☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل رپورٹ کھیل فیشن صحت دین و دنیا متفرق خواتین کیرئر پلاننگ ادب
لاڑکانہ: نونہال ہوئے جان لیوامرض کا شکار

لاڑکانہ: نونہال ہوئے جان لیوامرض کا شکار

تحریر : محمد ندیم بھٹی

05-26-2019

مجھے کئی مرتبہ سندھ جانے کا موقع ملا ہے ، ایڈز زدہ بچوں سے بھی ملاہوں ،ان کی طبیعت دیکھ کرمیں لاہور آکر خود کئی روز بستر سے نہ اٹھا سکا۔سب جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم بھٹو کا آبائی شہر لاڑکانہ ایچ آئی وی ایڈز کی لپیٹ میں ہے۔441 سو سے زائد نوزائیدہ بچوں کے والدین ایک ایک گولی کیلئے ترستے اور تڑپتے پھر رہے ہیں۔ یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ شہر ہے جہاں سے دو رہنما تین بار وزرائے اعظم بنے۔

مجھے کئی مرتبہ سندھ جانے کا موقع ملا ہے ، ایڈز زدہ بچوں سے بھی ملاہوں ،ان کی طبیعت دیکھ کرمیں لاہور آکر خود کئی روز بستر سے نہ اٹھا سکا۔سب جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم بھٹو کا آبائی شہر لاڑکانہ ایچ آئی وی ایڈز کی لپیٹ میں ہے۔441 سو سے زائد نوزائیدہ بچوں کے والدین ایک ایک گولی کیلئے ترستے اور تڑپتے پھر رہے ہیں۔ یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ شہر ہے جہاں سے دو رہنما تین بار وزرائے اعظم بنے۔

سابق وزیر اعظم بھٹو بلا شرکت غیرے وزیر اعظم رہے، انہوں نے کئی اہم عہدے داروں کو ہٹایا،یابرطرف کیا ۔اعلیٰ ترین آئینی عہدوں پر خود تعیناتیاں کیں ، مگر صحت عامہ کی سہولتوں پر توجہ دینے کا موقع نہ مل سکا۔ان کے بعد ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی،چوتھے دور میں ان کے شوہرآصف علی زرداری صدراور یوسف رضاگیانی وزیر اعظم بنے مگر ملک میں ایڈز کا مرض پھیلتا ہی رہا

۔1980ءمیں لوگ اس مرض کے نام سے بھی واقف نہ تھے ،مگر 1994میں ملک میں سات ،آٹھ ہزار افراد اس مرض میں مبتلا پائے گئے ۔تین سابق وزرائے اعظم کے شہر میں ایڈز کسی آسیب کی طرح پھیلا ،اب تک ہمیں نہیں معلوم کہ کل کتنے بچے اور بڑے اس مرض کا شکار ہیں۔ تاہم ان کی تعداد ہراندازے میں مختلف ہے،لیکن یہ 450سے زیادہ ہے۔ملک بھر میں ایڈز زدہ افراد کی تعداددو لاکھ کے لگ بھگ تو ہو گی۔المیہ یہ ہے کہ اس بارے میں ٹھیک ٹھیک اعداد و شمار دستیاب ہی نہیں ہیں،سماجی بائیکاٹ کے ڈر سے لوگ اس کا ٹیسٹ ہی نہیں کراتے ، یوں اندرہی اندر گھلتے گھلتے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

سندھ حکومت نے ایک ڈاکٹر کے علاوہ عطائیوں اور ڈسپنسروں پر ایڈز پھیلانے کا الزام لگایا ہے ،اگر یہ الزام درست ہے تو عطائیوں اور ڈسپنسروں کو قانون کی گرفت میں لانا کس کی ذمہ داری ہے؟ سرکار نے ایڈز کا ذمہ دار ’’سرنجوں ‘‘کو بھی قرار دیا ہے۔ڈاکٹرز چند روپے کی نئی سرنج لینے کی بجائے پرانی سرنجیں استعمال کراتے رہے ،اگر ان باتوں کوسچ مان لیا جائے تو پھر سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ سرنجوں سے ایڈز ہی کیوں پھیلی؟، نوزائیدہ اور معصوم بچے بھی کیوں اس کا شکار ہوئے ؟، کیا یہ اندیشہ ہو سکتا ہے کہ ایڈز کامرض دانستہ طور پر ایک سازش کے تحت پھیلا یا گیا ورنہ ایڈز کی جگہ کوئی اور مرض بھی تو ہو سکتا تھا؟۔

بائیکاٹ نہیں پیار :ایچ آئی وی ایڈز سے وہی انسان نجات پاسکتا ہے جسے اس کے پھیلائو کی وجوہات کا علم ہو اگر کسی کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ایچ آئی وی ایڈز کس وجہ سے پھیل رہی ہے تو اسے روکنا محال ہے۔ یہ کسی کے کنٹرول میں نہیں آسکتا۔ اس کے پھیلائو کے دو اہم اسباب ہیں ۔ بہت سے لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ایچ آئی وی شاید کوئی چھوت کی بیمار ی ہے۔صحت مند فرد مریض کو ہاتھ لگانے سے ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا نہیں ہوتا۔ اسی لیے ایچ آئی وی کے مریض سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں، اسے پیار ، محبت اور صحت مندانہ انداز میں سنبھالنے کی ضرورت ہے۔

ایڈز پھیلنے کی وجہ: پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلائو کا سب سے بڑا سبب سرنجوں کا غیر صحت مندانہ استعمال ہے۔ بعض ڈاکٹرز ہزاروں روپے تک فیس تو لے لیتے ہیں مگر دس بیس روپے کی سرنج بدلنا گوارا نہیں کرتے۔ ایک سرنج درجنوں افراد کی نبض کو چھوتی ہوئی نکل جاتی ہے۔ ’’ایک انار سو بیمار ‘‘والی بات سرنجوں پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے۔ اور لاڑکانہ میں تو یہ اٹل حقیقت کی طرح ہمارے سامنے ہے۔

پنجاب میں 2014ء میں کتنے لوگ اس مرض سے واقف تھے؟ـ:اگرچہ ایم آئی سی ایس پنجاب (MICS)کی 2018ء کی رپورٹ بھی بن چکی ہے مگر ہم یہاں 2014ء کی رپورٹ کا حوالہ دینا زیادہ مناسب خیال کرتے ہیں کیونکہ اس وقت جن مریضوں میں ایچ آئی وی ایڈز کا پھیلائو پایا جاتا ہے ،اس کے پھیلائو کی وجوہات کئی برس پرانی ہیں۔ 2014 ء کے اعدادو شمار کے مطابق شادی شدہ عورت بھی ایڈز سے ناوقف تھی۔ انہیں نہیں پتہ تھا کہ اس نام کا کوئی مرض ہے، اور یہ کہ وہ جان لیوا ہے۔

غیر شادی شدہ بچیوں اور بچوں کے ساتھ اس موضوع پر گفتگو کرنا شجرع ممنوعہ ہے اور ہونا بھی چاہیے، یہ مرض ایک لعنت ہے اس کی ابتدا گناہ سے ہوئی ہے البتہ پھیلائو معصوم بچوں میں بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ لاڑکانہ میں ہوا۔ پنجاب میں39فیصد 15سے 49سال کی شادی شدہ خواتین ایڈز کے لفظ سے ہی نا آشنا تھیں۔ شہروں میں 7فیصد اور دیہات میں 28 فیصد خواتین نے کبھی کبھار، ایک بار ایڈز کا لفظ سنا تھا۔ راولپنڈی ڈویژن میں آدھی سے زیادہ خواتین ایڈز کے لفظ سے ناواقف تھیں۔ جبکہ ڈی جی خان میں 10میں سے ایک عورت کو پتہ تھا کہ اس طرح کا کوئی مرض ہوتا ہے۔ غریب ترین طبقہ اس مرض سے سراسر لا علم پایا گیا۔صرف 8فیصد کو اس مرض سے واقفیت تھی۔ جب مرض سے ناواقفیت کا یہ عالم ہے تو وہ بچائو کی ترکیب بھلا کیسے ہوگی۔

پنجاب میں 2018ء میں کتنے لوگ اس مرض سے واقف ہیں ؟ـ: 2018ء میںپنجاب میں مجموعی طورپر 26فیصد اس مرض سے واقف ہیں۔ مائوں میں اس مرض سے واقفیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ بہاولپور ڈویژن میں 16فیصد، ڈیرہ غازی خان میں 14فیصد، فیصل آباد میں 24فیصد، گوجرانوالہ میں 29فیصد، لاہور میں 36فیصد، ملتان میں18فیصد، راولپنڈی میں 44فیصد، ساہیوال میں 14فیصد اورسرگودھا میں 24فیصد نے اس کا لفظ سن رکھا تھا۔ باقی سب لوگ لاعلم ہیں۔

بعض شہروں میں اس مرض سے آگاہی رکھنے والوں کا تناسب سنگل ڈیجٹ میںتھا۔ تقریباً 60سے 70فیصد لوگ اسے چھوت کی خطرناک بیماری سمجھ کر مریض سے قطع تعلق کر لیتے ہیں ،یہ تمام شہروں میں ایک عام سی عادت ہے۔ جس میں بھی ایچ آئی وی ایڈز مثبت نکل آیا اس کا ناطقہ بند ہوگیا۔ ایک شاپ کیپر کو یہ مرض ہوا تو سبھی نے اس سے سودا سلف لینا چھوڑدیا۔ 32سے 50فیصد تک خواتین کا خیال ہے کہ ایسے بچوں کو سکولوں میں داخلے کا کوئی حق نہیں۔ 60فیصد بچوں نے گھروں،سکولوں اور محلے میںامتیازی سلوک کی شکایت کی۔

تقریباً 65فیصد لوگ اس قسم کے ٹیسٹ سے بھاگتے ہیں۔ زندہ درگور ہو جائیں گے ، معاشرہ کیا سوچے گا۔ لوگ کیا کہیں گے۔ یہ سوچ کر بہت سے لوگ ٹیسٹ ہی نہیں کرواتے۔ ایسے لوگوں کا تناسب سب سے کم میانوالی میں ہے اور یہ 48فیصد ہے۔ سب سے زیادہ ملتان اور ساہیوال میں 84فیصد لوگ ایڈز کا ٹیسٹ کروانا ہی نہیں چاہتے۔ پنجاب میں مجموعی طور پر 85فیصد لوگ ایڈز ٹیسٹ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے اور اتنے ہی لوگوں کا خیال ہے کہ ایڈز کے مریضو ں کو جینے کا کوئی حق نہیں ،یہ لوگ قابل گرفت اور موت کے حقدار ہیں۔ کم و بیش یہی صورتحال دوسرے صوبوں میںبھی ہے ۔وہاں بھی اس مریض کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ لوگ معاشرے میں بے وقت اور بے حیثیت ہو جاتے ہیں۔

حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ کتنے ہی لوگ سرنجوں وغیرہ کے ذریعے سے اس مرض میں مبتلا ہوئے۔ ایچ آئی وی ایڈز کا شکار 62فیصد لوگوں نے انہیں بتایا کہ پنجاب بھر میں انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ چبھتی ہوئی نظریں صوبے کے ہر شہر میں ہیں البتہ کہیں کم اور کہیں زیادہ۔ میانوالی میں 39فیصد افراد کے خیال میں اس مرض میں مبتلا لوگ اپنا مقام کھو دیتے ہیں۔ نارووال ، شیخوپورہ ، بھکراور ننکانہ صاحب کے اضلاع میں ایسی ہی سوچ پائی جاتی ہے ۔البتہ ساہیوال، جہلم اور لاہور جیسے پڑھے لکھے اضلاع میں لوگوں کے خیال میں بے گناہ آدمی بھی گناہگاروں کے اس مرض میں شامل ہو سکتا ہے۔

لاڑکانہ نے ان لوگوں کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ برائی تو برائی ہے۔ خواہ کوئی بھی پھیلائے، اسی لیے بہت سے شہروںمیں لوگ اس مرض میں مبتلا لوگ سودہ سلف خریدتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں ۔وہ سمجھتے ہیں کہ چھوت کی یہ بیماری ہے،کہیں انہیں بھی اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔ اور وہ بھی معاشرے میں منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔ مرض اپنی جگہ خطرناک ہے مگر اس سے بچائو اور حفاظت کی کئی تدابیر موجودہیں ۔جنوری 2015ء تک ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت 10ہزارسے زائد افراد رجسٹرڈ کیے گئے۔ جنوری 2017ء میں ان کی تعداد ملک بھر میں 17ہزار ہو گئی۔

اسلام آباد میں مریض کتنے ہیں؟: نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت وفاقی اورصوبائی حکومتیں مختلف امراض کے بارے میں کبھی کبھار ڈیٹا اکٹھا کرتی رہتی ہیں ہمیں لگتا ہے کہ یہ ڈیٹا بالکل ترو تازہ ہے حقیقتاً ایسا نہیں ہوتا۔ 2015ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پمز ہسپتال اسلام آباد میں 1652افراد نے ایچ آئی وی ایڈز کے حوالے سے رجوع کیا۔ مزید دوسرے افراد کو ملا لیں تو کل تعداد تقریباً 2ہزار بنتی ہے ان میں سے 894 کو اے آر ٹی پر رکھا گیا۔ ان میں بچے ، بڑے اور خواتین سبھی شامل تھیں۔ ٹرانسجنڈر بھی کچھ تعداد میں پمز ہسپتال اسلام آباد میں علاج کیلئے آئے۔ 1652 میں سے 306خواتین شامل تھیں۔2017ء پمز اسلام آباد میں بچوںاور عورتوں سمیت مریضوں کی تعداد 26554ہو گئی تھی ۔

پنجاب میں ایڈز کے مریض: نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت میو ہسپتال لاہور سے رجوع کرنے والے مردو خواتین کی تعداد 390تھیں ، سروسز ہسپتال سے 250سو ،شوکت خانم سے سوا دوسو افراد نے ٹیسٹ کروایا۔ ڈی ایچ کیو سرگودھا سے 390، ڈی جی خان سے 787 ، الائیڈ ہسپتال فیصل آباد سے 501، عزیز بھٹی ہسپتال گجرات سے 420 لوگوں نے علاج کروایا۔2017ء میں سی ایم ایچ میں 38، میو ہسپتال لاہور میں 1079، سروسز ہسپتال میں 512، سروسز ہسپتال کے پیڈ ریاٹی یونٹ میں 299، شوکت خانم میں 492، جناح ہسپتال میں 1525، ڈی ایچ کیو سرگودھا میں 658، ڈی ایچ کیو ڈی جی خان میں 2238، الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں 1325، عزیز بھٹو ہسپتال گجرات میں 1092، اور سول ہسپتال ملتان میں 28مریض رجسٹرڈ تھے۔

سندھ کی صورتحال: 2015ء کی ایک رپورٹ کے مطابق سندھ میں صورتحال پنجاب سے خراب تھی۔ نیشنل ایڈز کنٹرو ل پروگرام کے تحت ایچ آئی وی ٹریٹمنٹ سنٹر سے ساڑھے تین ہزار سے زائد لوگوں نے رجوع کیا۔ سول ہسپتال کراچی میں 2345 ،انڈس ہسپتال کراچی میں 297، چاند کا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں 612مرد خواتین اور بچے ایڈز پروگرام کے تحت رجسٹرڈ ہوئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ملک میں میاں نواز شریف کی حکومت تھی اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ان کی گہری دوستی تھی۔ تب بھی لاڑکانہ میں 612افراد کا ایڈز میں مبتلا ہونا کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں سمجھی گئی۔ پیپلز پارٹی کے ہر دور میں سندھ میں لاڑکانہ سمیت دوسرے شہروں میں ایڈز کی کم و بیش یہی صورتحال رہی ہے۔ 2017ء میںکراچی ایڈز زدہ شہر بننا شرو ع ہوا۔ جہاں مردو خواتین سمیت 4541افراد سول ہسپتال کراچی میں داخل تھے۔ سول ہسپتال کے پیڈریاٹ یونٹ میں 124، انڈس ہسپتال میں 667، آغا خان ہسپتال میں 50اور چانکا میڈیکل کالج میں 1518مریض ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت رجسٹرڈ ہوئے۔ 2017ء کا سورج ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں تقریباً 4ہزار مریضوں کی اندوہناک خبر کے ساتھ طلوع ہوا۔

خیبر پختونخوا کا بھی یہی حال ہے: پچھلے چند برسوں سے خیبر پختونخوا نے پی ٹی آئی کا سورج اپنے جوبن پر ہے۔ اس کا اقتدار بلا شرکت غیرے ہے۔ اگر کوئی چیلنج درپیش ہے تو وہ فضل الرحمن کی جانب سے نہیں بلکہ ایڈز کی طرف سے ہے۔ حیات آبادمیڈیکل کمپلیکس پشاور میں ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت 1144افراد شامل ہوئے۔ ان میں بچوں کی تعداد بھی ناقابل بیان یا تشویشناک حد تک زیادہ تھی۔پی ٹی آئی کے زیر انتظام شہر پشاور میں 2587 ، اور کے ڈی اے ہسپتال کوہاٹ میں 360مریض رجسٹرڈ ہوئے۔

بلوچستان اس سے مختلف نہیں:جنوری 2015 ء میںبولان میڈیکل کمپلیکس میں بچوں سمیت 207افراد اس ایک مہینے میں سامنے آئے۔2017ء میں بولان میڈیکل کالج میں کوئٹہ میں 470مریضوں کو طبی سہولت مہیا کی گئی۔ اے آر ٹی سنٹر تربت میں بھی 255افراد بھیج دئیے گئے۔

اگلے ہی مہینے میں یعنی فروری 2015ء میں ایڈز کے مریض 6سو اضافہ کے ساتھ 10ہزار 739ہو گئے۔ اب آیا اپریل ، اپریل میں ملک بھر میں ایڈز کے مریضوں نے مزید سوا تین سو کا اضافہ ہوگیا۔ اور تعداد 11390ہو گئی۔ جون میں مزید 3سو کا اضافہ ہوا۔ اورہم ایک لفظ کہتے ہیںکہ ریکارڈ ٹوٹ گیافلاں بیریر کراس کرگئی۔ خوشی نہیں غم کی بات ہے کہ اگست 2015ء میں ملک بھر میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 12395ہو گئی۔ ملک بھر میں ہونے والا اضافہ تشویشناک تھا۔ پمز ہو یا جناح ہسپتال لاہور یا ڈی جی خان،سول ہسپتال کراچی ہو یا حیات آباد میڈیکل کمپلیکس ، ہر جگہ ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد بڑھتے بڑھتے 12662ہو گئی۔ یوں ملک کے چاروں صوبوں میں زیر علاج مرد ، عورت اوربچوں کی تعداد22512ہو گئی۔ اس کے باوجود بھی حکمرانوں کو ہوش نہ آئی سب کچھ پہلے کی طرح چلتا رہا۔

اب دیکھتے ہیں کہ 2018ء میں کیا ہوا۔ 2018ء میں حکومت کی تبدیلی کے علاوہ ایڈز کے مریضوں کی تعداد بھی تبدیل ہوئی۔ زیر علاج ایڈز زدہ افراد کی تعداد ساڑھے بائیس ہزار سے بڑھ کر تقریباً 29ہزارہو گئی ۔ تفصیل میں جائیں تو پمز اسلام آباد میں ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت 2854افراد رجسٹرڈ ہوئے۔ سی ایم ایچ راولپنڈ ی میں 90،میو ہسپتال میں 1630، سروسز 584، پیڈریاٹک سروسزیونٹ ہسپتال میں 1613،شوکت خانم ہسپتال میں 526، جناح ہسپتال لاہور میں 1761،ڈی ایچ کیو سرگودھا میں 16 سو ،ڈی ایچ کیو ڈی جی خان میں 2561، الائیڈ ہسپتال میں فیصل آباد میں 1783، عزیز بھٹی ہسپتال گجرات میں 1459، سول ہسپتال ملتا ن میں 444، بی بی شہید ہسپتال راولپنڈ میں 277، ڈی ایچ کیو ہسپتال شیخوپورہ میں 73، شیخ زائد ہسپتال رحیم یار خان میں 243،سپیشل کلینک چنیوٹ میں 12مریض داخل کیے گئے۔ ان میں خواتین بھی شامل تھیں۔ سندھ میں سول ہسپتال کراچی میں 5564، پیڈریاٹک یونٹ سول ہسپتال میں 184، انڈس ہسپتال میں 868، آغا خان ہسپتال میں 47، آغا خان کے پیڈریاٹک ہسپتال میں 60اور چانکامیڈیکل کالج ہسپتال میں 1935مریض شامل تھے۔

اسی دور میں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں 3320، کے ڈی اے ہسپتال کوہاٹ میں 409، بولان میڈیکل کمپلیکس کوئٹہ میں 623اور اے آر ٹی سنٹر تربت میں 290مریض رجسٹرڈ ہوئے۔ ملک بھر میں ایڈز زدہ افراد کی تعد28884ہو گئی۔ حکومت کے پاس دستیاب اعداد و شمار 2018ء تک کے ہیں ۔ جن کے مطابق ملک بھر میں زیر علاج ایڈز کے مریضوں کی تعداد 32026ہے۔ ان میں ٹرانسجنڈر 438 اور 1130 بچے بھی شامل ہیں۔ یعنی ایڈز کسی تاریکی میں راتوں رات نہ پھیلا۔او ر نہ ہی کسی ایک آدمی نے اسے جنم دیا بلکہ یہ برسہا برس سے اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے۔ اور قوم کی جڑیں کمزور کر رہا ہے۔

ہماری نسلیں بحران کا شکار ہو رہی ہیں۔ جسمانی عوارض نئی نسل کیلئے چیلنج بنے ہوئے ہیں حکومت کے بقول اوست عمر2015 ء میں 67سال تھی اور اب شاید 69برس بتائی جائے گی۔ لیکن آج بھی عوام پر بیماریوں کا بوجھ ہے۔ یہ کسی طرح کم نہیں ہو پارہا۔ ذ یا بیطس میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے۔ غم کی بات ہے کہ ہر 18برس کی عمر کو چھونے والا بچہ ہائیپر ٹینشن کا شکار ہے۔ 38فیصد مرد اور 7فیصد خواتین سگریٹ نوشی میں اپنا غم مٹاتی ہیں۔ آج بھی ملک کی بڑی آبادی کو صحت عامہ کی کوئی سہولت میسرنہیں۔ تقریباً 42فیصد بچے ڈاکٹروں کے ہاتھوں میں جنم نہیں لیتے۔

زچگی کے بعد صرف 2فیصد خواتین کو بہتر علاج معالجے کی سہولت میسر ہوتی ہے۔ رہے حفاظتی ٹیکے تو یہ ناقابل بیان حد تک کم ہیں۔ 54فیصد کو یہ سہولت میسر ہے۔ ملک میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد 1لاکھ سے زیادہ ہے۔ لیکن دوائی میسر نہ ہو ، انجکشن کی سرنج بار بار استعمال ہو تو لیڈی ہیلتھ ورکرز کیا کریں۔ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں۔

لہٰذامیری تجویز ہے کہ اس بیماری کے بارے میں فی الفورسروے کیا جائے، لوگوں کو بتایا جائے کہ وہ دوسروں کی جانوں سے نہ کھیلیں،معیاری اورآلائشوں سے پاک سرنجیں استعمال کریں،حکومت فوری طوری پر ہر علاقے میں میڈیکل سروے کے ذریعے عطائیوں کو حراست میں لے ، اور جس علاقے میں ایڈزکا مرض پھیل رہا ہے وہاں حکومت اس کا ذمہ دار متعلقہ ہیلتھ افسران کو بھی قرار دے،جہاں عطائیوں یا ڈاکٹروں کے خلاف کارراوئی ہو رہی ہے وہاں متعلقہ ہیلتھ افران کو بھی گرفت میں لیاجائے، کیونکہ صحت عامہ کی اچھی سہولتیں مہیاکرنا ان کی ہی ذمہ داری ہے۔

پیپلز پارٹی نے صحت کے فنڈز آدھے کر دئیے

صحت کبھی بھی ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں رہا۔ ہماری تمام تر توجہ دکھائی دینے والے منصوبوں پر رہی۔ سڑکیں بنوا لو، درخت اگوا لو، یا ٹرینیں چلوا لو یہ سب چیزیں آنکھوں سے دکھائی دیتی ہیں لیکن انسانی جسم میں پروان چڑھنے والی بیماری نظر نہیں آتی۔ 2008-09ء میں عوام دوست حکمران تھے۔ صحت عامہ کا بجٹ 74ارب روپے تھا، رواں اخراجات تو 41ارب روپے جبکہ ترقیاتی اخراجات 33ارب روپے سے کچھ کم تھے ۔یہ جی ڈی پی کا کل 0.5فیصد تھے۔ 2009-10ء میں زبردست مہنگائی کے باوجود صحت کا بجٹ 79ارب روپے رہا۔ جی ڈی پی کے تناسب سے 0.53فیصد۔مالی سال 2010-11 ء ملک بھر میں صحت عامہ اور نیوٹریشن پر صرف 42ارب روپے خرچ ہوئے۔

صحت کے شعبے پر اتنا بڑا کٹ کبھی کسی نے نہیں لگایا جتنا بڑا کٹ پیپلز پارٹی کے سابق دور میں لگا۔ 42ارب روپے میں سے سوا تئیس ارب روپے غیر ترقیاتی رواں اخراجات کے طور پر خرچ ہوئے۔ اور ترقیاتی کاموں پر صرف پونے 19ارب روپے بچے۔یہ جی ڈی پی کا 0.23فیصد کے برابر تھے۔ مالی سال 2011-12ء بھی صحت عامہ کیلئے خطرے کی گھنٹی تھا۔ جب اس شعبے کو ملک بھر میں 55ارب روپے ملے۔ یہ جی ڈی پی کا 0.27فیصد تھے ان میں سے 29ارب روپے تنخواہوں وغیرہ پر اڑ گئے۔ 2012-13ء میں صحت عامہ کا بجٹ 126ارب روپے کر دیا اس میں سے بھی 93ارب روپے تنخواہوں وغیرہ پر خرچ کر دئیے۔ اب آئی مسلم لیگ ن کی حکومت ۔2013-14ء میں 173ارب (جی ڈی پی کے 0.69فیصد کے برابر) 2014-15ء میں 199ارب روپے(جی ڈی پی کے 0.73فیصد کے برابر) 2015-16ء میں 226ارب روپے (جی ڈی پی کے 0.77فیصد کے برابر )، مالی سال 2016-17ء میں 292ارب (جی ڈی پی کے 0.91فیصد کے برابر )خرچ کیے۔ پچھلے مالی سال میں تقریباً 4سو ارب روپے خرچ کیے گئے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

آنکھیں بڑی نعمت ہیں ،اس ایک عام سے جملے کی اہمیت سے دنیا میںبینائی کی کمزوری کا سامنا کرنے والے ایک ارب باشندے ہی جانتے ہیں۔مگر ہم جنہیں ...

مزید پڑھیں

بطور سرجن مجھے دن میں ایسے مریضوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے جو خود اپنی موت کو دعوت دیتے ہیں ،میں انہیں تویہ بات کھل کر نہیں بتا سکتا کہ جناب آ ...

مزید پڑھیں

پاکستان میں ڈینگی بخار پھر سر اُٹھا سکتا ہے۔ اگست 2019ء کے مہینے میں کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی میں ڈینگی کے سینکڑوں کیس رپورٹ ہوئے ہ ...

مزید پڑھیں