیلئے بحثیت قوم تیارہوں۔ اپنے صدمے کو عزم میں بدلنا ہوگا۔ جہاں پوری دنیا کومتاثرکیاہے وہاں ہماری ریاست، سیاست اورمعاشرت پربھی گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ ایسادکھائی دیتاہے کہ اس سے پاکستانی ریاست کی شکل میں تبدیلی ناگزیر ہے۔
 
 
 
 
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 وضو سے کورونا وائرس کا خاتمہ ممکن ہے اگر ہم اپنی زندگی کودین اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق گزاریں تو کوروناسمیت دنیاکے ہر وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے جب ہم اپنی زندگی میں صفائی لے آئیں گے تو آدھی سے زیادہ بیماریاں بغیر کسی علاج کے ہی ختم ہو جائیں گی۔ جدیدطبی تحقیقات کے مطابق اگر کوئی دن میں پانچ بار وضو کرتا ہے تو وہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔وضو کے طریقے کو دیکھا جائے اور سائنسی بنیادوں پر اس کو پرکھا جائے تو حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں

 عبادت کی نیت سے اور پابندی اوقات کے ساتھ کھانے پینے اور جنسی خواہشات سے باز رہنے کو روزہ کہا جاتا ہے۔ طبی اصطلاح میں غذا کو کیفیت یا کمیت کے لحاظ سے محدود کرنے کو روزہ کہہ سکتے ہیں۔سائنس کی ترقی اور طبی تحقیقات نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ انسان کی شخصیت ایک کل ہے اور طبیعت انسانی کے افعال و وظائف نفس اور جسم دونوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ 

مزید پڑھیں

 دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمان اسلامی و قرآنی احکام کی روشنی میں بغیر کسی جسمانی و دنیاوی فائدے کاطمع کئے تعمیلاًروزہ رکھتے ہیں تاہم روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جسے دنیا بھر کے طبی ماہرین نے متعدد کلینیکل ٹرائلز کے بعد سائنسی طور پر تسلیم کیا ہے۔    

مزید پڑھیں