☰  
× صفحۂ اول (current) خواتین دنیا اسپیشل کھیل سائنس کی دنیا ادب روحانی مسائل فیشن کیرئر پلاننگ خصوصی رپورٹ صحت دین و دنیا
سوشل میڈیا کے اچھے اور بُرے اثرات

سوشل میڈیا کے اچھے اور بُرے اثرات

تحریر : ڈاکٹر آصف محمود جاہ

03-10-2019

چھوٹی سی بچی، عمر 14 سال، بابا جب بھی شام کو آتے بابا کا موبائل فون لے کر بیٹھ جاتی۔ گیم کھیلتی، ایک دن گیم کھیلتے کھیلتے کسی کا نمبر مل گیا۔ باتیں شروع ہو گئیں۔ جب بھی بابا گھر آتے فون لے کر بیٹھ جاتی اور کسی نہ کسی بہانے گھنٹوں باتیں ہوتی رہتیں۔ فون پر رابطے کے ساتھ ساتھ بازار اور سکول میں ملاقاتیں شروع ہو گئیں۔ ایک دن پرچہ دینے گئی۔ شام گئے تک نہ لوٹی تو گھر والے ادھر ادھر بھاگے۔ پریشان ہوئے۔ رات گئے بُرے حالات میں گھر واپس آئی۔ فون والا لڑکا بہلا پھسلا کر لے گیا تھا اور یوں تباہی کا آغاز ہوگیا۔

وہ ہر امتحان میں امتیازی نمبروں سے پاس ہوتا رہا۔ والدین اور اساتذہ سب کی آنکھ کا تارا تھا۔ دوستوں میں بھی مقبول تھا۔ اچانک کیا ہوا گذشتہ چھ ماہ سے پڑھائی میں دلچسپی کم ہوگئی۔ کلاس میں اکثر اونگتا نظر آتا۔ پتہ چلا کہ گذشتہ چند ماہ سے فیس بُک پر اکائونٹ بنایا ہے اور جب سے اکائونٹ بنا ہے، زیادہ وقت فیس بُک پر گزرتا ہے۔ کتابوں میں دلچسپی کم ہو گئی ہے۔ پڑھائی میں دل نہیں لگتا۔ ہر وقت دل کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر چیٹنگ چلتی رہے۔ بعض اوقات پوری پوری رات اس میں گذر جاتی ہے۔ایک بچی امتحان میں بھی اچھے نمبروں سے کامیاب ہوئی۔ غریبوں سے ہمیشہ ہمدردی کرتی۔ تھر میں قحط کا سنا، اپنی سہیلیوں کو اکٹھا کیا۔ سوشل میڈیاپر اپیل کی۔ جس کسی نے سنا بچی کے جذبے کی تعریف کی اور دنوں میں تھروالوں کے لیے لاکھوں روپے کی اشیاء اکٹھی ہو گئیں، جو کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے تعاون سے تھر کے قحط زدہ عوام کے لیے بھجوائی گئیں۔ فیس بُک اور دوسرے سوشل میڈیا کی اہمیت آج کل سوشل میڈیا میں سماجی رابطوں کا بڑا ذریعہ ’’فیس بُک‘‘ ہے۔ اس وقت پاکستان میں فیس بُک کے تقریباً ایک کروڑ سے زائد صارفین میں 82 لاکھ سے زیادہ مرد جبکہ 32 لاکھ خواتین شامل ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد ٹین ایجرز اور 20 سے 30 سال تک کی عورتوں اور مردوں کی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فیس بک پر موجود خواتین / لڑکیوں میں سے بہت سے اکائونٹس ایسے بھی ہیں جو مردوں /لڑکوں نے اُن کے نام سے بنائے ہیں یا پھر مارکیٹنگ کے شعبہ سے تعلق رکھنے والوں نے انہیں عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خواتین / لڑکیوں کا نام دے رکھا ہے۔ آج کے دور میں شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو جو سماجی روابط کی مشہور ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ سے واقف نہ ہو۔ بچوں اور نوجوانوں سے لے کر بڑوں تک سب ہی اس کے سحر میں جکڑے نظر آتے ہیں۔ اپنی معمولی اور غیر معمولی سرگرمیوں سے لے کر مختلف مسائل کا ذکر اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے یہ ویب سائٹ دنیا بھر میں مقبول ہے۔ فیس بُک ایک سوشل نیٹ ورکنگ سروس ہے جس کا آغاز 2004ء میں جامعہ ہاورڈ کے طالب ِ علم مارک زکر برگ نے جامعہ کے طالب علموں کے لیے کیا تھا۔ سوشل میڈیا کا صحیح استعمال سوشل میڈیا یعنی فیس بُک، ٹوئٹر، واٹس ایپ، سکائپ وغیرہ کے اچھے اثرات بھی ہوتے ہیں اور برے اثرات بھی۔ ہر چیز کے دو طرح کے استعمالات ہوتے ہیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس کا صحیح استعمال کرتے ہیں یا غلط، سوشل میڈیا کو صحیح طریقے سے اچھے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اس سے ہمیں ہر روز نئی معلومات فوری طور پر دستیاب ہوتی ہیں اور تفصیل کے ساتھ تصاویر بھی مل جاتی ہیں۔ ان میں اسلامی، سیاسی اور معاشرتی و معاشی تمام طرح کی معلومات شامل ہوتی ہیں۔ سوشل میڈیا ہر گزرتے دن کے ساتھ ہماری زندگی میں اہمیت حاصل کرتا جا رہا ہے۔ جہاں خبروں اور معلومات کے حصول کے لیے کروڑوں افراد ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ ٹوئٹر اور فیس بُک اس دور کی مقبول ترین ویب سائٹس ہیں جن کے کروڑوں صارفین دنیا بھر میں موجود ہیں مگر نوجوان ساتھیو! ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے۔ مختلف کام کرنے کی عمر ہوتی ہے۔ ٹین ایجرز لڑکے اور لڑکیوں کے لیے سب سے زیادہ اہم ان کی پڑھائی ہے۔ عمر کے اس نازک اور پُرآشوب دور میں آپ اپنی ساری کی ساری توجہ اپنی پڑھائی کو دیجیے۔ دلجمعی سے اپنا کام کریں۔ محنت کریں، اچھے گریڈز حاصل کریں۔ موبائل فون اب ایک ضرورت بن گیا ہے۔ سڑک پر جھاڑو دینے والا ہو یا کار والا ہر کوئی اس کا دلدادہ ہے۔ جھاڑو دیتے ہوئے بھی فون پر خوش گپیاں لگ رہی ہوتی ہیں اور کار چلاتے ہوئے بھی۔ نہ صفائی کرنے والے کو فکر ہوتی ہے کہ اس سے صفائی میں فرق آ رہا ہے اور نہ کار چلانے والے کو کہ ڈرائیونگ کے دوران فون پر باتیں کرنے سے اس کا ایکسیڈنٹ ہو سکتا ہے۔ اوائل عمری میں نوجوان بچوں اور بچیوں کے ہاتھ میں موبائل دے کر ان کی پڑھائی کا تو نقصان ہوتا ہی ہے۔ ان کی ساری توجہ فون پر گپیں لگانے، SMS بھیجنے اور موبائل پر گیمز لگا کر کھیلنے میں ہوتی ہے۔ اس کچی عمر میں اگر لڑکیوں کا فون پر لڑکوں سے رابطہ ہو جائے تو پھر بھٹکنے کے مواقع زیادہ ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ مضمون کے شروع میں دی گئی مثال سے ظاہر ہوتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ نوجوان بچے اور بچیاں اپنے سکولوں اور کالجوں میں بھی موبائل لے کر جاتے ہیں اور ہر وقت اس سے چمٹے رہتے ہیں۔ لیکچر کے دوران ایس ایم ایس آتے جاتے رہتے ہیں یا پھر چیٹنگ چلتی ہے۔ پڑھائی کی طرف بالکل توجہ نہیں دی جاتی۔ اس وجہ سے کئی کالجوں میں تو موبائل فون لے جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ حج اور عمرہ کے دوران بھی لوگ دورانِ طواف اور روضۂ رسول پاکؐ کی زیارت کرتے ہوئے موبائل پہ مصروف یا پھر تصویریں اتارتے نظر آتے ہیں یعنی موبائل کی وجہ سے مقاماتِ مقدسہ کے احترام میں بھی کمی آ گئی ہے۔ ٹین ایجرز کے لیے ہدایات -1سوشل میڈیا کو استعمال کرنے سے پہلے آپ اپنی پڑھائی پر مکمل توجہ دیں۔ سکول / کالج اور گھر میں آپ کا زیادہ سے زیادہ وقت اپنی پڑھائی پر صَرف ہونا چاہیے۔ پڑھا ئی سے فارغ ہوں یا کچھ دیر آرام کرنا چاہیں تو مختصر وقت کے لیے فیس بُک وغیرہ پر جانے میں کوئی حرج نہیں۔ -2فیس بُک والے 18 سال سے کم عمر بچے اور بچیوں کا اکائونٹ نہیں بناتے لیکن ہمارے سب بچے اپنی عمر غلط لکھ کر فیس بُک پر اکائونٹ بنا لیتے ہیں اور اس پر خوامخواہ کی چیٹنگ اور فضولیات میں پڑ کر وقت برباد کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ نوجوان دوستوں سے گذارش ہے کہ بہتر ہے 18 سال کی عمر کا انتظار کر لیا جائے۔ اس وقت تک آپ کسی یونیورسٹی یا پروفیشنل کالج میں پہنچ چکے ہوں گے، جہاں آپ فیس بُک اور دوسرے سوشل میڈیا کو اچھے مقاصد اور اپنی تعلیم میں مدد اور رہنمائی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ -3کچھ طالب علموں نے سوشل میڈیا پر بڑے اچھے بلاگز (Blogs) بنائے ہوئے ہیں اور وہ ان پر بہت اچھی معلومات شیئر کرتے ہیں۔ آپ بھی فیس بُک اور دوسرے سوشل میڈیا کو اچھے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ -4جیسا کہ شروع میں بتایا گیا لاہور کے ایک سکول کی دو بچیوں نے ’’تھر چیریٹی اپیل‘‘ کے نام سے فیس بُک پر تھر کے غریب اور پس ماندہ عوام اور افلاس زدہ بچوں کے لیے اپیل کی جس کے نتیجے میں قحط زدہ لوگوں کے لیے لاکھوں روپے کی اشیاء اکٹھی کر لی گئیں اور انہیں تھر پہنچا دیا گیا۔ جب تھر کے قحط زدہ عوام کے لیے کنوئیں بنانے کے لیے فیس بُک پر اپیل کی گئی تو لوگوں نے صاف پانی کی فراہمی کے لیے کنوئیں بنوانے کے لیے فنڈز مہیا کیے۔ -5لڑکیوں کے لیے ضروری ہے فیس بُک پر انجان اور بڑی عمر کے مردوں اور لڑکوں کو کبھی دوست نہ بنائیں اور اگر کوئی ہے تو اس کے ساتھ خوامخواہ کی لمبی بات یا چیٹنگ نہ کریں اور اس کو کم سے کم اہمیت دیں۔ -6اخبارات میں سوشل میڈیا کی وجہ سے واقعات کے نام پر خبریں آتی رہتی ہیں۔ لڑکیوں کی اگرسوشل میڈیاپر کسی انجان شخص سے سلام دعا ہو بھی گئی ہو تو کبھی اس سے ملنے کی بالکل کوشش نہ کریں۔ اگر کوئی اس طرح کی خواہش کا اظہار کرے بھی تو فوراً اس کو اپنی فہرست سے نکال دیں۔ لڑکیوں کے لیے لازم ہے کہ سوشل میڈیا پر کبھی کسی کو اپنے دل کا حال نہ بتائیں اور نہ کسی سے اپنے ذاتی مسائل شیئر کریں۔ جو لوگ زیادہ ہمدردی کا اظہار کریں ان سے بچ کر رہیں اور کسی کو اپنے جذبات سے کھیلنے کی اجازت نہ دیں۔ کسی کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہ لیں اور نہ کسی سے جذباتی طور پر بلیک میل ہوں۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ چکنی چپڑی باتوں اور ہمدردانہ جذبات سے معصوم بچیوں کی ہمدردی حاصل کر کے انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔ اس لیے ایسے لوگوں سے بچنا بہت ضروری ہے۔ والدین کے لیے ہدایات -1ماں باپ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ٹین ایجر بچوں اور بچیوں پر خصوصی نظر رکھیں۔ ان کی جائز ضروریات لازماً پوری کریں لیکن بے جا فرمائشوں پر کبھی کان نہ دھریں۔ یونیورسٹی یا پروفیشنل کالج جانے سے پہلے موبائل فون لے کر نہ دیں یا اس کا استعمال کم سے کم کرنے دیں۔ رات گئے بچے اور بچی پر خصوصی نظر رکھیں تاکہ بچے / بچی کو پتہ ہو کہ ماں باپ ان کی ہر بات سے باخبر ہیں اور ان کے بارے میں ہر خبر پر ان کی نظر ہے۔ -2بچوں اور بچیوں کے زیرِ استعمال کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ گاہے بگاہے ضرور چیک کرتے رہیں لیکن اس سلسلے میں اپنے بچوں کی عزتِ نفس کا خیال ضرور رکھیں اور کبھی انہیں احساس نہ ہونے دیں کہ آپ کو ان پر اعتماد نہیں یا آپ ان کی مکمل نگرانی کر رہے ہیں۔ بچوں کے ساتھ عموماً اور بچیوں کے ساتھ خصوصاً دوستانہ اور مشفقانہ رویہ رکھیں۔ -3لڑکوں کے دوستوں پر خاص نظر رکھی جائے۔ والدین کے لیے عموماً اور نوجوان لڑکیوں کی مائوں کے لیے خصوصاً ضروری ہے کہ اپنی بچیوں کو اعتماد میں لیں۔ ان کی باتیں توجہ سے سنیں۔ ان کے معاملات میں دلچسپی لیں۔ ان کی اصلاح کریں۔ انہیں دین و دنیا کے بارے میں بنیادی معلومات سے آگاہ کریں۔ اچھے بُرے کی تمیز سکھائیں۔ ٹین ایج میں جو جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی مدوّجزر ہوتے ہیں ان کے بارے میں انہیں بتائیں۔ ٹین ایج لڑکیوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ روزانہ اپنے سکول اور کالج میں گذارے ہوئے تمام لمحات کی داستان اپنی مائوں کو سنائیں لیکن آج کل کی مائوں کے پاس وقت نہیں۔ بطور ماں اگر آپ اپنی ٹین ایج بیٹی کی روز کی کتھا اور کارگزاری دلچسپی سے اور کان لگا کر سنیں گی تو آپ کی بیٹی اپنے دل کا غبار نکالنے کے لیے کسی قسم کے مصنوعی سہارے یا سوشل میڈیا پر تکیہ نہیں کرے گی اور یوں ہر طرح کے خطرات سے محفوظ رہے گی۔ -4والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ٹین ایجر بچوں کے جذبات اور ان کی ضروریات کا خاص خیال رکھیں۔ ان کی ہر جائز خواہش پوری کرنا آپ کی ذمہ داری ہے لیکن خواہشات کو پورا کرتے ہوئے یہ بات مدِنظر رکھیں کہ پڑھائی ان کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے اور اس میں ان کی طرف سے کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔ بچے اکیلے کمرے میں پڑھ رہے ہوں تو کچھ وقت کے لیے ان کے پاس جا کر ضرور بیٹھیں اور ان کی پڑھائی کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں۔ بطور والدین آپ کا اپنے بچے کے ساتھ تھوڑی دیر کے لیے رابطہ کسی بھی ٹیوٹر کے ساتھ گھنٹوں گذارنے سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ ٭٭٭٭

مزید پڑھیں

ڈاکٹر صاحب! ہم چار بہن بھائی ہیں ماں کی زیادہ تر توجہ بڑی بہن کی طرف ہے۔ اس کی ساری خواہشات پوری ہوتی ہیں جبکہ میری طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ میں کوئی فرمائش کرتی ہوں تو ڈانٹ دیا جاتا ہے۔ اپنی بڑی بہن سے میری گہری دوستی تھی اور ہے مگر مسلسل نظرانداز کیے جانے کی وجہ سے میں اب زیادہ تر اس سے الگ تھلگ رہتی ہوں اور کسی سے بات نہیں کرتی۔

مزید پڑھیں

آکوپنکچر کو دنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہورہی ہے ۔جدید ترین امریکہ میں ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد امریکی اس قدیم ترین چینی طریقہ علاج کے ذریعہ سکون حاصل کررہے ہیں ۔گزشتہ سات برسوں میں 42سے 88فیصد تک مریضوں نے سکون حاصل کیا ہے۔ بوڑھے افراد میں یہ طریقہ دن بدن زیادہ تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔ اسے ایلوپیتھک کا متبادل تصورکیاجارہاہے۔ 2025ء تک اس طریقہ علاج میں 197ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ممکن ہے، ترقی یافتہ ممالک میں بھی اب آکوپنکچر کے مراکز تیزی سے کھل رہے ہیں ۔ اس طریقہ علا ج میں ماہرین باریک ترین سوئیوں کے ذریعہ مریض کو خطرناک ترین درد سے بھی نجات دلاسکتے ہیں۔ ان سوئیوں کی نوک 0.12سے 0.35ایم ایم تک ہوسکتی ہے۔ آکوپنکچر کا ماہر درد کے لیے مخصوص حصوں کا تعین کرتاہے اوروہاں یہ سوئیاں چبھو کر علاج کرتاہے ۔امریکی ماہرین نے یہ خوش کن خبر جاری کی ہے کہ اس میںگھبرانے کی بات نہیں ۔درد اگر بڑھتاہے تو اس کا علاج بھی چند سوئیوں سے کیا جا سکتاہے ۔ہوسکتاہے ،آپ کو بدن میں جھرجھری محسوس ہو ،اور بس ،اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ آکوپنکچرسٹ آتھ (Auth)کے مطابق ’’ہماری سوئیاں اتنی باریک ہوتی ہیں جیسے بال۔ پھر تجربہ کار آکوپنکچرسٹ جسم کو سکون اورطمانیت مہیا کرتاہے ۔صرف 45سے60منٹ میں ہر درد کا علاج ممکن ہے ۔جس کے بعد یہ سوئیاں نکال لی جاتی ہیں، اب آپ اپنے گھر جاسکتے ہیں ۔یہ طریقہ علاج ایلوپیتھک سے کہیں سستا اورآرام دہ ہے۔ اس سے عضلات پٹھے مضبوط اور سوزش میں کمی واقع ہوتی ہے۔ یہ طریقہ علاج چین میں انتہائی مقبول ہے اور اب مغرب بھی اپنا درد مٹانے کے لیے چین کی تحقیق سے استفادہ کررہاہے‘‘ ۔

مزید پڑھیں