☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(حکیم محمد سعید شہید) عالمی امور(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(سید مبشر حسین ) تاریخ(مقصود احمد چغتائی) کھیل(ڈاکٹر زاہد اعوان) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
وضو اور جدید طبی تحقیقات

وضو اور جدید طبی تحقیقات

تحریر : حکیم قاضی ایم اے خالد

05-17-2020

 وضو سے کورونا وائرس کا خاتمہ ممکن ہے اگر ہم اپنی زندگی کودین اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق گزاریں تو کوروناسمیت دنیاکے ہر وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے جب ہم اپنی زندگی میں صفائی لے آئیں گے تو آدھی سے زیادہ بیماریاں بغیر کسی علاج کے ہی ختم ہو جائیں گی۔

جدیدطبی تحقیقات کے مطابق اگر کوئی دن میں پانچ بار وضو کرتا ہے تو وہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔وضو کے طریقے کو دیکھا جائے اور سائنسی بنیادوں پر اس کو پرکھا جائے تو حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں۔


کالج آف میڈیسن ‘بصرہ یونیورسٹی عراق کے پروفیسر سلام این اسفار اپنے مقالے ISLAMIC PRAYERS: A SPORT FOR BODY AS WELL AS SOULمیں ہر پہلو سے وضو کے فوائد کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ جدید سائیٹیفک ریسرچ ثابت کرتی ہے کہ وضو ایک انتہائی اہم عمل ہے اور دن میں پانچ وقت وضو کرنے سے جسم انتہائی اہم اور مضر رساں بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔
برطانیہ کی نیو کیسل یونیورسٹی کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق پانچ وقت نماز سے پہلے وضو کرنے سے برطانوی مسلمان کوویڈ۔19وائرس سے زیادہ محفوظ ہے۔ وضو کی وجہ سے کورونا وائرس ان میں بہت ہی کم پھیل رہا ہے،کورونا وائرس کے کم پھیلاؤ کی وجہ وضو کو قرار دے دیا گیا۔ نیو کیسل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر رچرڈ ویبر اور لیبر پارٹی کے سابق سیاستدان ٹریور فلپس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں مسلمانوں کو COVID-19کا کم خطرہ ہیں کیونکہ وہ روزانہ پانچ بارخود کو صاف کرتے ہیں۔ نماز سے پہلے وضو اور بار بار ہاتھ دھونے سے بہت سارے مسلمانوں کو اس وائرس کا شکار ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر وسطی لندن میں ٹاور ہیملیٹس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہاں بڑی تعداد میں مسلمان آبادی ہے اور اس کے اردگرد وائرس کے ہاٹ سپاٹ ہیں لیکن مسلمان وائرس سے محفوظ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ کے بہت سے علاقوں میں مسلمان اس وائرس سے کم متاثر ہوئے ہیں۔
وضو حفظانِ صحت کے زریں اصولوں میں سے ہے۔ یہ روز مرہ زندگی میں جراثیم کے خلاف ایک بہت بڑی ڈھال ہے۔ بہت سی بیماریاں صرف جراثیموں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ یہ جراثیم ہمیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ ہوا، زمین اور ہمارے اِستعمال کی ہر چیز پر یہ موذی مسلط ہیں۔ جسمِ انسانی کی حیثیت ایک قلعے کی سی ہے۔ اللہ تعالی نے ہماری جلد کی ساخت کچھ ایسی تدبیر سے بنائی ہے کہ جراثیم اس میں سے ہمارے بدن میں داخل نہیں ہو سکتے البتہ جلد پر ہو جانے والے زخم اور منہ اور ناک کے سوراخ ہر وقت جراثیم کی زد میں ہیں۔ اللہ رب العزت نے وضو کے ذریعے نہ صرف ان سوراخوں کو بلکہ اپنے جسم کے ہر حصے کو جو عام طور پر کپڑوں میں ڈھکا ہوا نہیں ہوتا اور آسانی سے جراثیم کی آماجگاہ بن سکتا ہے، انہیں وضو کے ذریعے وقتا فوقتا دھوتے رہنے کا حکم فرمایا۔ انسانی جسم میں ناک اور منہ ایسے اعضا ہیں جن کے ذریعے جراثیم سانس اور کھانے کے ساتھ آسانی سے اِنسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں، لہذا گلے کی صفائی کے لیے غرارہ کرنے کا حکم دیا اور ناک کو اندر ہڈی تک گیلا کرنے کا حکم دیا۔ بعض اوقات جراثیم ناک میں داخل ہو کر اندر کے بالوں سے چمٹ جاتے ہیں اور اگر دن میں وقتا فوقتا اسے دھونے کا عمل نہ ہو تو ہم صاف ہوا سے بھرپور سانس بھی نہیں لے سکتے۔ اس کے بعد چہرے کو تین بار دھونے کی تلقین فرمائی ہے تاکہ ٹھنڈا پانی مسلسل آنکھوں پر پڑتا رہے اور آنکھیں جملہ امراض سے محفوظ رہیں۔ اِسی طرح بازو اور پاؤں دھونے میں بھی کئی طبی فوائد پنہاں ہیں۔ وضو ہمارے بے شمار امراض کا ازخود علاج کر دیتا ہے جن کے پیدا ہونے کا ہمیں اِحساس تک نہیں ہوتا۔ طہارت کے باب میں طبِ جدید جن تصورات کو واضح کرتی ہے اِسلام نے انہیں عملا تصورِ طہارت میں سمو دیا ہے۔
موجودہ وباء کے تناظر میں وضو کا اہتمام ہمیشہ گھر میں ہی کرنا چاہئے اور اصل اسلامی تعلیمات بھی یہی ہیں بیشتر مساجد کے وضو خانوں میں صفائی کا مکمل بندوبست نہیں ہوتا اور وضو کے استعمال میں آنے والی پانی والی ٹینکیاں عرصہ دراز سے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق صاف نہیں کی جاتیں ایسے آلودہ پانی سے وضو کرنا کئی امراض کا باعث بن سکتا ہے۔
کوروناوائرس کے خلاف حکومت جو اقدامات کر رہی ہے ان پر عمل کرنالازم ہے کیونکہ اس بیماری کا خاتمہ صرف حکومت نہیں کر سکتی اس وبا کے خاتمہ کیلئے عوام کے تعاون کی بھی اشد ضرورت ہے۔دنیا بھر کی حکومتوں نے جو باہر نکلنے پر پابندی لگائی ہے اس کو اپنے لئے عذاب نہ سمجھیں۔وبا کے خلاف’’ قرنطینہ ‘‘بھی علاج ہے جو دنیا کو ایک ہزار سال پہلے الشیخ الرئیس حکیم بو علی سینا نے عطا کیا ۔حکیم بو علی سینا کا پورا نام ’’علی الحسین بن عبداللہ بن الحسن بن علی بن سینا‘‘تھا۔ مغرب میں انہیں Avicennaکہاجاتا ہے۔ ایلوپیتھک ڈاکٹرز جو حلف لیتے ہیں وہ ’’ایوینیکا اوتھ‘‘ کہلاتا ہے۔
یہ یاد رکھنا چاہئے کہ سب کچھ بند بھی ہو جائے تو توبہ کا دروازہ یقینا کھلا رہتاہے۔ہمیں کم ازکم پانچ بار وضو کا اہتمام اور اپنے گھروں کو مساجد بنا کر اس وبا کے خاتمہ کیلئے اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔

مزید پڑھیں

 عبادت کی نیت سے اور پابندی اوقات کے ساتھ کھانے پینے اور جنسی خواہشات سے باز رہنے کو روزہ کہا جاتا ہے۔ طبی اصطلاح میں غذا کو کیفیت یا کمیت کے لحاظ سے محدود کرنے کو روزہ کہہ سکتے ہیں۔سائنس کی ترقی اور طبی تحقیقات نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ انسان کی شخصیت ایک کل ہے اور طبیعت انسانی کے افعال و وظائف نفس اور جسم دونوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ 

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 کرونا وبا ء نے جہاں پوری دنیا کومتاثرکیاہے وہاں ہماری ریاست، سیاست اورمعاشرت پربھی گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ ایسادکھائی دیتاہے کہ اس سے پاکستانی ریاست کی شکل میں تبدیلی ناگزیر ہے۔    

مزید پڑھیں

 دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمان اسلامی و قرآنی احکام کی روشنی میں بغیر کسی جسمانی و دنیاوی فائدے کاطمع کئے تعمیلاًروزہ رکھتے ہیں تاہم روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جسے دنیا بھر کے طبی ماہرین نے متعدد کلینیکل ٹرائلز کے بعد سائنسی طور پر تسلیم کیا ہے۔    

مزید پڑھیں

 کورونا وائرس نے دنیا بھر میں دہشت پھیلا رکھی ہے۔ کئی ممالک میں سخت لاک ڈائون کے باعث سڑکیں اور گلیاں، شہر میدان اجڑے دیار کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے:    

مزید پڑھیں