☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) غورطلب(ڈاکٹر جاوید اقبال ندیم) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() خواتین(نجف زہرا تقوی) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) ستاروں کی چال(مرزا وحید بیگ)
کورونا کے خلاف ’’حفاظتی بنکر ‘‘استعمال کیجئے!

کورونا کے خلاف ’’حفاظتی بنکر ‘‘استعمال کیجئے!

تحریر : ڈاکٹر آصف محمود جاہ

06-21-2020

 قوت مدافعت بڑھانے کے لیے تازہ پھلوں آڑو، فالسہ، آلو بخارہ، آم، کیلے کا جوس استعمال کریں

 جوں جوں پاکستان میں کورونا کے زیادہ کیسز ہو رہے ہیں۔ اموات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ توں توں عوام الناس میں خوف اور دہشت پھیلائی جا رہی ہے کہ آپ جو مرضی کر لیں جہاں مرضی چلے جائیں۔ جتنی احتیاطی تدابیر اختیار کر لیں۔ اپنے آپ کو حفاظتی لباس میں ملبوس کر کے رکھیں۔ گھر میں قید ہو جائیں۔ کورونا ایک نہ ایک دن آپ کے گھر میں آئے گا۔ آپ کو پکڑے گا۔ آپ کے جسم کو متاثر کرے گا اور ہو سکتا ہے۔ اس سے جان چلی جائے۔
افواہوں سے بچئے :۔جو لوگ یہ غلط افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ ان کے اندازوں کے مطابق پاکستان کے 22 کروڑ لوگوں میں سے 30فیصد کو جلد یا بدیر کورونا ہوتا ہے۔پاکستان میں کورونا سے ہونے والی اموات کی شرح 1.5 سے 2 فیصد ہے۔ اگر افواہوں پہ یقین کر لیا جائے تو پھر خدانخواستہ پاکستان میں اس سال کے آخر تک کورونا وائرس انفیکشن سے 44 لاکھ اموات ہوسکتی ہیں ۔ یہ سب بے بنیاد اندازے ہیں۔
کیا پولیو ویکسین مفید ہے؟:۔کورونا کی ویکسین کی تیاری میں ابھی وقت لگے گا،اس لئے طبی ماہرین کوشش کر رہے ہیں کہ کسی مرض کی موجودہ ویکسین سے ہی اس کا پتہ چل جائے۔ غیر ملکی طبی جریدے ’’سائنس میگزین‘‘ میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے مشترکہ تحقیق میں لکھا ہے کہ ’’پولیو ویکسین کے کورونا میں مفید ہونے کے کافی شواہد موجود ہیں‘‘۔انہوں نے لکھا کہ پولیو ویکسین مکمل لحاظ سے محفوظ ہے،سستی بھی ہے۔دنیا بھر میں وافر مقدار میں دستیاب بھی ہے۔ 140ممالک میں سالانہ1ارب خوراکیں استعمال ہوتی ہیں۔ان میں ایچ آئی وی ایڈز کی دوا بنانے والا ماہر بھی شام ہے۔ پولیو ویکسین مدافعتی نظام کو بہتر بنانے کے باعث کورونا کے حملے کو کمزور کرنے میں بھی معاون بن سکتی ہے۔عالمی ادارہ ’’فوڈ اینڈ ڈرگ ایجنسی ‘‘ کے کونسٹاٹن شوماکوف (Konstantin Chumakov) ،میری لینڈ سکول آف میڈیسن کے شعبہ وائرولوجی کیڈاکٹر رابرٹ گیلو بھی ان محققین میں شامل ہیں۔
ویکسین کب تک تیار ہو سکتی ہے؟:۔120عالمی دوا ساز کمپنیاں کووڈ 19کی ویکسین کی تیاری پر سرمایہ خرچ کر رہی ہیں۔ویکسین کی تیاری کے لئے دنیا بھر میں ہر رنگ اور نسل کے مرد و خواتین پر ٹرائل کئے جا رہے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس طرح بننے والی دوا شائد ہر بر اعظم کے لئے موثر ہو۔ تاہم مائیکرو بائیولوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی ماہر نے کووڈ 19کے حوالے سے ا پنی تحقیق پیش کرتے ہوئے انتہائی اہم بات کی ہے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ دنیا بھر میں لاک ڈائون کی وجہ سے کورونا کی الگ الگ سٹرینز پیدا ہو سکتی ہیں۔ ہر خطے میں نئی طرز کی سٹرینز جنم لے سکتی ہیں۔ہو سکتاہے کہ کسی ایک خطے میں کامیاب ویکسین دوسرے خطے میں ناکام ہو جائے۔ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ میں کووڈ 19ہو، یورپی ممالک میں ’’کووڈ 19اے ہو۔پاکستان میں کووڈ 19بی بھی ہو سکتا ہے۔ ‘‘
مریضوں کی صحت یابی کا تناسب :۔پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ اکثر کی حالت تسلی بخش ہے۔ 50 ہزار سے زائد لوگ صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ایک لاکھ میں سے 70فیصد لوگوں کا گھروں میں علاج ہو رہا ہے،باقی ماندہ صرف 30 فیصد مریض ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ ان 30 فیصد مریضوں میں صرف 2 یا 3 فیصد لوگوں کی حالت نازک اور تشویشناک ہے۔ ایک طرف مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں حالات قابو سے باہر نہیں ہوئے۔ امریکہ میں ایک لاکھ سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ اسی طرح برازیل، فرانس، برطانیہ، اٹلی وغیرہ میں ہزاروں افراد کی موت ہو چکی ہے۔
شدید بیمار کتنے دن میں صحت مند ہو سکتے ہیں؟:۔عالمی ا دارہ صحت کے مطابق اگر کوئی کورونا وائرس میں مبتلا ہوکر شدید بیمار ہو گیا ہے ، تو اسے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ صحت یابی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر شدید بیمار تین ہفتوں سے لے کر 6ہفتوں میں صحت یاب ہو گئے ہیں۔
کورونا کا حملہ ناکام کیسے ہوتا ہے؟:۔دیکھا جائے تو جب کورونا کا مرض جسم پر حملہ کرتا ہے۔اس کے منہ یا ناک کے ذریعے پھیپھڑوں تک پہنچنے سے پہلے آپ کا قدرتی مدافعاتی نظام اس کے خلاف متحرک ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر مریضوں میں وائرس پھیپھڑوں تک پہنچ ہی نہیں پاتا اور نظام تنفس کے اوپری حصے میں اس کی توڑ پھوڑ ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت حال میں مریض کو صرف ہلکا بخار یا کھانسی ہوتی ہے جو تین سے پانچ روز تک رہتی ہے اس کے بعد بندہ صحت یاب ہو جاتا ہے۔اس صورت میں بھی ڈاکٹر کو دکھاناضروری ہے کیونکہ مرض کی شدت کا اندازہ اسی کو ہوسکتا ہے۔
کورونا اور موٹاپے کی دوستی :۔برطانیہ میں 17ہزار افرد پر کی گئی تحقیق سے پتہ چلا کہ عام وزن کے حامل شخص کے مقابلے میں موٹے آدمی کاکورونا میں مبتلا ہونے کا اندیشہ 33فیصد زیادہ ہوسکتا ہے۔لہٰذا اپنے وزن کو کنٹرول کرنے کی کوشش کیجئے۔برطانیہ کے سرکاری ادارے ’’نیشنل ہیلتھ سروسز‘‘ نے بھی اس تحقیق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ’’ہمیں بھی موٹے افراد کی زیادہ تعداد میں اس مرض میں مبتلا ہونے کی اطلاع ملی ہے‘‘۔برطانیہ میں شدید بیمار افراد میں سے 43.5کا وزن زیادہ نکلا۔ محققین نے کہا کہ کورونا وائرس انسانی سیل میں موجود ACE2نامی اینزائمز کی مددسے ہی بیماری پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ اورACE2نامی اینزائمز’’فیٹی ٹشوز ‘‘ میں زیادہ تعداد میں جانے جاتے ہیں۔ ’’ورلڈ او بیسیٹی فیڈریشن‘‘ بھی ان اعداد و شمار کا جائزہ لے رہی ہے۔ لہٰذا جنک فوڈ اور چینی کا استعمال کم سے کم کیجئے۔
کھانے پینے میں دشواری ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کیجئے:۔ نظام تنفس میں کورونا داخل ہونے کی صورت میں گلے میں ہلکی سی خراش ہوتی ہے۔ یا گلے کے اندر موجود Lymphrodis سوج جاتے ہیں۔ نگلنے میں دشواری ہو جاتی ہے۔ مریض بتاتا ہے کہ مجھ سے کچھ نگلا نہیں جا رہا۔ ایسی صورت حال میں مریض کے لیے بہتر ہوتا ہے کہ کورونا کا حملہ آور وائرس اوپر ہی رک جاتا ہے۔
’’وائرل لوڈ‘‘ زیادہ ہونے کی صورت میں ہسپتال میں داخلہ ضروری ہے :۔ جب کورونا وائرس حملہ آور ہوتا ہے تو بیماری کی شدت کا تعلق Viral Load سے بھی ہوتا ہے۔ یعنی کتنی زیادہ تعداد میں وائرس انسانی جسم پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ اگر Viral Load حد سے زیادہ ہو تو مریض کی حالت انفیکشن کے چند گھنٹوں کے اندر غیر ہو جاتی ہے۔ سانس دھونکنی کی طرح چلتا ہے۔ بخار کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔پانی کی پٹیاں بھی کارگر نہیں ہوتیں، ایسی صورت حال میں مریض کو فوری طور پر ہسپتال داخلے کی ضرورت ہوتی ہے جہاں اس کا ایمرجنسی علاج ہونا ضروری ہے۔ میو ہسپتال ایمرجنسی وارڈ کے پروفیسر ڈاکٹر یار محمد نے بتایا کہ ان کے ہسپتال میں ایسے مریضوں کا فوری علاج کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایسی صورت حال میں مبتلا کئی مریضوں کا کامیابی سے شافی علاج کیا ہے۔ ایسے مریض Acute Medical Emergency ہوتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ سب کچھ کرنے کے باوجود کئی مریض ہسپتال آنے کے دو چار گھنٹے بعد اللہ کو پیارے ہو گئے۔
کورونا سے بچنے کا واحد راستہ:۔کورونا کی موجودہ صورت حال میں بچت کا واحد راستہ احتیاطی تدابیر پر من و عن عمل کرتا ہے۔ ان پہ عمل کر کے اپنے آپ کو زیادہ تر اوقات میں گھروں میں محدود کر کے آپ ان حالات میں بھی کورونا وائرس انفیکشن کی تباہ کاریوں سے بچ سکتے ہیں۔ کورونا وائرس آپ کے جسم میں منہ ناک یا کسی حد تک آنکھوں کے ذریعے داخل ہوتا ہے۔ اگر آپ ماسک کے ذریعے سے یہ تمام راستے بند کر لیں اور زیادہ اجتماع والی جگہوں پہ جانے سے گریز کریں ۔بار بار اپنے ہاتھوں کو صابن، ڈیٹول، Sanitizer سے صاف کریں تو آپ 90 فیصد تک کورونا سے بچ سکتے ہیں۔ کورونا سے بچنے کے لیے نہ آپ کو اپنا گھر چھوڑ کر جنگلوں اور غاروں میں جانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اپنے آپ کو حفاظتی بنکروں میں جانے کی ضرورت ہے۔
چین نیچر کی جانب لوٹ گیا!:۔چین نے کورونا وائرس کے علاج کے لئے روایتی اور قدیم ادویات کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ اسے دنیا بھر میں غیر محفوظ سمجھا جا رہا ہے لیکن چینی ذرائع کے مطابق یہ ادویات مدافعتی نظام کو طاقت ور بنا کر مریضوں کی صحت یابی میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔چین نے یہ روایتی ادویات ایران اور اٹلی بھی بھجوائی ہیں ۔تاہم ان دونوں ممالک نے ان ادویات کی کمیابی یا ناکامی کے بارے میں کوئی رپورٹ شائع نہیں کی ۔
کورونا کے خلاف حصار :۔کورونا سے حفاظت کے لیے حفاظتی حصار، حفاظتی بنکر آپ کا ماسک ہے۔ ماسک کے استعمال کو زندگی کا حصہ بنا لیں۔ تو سمجھیں آپ نے 90فیصد تک اپنے آپ کو کورونا سے بچا لیا ہے۔ کورونا سے بچائو کے لیے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔
-1گھروں کے اندر، باہر دفاتر میں مساجد میں جاتے ہوئے کسی سے ملتے ہوئے غرضیکہ تقریباً ہر وقت ماسک پہنے رکھیں۔ صرف سوتے وقت یا وضو کرتے وقت یا غسل کرتے ماسک اتاریں۔ ماسک کو زندگی کا حصہ بنا لیں۔ اس کو طرز زندگی بنا لیں۔
-2صفائی نصف ایمان ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ صفائی ایمان کا حصہ ہے۔ آپ کوشش کریں کہ ہر وقت باوضو رہیں۔ اچھی طرح اہتمام سے فرائض اور واجبات کا خیال رکھتے ہوئے وضو کریں۔ مسواک کا استعمال ضرور کریں۔ اچھی طرح کلی کریں اور ناک میں بار بار پانی ڈالیں۔ اس سے منہ اور ناک کے ذریعے وائرس کے جسم میں داخلے کا امکان کم ہو جائے گا۔
-3ہاتھوں کو بار بار کسی بھی صابن، جراثیم کش لوشن یا Sanitizer سے دھونا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ آپ بار بار اپنی انگلیوں سے منہ اور ناک کو ٹچ کرتے ہیں اور ان کے ذریعے آپ کے جسم میں وائرس داخل ہو سکتا ہے۔ ہاتھوں کو بار بار دھونے سے اس کا امکان کم ہو جاتا ہے۔
-4قرنطینہ میں رہنے والے مریضوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس دوران خوب سوئیں اور خوب کھائیں۔ پینے والی چیزوں، پھلوں اور ان کے جوس کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ اپنی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے تازہ پھلوں آڑو، فالسہ، آلو بخارہ، آم، کیلا کا جوس استعمال کریں۔ قوت شامہ واپس لانے کے لیے فالسے کا شربت استعمال کریں۔ سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت واپس لانے کے لیے یخنی اور سوپ پئیں۔ دار چینی، سونف اور ادرک کا قہوہ بنا کر لیں۔ ادرک، لہسن، پیاز، پودینہ، ہری مرچ اور کچے آم سے بنائی گئی چٹنی بھی مفید ہے ۔ ٹھنڈا پانی استعمال نہ کریں۔ صبح نہار منہ چار گلاس پانی لیں اس کے ساتھ دو چمچ زیتون کا تیل لازماً استعمال کریں۔ اس سے جسم میں قوت مدافعت پیدا ہوگی۔
-5جسم میں قوت مدافعت پیدا کرنے کے لیے ہربل سیرپ گھر میں تیار کریں۔ ایک کپ گرم پانی یا دودھ میں دو چمچ شہد کے ڈالیں دو چمچ زیتون کے تیل کے ڈالیں۔ چند قطرے کلونجی آئل کے ڈالیں۔ یہ ہربل سیرپ آپ کے مدافعاتی نظام کو مضبوط کرے گا۔
-6کورونا کے جن مریضوں کا آپ گھر میں علاج کر رہے ہیں۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ انہیں وقفے وقفے سے کھانے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور دیا جائے۔ ان کو جذباتی سہارا دیا جائے۔ ان سے فاصلہ ضرور رکھنا ہے مگر اس کو آپ نے ذہنی طور پر تنہا نہیں چھوڑنا۔ اس کو تسلی دیے رکھنا ہے اور اسے بار بار یاد دہانی کرانا ہے کہ انشاء اللہ وہ جلد صحت یاب ہو جائے گا۔ اکیلے میں مریض ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں۔ اس لیے بار بار ان کو تسلی دلانا ضروری ہے۔ مریض کے لیے ضروری ہے کہ وہ دن میں کم از کم آٹھ سے دس گھنٹے نیند پوری کرے۔ نیند پوری کرنے سے جسم بھی ریلیکس رہتا ہے اور ذہن بھی مطمئن رہتا ہے اور جسم کا مدافعاتی نظام بھی متحرک رہتا ہے۔
-7قرنطینہ میں رہنے والے ان مریضوں کے لیے جن کے ٹیسٹ مثبت ہیں یا علاج کے بعد وہ صحت یاب ہو چکے ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ اللہ سے رجوع کریں۔ اللہ سے خوب دعائیں کریں۔ بیمار شخص کی دعا اللہ فوراً سنتے ہیں۔ بیماری اور وباء سے بچنے کے لیے آپ اپنے لیے بھی دعا کریں اور تمام انسانیت کے لیے دعا کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ بیماری اور وباء سے بچنے کے لیے اپنا اور بچوں کا صدقہ روزانہ دیں۔ انشاء اللہ، اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے گا اور آپ بیماری سے صحت یاب ہو کے نکلیں گے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ کورونا کی وباء سے بچنے کے لیے جنگلوں اور غاروں میں جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ کا حفاظتی بنکر آپ کا ماسک ہے۔ ماسک اوڑھ کر اور اوپر دی گئی احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے آپ کورونا سے بچ سکتے ہیں۔ اللہ آپ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور کورونا کی تباہ کاریوں سے بچائے۔ (آمین)

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 امراض خواہ وبائی ہوں یا موسمی ہر دو طرح کی پیدائش اور افزائش میں ہماری خوردو نوش کی عادات، غذائی معمولات،طرز بود و باش ،معاشرتی طور طریقے،سماجی میل جول، جسمانی حرکات وسکنات، ذہنی کیفیات، روحانی معاملات اور ہمارے ماحولیات کو بنیادی عمل داخل حاصل ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

 ہنسنا، مسکرانا اور خوش رہنا ذہنی اور جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے ۔ خوش رہنا صحت کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا ورزش کرنایا صحت مند غذا کھانا۔خوشی ذہنی تنا ؤ‘یاسیت اور بے چینی کو کم کرتی ہے‘متعدد امراض سے بچاتی ہے اور چہرے کی کشش میں اضافہ کا باعث بنتی ہے ۔ خوش رہنے سے قوت مدافعت اور ذہنی کارکردگی میں اضافہ ہوجاتاہے۔خوش رہنے والوں سے لوگ بات کرنے میں آسانی محسوس کرتے ہیں نیز ان سے محبت وانسیت رکھتے ہیں۔مسکرانے والے افراد کو لوگ زیادہ قابل اعتبار سمجھتے ہیں اور لاشعوری طور پر ان سے ربط رکھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

 وضو سے کورونا وائرس کا خاتمہ ممکن ہے اگر ہم اپنی زندگی کودین اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق گزاریں تو کوروناسمیت دنیاکے ہر وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے جب ہم اپنی زندگی میں صفائی لے آئیں گے تو آدھی سے زیادہ بیماریاں بغیر کسی علاج کے ہی ختم ہو جائیں گی۔ جدیدطبی تحقیقات کے مطابق اگر کوئی دن میں پانچ بار وضو کرتا ہے تو وہ کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔وضو کے طریقے کو دیکھا جائے اور سائنسی بنیادوں پر اس کو پرکھا جائے تو حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں