☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) صحت(حکیم نیازاحمد ڈیال) فیشن(طیبہ بخاری ) فیچر(ایم آر ملک) کھیل(منصور علی بیگ) دنیا کی رائے(فرحان شوکت ہنجرا) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) ستاروں کی چال()
وبائی امراض کیوں ۔؟ پھیلائو اور بچائو کیسے ممکن ہے

وبائی امراض کیوں ۔؟ پھیلائو اور بچائو کیسے ممکن ہے

تحریر : حکیم نیازاحمد ڈیال

06-14-2020

 امراض خواہ وبائی ہوں یا موسمی ہر دو طرح کی پیدائش اور افزائش میں ہماری خوردو نوش کی عادات، غذائی معمولات،طرز بود و باش ،معاشرتی طور طریقے،سماجی میل جول، جسمانی حرکات وسکنات، ذہنی کیفیات، روحانی معاملات اور ہمارے ماحولیات کو بنیادی عمل داخل حاصل ہوتا ہے۔

بعض موسمی اور عام امراض تو گھریلو طبی تراکیب، غذائی تدابیر،مخصوص خوراک کے انتخاب اور روزمرہ معمولات میں رد وبدل کرنے سے جان چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ کچھ ضدی قسم کے امراض اگر ذاتی کوشش وبسیار سے پیچھا نہ بھی چھوڑیں تو کسی بھی معالج یا دم پھونک والے سے تعاون لے کر اس سے جان خلاصی کروالی جاتی ہے۔جدید میڈیکل سائنس کی دریافتوں اور ایجادات کے صدقے ضدی اور تکلف دہ امراض کے مضمرات و اثرات سے کافی حد تک بچائو کی سبیل بن چکی ہے ۔جدید طبی تحقیقات کی دریافتوں میں سے سرجری اوراسٹیرائیدز کی موجودگی نے انسانی زندگی کی لاتعداد الجھنوں کا خاتمہ کردیا ہے۔لیکن امراض کا خاتمہ بہر طور آج بھی جدید سائنس کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہی ہے۔جن خطرناک بیماریوں کا جزوی علاج دریافت ہواہے ان کے اثرات بد سے بچائو کی خاطر متواتر ادویات کا استعما ل کیا جانا لازم ہے اور مبتلا ئے مرض مجبوراََ مستقل طور پر دوائیں کھانے پر مجبور ہیں کیونکہ انہیں اپنی صحت اور زندگی دونوں سے ہی پیار ہے۔بلا شک وشبہ جدید سائنس نے شعبہ طب سمیت زندگی کے ہر پہلو کو جدید ایجادات وآلات سے اس قدر مزین کردیا ہے کہ ایک صدی قبل دنیا چھوڑ جانے والے انسان ان کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ جدید انسان بزعم خود سب کچھ پالینے کے باوجود آج بھی مجبور ہی ہے۔ کورونا وائرس کے نزول نے دنیابھر میں ’’طاقت‘‘دولت اور ’’حکومت‘‘ کرنے والوں کی بے بسی اور لاچارگی نے ان کی سوچ اور کردار پر سوالیہ نشانات اٹھا دئیے ہیں۔ وبائی امراض کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو گزشتہ کئی صدیوں سے روئے زمین پر بہت سارے وبائی امراض کی پیدائش اور افزائش ہو کر لاکھوں کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو موت کے گھاٹ اتار چکی ہے۔

وبائی مرض اس بیماری کو کہا جاتا ہے جو کسی فضائی،ہوائی اور خلائی تعفن کے باعث رونما ہواہو،یہ انسانوں میں ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے میں منتقل ہونے کی صلاحیت وطاقت رکھتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق وبائی امراض کے پھیلائو کاسبب مائیکرو سکوپک خلیات و ذرات جنہیں بیکٹیریاز، جراثیم اور وائرس کہا جاتا ہے۔کسی بھی وبائی مرض کے جراثیم یا وائرس فضا اور ہوا کے ذریعے پوری دنیا میں پھیل کر اپنا تعفن عام کرتے ہیں اور یہی تعفن متعدی امراض کے پھوٹنے کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے۔اب تک دنیا کے مختلف ممالک میں میں پھوٹنے والے وبائی یا متعددی امراض کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایک حقیقت مشترک سامنے آتی ہے کہ سبھی امراض پر ہجوم اور رش والے علاقوں سے ہی سامنے آئے۔طاعون کا مرض ہو یا جذام کی بیماری،ہسپانوی زکام ہو یا ٹی بی،چیچک ہو یا خسرہ اور مرض ہیضہ کی شدت ہو یا ایڈز کی تباہ کاری یہ تمام امراض باہمی اختلاط ،میل جول اورسماجی رابطوں کے باعث ہی پھیلتے ہیں۔ تعفن کی ماہیت پر غور کیا جائے تو یہ ایسی گندگی ہے جو اپنے گردو نواح میں اپنی سڑن، بد بو اور نا خوشگوار ہمک کی و جہ سے انسانی دل و دماغ کو بے چین و مضطرب کرتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ سڑن، بدبو اور تعفن زیریلے اثرات کی حامل ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی درجے میں مضرات کا باعث بن ہی جاتی ہے۔ فضائی اور ہوائی تعفن کی پیدائش اور افزائش کی سب سے بڑی وجہ آلودگی کی بھرمار ہے۔فی زمانہ دیکھا جائے تو ہر سو ماحولیاتی زہرسڑکوں پہ چلتی ٹریفک کے سبب اڑتی گردو غبار،فیکٹریوں کی چمنیوں سے نکلتا دھواں، معاشرتی زہر حسد،بغض، بغل،نفرت، انتقام، خیالات کے زہر نا امیدی، مایوسی، ناکامی، منفی سوچ و اپروچ، حالات کے زہر بے روزگاری، معاشی تنگی، سماجی الجھنیں، ازدواجی مسائل، روحانی پراگندگی کا زہر،بد اعتقادی، شرک و کفر، گناہوں کا ارتکاب،توہم پرستی اور دین سے دوری ، جسمانی گندگی ناپاکی ، بدکاریوں کا ارتکاب، زنا کاری،قتل وراہ زنی،ڈکیتیاں، بے ایمانیاں،، اخلاقی پستی کے زہر بد زبابی، گالم گلوچ،الزام تراشی و بہتان درازی، غیبت وچغل خوری، جھوٹ گوئی اور دھوکہ دہی، سماجی انحطاط جیسے حرام خوری، رشوت ستانی، سود خوری ،ناپ تول میں کمی، ظلم و ستم گری اور حق تلفی کا زہر ہر سو فضائوں اور ہوائوں کو زہریلی آلودگی سے لبریز کیے ہوئے ہے۔

فضا ئوں اور ہوائوں میں اڑتے ہوئے زہریلے ذرات کی جب تعداد ومقدار بڑھ کر پوری فضاء اور ہوا کو زہر آلود کرتی ہے تو یہ زہریلا پن سانس کے رستے انسانی خون میں شامل ہو کر اپنے اثرات نہ صرف بدنی طور پر بلکہ روحانی،سماجی اور اخلاقی لحاظ سے بھی مرتب کرتا ہے۔قوت مدافعت بدن کو توانا کرنے میں روحانی ذکر و اذکار،تلاوت کلام پاک، ادائیگی پنجگانہ نماز،صاف گوئی، حلال و حرام میں تمیز اور حقوق العباد کی پاسداری جیسے اعمال کا کردار بھی قابل ذکر ہے۔ایسے افراد جن کے بدن میں ان زہریلے اثرات کے خلاف قوت بدن مدافعت مضبوط اور طاقت ور ہوتی ہے ان کے جسم میں ہلکی سی بھی تبدیلی پیدا کیے بغیر یہ زہریلے اثرات اپنی موت آپ مرجاتے ہیں۔ بعض لوگوں کے جسم میں فضائی زہریلے جراثیم اثر تو کرتے ہیں لیکن روحانی اور اخلاقی مضبوطی سے بدن کا سست مدافعتی نظام فوری متحرک ہوکر اسے شکست سے دو چار کردیتا ہے اور یوں دو چار دن زہریلے پن کے اثرات رونما ہو کر غائب ہوجاتے ہیں۔زہریلے وائرس یاجراثیم ان افراد کو موت کے گھاٹ اتارتے ہیں جن کے ابدان کے مدافعتی نظام انتہائی کمزور ہوتے ہیں یا ایسے افراد اس زہریلے پن کے زیر اثر آجاتے ہیں جو جسمانی لحاظ سے بیک وقت کئی امراض سے نبرد آزما ہوتے ہیں اور روحانی طور پر بھی کچھ قابل ذکر افعال و اعمال کی ادائیگی میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ اب تک دنیا بھر میں حملہ آور ہونے والے وبائی امراض کی تاریخ، اثرات اور خاتمے بارے اگر دیکھا جائے تو ایک مشترکہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ ہمیشہ لاعلاج ہی رہے ہیں،اگرچہ بعد ازاں ان پر قابو پانے (ویکسین کی تیاری) کے دعوے بھی سامنے آتے رہتے ہیں لیکن یہ سب طفلی تسلیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتے۔کیونکہ ان مراض سے چھٹکارا اور نجات دینے کے حوالے سے حکیم کائنات رب ذو الجلال جل جلالہ نے اپنے برگزیدہ بندے سے یہ اعلان کروا دیا تھا کہ’’و اذا مرضت فھو یشفین‘‘اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تومجھے شفاء وہی خدا دیتا ہے ۔

ایسے افراد جو کسی وبائی بیماری کو انفرادی لحاظ سے مضبوط قوت مدافعت بدن کے تحت شکست دے کر نارمل زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ ان کے باہمی میل جول اور سماجی رابطوں کے سبب فضاء میں مجموعی قوت مدافعت بدن مضبوط ہوجاتی ہے۔ماضی میں تما وبائی امراض سے بچائو کا و احد راستہ ہرڈ امیونٹی ہی رہا ہے لیکن بعدازاں اسے ویکسینیشن کے کھاتے میں ڈال کر مرض کے خلاف کریڈٹ مبینہ طور پر طبی ماہرین لے لیا کرتے رہے ہیں۔ با لفرض اگر کسی بھی وبائی مرض کے خلاف ویکسین کے کردار کو تسلیم کربھی لیا جائے تو ویکسین کا کام صرف جسم میں موجودایمون سسٹم کو متحرک کرنا ہی ہوتا ہے۔ویکسین اپنے طور بدن انسانی میں کسی کردار کی حامل نہیں ہوا کرتی۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 قوت مدافعت بڑھانے کے لیے تازہ پھلوں آڑو، فالسہ، آلو بخارہ، آم، کیلے کا جوس استعمال کریں

مزید پڑھیں

 ہنسنا، مسکرانا اور خوش رہنا ذہنی اور جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے ۔ خوش رہنا صحت کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا ورزش کرنایا صحت مند غذا کھانا۔خوشی ذہنی تنا ؤ‘یاسیت اور بے چینی کو کم کرتی ہے‘متعدد امراض سے بچاتی ہے اور چہرے کی کشش میں اضافہ کا باعث بنتی ہے ۔ خوش رہنے سے قوت مدافعت اور ذہنی کارکردگی میں اضافہ ہوجاتاہے۔خوش رہنے والوں سے لوگ بات کرنے میں آسانی محسوس کرتے ہیں نیز ان سے محبت وانسیت رکھتے ہیں۔مسکرانے والے افراد کو لوگ زیادہ قابل اعتبار سمجھتے ہیں اور لاشعوری طور پر ان سے ربط رکھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

 وضو سے کورونا وائرس کا خاتمہ ممکن ہے اگر ہم اپنی زندگی کودین اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق گزاریں تو کوروناسمیت دنیاکے ہر وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے جب ہم اپنی زندگی میں صفائی لے آئیں گے تو آدھی سے زیادہ بیماریاں بغیر کسی علاج کے ہی ختم ہو جائیں گی۔ جدیدطبی تحقیقات کے مطابق اگر کوئی دن میں پانچ بار وضو کرتا ہے تو وہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔وضو کے طریقے کو دیکھا جائے اور سائنسی بنیادوں پر اس کو پرکھا جائے تو حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں